Qayyas Arraiyaan

میرے ایک انتہائی قابل احترام دوست دبئی میں مقیم ہیں. پیشے کے اعتبار سے وہ ڈرائیور ہیں خود کو غیر تعلیم یافتہ قرار دیتے ہیں. ممکن ہے روایتی طور پر ایسا درست بھی ہو لیکن فکری اعتبار سے وہ بلند شخصیت کے مالک ہیں. بحث و مباحثہ وہ عموماً نہیں کرتے لیکن ہر بات پر آمین بھی ہر گز نہیں کہتے. جمہوریت و آمریت کی زیادہ پرہیز نہیں کرتے معاشی ترقی کو ضروری خیال کرتے ہیں. ایوب خان کے سحر میں ابھی تک گرفتار ہیں. باوجود اس کے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے متفق ہیں. کل کی ملاقات میں، میں نے تقریباً چھیڑنے ہوئے یہ کہا کہ نواز شریف حکومت عوام پر ظلم کے لیے کیوں آمادہ نظر آتی ہے. جبکہ پختون خواہ کی حکومت انسانی استعداد کار بڑھانے اور معاشرے کی اصلاح پر خصوصی توجہ دے رہی ہے آپ اس ساری صورتحال کو کس طرح دیکھتے ہیں. گویا ہوئے کہ صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی خوراک کا خیال رکھے. ورزش کو اپنی زندگی کا معمول بنا لے. صبح خیزی، مارننگ واک، سگریٹ نوشی سے پرہیز اور عبادات میں مشغول رہے تو سالوں توانا رہ سکتا ہے. یہ بہت ہی آئیڈیل زندگی ہوتی ہے اور نصیب والوں کو ایسی زندگی میسر آتی ہے. لیکن اس کے برعکس ایک شخص کسی بیماری کا شکار ہو جاتا ہے تو ہم اس کے علاج کی کوشش کرتے ہیں. اب ورزش، خوراک کا خیال، نفلی عبادات، بہت سی چیزیں ترک ہو جاتی ہیں. اب اس کی جگہ لمبی نیند، پرہیز کا کھانا، ادویات کا استعمال شروع ہو جاتا ہے.اسی طرح معاشرے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں بیمار معاشرہ اور ترقی یافتہ معاشرہ. بیمار معاشروں کا علاج معیشت اور امن و امان سے شروع ہوتا ہے. اہل حجاز کے لیے ابراہیم علیہ السلام دعا فرماتے ہوئے سب سے پہلے معیشت اور امن و امان کی بہتری طلب کرتے ہیں. موجودہ حکومت ان دونوں امور پر بھر پور توجہ دے رہی ہے۔

جب میں وہاں سے نکلا تو مجھے یہ خیال پریشان کرتا رہا کہ بیمار معاشرے کا اور کیا علاج ممکن ہے. سچی بات بتاؤں تو مجھے بھی معیشت اور امن و امان کے سوا کچھ نظر نہیں آیا. حکومت مخالف جماعتوں کو اپنے اپنے صوبوں میں حکومت حاصل ہے. وہ حکومت کی ناکامی کے بجائے اپنی کامیابی کے لیے کوششیں کرتے تو یقیناً پاکستانی قوم کے لئے زیادہ مناسب ہوتا. جناب شیخ رشید نجومی تو تھے ہی اب اپنی پیش گوئی کو درست ثابت کرنے کے لیے باقاعدہ قوم کو انتشار پر رضا مند کرتے دکھائی دیتے ہیں. چند دن پہلے اپنے تصدیق شدہ ٹیویٹر اکاؤنٹ سے عید کے بعد خانہ جنگی کی خواہش کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ حالانکہ جمہوریت انتشار سے زیادہ باہمی تعاون اور رضا مندی سے مشکل فیصلے آسانی کے ساتھ انجام دینے کا نام ہے. یورپی یونین سے انخلا جیسا مشکل فیصلہ ہمیں درکار ہوتا تو سوچیے ہم کیا کرتے. قومی تنصیبات پر حملے، پر تشدد ہنگامے، بدزبانیاں اور نہ جانے کیا کچھ! ملکی حالات کا عمومی جائزہ لیا جائے تو بیشتر میدانوں میں ملک بہتری کی سمت جا رہا ہے. امن و امان کی صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے، معیشت سے متعلق بھی رائے مثبت دکھائی دے رہی ہے. خارجہ محاذ پر بھی ہم نے بین الاقوامی اہمیت کے منصوبے چین کے تعاون سے شروع کر دیے ہیں. شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت کا حصول روس کے تعاون سے پائپ لائنوں کی تعمیر ہماری افادیت ثابت کر رہی ہیں. ملکی سطح پر بھی سیکورٹی اداروں پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے. آج فوج جہاں جاتی ہے لوگ استقبال کرتے دکھائی دے رہے ہیں. جوانوں کا مورال بلند دکھائی دے رہا اب ان کو اپنی وردیاں بغل کے نیچے دبا کر بازاروں سے نہیں گزرنا پڑتا. ایف آئی اے کی بدمعاشی نظر نہیں آ رہی عمومی طور پر ادارے بہتر طور پر کام کر رہے ہیں. تو پھر ایسی کیا افتاد آن پڑی ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنا ضروری ہے. چند ممکنات کا جائزہ لیتے ہیں۔

اس وقت پاکستان میں قیادت کا بحران ہے. محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد پیپلزپارٹی اپنا وفاقی جماعت ہونے کا وجود برقرار رکھتی دکھائی نہیں دے رہی. عمران خان صاحب کا اضافہ سیاست کا خوبصورت باب تصور کیا جا رہا تھا. اکثر لوگ سمجھتے تھے کہ ان کی وجہ سے پاکستان سنجیدہ سیاست کی جانب بڑھے گا ذاتی عناد سیاسی بغض اور ہوس اقتدار ماضی کا قصہ بن جائیں گے. پڑھے لکھے نسبتاً آسودہ گھرانوں کے لوگ سیاست میں آئیں گے تو ایک عمومی تاثر منفی سے مثبت کی جانب پیش رفت کرے گا. لیکن خان صاحب نے اپنی زبان اور عمل سے اس تاثر کو دفن کر دیا ہے. انتخابات شاید کبھی تحریک انصاف جیت جائے گی لیکن جس دھوم سے سیاست کو سجایا گیا تھا وہ ولولہ باقی نہیں رہے گا. جماعت اسلامی جس کے پاس مولانا مودودی کا فلسفہ اور اسلامی جمعیت طلبہ جیسی تنظیم ہوتے پوئے بھی وہ اپنے اصل سے بہت دور چلی گئی ہے. دوسرا شدت پسندوں کی کارروائیوں نے مذہبی جماعتوں کے لیے عوام کے دلوں میں مخالف جذبات پیدا کیے ہیں. اس کے لیے انہیں لمبی وضاحتیں دینا ہوں گی.مسلم لیگ ن کا وجود بھی بہت حد تک میاں محمد نواز شریف کی ذات کے گرد گھومتا ہے. تنظیم کی کمزوریاں کسی بھی مشکل وقت میں مزید واضح ہو سکتی ہیں. ان چار جماعتوں کے علاوہ کوئی بھی جماعت ایسی نہیں جو اپنے سیاسی پروگرام کے مطابق پاکستان بھر سے ووٹ حاصل کر سکیں. اللہ نظر بد سے بچائے تو انشاءاللہ پاکستان میں انتخابات 2018 میں ہوں گے. ان انتخابات میں کامیابی کے لیے ابھی سے سوچ بچار شروع ہو چکی ہے. مقبولیت کے سہارے اگلا انتخاب جیتنا ممکن نہیں دکھائی دے رہا اس لیے اگلی مرتبہ کی کامیابی کے لیے اگر کوئی بات معیار بن سکتی ہے تو وہ کارکردگی ہی ہو گا. فوج بھی اب موجودہ حکومت کو گرانے کی خواہشمند نہیں دکھائی دے رہی. البتہ میڈیا کا شور اور پرانے خدمت گار سیاست دانوں کو اکٹھے کر کے کسی انقلاب کی نہ سہی اگلے انتخابات میں مطلوبہ نتائج کی کوشش جاری دکھائی دے رہی ہے. گوادر پورٹ مکمل طور پر فعال ہو گئی اور 2018 سے قبل توانائی کے بحران سے نجات حاصل ہو گئی تو سیاسی طور پر مسلم لیگ کو باہر رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا. البتہ اگر تکبر کہیں مسلم لیگ کی صفوں میں شامل ہو گیا تو اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔

جیسا عرض کیا تھا کہ ایک ماحول حکومت کو گھر بھیجنے کا بنایا جا رہا ہے اس کی ضرورت و اہمیت کیا ہے. میری دانست میں اسٹیبلشمنٹ حکومت کو دو باتوں پر آمادہ کرنا چاہتی ہے. ظاہر ہے قانونی یا جمہوری طور پہ ممکن نہیں دکھائی دے رہا لہٰذا یہ خدمت لے پالک جموروں کو میدان میں اتار کر لی جائے گی. پہلی بات یہ کہ گوادر کے بڑے متولی جی ایچ کیو کے حاضر سروس یا نیم حاضر سروس جنرل صاحب ہوں. اور واضح طور پر یہ دکھائی دے کہ یہ سارا منصوبہ محب وطن جرنیلوں کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا. دوم یہ کہ پہلے دھرنوں کے بعد خطے میں خارجہ پالیسی جس طرح گروی رکھی گئی تھی اگر ایکسٹینشن نہیں دی جاتی تو اگلے چیف آف آرمی سٹاف کو یونہی منتقل کر دی جائے. یہ ایک فیصلہ کن جنگ ہو گی میاں نواز شریف صاحب اختیار پر اقتدار کو مزید ترجیح نہیں دیں گے. سیاسی طور پر لوگوں کو ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس منصوبے کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں.؟ میاں نواز شریف صاحب کی وطن واپسی کے بعد محترمہ مریم نواز کو بھرپور طریقے سے عملی میدان میں اتارا جائے گا. اچھی کارکردگی کے ساتھ وراثت منتقل کرنے کی کوشش سب سے زیادہ پیپلزپارٹی کے لیے تشویش کا باعث بنے گی. 2018 کا الیکشن بلاول بھٹو زرداری صاحب اور مریم نواز شریف صاحبہ کا الیکشن ہے. اس لیے ساری کوشش وزیراعظم کی صاحبزادی کا راستہ روکنے کی ہو گی۔

آخر میں ایک گزارش کہ بلاول بھٹو زرداری صاحب ہوں یا مریم نواز صاحبہ جس کو مسلط کرنے کی کوشش کی جائے گی عوام اسے مسترد کر دے گی. لوگ اگر انہیں ووٹ دیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا. لیکن جمہوریت کی جیت کے لیے پارٹی سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے. مورثی سیاست نے اگر ان دو جماعتوں کو تقسیم کیا تو نقصان پاکستان کا ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *