Science Kiyun Nahi Maanti

“سائنس کیوں نہیں مانتی؟”

تحریر رفیع عامر

ترجمہ ذوالفقار علی

سولہویں صدی میں ہونے والی ایک غیر حقیقی بات چیت
مذہبی پیشوا: اچھا تو مجھے سمجھاؤ کہ کیوں چاند زمین کے گرد گھومتا ہے اور خلا میں ادھر ادھر نہیں نکلتا؟
سائنسدان: مجھے نہیں معلوم.
مذہبی پیشوا: ہا! لیکن مجھے پتہ ہے! خدا اسے زمین کے گرد گھمائے رکھتا ہے. تم سائنسدان کیوں نہیں مانتے کہ ایک خدا موجود ہے؟

انیسویں صدی میں ہونے والی ایک غیر حقیقی بات چیت
مذہبی پیشوا: اچھا تو مجھے سمجھاؤ کہ کیوں چاند زمین کے گرد گھومتا ہے اور خلا میں ادھر ادھر نہیں نکلتا؟
سائنسدان: زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے.
مذہبی پیشوا: اوہ، تو مجھے بتاو، ایک بڑا وجود اپنی کشش ثقل سے چھوٹے وجود کو کھینچے گا تو لازمی تصادم ہوگا تو پھر کائنات کے تمام وجود ایک دوسرے کے ساتھ تصادم پیدا کرکے کیوں نہیں ایک وجود بن جاتے؟
سائنسدان: مجھے نہیں معلوم.
مذہبی پیشوا: ہا! لیکن مجھے پتہ ہے! خدا اپنی قوت سے تمام وجود الگ الگ رکھتا ہے۔ تم سائنسدان کیوں نہیں مانتے کہ ایک خدا موجود ہے؟

اکیسویں صدی میں ہونے والی ایک غیر حقیقی بات چیت
مذہبی پیشوا: مجھے بتاو، ایک بڑا وجود اپنے سے چھوٹے وجود کی بہ نسبت زیادہ کشش ثقل رکھتا ہے جسکی وجہ سے چھوٹا وجود اسکی طرف کھنچا چلا جاتا ہے اور یہ عمل تصادم کا باعث ہونا چاہیے تو تمام کائنات تصادم کے نتیجے میں کیوں نہیں خود کو ایک بڑے وجود میں ڈھال لیتی؟
سائنسدان: کیونکہ کائنات پھیل رہی ہے اور اسکے پھیلاؤ کی تیزی بگ بینگ کا نتیجہ ہے۔.
مذہبی پیشوا: بگ بینگ کیسے ہوا؟
سائنسدان: مجھے نہیں معلوم.
مذہبی پیشوا: ہا! لیکن مجھے پتہ ہے خدا نے یہ ہونے دیا. تم سائنسدان کیوں نہیں مانتے کہ ایک خدا موجود ہے؟

کیا خرابی ہے سائنس میں؟ سائنس ایک خدا کے وجود کو کیوں تسلیم نہیں کرتی؟

مختصر جواب: سائنس کا مسئلہ خدا کا ہونا نہیں ہے.

سائنس فطرت کا مطالعہ ہے، بالفاظ دیگر، قدرتی مظاہر اور ان کے قدرتی اسباب کو سمجھنے کا علم. اور یہ قدرتی عمل کی قدرتی وجوہات تلاش کرنے میں ناکامی کو. supra natural پر گمان نہ کیا جاتا ہے نہ کیا جاسکتا ہے. جیسا کہ مندرجہ بالا تین خیالی مکالمے اس بات کی دلیل ہیں کہ، نہ جان پانا سائنس کوئی مسئلہ نہیں ہے، نہ کبھی تھا، جب سائنس فطرت کی بادشاہت میں سے جواب تلاش نہیں کر پاتی تو کچھ لوگ اسکے نہ جان پانے کو “خدا” کے ساتھ تبدیل کردیتے ہیں، جبکہ ایسا کچھ نہیں ۔ مندرجہ بالا مکالمے اسی بات کی طرف اشارہ ہیں۔

خدا کےوجود یاعدم وجود کے ساتھ سائنس کو کوئی مسئلہ نہیں حتیٰ کہ سپریم خالق کے وجود کو نہ قبول کرنے کی بھی سائنس کی مانگ نہیں ہے. گیلیلیو سے ڈارون تک، سائنسدانوں نے سائنس کیلئے نہ صرف شدید تنقید سہی بلکہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔
کیا چارلس ڈارون نے اپنی کسی بھی کتاب میں خالق کے وجود کی نفی کی؟
یقیناﹰ اس نے کبھی نہیں کہا، “زندگی کا کوئی خالق نہیں ہے”،
اسکے باوجود وہ آج تک تنقید اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنتا ہے بالخصوص مذہبی لوگوں سے کیونکہ ڈارون کی تخلیقی تھیوری تمام مذاہب میں موجود تخلیق کی کہانیوں سے مختلف ہے۔

لوگوں کی طرف سے سائنس کو پیش کردہ ایسے تمام سوالات جن میں دراصل سائنس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بس قبول کرلے ایک الہی خالق کے مختلف آئیڈیاز کو، سب سے زیادہ مشہور سوال یہ ہے کہ “بگ بینگ سے پہلے وہاں کیا تھا؟”. میں نے سینکڑوں بار یہ سوال سنا ہے اور یہ ہمیشہ میری سماعتوں کو تھوڑا سا مایوس کرتا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ایسا سوال کرنے والا کچھ وقت نکال کر کچھ بنیادی باتیں سمجھے کیونکہ یہ ایک درست سوال نہیں ہے. جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وقت کا تخلیق پانا ہی بگ بینگ کے نتیجہ ہے گویا ہم اپنے سوال میں لفظ پہلے کا استعمال کرکے وقت کے ہہیے کو الٹا گھمانا چاہتے ہیں حالانکہ بگ بینگ سے پہلے وقت کا وجود ہی نہ تھا۔ یہ ایک مثال سمجھانے کیلئے شاید کافی ہو کہ بغیر سائنس کو جانے کہ سائنس کس طرح کام کرتی ہے اور نتائج اخذ کرتی ہے بےسروپا سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ اس طرح کے سوالات زیادہ تر ایسے انسانی وجدان کے نتیجے میں ابھرتے ہیں جن میں سائنس مکمل طور پر ناقابل اعتماد نظر آتی ہے. ہمارا دماغ زندہ survive اور recreat کیلئے تیار ہوتا ہے نہ کہ گہرے آفاقی حقائق کو اپنے وجدان پر سمجھنے کے لئے. آپ انسانی وجدان کے بھروسے کو ٹیسٹ کرنا چاہتے ہیں تو، خصوصی اضافیت یا کوانٹم میکینکس کے اصول پڑھیں اور انہیں صرف اپنے وجدان پر سمجھنے کی کوشش نہ کریں۔

جبکہ میرا بنیادی دعویٰ ہے کہ سائنس کو ایک خدا کے ہونے یا نہ ہونے کو رد یا قبول کرنے سے کوئی سروکار نہیں، یہ سچ ہے کچھ سائنسدان اپنے الحاد کا برملا اظہار کرتے رہے اور آج بھی کئی سائنسدان اپنے الحادی عقیدے کو بیان کرتے ہیں۔اسی سلسلے کے جن سائنسدانوں کے نام فوری طور پر میرے ذہن میں آتے ہی وہ کارل سیگن اور رچرڈ ڈاکنس کے ہیں۔کارل سیگن کا مشہور فقرہ ہے کہ”غیر معمولی دعووں کو غیر معمولی ثبوتوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور ڈاکنس ایک انٹرویو میں کہتا ہے کہ “میں تمام عملی مقاصد کے لئے ایک ملحد ہوں. مطلب میں دعویٰ نہیں کرتا کہ کوئی خدا نہیں ہے لیکن مجھے ایک خدا کے وجود کا ثبوت نظر نہیں آتا. ” مذکورہ بالا دونوں سائنسدانوں کے دعوے میں مشترک موضوع ثبوت ہے . سائنس کا تعلق فقط قابل پیمائش، آخباخت تحقیق اورقابل تصدیق ثبوتوں کے ساتھ ہے۔ اس طرح کے تمام سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہوسکتا ہے ایک خدا موجود ہو اور ہر کوئی آذاد ہے کہ اسے مانے یا ایک سے زیادہ پر ایمان رکھے یا بہت سارے خداوں پر یقین رکھے لیکن ہمیں اسکا قابل پیمائش، آخباخت یا قابل تصدیق کوئی ثبوت نہیں ملتا. ایک بار پھر وہ سب اسی فن پر جمے رہے جسے سائنسی طریقہ کہا جاتا ہے اور یہ طریقہ کار فطرت کے مطالعے کو قدرتی رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔

اور ویسے بھی، مقدس کتابوں میں درج باتیں سائنسی دریافتوں کے باوجود سائنس کے میدان میں بطور ثبوت پیش نہیں کی جاسکتیں ۔ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ سائنسی دریافتوں کو اپنے صحیفوں میں پہلے سے درج ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ تمام دعوے عام طور پر تشریحی ہوتے ہیں اور یہ تشریحات سائنسی دریافت کے گرد گھومتی ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے ساتھ اور بہت سے مسائل ہیں جن کا ذکر کرنا گویا ایک اور امتحان کا سامنا کرنے جیسا ہے، ایسا امتحان جس میں میں پڑنا نہیں چاہتا جس کی وجہ تقریبا تمام معروف علماء کرام کا بہت سمجھداری سے، پیروکاروں کو اس راستے پر نہ جانے کا مشورہ ہے

سائنس کی بدولت آج ہم کائنات کی انگنت چیزوں کو جانتے ہیں، مٹھی بھر سوالات ہی رہ گئے جنکے جواب ابھی ملنا باقی ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان چند مٹھی بھر سوالوں کے جواب ملنے پر مزید بےشمار سوالوں کے مجموعے دریافت ہوجائیں ۔ سائنس سوالوں کے جواب کھوجنے کی کوشش کرتی رہے گی اور اس دوران میں جہالت اس سے سوال کرتی رہے گی اور “ہم نہیں جانتے” کا جواب “آہ لیکن میں جانتا ہوں اور جواب ہے خدا” سے دیتی رہےگی۔ مضمون کو شروعات سے دوبارہ پڑھیں۔

نوٹ: شاید یہ غیر ضروری لگتا ہے مگر پھر بھی کہنا چاہونگا کہ میں کسی بھی مذہب کو غلط ثابت کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ بتانا مقصود تھا کہ سائنس اور عقیدہ دو مختلف چیزیں ہیں۔

انگریزی میں اصل آرٹیکل پڑھیئے

One thought on “Science Kiyun Nahi Maanti

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *