Tum hi Kaho

پچھلے ہفتے راولپنڈی میں ایک دوست کے ہاں افطاری کیلیئے جانے کا اتفاق ہوا۔ پرانے تعلقات کا پاس رکھتے ہوئے شدید گرمی میں عصر کی نماز کے بعد چلا گیا۔ وہاں پہنچا تو دیکھا  وہاں عجیب منظر تھا عام عوام کے لئے زمین پر بیٹھنے کا انتظام کیا جا رہا تھا جبکہ ایک طرف ایک اونچی سی گدی بنائی جا رہی ہے، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ بڑے پیر صاحب تشریف لائیں گے۔ چونکہ عام عوام کے ساتھ بیٹھ جانے سے پیر صاحب کی شان میں گستاخی ہوتی ہے اس لئے ایک طرف ان کے لئے ایک اونچی نشست بنائی جا رہی تھی۔ ہمیں بھی شوق ہوا کہ بارہ سال بعد ہم بھی کسی پیر صاحب کو ملیں گے لیکن جب وہ تشریف لائے تو ہماری حالت ایسی تھی کہ میزبان کا سر پھوڑنے کو جی چاہ رہا تھا جبکہ پیر صاحب نے بھی ہمیں پہچان کر عزت افزائی کی اور اپنے ساتھ گدی پر بٹھا لیا اور پنجابی میں گویا ہوئے “کسے دے نال گل بات نہ کریں افطاری کرکے ڈیرے تے چلدے آں پرانی یاد تازہ کردے آں”۔

جانے کیوں مجھے لگا کہ ڈیرے پہ پہنچتےہی “مسنگ پرسن” ہو جاؤں گا فورا نکلنے کی کوشش کی لیکن ایک طرف میزبان اور دوسری طرف پیر صاحب کے چیلے، ہم بیچ میں پھنس گئے۔ قصہ مختصر ہم پیر صاحب کے فارم ہاؤس پر مجبوراً پہنچا دیے گئے۔ گھر میں بھی پیغام بھیج دیا، ٹویٹر پر بھی ایک دوست کو اطلاع کردی کہ اگر ہم دو چار دن نظر نہ آئیں تو ہماری جان کے تحفظ کے لئے ٹرینڈ ضرور چلانا۔ اب ذرا پیر صاحب کا تعارف کروا دوں موصوف کا ایک چھوٹے سے زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ گیارہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور لاڈلے ہونے کی وجہ سے شروع سے ہی کمینے پن کے انتہائی درجے پہ فائز ہو گئےتھے۔ سکول میں بھی اپنے “کالے” کرتوتوں کی وجہ سے مشہور ہو چکے تھے، خیر میٹرک کے بعد ہم باہر چلے گئے لیکن پیر صاحب سے ہمارا رابطہ قائم رہا۔ کالج میں قوم لوط کا پیروکار بننے کی سزا میں جب نکالے گئے تو کوشش کر کے کچھ عرصہ بعد ایک پرائیویٹ کالج میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جہاں مخلوط تعلیمی نظام تھا وہاں سے سیدھے موصوف چوری اور زنا بالجبر کے کیس میں جیل کو سدھارے اور دو سال کی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ یہاں تک تو ہمارا ان سے رابطہ تھا۔

اس کے بعد انکو اس افطار پارٹی میں دیکھا خیر باقی انکی کہانی ان کی زبانی سنئیے ۔ ۔  ’یار رضے جیل میں دو سال رہنا مشکل تھا لیکن وہاں ایک پیر بابا کا آسرا مل گیا چھوٹی موٹی اسمگلنگ کرتے تھے عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے انہوں نے مجھے پیری کی ٹریننگ دی باہر آنے پہ ان کا ایک چیلا میرا انتظار کر رہا تھا اس نے دو دن بعد بارڈر کے ایک گاوں میں بلایا۔ گھر پہنچنے سے پہلے میرا وہاں جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن اتنی بڑی فیملی سونے پہ سہاگا جیل کی ہوا کھانے کے بعد رہی سہی عزت بھی گئی تو سوچا چانس ہی لے لوں۔۔۔ ادھر ادھر سے ادھار پکڑ کے میں جب میں وہاں پہنچا تو مجھے وہاں پیروں والا ہی پروٹوکول دیا گیا اور رات ولایتی شراب کے ساتھ دیسی شباب صبح تک خود کو مکمل پیر(جعلی) سمجھ کہ پچھلی زندگی پہ لعنت بھیجتے ہوئے مستقبل کے “کاروبار” کی طرف دھیان دیا۔۔۔ پہلا ٹارگٹ جو دیا گیا وہ ایک پرانا ڈاک بنگلہ تھا جسے علاقہ بھوت بنگلہ کہتے تھے وہاں میں نے چالیس دن کا چلہ کاٹا اور اسے اپنی سمگلنگ کا گڑھ بنا لیا۔۔۔ پولیس اور معاون کو ان کا حصہ دینے کے بعد میرے ہاتھ اچھی خاصی رقم آ جاتی تھی۔۔۔ کاروبار خوب چمکا اب ایک گڈز کمپنی چار چھ کوٹھیاں اور کچھ کنال زمین ہے اضافی طور پہ چار بیویاں اور درجن بھر خدمت گزار خواتین رکھی ہوئیں۔۔۔ بس اللہ نے عزت دی ہے۔۔۔ سیاستدانوں سے مراسم کی وجہ اسلام آبار شفٹ ہونا پڑا‘۔۔۔ اتنے میں پیر عالی مقام کے بیرون ملک مقیم مرید کا فون آ گیا اور جناب عزت مآب رضا صاحب اپنا سا منہ لے کے عالی مرتبت کی پراڈو میں گھر کی طرف رواں دواں تھے۔۔۔ پیر صاحب کی اتنی حسین زندگی پہ رشک کرنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کیا جو تھوڑا دے رہا ہے لیکن حلال اور عزت والا رزق دے رہا ہے۔۔۔

نوٹ

میں بنیادی طور پہ  اولیاء کرام کی دل سے قدر کرتا ہوں لیکن ہمارے قوم کے دل میں ان لوگوں کے لئے بہت عقیدت موجود ہے لیکن کچھ عناصر صرف دنیاوی فوائد کے لئے ان عقیدت مندانہ جذبوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیں جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔۔ اللہ ہم سب کو نیکی اور اچھائی کی راہ دکھائے۔۔۔ آمین

2 thoughts on “Tum hi Kaho

  • June 30, 2016 at 4:12 pm
    Permalink
    بے شک قرآن پاک میں ولی اللہ اور ولی شیطان دونوں کا ذکر ہے اللہ ہمیں ولی شیطان سے اپنی پناہ میں رکھے
    خوبصورت انداز بیان
    Reply
  • June 30, 2016 at 4:43 pm
    Permalink
    اللہ بچائے ان پیروں سے.
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *