Pul E Siraat

پُلِ صراط

‘راجہ بازار، راجہ بازار’

‘صدر جی پی او، صدر جی پی او’

‘آجاؤ نا جی فرنٹ سیٹ پہ ایک سواری کی جگہ خالی ہے’

‘مجھے نہیں بیٹھنا’

‘آپ کی مرضی ہے بادشاہو انتظار کرو پھر کسی کار کا’

کنڈکٹر کے لوفرانہ انداز میں کہنے پر پیچھے بیٹھی ہوئی سواریوں میں سے چند ایک نے زوردار قہقہہ لگایا۔

خدا خدا کر کے دور سے اسے گلابی رنگ کی ویگن آتی ہوئی نظر آئی،  یہ گلابی رنگ کی ویگن سروس صرف خواتین مسافروں کیلئے مخصوص تھی،  پاس پہنچنے پر ویگن رکی تو اس میں جگہ موجود تھی،  سیٹ پا کر اس نے رب کا شکر ادا کیا۔

گاڑی میں بیٹھ کر وہ اپنی منزل کی طرف چل پڑی۔

یہ اس کا روز کا معمول تھا،  وہ پنڈی کے ایک گنجان آباد متوسط علاقے کی رہائشی تھی اور اسلام آباد بلیوایریا کے ایک دفتر میں ملازمت کرتی تھی اس لیے اسے روزانہ دو دفعہ اس عمل سے گزرنا پڑتا تھا – کچھ عرصہ پہلے تک وہ انہی ویگنوں میں سفر کرتی تھی جہاں ہمہ وقت دھکم پیل،  کنڈکٹرز اور مسافروں کے ذومعنی اور بسا اوقات بالکل واضح فحش فقرات سے واسطہ پڑتا تھا – کئی اوباش لوگ تو موقع ملنے پر ہلکی پھلکی دست درازی کی کوشش بھی کر گزرتے – فرنٹ سیٹ اگر ملے تو وہاں ڈرائیور حضرات بےتکلف اور قریب ہونے کے علاوہ ذومعنی و فحش قسم کے گانے اور گفتگو پر مصر نظر آتے۔

سال پہلے تک اس کی زندگی میں ایسے کسی تجربے کا کوئی عمل دخل نہ تھا – اسکا شوہر ایک سرکاری دفتر میں ایک مناسب عہدے پر ملازم تھا۔  ذاتی موٹر سائیکل ان دونوں کے گھومنے پھرنے کیلیے کافی تھی اور پبلک ٹرانسپورٹ سے متعلقہ مسائل سے اسکا کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا تھا، مگر اس کے شوہر کو پیش آنے والے ایک حادثے کے نتیجے میں اسکی مستقل معذوری نے جیسے سب کچھ ہی بدل ڈالا، کچھ تھوڑا بہت جمع جوڑ جو تھا وہ علاج میں کام آیا مگر معذوری وہیں کی وہیں رہی کچھ عرصہ تو وہ لوگ پہلے سے موجود زرائع کو استعمال میں لاکر گذارا کرتے رہے لیکن کب تک، آہستہ آہستہ حالات خراب ہونے لگے جبکہ اسکے شوہر کے دفتر سے واجبات اور پنشن کا مسئلہ ابھی  تک لٹک رہا تھا۔

ایسے میں ایک دن اس نے ایک بڑا فیصلہ کر لیا اور اخبار میں سے اشتہارات دیکھ کر چند جگہوں پر ملازمت کیلئے درخواستیں دے ڈالیں – بہتر تعلیم یافتہ ہونے پر اس نے ایک بار پھر اپنے والد مرحوم اور والدہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنے خاندان اور طبقے کی مخالفت مول لیکر بھی اسے پڑھایا – اسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس کے والد اکثر کہتے تھے کہ تعلیم سب سے اچھا تحفہ ہے جو والدین اپنے بچوں کو دے سکتے ہیں – ایک جگہ سے انٹرویو کی کال آنے پر اس نے اپنے شوہر کو اعتماد میں لیا جو کہ شروع میں تھوڑا ہچکچایا مگر کب تک کیونکہ حالات کا اندازہ اسے بھی تھا اسلیئے طوعاً و کرہاً اس کو اس بات پر راضی ہونا ہی پڑا – انٹرویو اچھا رہا اور اسے بالآخر اس دفتر میں ملازمت مل ہی گئی، مکمل دفتری ملازمت ہونے کی وجہ سے اس کی جھجک اور لیا دیا سا انداز بھی رکاوٹ نہ بنا – دفتر میں کولیگز بھی اس کے محتاط انداز کی وجہ سے جلد ہی اس سے احترام کا رشتہ استوار کرنے پر مجبور ہوگئے مگر ہر روز دفتر آنا جانا اس کے لیے ایک امتحان ہی رہا،  ایک دن اسے پتہ چلا کہ ایک نئی گلابی ویگن سروس شروع ہوئی ہے جو صرف خواتین کیلئے مخصوص ہے تو اس نے سکھ کا سانس لیا،  پہلی دفعہ اس ویگن کا سفر کرکے اسے بہت اچھا لگا اور اس دن کے بعد سے اس نے ہر روز اس ویگن کا انتظار کرنا شروع کردیا – کم گاڑیاں ہونے کی وجہ سے یہ انتظار بعض اوقات خاصا طویل ہوجاتا مگر اس سے وابستہ ذہنی سکون کی وجہ سے اسے یہ ناگوار نہ گزرتا۔

یہی سب کچھ سوچتے ہوئے اس کا مطلوبہ سٹاپ آن پہنچا،  ویگن سے اترتے ہی اسے لگا کہ ایک دم وہ گھر کے ماحول سے نکل کر بازار میں آگئی ہے – سٹاپ سے اسکا گھر صرف آدھے کلومیٹر کے فاصلے پر تھا لیکن یہ ایک گنجان بازار تھا اس وجہ سے اسے یہ ہمیشہ مشکل لگتا،  اتر کر اس نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی تو حسب معمول وہ دونوں موجود تھے،  سب سے پہلے تو سٹاپ پر موجود شربت کی ریڑھی والے نے کھنگورا مار کر اسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا جسے نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھی تو وہ غصے میں ہونہہ کرتے ہوئے بولا ‘دفتر کا ٹائم اب لمبا ہی ہوتا جا رہا ہے سب خیر ہے نا’ اس نے گھر کی طرف چلنا شروع کیا تو وہ دونوں بھی پیچھے پیچھے ہولیے اور بظاہر آپس میں گفتگو شروع کر دی۔ ۔ ۔

‘آج پھر لیٹ آیا ہے بے’

‘بس یار وہ باس نے روک لیا تھا کہتا تھا کہ میرا ایک ذاتی کام کر دو بڑی مشکل سے جان چھڑوائی’

‘اچھا جی باس کے کام تو ہوجاتے ہیں ہمارا خیال نہیں آتا تجھے’

‘بس یار کیا کریں باس تو پھر باس ہوتا ہے نا’

‘یہ تو ہے خیر یہ بتا کیا سوچا پھر چلیں کسی دن مکڈونلڈ’

اس کا ہر قدم من بھر کا ہوتا جاتا تھا، یہ آدھا کلومیٹر ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا،  رستے میں دو ایک دکانداروں نے بھی مختلف طریقوں سے اسے اپنے ‘ہونے’ کا احساس دلایا۔

خدا خدا کر کے اسے گلی نظر آئی جہاں سے اسے اپنے گھر کی طرف مڑنا تھا تو اس نے قدم تیزی سے اٹھانے شروع کر دئیے یہاں سے بازار کا علاقہ ختم ہوجاتا تھا،  گرمیوں کی وجہ سے گلی مکمل سنسان پڑی تھی اس پر وہ دونوں تیزی سے اس کے بالکل قریب آ پہنچے۔ ۔

‘ہاں بھئی کیا سوچا ہے پھر’

‘کیسی باتیں کر رہے ہو تمہیں شرم نہیں آتی تم تو ہمارے ہمسائے تھے تمہیں کیا ہوا’

‘ہمسایہ ہوں جبھی تو کہہ رہا ہوں کہ کب تک اس لنگڑے کے ساتھ رہو گی جو نہ تمہاری حفاظت کر سکتا ہے اور نہ کچھ کما سکتا ہے’

‘بکواس بند کرو’ غصے سے کانپتے ہوئے اس کے منہ سے صرف یہی نکل سکا

اچانک موڑ سے ایک بزرگ نمودار ہوئے جنہوں نے عجیب سی نظروں سے ان تینوں کو دیکھا

ایسے میں اسے وہ بزرگ اسے رحمت کا فرشتہ محسوس ہوئے اور اس نے تیزی سے قدم اٹھاتے ہوئے اپنے گھر کے دروازے پر پہنچ کر تیزی سے تالے میں چابی گھمائی – اندر داخل ہوکر اس نے سکون کی ایک لمبی سانس لی

‘آگئیں’،  اسکے شوہر کی آواز آئی

‘جی’

‘کیا بات ہے ٹھیک تو ہو نا’

‘جی بس تھک گئی ویگن سٹاپ سے یہاں تک آتے آتے’

‘خیریت،  آدھا کلومیٹر ہی تو ہے’

‘جی ہاں آدھا کلومیٹر ہی ہے بس تھوڑی گرمی زیادہ ہے’

یہ کہتے ہوئے وہ اپنا پرس پھینکتے ہوئے بستر پر گرپڑی کیونکہ اسے پھر سے ہمت جمع کرنی تھی خود کو اکٹھا کرکے کل کے لیے تیار کرنا تھا، اس ‘آدھے کلومیٹر’ کیلئے۔

نوٹ:

اس میں گلابی ویگن کی جگہ پنڈی اسلام آباد میٹرو سروس کا ذکر بھی ہوسکتا تھا جو کہ خواتین اور مرد مسافروں کیلئے ایک باعزت ذریعہ سفر ہے لیکن شاید میٹرو کا ذکر کچھ دوستوں کی طبع نازک پر گراں گزرتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.