Mohib-e-Watan

اس سے میری پہلی ملاقات ایک کتاب میلے پر ہوئی تھی۔ موسمِ بہار کے اوائل میں منعقدہ اس کتاب میلے پر دنیا جہان کی کتب عام نرخوں سے ارزاں دستیاب ہوتی ہیں اور کتب کی خریداری کے لیے باذوق افراد امڈ آتے ہیں۔ مجھے بھی تلاشِ بسیار کے باوجود چند کتب دستیاب نہیں ہو رہی تھیں، اس لیے ان کی تلاش میں، میں بھی یہاں پہنچ گیا تھا۔

بہت سے کتاب ٹھیلے گھومنے کے باوجود مطلوبہ کتب نہ مل رہی تھیں۔ میں تقریباً مایوس ہو چکا تھا۔ ایک کتاب ٹھیلے پر میں سیلزمین سے ان کتب کی بابت دریافت کر رہا تھا کہ ساتھ کھڑے ہوئے ایک لڑکے نے کہا کہ “یہ کتب صرف فلاں کتاب ٹھیلے پر دستیاب ہے، آپ وہاں چلے جائیں، آپ کو مل جائے گی۔ میں نے بھی وہیں سے خریدی ہے۔ بلکہ ٹھہرئیے، میں آپ کے ساتھ ہی چلتا ہوں۔ اس ٹھیلے کے مالک میرے ابو کے احسان مند ہیں، تھوڑی مزید سستی مل جائیں گی۔”

اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں کے مصداق میں شاداں و فرحاں اس کے ساتھ چل پڑا۔ اپنے دعوے کے عین مطابق، اس نے واقعی کتب کافی رعائیتی قیمت پر دلوا دیں۔ تشکر کے جذبات کے ساتھ میں نے اسے چائے کی دعوت دی، جو اس نے شکریے کے ساتھ قبول کر لی۔ نزدیکی کینٹین پر چائے کے ساتھ گپ شپ شروع ہوئی تو احساس ہوا کہ ہمارا ذوق کافی ملتا جلتا ہے۔ نثر، شاعری، کھیل، صحافت الغرض ہر شعبہ ہائے زندگی جو زیرِ بحث آیا، اس پر ہمارے خیالات کافی ملتے جلتے تھے۔ اسی گپ شپ میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور کتاب میلے کے اُس دن کے اختتام کا وقت ہو گیا۔ ہم نے اپنے موبائل نمبر ایک دوسرے کو دیے اور دوبارہ ملنے کے وعدے کے ساتھ ایک دوسرے کو الودع کہہ کر رخصت ہوئے۔
میں رابطے میں خاصا کاہل واقع ہوا ہوں، مگر اس نے اگلے ہی دن فون کیا اور شہر کے پوش علاقے میں رات کے کھانے کی دعوت دے ڈالی۔ میں نے بہت عذر پیش کیے مگر اس کے خلوص کے سامنے ایک نہ پیش گئی اور حامی بھرنی پڑ گئی۔ رات کے کھانے پر ملاقات ہوئی تو گفتگو کا سلسلہ چلتے چلتے ملکی حالات اور سیاست کی طرف مڑ گیا۔
سیاست دانوں کا ذکر شروع ہوتے ہی اس کا لہجہ پہلے تلخ ہوا اور پھر زہر آلود ہوتا چلا گیا۔ اس نے مختلف سیاست دانوں کے بارے میں ایسی ایسی ہوشربا باتیں بتائیں کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے پہلے تو اس کی باتوں کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی مگر اس نے مجھے حلفیہ یقین دلایا کہ وہ جو کہہ رہا ہے، سچ کہہ رہا ہے۔ اس نے مجھے سیاستدانوں کی بدعنوانی کے قصے سنائے اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ کون کونسا سرکاری اہلکار ان کے ساتھ ملوث ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ کیسے یہ سیاستدان اپنے بچوں کو استعمال کر کے سرکاری راز اپنے بچوں کو بتا دیتے ہیں، جن کو ان کی اولاد کبھی نہ سمجھی میں اور کبھی لالچ میں غیر متعلقہ افراد تک پہنچا دیتی ہے۔ اس نے غصے سے بھرے زہر آلود لہجے میں کپکپاتی آواز میں کہا، “بھائی! آپ کو نہیں پتہ، یہ لوگ کتنے کرپٹ ہیں۔ یہ ملکی راز اپنے بچوں کو دیتے ہیں۔ وہ ان کو آگے بیچ دیتے ہیں۔ یہ سیاستدان اور ان کی نسلیں بھی غدار ہیں۔”

میں نے اس کو پانی کا گلاس دیا اور گفتگو کا رخ پھیرنے کی کوشش کی، جس میں کامیاب رہا اور گفتگو موسیقی کی طرف مڑ گئی۔ وقت گزرنے کا احساس تب ہوا، جب بیرے نے آ کر ہمیں بتایا کہ ریستوران بند ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ بد دلی کے ساتھ ہم اٹھ کر باہر آئے۔ پارکنگ میں ایک دوسرے سے رخصت ہوتے ہوئے میں نے اس سے برسبیلِ تذکرہ پوچھا کہ یار یہ سیاستدانوں کے بارے میں اتنی خفیہ معلومات آپ کے پاس کیسے آئی ہیں؟
اُس نے رازدارنہ لہجے میں کہا، “بھائی جان! میرے والد ایک خفیہ ادارے کے افسر ہیں اور یہ تمام معلومات میں نے ان فائلز سے لی ہیں جو وہ مجھے پڑھنے کے لیے دیتے رہتے ہیں۔”

One thought on “Mohib-e-Watan

  • June 26, 2016 at 10:06 pm
    Permalink

    جواد بھائی لکھتے رہیا کیجیے۔۔۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.