Kangan

وہ اپنی جگہ ہکا بکا کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ جو بات اس نے سنی تھی وہ اس کے خواب و خیال سے بھی باہر تھی۔ اتنی بعید از قیاس کہ گویا ناممکن۔ تن تنہا وسیع و عریض صحراء میں اپنی گھوڑی کو بگٹٹ دوڑاتا ہوا کچھ ہی دیر پہلے وہ یہاں تک پہنچا تھا۔ تب اچانک اس کی گھوڑی نے ٹھوکر کھائی تھی اور وہ دھڑام سے زمین پر آ رہا تھا۔ وہ ایک ماہر گھڑ سوار تھا اور اس کی گھوڑی بہت سدھائی ہوئی تھی لیکن وہ بامشکل ہی اٹھ سکی تھی۔ گھوڑی کا یوں ٹھوکر کھا کر گرنا اور پیٹ تک زمین میں دھنس جانا ایک غیر معمولی امر تھا۔ اسے یقین ہو گیاکہ اگر اس نے اپنے ارادہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش جاری رکھی تو اس پر کوئی سخت بلا نازل ہو گی۔
اسی صبح قریش کے کچھ لوگ اس کے قبیلہ کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے بصد افسوس بتایا تھا کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کے چنگل سے نکل گئے ہیں۔ اس لئے اہل مکہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو کوئی محمد ﷺ کو گرفتار یا قتل کر کے لائے گا اسے ایک انسان کی دیت کے برابر انعام دیا جائے گا۔ اور ایک انسان کا خون بہا ایک سو اونٹ مقرر تھے ۔ کچھ دیر بعد ایک اور شخص نے مجلس میں ذکر کیا کہ اس نے سمندر کی جانب چند لوگوں کو جاتے دیکھا ہے اور اس کا خیال ہے کہ وہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہیں۔ سراقہ بن مالک بن جثم المذلجی سمجھ گیا کہ اس جگہ اس وقت آپ ﷺ ہی ہو سکتے ہیں۔ لیکن سارا انعام اکیلے حاصل کرنے کے لالچ میں اس نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ وہ محمد ﷺ نہیں بلکہ فلاں فلاں لوگ ہیں۔ پھر گفتگو کا رخ کسی اور موضوع کی جانب موڑنے کے بعد وہ چپکے سے اٹھ کر گھر آیا اور گھوڑی پر سوار ہو کر، ہاتھ میں نیزہ لئے وہ تیزی کے ساتھ اس جانب روانہ ہوا جہاں اس کے اندازہ کے مطابق آپ ﷺ محو سفر تھے۔
تھوڑی دیر بعد اس نے دور اُفُق پر تین آدمیوں کو جاتے دیکھا۔ تب اپنی مشرکانہ عادت کے موافق اس نے فال نکالی تو وہ اس کے ارادہ کے مخالف نکلی۔ لیکن ایک سو اونٹوں کے انعام کا لالچ زیادہ طاقتور ثابت ہو اور اس نے تیزی سے آگے بڑھنا شروع کیا۔ نزدیک پہنچنے پر اس نے دیکھا کہ آنحضور ﷺ مسلسل تلاوت فرما رہے ہیں۔ کسی قسم کے خوف یا تجسس کا مظاہر ہ آپ ﷺ نے نہ فرمایا اور پیچھے مڑ کربھی نہ دیکھا کہ کون آ رہا ہے اور کس قدر نزدیک پہنچ چکا ہے۔
ایسا کیوں تھا؟ اس لئے کہ خدا پر کامل توکل ، اس کی حفاظت پر کامل یقین ، اس کی معیت کی کامل معرفت، اور اس کے مدد و نصرت کے وعدوں پر کامل بھروسہ ہی وہ چیز تھی جس نے آپ ﷺ کو ہر قسم کے خوف سے کامل طور پر بے نیاز کر دیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ اس یقین سے پُر تھے کہ آپ ﷺ خدا تعالیٰ کے اذن اور اس کے منشاء کے مطابق سفر فرما رہے ہیں۔ پس کیونکر ممکن ہے کہ خدا کی منشاء کے بر خلاف کچھ بھی رونماء ہو سکے۔ یہی سبق تو آپ ﷺ نے غار ثور کے منہ پر آنے والے اہل قریش کو دیکھ کر سوال کرنے والے حضرت ابو بکر ؓ کو دیا تھا: لا تحزن ان اللہ معنا۔ اس کے مقابل پر حضرت ابو بکرؓ اب بھی بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتے تھے۔ اور بار بار عرض کرتے تھے کہ حضور ﷺ اب تو پیچھا کرنے والا سر پر آ ن ہی پہنچا ہے۔ غار ثور کے موقع پر تو قریش نے نہ دیکھا تھا لیکن سراقہ تو دیکھ بھی رہا تھا۔ حضور ﷺ لیکن کچھ جواب نہ دیتے۔ آخر آپ ؓ رو پڑے اور عرض کیا کہ مجھے اپنی فکر نہیں مجھے آپ ﷺ کی فکر ہے۔ تب آپ ﷺ نے دعا کی تو سراقہ کی گھوڑی ٹھوکر کھا کر گری اور اس کے اگلے پاوں زمین میں دھنس گئے۔ اس وقت تک بے نیازی اور اطمنان قلب کا یہ حال تھا کہ آپ ﷺ نے سراقہ کو اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ اس کے واسطے دعا ہی کی جائے۔ اور اب بھی محض حضرت ابو بکر ؓ کے غم کو دیکھتے ہوئے دعا کی ورنہ اپنا معاملہ آپ ﷺ نے مکمل طور پر اپنے خدا کے سپرد کر رکھا تھا۔
سراقہ جو آپ ﷺ کو یوں بے خوف و بے نیاز دیکھ کر پہلے ہی مرعوب ہو چکا تھا، جان گیا کہ گھوڑی کا دھنسنا آپ ﷺ کی دعا ہی کا نتیجہ ہے۔ تب اس نے یقین کیا کہ ضرور کوئی بالا طاقت آپ ﷺ کے ساتھ ہے اور آپ ﷺ ضرور ایک دن کامیاب ہوں گے۔ تب تمام تر لالچ کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس نے با عجز و احترام عرض کیا کہ میں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچاوں گا بس میری ایک بات سن لیں۔ آپ ﷺ نے اب بھی اس کی طرف توجہ نہ فرمائی اور حضرت ابو بکر ؓ سے فرمایا کہ اس سے پوچھیں کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اس پر اُس نے عرض کیا کہ مجھے ایک تحریر لکھ دیں جو میرے اور آپ کے درمیان عہد و پیمان ہو ۔ آپ ﷺ نے حضرت ابو بکر ؓ کو ارشاد فرمایا کہ اسے تحریر لکھ دی جائے۔ اس پر سراقہ نے عرض کیا کہ میرے یہ تیر بطور نشانی لے لیں ۔ فلاں جگہ میرے اونٹ ہیں وہاں یہ نشانی دکھا کر جتنے چاہیں اونٹ لے لیں۔ خدا کی شان ۔یہی سراقہ چند منٹ پہلے اونٹوں کے لالچ میں آپ ﷺ کی جان کے در پے تھا اور اب یہ حالت کہ خود آپ ﷺ کے حضور اونٹ پیش کر نے لگا۔آپ ﷺ نے اس کمال استغنا سے، جو آپ ﷺ کے وجود کے ذرہ ذرہ سے چھلکتا تھا، فرمایا کہ ہمیں اس کے اونٹوں کی کچھ ضرورت نہیں۔گو سراقہ نے اونٹ بطور ہدیہ پیش کئے تھے لیکن غالبا آپ ﷺ نے اس للہی سفر میں سب کچھ خدا کے حضور پیش کرنے اور سب کچھ اسی سے لینے کا فیصلہ فرما لیا ہوا تھا۔ سراقہ تو پھر دشمن تھا اس سفر میں تو آپ ﷺ نے ابو بکر ؓ کی اونٹنی بھی اس شرط پر قبول فرمائی تھی کہ اس کی قیمت ادا کی جائے گی۔انہی حضرت ابو بکر ؓ سے آپ ﷺ نے دوسرے وقت ہدایا اور تحائف قبول فرمائے ہوں گے۔ لیکن اس وقت نہیں۔ اس وقت استغناء اور توکل کی ایک نئی شان ظہور پذیر تھی۔ بظاہر تو آپ ﷺ بے سر و سامان اور یک و تنہا تھے، لیکن اس حالت میں بھی آپ ﷺ کی ایک عجیب شان وجود مبارک سے منعکس ہو رہی تھی جس کا ایک خاص ظہور چند ہی لمحوں میں ہونے والا تھا۔
خدا کا اپنے بندوں کے ساتھ کیا ہی عجیب سلوک ہے۔ ہر چیز جو وہ اس کی خاطر چھوڑتے ہیں وہ انہیں دی جاتی ہے۔ جو کچھ اس کی راہ میں کھوتے ہیں وہ انہیں مل کر رہتا ہے۔ اور اس سے بہت بڑھ کر۔ پھر اس کی یہ بھی ایک سنت ہے کہ اس وقت جب بندے اس کی خاطر کمزوری اور خطرے کی حالت میں ڈالے جاتے ہیں عین اسوقت بکثرت فرشتے ان پر نازل ہوتے اور ان کو نحن اولیاکم فی الحیاۃ الدنیا و الآخرہ کی نوید سناتے ہیں۔تب ان بندوں کا ایمان و یقین ایسی بلندی کو چھو لیتا ہے کہ کسی قسم کا تردد و تامل، کوئی خوف اور غم ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ وہ ان کو اپنی قدرت اور طاقت کے ایسے نظارے دکھاتا اور کامیابی و نصرت کے وہ وعدے دیتا ہے جو ان بے کس و کمزور بندوں سے ہونے محال ہوتے ہیں۔ شائد اس لئے کہ ایک طرف تو اس کے پیاروں کی ڈحارس بندھے اور ان کے یقین و ایمان میں اضافہ ہو تو دوسری طرف مخالفوں کے لئے وہ بطور نشان ٹھہریں ۔ اور بظاہر ناممکن حالات میں عظیم الشان فتوحات کی پیش خبریاں دینا اور پھر ان کا فی الحقیقت پورا ہو جانا خدا تعالیٰ کے وجود کا ثبوت ہو۔
اسی سنت کے موافق خدا تعالیٰ نے اس بے سر و سامانی کی حالت میں آپ ﷺ کو ایران کی فتح کی خوشخبری دی اور کشف میں نظارہ دکھایا کہ کسریٰ شہنشاہ ایران کے ہاتھوں کے کڑے اسی سراقہ کو پہنائے جائیں گے۔چنانچہ اب پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے براہ راست سراقہ کو تخاطب کا شرف بخشا اور فرمایا سراقہ تیرا کیا حال ہو گا جب کسریٰ کے کنگن تیرے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے؟ سراقہ کہتے ہیں کہ میں نے حیرت سے کہا کسریٰ شاہ ایران؟ کہاں عرب کا ایک بدو اور کہاں ایران کا شہنشاہ جو ایک عظیم الشان سلطنت کا فرماروا تھا۔ ایک ایسی سلطنت جس نے کچھ ہی سال پہلے اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی طاقت، سلطنت روم، کو شکست فاش دے کر اس کے قیمتی ترین صوبے چھین لئے تھے۔ شہنشاہ ایران کے کنگن اس بدو کے ہاتھوں میں؟ کتنی محیر العقول بات تھی؟آپ ﷺ یہ خوشخبری سراقہ کو سنا کر پہلے سی شان استغاء کے ساتھ اپنے راستہ پر رواں ہو گے۔ آپ ﷺ کو کسریٰ اور اس کی سلطنت کی کیا پرواہ؟ یہ تو ایک پیغام تھا جو آپ ﷺ کو ملا اور آپ ﷺ نے سراقہ تک پہنچا دیا۔ و بس۔ اور سراقہ؟ وہ تو اپنی گستاخی پر نادم تھا ہی اور اسی لئے اونٹ پیش کر رہا تھا،اس کے وہم میں بھی نہ ہو گا کہ یہ شہنشاہ دو جہاں ﷺ اس پر ایسا احسان کرے گا کہ قیامت تک اس کا نام زندہ رہے گا۔
پھر بہت سال گزر گئے۔ آپ ﷺ مختلف مرحلوں سے ہوتے ہوئے فاتح مکہ ہوئے اور پھر اپنا کام پورا کر کے اپنے مالک حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔ آپ ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر ؓ خلیفہ ہوئے جو اس وعدہ کے عینی گواہ تھے۔ آپ ؓ بھی وفات پا گئے اور سراقہ کا ہاتھ ان کنگنوں سے خالی ہی رہا۔ سراقہ تو شائد اس وعدہ کو بھول بھی چکا ہو لیکن محمد ﷺ کے قادر مطلق خدا کو وہ وعدہ یاد تھا۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ کے دور میں شہنشاہ ایران کی سلطنت خود اس کی اپنی ہی زیادتیوں کی بنا پر زیر نگیں کی گئی۔ تب کسریٰ کا خزانہ بھی مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔ اس میں وہ دو کنگن بھی تھے جن کا وعدہ بہت سال پہلے آپ ﷺ نے سراقہ سے کیا تھا۔جب کنگن حضرت عمر ؓ کی خدمت میں پیش کئے گئے تو آپ نے سراقہ کو بلا بھیجا۔ تب فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ محمد ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے وہ الفاظ حرف بہ حرف پورے ہوئے اور شہنشاہ دو جہاں ﷺکے فرمان کے مطابق ایران کے شہنشاہ کے کنگن اس بدو کو پہنائے گئے جس نے ایک نازک وقت میں ، اگرچہ نادم ہو کر ہی، آپ ﷺ کے ساتھ اچھے سلوک کا ارادہ کیا تھا۔ الھم صلیٰ علیٰ محمد و علیٰ آل محمد و بارک و سلم۔
سراقہ سے ایک حدیث بھی مروی ہے۔ انہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔ انہوں نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ بعض گم گشتہ اونٹ میرے حوض پر آ جاتے ہیں اگر میں ان کو پانی پلائوں تو کیا اس کا بھی اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اس کا بھی اجر ملے گا۔
اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جب خوب سوچ بچار اور دعا کے بعد کسی کام کا ارادہ کر لیا جائے تو پھر اپنی توجہ کامل طور پر اس کام پر مرکوز کر دینی چاہئے اور کوئی خطرہ بھی پھر اس میں خلل ڈالنے والا نہ ہو۔ ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ جو شخص ہمارے کسی پیارے کے ساتھ اچھا سلوک کرے اس کے ساتھ بھی نیک سلوک کرنا چاہئے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے پیارے ﷺ سے نیک ارادہ کے بدلہ سراقہ کو یہ عزت بخشی۔ نیز یہ بھی کہ نیک سلوک کرنے والے سے اس بھی بڑھ کر نیک سلوک کرنا چاہئے۔
ایک سوال جو یہاں اٹھتا ہے وہ یہ ہے کہ اس سفر میں تو آپ ﷺ بے فکر تھے اور حضرت ابو بکر ؓ فکر مندہو کر روتے تھے، لیکن دو سال بعد بدر کے میدان میں اس کے اُلٹ آپ ﷺ دعائیں کرتے روتے جاتے تھے جبکہ حضرت ابو بکر ؓ تسلی کے کلمات عرض کرتے تھے ۔ اس بظاہر تضاد کی وجہ دونوں مرتبہ دوسرے کے لئے فکر اور محبت معلوم ہوتی ہے۔ یہاں ابو بکر ؓ کو آنحضرت ﷺ کی محبت کی وجہ سے فکر تھی اور بدر کے میدان میں آپ ﷺ کو صحابہ ؓ کی فکر تھی۔ اس سفر میں آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ کفار صرف آپ ﷺ کے مخالف ہیں اور حضرت ابو بکر ؓ کو کچھ نہیں کہیں گے، جیسا کہ ہجرت کرتے وقت اپنے بستر پر سلانے کے باوجود حضرت علیؓ کو بھی کچھ نہیں کہا۔جبکہ بدر میں کفار اسلام اور مسلمانوں کو فنا کرنے کے ارادہ سے آئے تھے۔پس آپ ﷺ کو بدر کے میدان میں صحابہ کی ہی فکر تھی اپنی نہیں۔
مآخذ:
ابن ہشام، سیرۃ رسول اللہؐ، جلد ۲، صفحہ ۱۱۱، مطبوعہ دار الصحابہ للتراث بطنطا مصر، ۱۹۹۵
بخاری، جامع الصحیح، حدیث نمبر ۳۹۰۶، مطبوعہ دار ابن کثیر، دمشق سوریا،۲۰۰۲
ابن حجر العسقلانی، فتح الباری بشرح صحیح البخاری، جلد۸، صفحہ ۶۹۰، مطبوعہ دار الطیبۃللنشر التوزیع، ۲۰۰۵
المقرزی، امتاع الاسماع، جلد ۱، صفحہ ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت لبنان، ۱۹۹۹
البیھقی، دلائل النبوۃ، جلد ۲، صفحہ ۴۸۴، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت لبنان، ۱۹۸۸
السھیلی، روض الانف جلد ۲ صفحہ ۳۲۳, مطبوعہ دال الکتب العلمیہ، بیروت ۔لبنان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.