Imaandar Police Officer aur Nizam e Insaaf

بنیادی طور پر ہمارا پولیس نظام انگریز کا قائم کردہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تنزلی کا شکار ہی ہوا۔ اس نظام میں افرادی قوت دو حصوں میں تقسیم ہے ایک حصہ وہ پی ایس پی افسران جو مقابلے کا امتحان دے کر اے ایس پی بن کر آتے ہیں اور وفاق سے صوبوں میں مستعار لیے جاتے ہیں ۔ جبکہ دوسرا حصہ جو اصل ورک فورس ہے وہ رینکر کہلاتے ہیں جو سپاہی سے لیکر ڈی ایس پی تک عام طور پر پہچانے جاتے ہیں ۔ کسی بھی جگہ پولیسنگ میں یہی لوگ اولین ذمہ دار ہوتے ہیں مگر یہی لوگ سب سے زیادہ بدنام اور حقارت کا شکار نظر آتے ہیں ۔ بادی النظر میں ان کا قصور کم اور وسائل کا قصور ذیادہ ہے ۔ مگر ہم جب بھی کہیں بہتر پولیس کی خبر سنتے ہیں تو ساتھ بتایا جاتا ہے کہ ایس ایس پی یا ڈی پی او تگڑا آیا ہے پورا ضلع سیدھا ہوگیا ہے ۔ کہیں بھی یہ سننے پڑھنے کو نہیں ملتا کہ فلاں ایس ایچ او یا ایس ڈی پی او (ڈی ایس پی) تگڑا بندہ ہے اپنی جان لڑا دیتا ہے۔

آج مجھے ایک رینکر ڈی ایس پی کی کہانی سنانا ہے، وجہ یہ جاننا ہے کہ وہ کیسے رینکرز ہیں جو افسر اعلیٰ کی جنبش قلم سے ڈ سمس ہوجاتے ہیں۔ ان کو محمد علی نیکوکارا بننے کا موقع نہیں ملتا جو دو وفاقی سیکرٹریز کی انکوائری کے بعد برخاست ہونے والے شاید واحد پی ایس پی افسر ہیں مگر یہ خبر میڈیا کی زینت اور تاریخ کا اہم حصہ بننے کو ہے۔

رانا خالد رشید کا تعلق فیصل آباد سے ہے یہ صاحب بطور اے ایس آئی پنجاب پولیس میں بھرتی ہوئے اور جلد ہی پاگل پن کی حد تک ایماندار مشہور ہوگئے جرم سے نفرت اس شخص کی پہچان بنی۔ جہاں گیا انصاف کے لیے جان لڑا دی یہ صاحب دو ہزار پندرہ میں ایس ایچ او موچی والا ڈسٹرکٹ جھنگ تعینات تھے۔ یہ وزیراعلٰی پنجاب کے پولیس اصلاحات پروگرام کے تحت قائم ماڈل پولیس سٹیشن تھا اس لیے اچھی شہرت والا افسر تعینات ہوا ۔ علاقے کا سب سے بڑا مسئلہ منشیات فروشی تھا اور اس گھناونے کاروبار میں چک دوسو سولہ (216) المعروف جھوک بہادر اور اس کے گردونواح کی سات جھوکیں تھیں یہ علاقہ قیام پاکستان سے قبل ہی رسی گیری و جرائم کا گڑھ رہا ہے مگر اب منشیات فروشی میں بدنام تھا۔

انسپکٹر رانا خالد نے ان دیہاتوں کے سرکردہ لوگوں کو بلایا اور کہا کہ مجھے معلوم ہے آپ منشیات فروشی کے دھندے میں ہیں میرا آپ کے لیے پیغام یہ ہے کہ جو ہوگیا سو ہوگیا اب آگے نہیں چلے گا ۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ منشیات کے اس ناسور کا شکار اب آپ کے اپنے عورتیں اور بچے بھی ہیں۔ اس لیے آپ کو میں یہ موقع دیتا ہوں کہ آپ منشیات کے دھندے کو خیرباد کہہ کر رزق حلال کی تلاش کریں اس میں بطور ایس ایچ او علاقہ آپ کی جو مدد کر سکا دل و جان سے کروں گا۔ مہمان وفد نے کہا جناب آپ کی آفر ہمیں قبول ہے ہم آئندہ کے لیے اس کام میں ملوث نہیں ہوں گے اور اس بات پہ دعا خیر ہوگئی اور کچھ دن عمل بھی ہوا مگر بعد میں اطلاع ملی کی منشیات فروشی ہو رہی ہے مگر طریقہ بدل گیا ہےاب وہ لوگ خواتین سے یہ کام لے رہے ہیں ۔ رانا خالد نے ریکی کروائی اور خواتین کو رنگے ہاتھوں منشیات بیچتے ہوئے دھر لیا ۔ ملزمان کےتھانے جاتے ہی لواحقین بھی ایک علاقہ معزز کو لے کر پہنچ گئے اور ایس ایچ او صاحب کو ایک آفر دی گئی کہ ہم آپ سے ملزمان کو رہا کرنے کا نہیں کہتے آپ صرف مقدمے کی دفع بدل دیں۔ یعنی دس گرام سے ذیادہ ہیروئن برامد ہونے پے جو دفع سی لگتی ہے وہ نہ لگائیں آپ کو اس کے بدلے ہم پچیس لاکھ روپے دینے کو تیار ہیں۔ رانا خالد نے نا صرف آفر ٹھکرائی بلکہ ملزم پارٹی کے لواحقین اور علاقہ معزز کو تھانے سے باہر نکال دیا ۔ مگر اس دیس میں انصاف بکتا ہے سو مدعی پارٹی نے ایک ایڈیشنل سیشن جج صاحب کو بیس لاکھ دے کر ضمانت لے لی ۔ انصاف کا یوں قتل ہوتا دیکھ کر رانا خالد یہ بھول گئے کہ وہ ایک رینکر پولیس والا ہے محض ۔ اور جج صاحب کو بھری عدالت میں سنا ڈالی کہ تم جیسے انصاف کے سوداگروں کہ ہوتے ہوئے جرائم کی بیخ کنی ممکن ہی نہیں۔

جج صاحب اتنے دبنگ سچ کی تاب نہ لا سکے اور رانا خالد پر توہین عدالت کا مقدمہ بنا ڈالا کیس تقریبا ایک سال چلا اور کل مورخہ سولہ جون دو ہزار سولہ کو رانا خالد جو اس دوران ترقی پا کر ڈی ایس پی ہو چکے تھے اور ایس ڈی پی او کمالیہ تھے لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت خارج ہونے کے بعد جیل جا پہنچے اس دو ٹکے کے پولیس والے ان اس دوران اعلیٰ افسران کے اس مشورے پر بھی عمل کرنے سے انکار کردیا کہ عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ کر جان چھڑا لو۔ صاحب کا اصرار رہا میں حق پہ ہوں مجھے انصاف رب دے گا ان بتوں کے آگے نہیں جھکوں گا۔ اور یوں ایک ایماندار پولیس والا بنا میڈیا کوریج کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا پہنچا اور ملزمان آج بھی شاید منشیات بیچ کر جج خرید رہے ہوں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *