CPEC, Taliban aur Pakistan

مستقبل قریب یا بعید میں نظر آ رہا ہے کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری معاشی روٹ کیساتھ ساتھ دفاعی روٹ بھی بن جائیگا۔ مشرقی (بھارت)، مغربی (افغانستان) جنوبی (ایران) سرحدوں پر نامساعد تعلقات کا تقاضا ہے کہ خطے میں پاکستان کو ایک مضبوط ساتھی میّسر ہو ایسے حالات میں پاکستان کیلئے افغان طالبان اور چین کیساتھ تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں، طالبان کا افغان فورسز کو مصروف رکھنا انکے اپنے مشن کیساتھ پاکستان کے سٹریٹیجک مفاد میں ہے اگرچہ افغان طالبان کا نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر پہلے کی نسبت کمزور اور تنظیمی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، لیکن انکا خاصہ ہے کہ وہ شدید نامساعد حالات اور افتاد گزرنے کے باوجود دوبارہ منظم ہو جانے کا گُر جانتے ہیں اب بھی افغانستان میں وہ امریکی اور بھارتی مفادات کیلئے مستقل خطرہ ہیں
انکی طرف سے بھارت اور امریکہ کی مشترکہ کاوشوں سے لائی گئی کٹھ پُتلی حکومت قدم جما نہیں پا رہیں حتی کے کابل دارلخلافہ سے اس سال بھی تاجروں نے اعلانیہ زکواۃ اور فطرانے طالبان کو دئیے ۔۔ ملا منصور کو ڈرون حملے میں ہلاک کرکے امریکہ نے براہِ راست اقتصادی راہداری روٹ کے حوالے سے بھارت اور ایران کو خوش کرنا چاہا اور دوسرا طالبان اور پاکستان کے درمیان کسی حد تک بہتر فضا کو دوبارہ خراب کرنا چاہا۔ مگر پاکستانی سول و عسکری قیادت کے مؤثر ردّعمل نے کم ازکم پاکستان کے بارے میں طالبان قیادت کوانتہائی قسم کا پالیسی بیان دینے سے مانع رکھا ۔۔ مگر اس ضمن میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہوگی کیونکہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان امریکی دہشت گردی کی جنگ سے اعتماد کا رشتہ تقریباً ٹوٹ چکا تھا جس میں طالبان کے پاکستان میں تعینات سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کیساتھ جنرل مشرف کے حکم پر نہایت تحقیر آمیز سلوک نے کافی تلخ کردار ادا کیا تھا، تاہم اسکے بعد جمہوری حکومتوں کی کوششوں سے کچھ برف پگھلنے لگی جسے ملا منصور ڈرون کی زریعے ہلاکت سے پھر سے خراب کرنیکی منافقانہ امریکی کوشش ہوئی ۔
لیکن پاکستان کی مجبوری ہے کہ اگر اسنے حالیہ طورخم بارڈر پر افغانستان کیساتھ تلخ صورتحال اور آئیندہ ایسی صورتحال پیدا ہونے پر افغان فورسز کو ٹیکنیکلی اور سٹریٹیجیکلی روکنا ہے تو اسے طالبان گروپس کیساتھ بہرحال اپنے روابط رکھنے ہونگے، اسکا یہ فائدہ ہوگا کہ افغانستان فوج کو کبھی ۲۲۵۰ کلومیٹر لمبی سرحد پر ہمہ وقت پاکستان کیلئیے مستقل خطرہ بننے کی بجائے اپنے داخلی معاملات میں طالبان کیساتھ بھی مصروف رہے گی۔
دوسری طرف چین کیساتھ اقتصادی راہداری روٹ انتہائی اہمیت کا حامل اس لئیے ہے کہ چین معاشی طاقت بن کر ابھر رہا ہے اور وہ اپنی اتنی بڑی سرمایہ کاری کو محفوظ اور دیر پاء رکھنے کیلئیے اپنے تئیں ہر جتن کریگا۔ چونکہ اقتصادی راہداری روٹ کا اختتام گوادر بندرگاہ پر ہوتا ہے اسلئے محفوظ بلوچستان پاکستان اور چین کے معاشی مستقبل کی ضمانت ہے۔ اسی اہمیت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے وہاں کے اکثر شورشی علاقوں میں آپریشن کئے گئے اور بعض میں اب بھی جاری ہیں، راء کا نیٹ ورک پکڑے جانا اور مختلف بلوچ سرداروں کو واپس قومی دھارے میں لانا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ کیونکہ چین اور پاکستان دونوں اقتصادی راہداری روٹ کے مکمل ہونے سے قبل ایک محفوظ بلوچستان چاہتے ہیں ۔ دوسری جانب افغانستان ، امریکہ، ایران اور بھارت کو اس اقتصادی راہداری پر شدید مروڑ اُٹھ رہے ہیں، کیونکہ افغانستان اور بھارت دونوں کے درمیان تجارتی راہداری کا واہگہ بارڈر کے علاوہ کوئی موزوں راستہ نہیں اور پاکستان بھارت کو یہ گزرگاہ دینے سے انکاری ہے۔ ایسی صورت میں ایران اور بھارت کا گٹھ جوڑ فطری ہے کیونکہ بھارت وسطی ایشیائی ریاستوں سے آنے والے سالوں میں ایرانی زیرِ تعمیر چاہ بہار بندرگاہ سے تجارتی ہجم کئی ارب ڈالر بڑھانا چاہتا ہے، نیز افغانستان میں اپنی برآمدات کی ترسیل کیلئیے بھی بھارت کو یہی بندرگاہ استعمال کرنا پڑے گی اس ضمن میں وہ پہلے ہی چاہ بہار سے افغانستان تک زارنج دل آرام نامی ہائی وے کو لنک کرنے میں افغانستان کی مدد کر چکا ہے۔
امریکہ کی تشویش اس بابت پاکستان اور چین دونوں سے ہے، بھارت کا فطری حمایتی اور پاکستان کیخلاف موقع پرستی دکھانے کا ٹریک ریکارڈ رکھنے والا امریکہ کبھی بھی مضبوط اور خوشحال پاکستان کے حق میں نہ تھا اور نہ آئندہ ہوگا، یہی نسبت اسکی چین کیساتھ ہے کہ وہ چین کو اس راہداری کے مکمل ہوجانیکی صورت میں سالانہ اربوں ڈالز کا فاہدہ ہوتا نہیں دیکھ سکنے کے ساتھ چین کو وسطی ایشائی ریاستوں تک بھرپور رسائی حاصل کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا شاہد اس سے امریکہ کو اس خطے میں اپنا اثر و رسوخ کم ہونیکی تشویش لاحق ہے جو کہ مقابلے کی طاقت کے لئے ایک فطری فکر ہے۔
لہذا اس اقتصادی راہداری کے عمل میں روڑے اٹکانے کیلئیے سب سے پہلا وار بھارت کیجانب سے بلوچستان میں راء کا نیٹ ورک فعال کرنا تھا تاکہ بعض مقامی عناصر کی ہمدردیاں خرید کر انھیں ریاست کیخلاف استعمال کیا جائے، گو بھارت کی بلوچستان میں دراندازی اور تخریبی کاروائیاں زبان زد عام ہیں لیکن گزشتہ ایک دو برسوں خاص اقتصادی راہداری منصوبے پر چین اور پاکستان کے سربراہان کے باقاعدہ دستخط ہوجانے کے بعد ان میں خاصی تیزی دیکھنے میں آئی دوسری جانب پاکستان فوج نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے بلوچستان میں ایسے تمام عناصر اور نیٹ ورکس کیخلاف کاروائیوں کا آغاز کردیا جو حال یا مستقبل قریب میں کسی بھی زاویے سے اس منصوبے پر بدامنی یا سیکورٹی کی مد میں منفی اثرات ڈال سکتے تھے۔ ایسی صورتحال میں راء کا ایجنٹ بھوشن یادو پکڑا جانا جسکی باقاعدہ ایران میں تربیت اور آنے جانے نے تصویر مزید واضح کردی کہ اس ناپاک کھیل میں بھارت اور ایران دونوں ملوّث رہے۔ بھوشن یادو سے حاصل کردہ معلومات کیمطابق مزید بھی کچھ ملک دشمن نیٹ ورکس پکڑے جانیکی خبریں چلیں ۔۔۔
جب بھارت ، ایران اور امریکہ کے ٹرائیکا کو اندازہ ہوا کہ پاکستان اور چین تیزی سے راہداری روٹ کے انفراسٹرکچر پہ کام کر رہے ہیں تو انھوں نے ایران کی مدد سے افغان طالبان رہنما ملا منصور کو ٹریس کرکے بلوچستان کی سرحد کے اندر ڈرون حملے میں مار دیا ، اس کاروائی کا مقصد محض ملا منصور کو ہلاک کرنا نہیں بلکہ اس کاروائی اور امریکی محکمہ خارجہ کے بیان ” جہاں بھی ھم سمجھیں گے ھمارے سلامتی کو خطرہ ہے کاروائی کریں گے” سے چین اور پاکستان کی قیادتوں کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ گوادر بندرگاہ کا منصوبہ کسی طرح کھٹائی میں ڈالا جائے، اور دوسری طرف کوئٹہ میں ممکنہ طور پر ملا منصور کے وفاداران کو ایک دفعہ پھر ریاستِ پاکستان کے ساتھ دست و گریباں کردیا جائے، کیونکہ یہ حملہ عین اسوقت کیا گیا جب پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سے طالبان، افغان حکومت اور امریکہ کے درمیان کسی حد تک مذاکرات کے زریعے کوئی لائحہ عمل بنانے کی کوششیں جاری تھیں ۔ چونکہ پاکستانی حکومت ، اور فوج اس حملے کے وقت ، مقام ، نشانہ بننے والی شخصیت اور مستقبل کے محرّکات کا بخوبی ادراک رکھتے تھے اسلئے ماضی کی طرح روایتی گلے شکوے کی بجائے امریکہ کو سفارتی سطح پر مؤثر اور مضبوط ردّعمل دیا گیا، حتی کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز جیسے دھیمے مزاج آدمی نے یہاں تک کہہ دیا کہ “امریکہ ایک مطلب پرست دوست ہے”، ساتھ ہی چین کیطرف سے بھی وزیراعظم کی سطح پر کہا گیا کہ یہ ڈرون حملہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ اسکے ساتھ چین نے حالیہ دنوں میں بھارت کیطرف سے این ایس جی ۔۔ نیوکلیر سپلائر گروپ میں رکنیت حاصل کرنیکی بھارت کی کوششوں کو سختی سے رد کردیا اور اس ضمن میں بھارت کے حق میں رکن ممالک کیطرف سے منعقد کئے گئے اجلاس کو “غیر قانونی ” قرار دیا گیا۔
غرض اس ساری صیورت حال میں یہ انتہائی اہم ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت اس اقتصادی راہداری روٹ کو کامیاب بنائے تاکہ چین کی تجارت کا رُخ براستہ پاکستان ہو اور پاکستان کو کسی حد تک چین کیطرف سے کسی پڑوسی ملک کی عسکری شرارت کی صورت میں اپنی سرمایہ کاری کے دفاع کا اطمینان ہوسکے، کیونکہ یہ روٹ پاکستان کی شمالاً جنوباً تقریباً سارے ملک کو ملاتا ہو گزرے گا اسلئے کسی بھی ہنگامی جنگی صورتحال میں اسکی سیکورٹی اور دفاع کا ضامن بننا چین کی بھی ذمہ داری ہوجائیگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *