Mushkil Faislay

میں پیشے کے اعتبار سے الیکٹرانکس ٹیکنیشن ہوں. زندگی کے ابتدائی چند سالوں ہی میں نے طے کر لیا تھا کہ یہی میری فیلڈ ہے. گھر کے تمام ریڈیو سیٹ اور ٹیپ ریکارڈ میرے وسیع تجربہ کی گواہی دیتے سٹور روم میں ابھی کسی نہ کسی شکل میں جمع ہیں. میرے شر سے رشتہ داروں اور اہل محلہ کی الیکٹرانک مصنوعات بھی محفوظ نہ تھیں. گھر والوں کے پاس شکایت کی ایک لمبی چارج شیٹ موجود رہتی تھی. البتہ میرے خاندان کا ایک ٹیپ ریکارڈ بالکل محفوظ رہا وجہ اس کی سادہ سی تھی کہ میرے نانا جان کی گرفت اس پر اس قدر مضبوط تھی کہ تنہائی میں کبھی ہم کو میسر نہ آتا تھا یہ ہالینڈ میڈ فلپس کا اپنے عہد کا شاہکار تھا والیوم اور آواز کوالٹی کے لحاظ سے یہ ہمعصروں سے ممتاز تھا. نانا جان انقلاب ایران سے قبل ایران میں ملازمت کرتے تھے پھر شورش نے ایران چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور وہ واپس پاکستان آ گئے. میری بدقسمتی کہ ان کی زندگی میں مفصل روداد انقلاب نہ سن سکا. یہ ساری تمہید اس ٹیپ ریکارڈ کے پاکستان آنے کی داستان سے جڑی ہے اس لیے سنانا ضروری ہو گئی تھی. نانا جان اسے عزیز رکھتے تھے اس لیے مجھے یہ وجہ جاننے میں زیادہ دلچسپی تھی کہ ایسی کیا خاص بات ہے کہ اس پر سانپ بنے بیٹھے ہیں. دریافت کیا تو سنانے لگے کہ ان کا ایک سکھ دوست ان کے ساتھ رہتا تھا. سکھ دوست سنتے ہی میری کیفیت خراب ہو گئی تھی کہ بھلا ایک بھارتی اور وہ بھی سکھ کیسے دوست ہو سکتا ہے. جنہوں نے تقسیم ہند کے وقت اتنے مظالم ڈھائے ہیں. خیر بات سننا تھی اس لئے اپنے جذبات قابو میں ہی رکھے اور پوچھا تو کہنے لگے کہ کمپنی نے ہم سب کو ڈی پورٹ کرنے کی بابت سنایا تو ہم سامان پیک کرنے لگے. یہ ٹیپ ریکارڈ میرے دوست کا تھا اس نے مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ یہ آپ لے جاؤ میں نے وجہ پوچھی تو بتانے لگا کہ ہم بھارت میں ودیشی مال نہیں لے کر جا سکتے لہٰذا یہ پھینکنے سے بہتر ہے کہ تمہارے پاس رہے گی تو میری یاد تمہارے ساتھ رہے گی. واقعی نانا جان نے دوستی نبھائی اور ایک لمبے عرصے تک اسے سنبھال کر رکھا.

کئی سال گزرنے کے بعد مجھے اچانک یہ خیال آیا کہ کیوں نہ پوچھ لوں کہ وہ بھارت یہ ٹیپ ریکارڈ کیوں نہ لے کر جا سکا؟ تو نانا نے بتایا کہ بھارت مشکل فیصلے کر رہا ہے اور وہاں بسنے والے لوگ اپنی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں. مجھے اکثر بھارتی فلموں میں رکشے موٹر سائیکل اور ماروتی گاڑیاں نظر آتیں تھیں تو بھارتیوں پر بڑا ترس آتا تھا کہ دنیا کہاں پہنچ گئی ہے اور یہ ابھی تک کارٹون کے زمانے کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں. کشمیر میں مجھے یہ کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا اس لیے ابتدائی طور پر بھارتی بھی سکھی ہی لگتے تھے لیکن اسلام آباد کی سیر کے بعد میرے دماغ میں پاکستان کی ترقی اور خوبصورت زندگی کا نقشہ ایسا فٹ ہوا کہ ابھی تک بھارت کی تجارتی بالا دستی کو دل تسلیم نہیں کر رہا تھا برا ہو کہ میں نے پردیس کو اختیار کیا تو دبئی عارضی مسکن ٹھہرا. یہاں کی سڑکوں پر اشوک لینن، ٹا ٹا کی بسیں دوڑتی دکھائی دے رہی تھیں. موٹر سائیکل بھی ٹی وی ایس اور بجاج کے جا بجا شور مچاتے دکھائی دے رہے تھے. دو چار دنوں کے بعد سپر مارکیٹ کا رخ کیا تو تقریباً ستر فیصد اشیاء خورد و نوش بھارتی برانڈز کی تھیں جو کہ ابتداً تو حلق سے ہی نہیں اتر رہیں تھی اور ایک زمانے تک مکروہ سمجھ کر ہی نوش کرتا رہا. پاکستانی اشیاء پہلی بات کہ میسر نہیں ہر جگہ دوسری اگر کہیں ہیں تو قیمت اس قدر زیادہ کہ مزدور انہیں خریدنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا. مجھے اس وقت بھارتیوں پر رشک آتا ہے کہ انہوں نے مشکل فیصلے کیے ہیں تو عوام کو وہ بہت کچھ فخر کرنے کے لیے دے بھی رہے ہیں. یہ نہیں ہے کہ ہم نے مشکل فیصلے نہیں کیے ہیں ہم نے بھی کیے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ ہم نے جمہوری ریاست کے طور پر نہیں ایک سیکیورٹی اسٹیٹ کے طور کئے ہیں. کیا روس کے خلاف افغانستان میں اترنا آسان فیصلہ تھا ہر گز نہیں ایک مشکل فیصلہ تھا. قوم آج تک اس کے نتائج بھگت رہی ہے. اسی طرح ہم نے ون یونٹ، امریکہ کی دوستی، بنگلہ دیش کو قبول کرنا جیسے غیر مقبول فیصلے کیے ہیں. لیکن نتیجے میں قوم کو عدم استحکام، شکوک سے لبریز تاریخ خود اعتمادی کی کمی اور دوسروں پر انحصار کرنے جیسی ذلت آمیز پالیسیاں دی ہیں.

اب کیا ماضی پر ہی روتے رہنا چاہیے یا پھر مستقبل کی کوئی تدبیر کا سوچنا چاہیے؟ جواب یقیناً تدبیر کرنے کا ہی ہو گا. لیکن یہ تدبیر ممکن کیسے ہو گی. اجتماعی شعور کی بالیدگی کے لیے ایک منظم تربیت ضروری ہے. وہ تربیت فراہم کون کرے؟ تعلیمی ادارے ڈگریاں مہیا کر رہے ہیں فکری بحث کی گنجائش وہاں دکھائی نہیں دے رہی. نظام تعلیم تین مختلف قسم کے گروہ پیدا کر رہا ہے. ایک طرف اشرافیہ کے لیے مینجمنٹ سائینسز کے ہوشربا کالج اور یونیورسٹیاں آفیسرز اور منیجرز پیدا کر رہی ہیں. دوسری جانب کلرک اور دیگر ہلکی پھلکی نوکریوں کے ریوڑ تیار ہو رہے ہیں. اللہ والے پیدا کرنے کے لیے ہر گلی محلہ میں مدارس موجود ہیں. وہاں سے برآمد ہونے والے افراد کی اکثریت اپنے سوا دیگر افراد کو غیر اللہ والے سمجھتے ہیں. کہیں بھی کوئی مربوط نظام دکھائی نہیں دے رہا. ہنر مند ہم پیدا نہیں کر رہے پرائیویٹ پولی ٹیکنالوجی کے ادارے تھوک کے حساب سے نوجوان کو ہنر مندی کا سرٹیفکیٹ جاری کر رہے ہیں. فارغ التحصیل لوگوں کی اکثریت پہلے سے بھی غیر ہنرمند ہو جاتی ہے پہلے پھر بھی شاید وہ کوئی کام کر لیتے لیکن اب تو اچھی نوکری کے انتظار میں چارپائی توڑ رہے ہیں. ایسے میں کون سا میڈیم باقی ہے جو اجتماعی دانش کے چراغ جلا سکتا ہے؟ حکومت چاہے برائے راست امریکہ کی قائم کیوں نہ ہو جائے موجودہ سوچ کے ساتھ کوئی افلاطون پیدا نہیں ہو سکتے. حکومتیں وہ تیسری دنیا کی ان کے کام نرالے ہوتے ہیں. ان کے فکر کی سطح ہی مختلف ہوتی ہے ان کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ زندگی گزر رہی ہے. تبدیلی معاشرہ لاتا ہے. اقتدار کے لیے نہیں معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے. انسانیت کی فلاح کے لیے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کے لیے ایک پر اعتماد اور مضبوط قوم بننے کے لیے.

آخر میں ایسا کیا ہو سکتا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر ہر طبقے کو محنت کی جانب راغب کر سکیں. کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ سیاسی فکری اختلاف کے باوجود معاشرے کی فلاح کے لیے سرگرم رہے. ہم مثبت مثابقت کی منزل کیسے حاصل کر سکتے ہیں. بظاہر میرے پاس دو ہی حل ہیں ایک قومی میڈیا اور دوم سوشل میڈیا. یہ اجتماعی شعور کو بلند کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں. بشرطیکہ وہ جان لیں. صحافت کاروبار نہیں. یہ تو ایک جذبہ ہے. ریٹنگز کے لیے لوگوں کو جذباتی کرنا تو مداریوں کا کام ہے سنجیدہ لوگوں یا دانشور طبقے سے ایسی حرکتیں معیوب لگتی ہیں. سوشل میڈیا اور قومی میڈیا کی ترجیحات کا مختصر جائزہ لیتا ہوں. اس وقت میڈیا دو حصوں میں تقسیم ہے ایک کہ نزدیک حکومت کا گھر جانا سارے مسائل کا حل ہے اور دوسرے کا زور اس پر ہے کہ جمہوریت چلتی رہنی چاہیے. ایک طبقہ فوج کو اس قدر بلند مرتبہ پر متعین بیان کرتا ہے کہ باقی سارے ادارے حقیر مخلوق لگتے ہیں اور دوسرا طبقہ فوج کو پاکستان کی وباء قرار دے رہا ہے. فرض کرتے ہیں کہ حکومت چلی جاتی ہے تو کیا ہر طرف چین ہی چین ہو جائے گا.؟ یا فرض کریں کہ ہم ایران افغانستان اور بھارت کو فتح کرنے کی مہم شروع کرتے ہیں تو کیا وہ سوئے رہیں گے؟ کیا جنگ ہی مسائل کا حل ہے؟ فرض کریں ہم ساری جنگیں جیت جاتے ہیں. ایک ایسی مملکت جو جنوبی ایشیا اور ایران تک پھیل جاتی ہے اور سوچ ایسی ہی رہی تو کیا عوام کی فلاح کا خیال آئے گا؟ کیا پھر سے ہم خلافت کے قیام کی خواہش نہیں پال لیں گے. ہمارا مزاج تصدیق کرتا ہے کہ ہمیں چین پھر بھی نہیں آئے گا.

حکومت کو چاہیے کہ وہ ہمیں چکا چوند والے منصوبے نہ پیش کرے بلکہ تجارت اور معیشت کی بہتری کیلئے لمبی پالیسیاں ترتیب دے. اکنامک کوریڈور ایک قابل رشک منصوبہ ہے. اسے پایا تکمیل تک پہنچایا جائے. ملک میں پیداواری عمل بڑھانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں. صنعت کے فروغ کے لئے اقدامات کئے جائیں. سب سے بڑھ کر رئیل اسٹیٹ کے چنگل سے آزاد کرایا جائے. پیسے کے ٹائیکونز کو ریت سیمنٹ کے بجائے زمین کو زندہ کرنے کی جانب راغب کیا جائے. ماڈرن فارمنگ کا تصور عام کیا جائے. بہتر ہے کہ ہم پاکستان کی سر زمین کے ساتھ پاکستانی عوام سے بھی پیار کریں. سرزمین کی پہچان لوگ ہوتے ہیں لوگوں کو مثبت سوچ کی جانب لے آئیں یہ عمران خان کے لیے بھی مناسب ہے اور یہ وزیر اعظم کے لیے بھی خیر کا باعث. تبدیلی کے لئے سب سے زیادہ ضرورت متوازن سوچ کے حامل افراد کی جماعت کھڑی کرنا ایسی جماعت جو اختلاف رکھے لیکن فلاح انسانیت پر مکمل اجماع رکھتی ہو. مایوسی کفر ہے انشاءاللہ پاکستان ترقی کرے گا۔

One thought on “Mushkil Faislay

  • June 19, 2016 at 10:54 am
    Permalink

    ⁩ بہت ہی اچھی تحریر ارشد صاب ہر ٹحریر منفرد 👍👍👍

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *