Kia Museebat hay

ہمیں ہر روز مختلف مزاج کے لوگ ملتے ہیں، کئی قسم کی پچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دفتر، کاروبار یا خاندانی الجھنیں بار بار ہمارے راستے میں آ کھڑی ہوتی ہیں- مہنگائی، روزگاراور ملکی سلامتی کے مسائل اس کے سوا ہیں۔ بعض اوقات ہم لوگ جھنجلا کر بول اٹھتے ہیں کہ ‘کیا مصیبت ہے ۔۔۔

یہ ایک طرح سے مایوسی، جنجھلاہٹ یا پریشانی میں سے کسی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے، جسے ہم اپنے کسی قریبی کو بیان کرکے دل کا بوجھ ہلکا کرلیتے ہیں اور کبھی دل کے کسی کونے میں دبا لیتے ہیں۔ لیکن آپ کے خیال میں ہمیں اکثر کسی نہ کسی ‘مصیبت’ کا سامنا کیوں رہتا ہے؟ کیا ہم ایسی صورتحال کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں یا ہر ایک کی قسمت میں کئی طرح کی ‘مصیبتیں’ لکھ دی گئی ہیں اور ہم وقتا فوقتا اپنا اپنا حصہ بقدر جسہ وصول کرتے رہتے ہیں؟ میرے خیال میں ۔۔۔ کچھ مسائل ہم خود اپنی نادانی، غلطی یا ضد کی وجہ سے پیدا کرلیتے ہوں گے، مگر زیادہ تر ‘مصیبت’ ہمارے لئے لکھی گئی ہوتی ہے۔ بلکہ میرے خیال میں یہ ‘مصیبت’ سے زیادہ آزمائش اور تربیت کا وقت ہوتا ہے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک اور موقع مل جاتا ہے، اپنے صبر اور تحمل کی جانچ ہو جاتی ہے۔

آپ کسی بھی ایسی صورتحال کو ‘مصیبت’ سمجھتے ہیں یا ‘موقع’، آپ کا یہ رویہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آپ اس صورتحال سے کیسے نمٹتے ہیں۔ محض ‘مصیبت’ جانتے ہوئے وقت، حالات، قسمت یا دوسروں کو کوستے ہیں یا ایک چیلنج اورموقع سمجھتے ہوئے اور اپنی صلاحیتوں کو مجتمع کرتے ہوئے، اپنے اقدامات اور امکانات کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے اپنا اگلہ لائحہ عمل وضح کرتے ہیں۔ ہم غلطیوں سے مبرا پیدا نہیں کیے گئے ہیں، مگر ہماری قطعاً یہ مجبوری نہیں ہے کہ ہمیں ہمیشہ ایک سی ہی صورتحال میں رہنا ہے، محنت اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے رہنا ہی زندگی ہے۔ ہماری ذمہ داری کوشش کرتے رہنا ہے اور اچھے نتائج کے بارے میں پر امید رہنا۔

ایک چھوٹی سی کہانی سنیں۔ کراچی میں مقیم ایک پٹھان خاندان کا لڑکا اپنے والد اور بڑے بھائی کی طرح کھیلنا اور دنیا میں اپنا نام بنانا چاہتا تھا، اس سوچ اور لگن کو اس وقت شدید دھچکہ لگا جب تیرہ سال کی عمر میں یہ لڑکا اس قدر بیمار ہوا کہ چلنے پھرنے کے قابل بھی نہ رہا اور ڈاکٹروں نے کسی بھی جسمانی مشقت سے منع کردیا۔ اس لڑکے نے پھر بھی کوشش جاری رکھی، مگر ملک کی نمائندگی کے لیے ابتدائی طور پر منتخب نہ ہو سکا- اپنی محنت، لگن اور جذبے سے سترہ سال کی عمر میں ورلڈ چیمپئین بننے والے، مسلسل ۵۵۵ میچ جیت کردنیا کی کسی بھی کھیل کا ایک اچھوتا ریکارڈ بنانے والے اور سب سے زیادہ بار برٹش اوپن جیتنے والے اس ‘کمزور’ لڑکے کا نام ہے ۔۔۔ جہانگیر خان، سکواش کا سب سے عظیم کھلاڑی ۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.