Maah e Ramzan aur TV

رمضان المبارک رحمتوں ، برکتوں اورنزول قرآن کا مہینہ ہے اِس میں لیلۃ القدر آتی ہے یہ ( ﷲ کا مہینہ) ہے۔ اس کا پہلا عشرہ رحمت ، دوسرا مغفرت اور آخری عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے، یہ نیکیوں کے موسم بہار اور برائیوں کے موسم خزاں کا مہینہ ہے ، یہ رب کی خوشنودی اور جنت کے حصول کا مہینہ ہے، یہ غلبہ اسلام کا مہینہ ہے اس میں غزوۂ بدر ، فتح مکہ ہوا۔ لیکن پچھلے چند سالوں سے الیکٹرانک میڈیا پر رمضان المبارک کے آغاز سے ہی دین کا مذاق اڑانے کا ایک سلسلہ جاری و ساری ہے جس کا سہرا
’’ معروف عالم دین‘‘ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور اُس کے علاوہ سارا سال مارننگ شوز میں لائیو شادیاں اور طلاقیں کرانے والی اُن اینکرز کو جاتا ہے جو اس مبارک مہینے میں سر پر دوپٹہ رکھ کر پوری پاکستانی قوم کو رمضان سکھا رہی ہوتی ہیں۔
جب بندر کے ہاتھ ماچس آئے گی پھر جنگل تو جلے گا،جب قصائی سرجن مقر ر ہوں گئے تو پھر دل دماغ ، چکن بوٹی کے بھاو ’’ پھٹوں’’ پہ بکیں گے، جب ریٹنگ کی دوڑ میں دوڑتا ہوا ‘‘ظالم میڈیا‘‘قومی مفاد’’ کا تعین کرے گا تو پھر سب بکے گا، اچھا بھی بکے گا ، برا بھی بکے گا، عزت و غیرت بکے گی ،سب بکے گا ، جو ہے وہ بھی بکے گا جو نہیں ہے وہ بھی بکے گا۔
سو یہاں تو ریٹنگ کی دوڑ ہے ،اس لئے سب بکتا ہے،زندگی بکتی ہے، موت بکتی ہے،مذہب بکتا ہے, حقوق کے نام پہ نفرت انگیز نظریات بکتے ہیں، اخلاقی اقدار کی دھجیاں بکتی ہیں ، تہذیب کے چیتھڑے بکتے ہیں، ہوشیاری کے نام پہ مکاری بکتی ہے، تنقید کے نام پہ جہالت بکتی ہے، مزاح کے نام پہ تذلیل بکتی ہے،برہنگی بکتی ہے،ہار بکتی ہے ، جیت بکتی ہے،آنسو بکتے ہیں سسکیاں بکتی ہیں،رونے والے بھی بکتے ہیں اور رولانے والے بھی ،قاتل بھی بکتاہے اور مقتول بھی ، یتیم بھی بکتا ہے اور گمنام بھی ,صاحب اولاد بھی بکتا ہے اور بے اولاد بھی ,ظالم بھی بکتا ہے مظلوم بھی۔
جب ہر چیز بکاؤ ہے تو رمضان بھی بکے گا۔
اب ہر چیز کی ماہیت تبدیل ہو رہی ہے۔ کل تک جو کچھ بہت معیوب تھا وہ اب مقبول ہورہا ہے۔ لوگ عشروں، بلکہ صدیوں کی روایات کا سینہ چاک کرکے اپنی مرضی کے اطوار اِس مہینے میں پیدا کر رہے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی : إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.
ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305، رقم : 1638
’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا ﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے : روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا”
روزہ کا ثواب بے حد اور بے اندازہ ہے یہ کسی ناپ تول اور حساب کتاب کا محتاج نہیں، اس کی مقدار ﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ روزے کی اس قدر فضیلت کو جاننے کے باوجود اگر آپ دجالی میڈیا کے اِن موسمی چوہوں سے روزے کی فضیلت اور افادیت پر لیکچر سنیں گے تو یقین کریں آپ یہ مقدس مہینہ ضائع کررہے ہیں اِسلیے میری مانیے ریموٹ کنٹرول ڈیوائس اٹھائیے اور اپنے ٹی وی سیٹ آف کردیجیے ______
جزاک ﷲ

One thought on “Maah e Ramzan aur TV

  • June 17, 2016 at 6:05 pm
    Permalink

    main reason why those shows are running are the ratings which we provide them, if we decide to not watch those shows they shall not survive. but this is very difficult I have tried to stop my nephew and niece (11 and 9 years old)from watching Jeeto Pakistan and I am not a cool uncle anymore. Although they don’t watch it in my presence but they do watch it when I am not at home (check the addiction they have developed which annoys me).

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *