Apnaa Giraybaan

صبح کی نماز کا وقت ہوتا اور ایک بابا جی بہت مشکل سے جُھک کر اپنا “کُھسہ” اُٹھاتے اور بعد ازاں اُتنی ہی مشقت سے واپس سیدھے ہوتے، میں نے دیکھا تو تہیہ کر لیا کہ اب میں بابا جی کا جوتا روز اُٹھا کر رکھا کرونگا اور پھر فقیر نے یہ معمول بنایا کہ دعا کے بعد جب بابا جی لوگوں سے مصافحہ کرنے میں مشغول ہوتے تو میں اُنکا جوتا اُٹھا کر مسجد کی سیڑھیوں میں رکھ دیتا، جہاں وہ آسانی سے اُسے پہن لیتے۔ حیرانگی کی بات تھی کہ میں نے سوچا کہ صبح کے وقت جوتا (مسجد میں) رکھنے میں بھی انہیں تکلیف ہوتی ہو گی تو کیوں نہ میں اُن سے پہلے آکر انکا جوتا اُٹھا کر اندر رکھ بھی دیا کروں مگر کوشش کے باوجود میں ان سے پہلے نہ پہنچ پاتا، اللّٰہ بہتر جاننے والا ہے کہ وہ کب تشریف لے آتے تھے۔

ایک روز عصر کے وقت تشریف لائے، میں نے سلام عرض کیا۔ مجھے حکم دیا: میری گل سُن کے جاویں!
میں نے حکم کی تعمیل کی۔ فرمانے لگے: “پُتر یاد رکھیں، لوکاں وِچ صرف ‘الف’ تے ‘ے’ دا فرق ہوندا اے،،، زندگی وچ ‘ے’ والیاں کولوں بچی جاویں تے اپنا تعلق ‘الف’ والیاں دے نال رکھیں”
میں نے عرض کیا: “اے کی گل ہوئی ؟؟؟ (یعنی یہ کیا بات ہوئی؟؟؟)”
تو بابا جی فرمانے لگے: “اِس دا جواب تینوں چھیتی ہی پتہ لگ جاوے گا”

بابا جی کی بات کا جواب تب ملا جب میں نے دو الفاظ سُنے اور پھر اُنکی Construction پر تھوڑا غور کیا اور اُن میں بہت تھوڑا سا فرق پایا، وہ الفاظ یہ ہیں، “باغیرت” اور “بے غیرت” ۔۔۔ ‘ب ا غ ی ر ت’ اور دوسری طرف ‘ب ے غ ی ر ت’

حیران کُن طور پر ان الفاظ میں صرف ایک حرف کا فرق تھا اور وہ تھا ‘الف’ اور ‘ے’ (جو بابا جی نے فرمایا تھا) ۔ مزید حیرانگی کی بات تو یہ تھی کہ یہ دونوں حروف دو انتہاؤں کے مظہر تھے۔ ایک سب سے اعلٰی ہے تو دوسرا سب سے پست۔ بات اتنی آسانی سے میری (ناقص) سمجھ میں بھی نہیں آئی۔ اردو کے حروفِ تہجی کا نقشہ ذہن میں بنائیے۔ ایک حرف سب سے اوپر ہے (الف) جو انسان کی بلندی اور اسکے باظرف ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن دوسرے لفظ میں آنیوالا حرف سب سے نیچے نظر آئیگا، اور یہ حرف (ے) اس لفظ میں موجود ہے جو حقیقت میں انسانی پستی، کم ظرفی اور گھٹیا پن کا عکاس ہے۔

باغیرت ہونا اور بےغیرت ہونا انسانی اخلاقیات کی دو انتہائیں ہیں، اور یاد رہے ان دونوں صفات میں سے کسی بھی صفت کا مالک ہونے کے لیے عمر کی بھی کوئی قید نہیں ہے کوئی بھی شخص کسی بھی عمر میں ان میں سے کسی بھی صفت کا حامل ہو سکتا ہے۔

میں کہا کرتا ہوں کہ “گِرے ہوئے لوگ، گِری ہوئی حرکتیں اس لیے کرتے ہیں کیونکہ اُنکو مزید گرنے کا خوف نہیں ہوتا” لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ذندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ہر کسی کو اپنی زبان سے جواب دینا لازم نہیں اور ضروری یہ بھی نہیں کہ آپ اپنی ذندگی کو لوگوں کی بے سروپا باتوں کو غلط ثابت کرنے میں لگا دیں۔

ونٹسن چرچل نے کہا تھا: “آپ اپنی منزل پر کبھی نہیں پہنچ پائیں گے اگر آپ راستے میں بھونکنے والے ہر کتے کو پتھر ماریں گے۔”

بچپن میں کچھ بچے جو گورنمنٹ سکول (جہاں پڑھنا کوئی عار کی بات نہیں) میں پڑھتے تھے، انکے متعلق اگر کوئی غلط بات کی جاتی تو وہ کہا کرتے تھے: “کُتیا کُتیا بھونکی جا، روٹی پکو گی تے پا دواں گے” ۔۔۔ سادہ سی اردو اسکی یہ کی جاسکتی ہے کہ آپ اپنی بکواس کرنے میں چاہے جتنا مرضی زور لگا لیں، آپکی اتنی اوقات نہیں کہ آپکو خاطر میں لایا جائے۔ اسی لیے کسی کے باغیرت یا بےغیرت ہونے کے لیے ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ ‘الف’ والے لوگ (ایک خاص وقت تک) عزتیں بچانے والے ہوتے ہیں جبکہ ‘ے’ والے لوگ (غلطی پر ہونے کے باجود) جگہ جگہ اپنی چرب زبانی کا ثبوت دیتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ آپ نے سُن رکھا ہوگا کہ خالی برتن شور کرتا ہے مگر میرا خیال ہے کہ گندا برتن بھی شور کرنے میں کم نہیں کرتا، بات اتنی سی ہے کہ کسی کو ذلیل کرنے کی ناکام کوشش کے لیے بھی ذلیل کرنیوالے کو جگہ جگہ ذلیل ہونا پڑتا ہے، چرب زبانی کسی پر الزام لگانے میں تو مدد کرسکتی ہے۔ مگر کسی کو قائل کرنے کے لیے ماضی کی پاکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان زبان سے ہی ‘دل میں’ اور ‘دل سے’ اُتر جاتا ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ “کسی بھی جاندار کو گھر میں رکھنا چاہیے یا گھر کے باہر باندھنا چاہیے، اس کا فیصلہ اُسکی زبان سے کیا جاتا ہے”

عزتیں اچھالنے کے لیے آپکو شیطان کی آنت جتنی لمبی زبان جبکہ عزتیں بچانے کے لیے والدین کی اچھی تربیت (جو Once in a blue moon کسی کو میسر آتی ہے) کی ضرورت ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ لوگ جو دوسروں کے بچوں کو اپنی بچوں کی طرح سمجھنے کا ظرف نہ رکھتے ہوں وہ کم از کم دوسرے کے بچوں کو بچے ضرور سمجھیں۔ ہمارے معاشرے میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچے (جو تب بھی عاقل بالغ تھے جب انسان انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے) بہت سادہ لوح اور بھولے بھالے دکھائی دیتے ہیں، لیکن دوسروں کے بچوں کے متعلق انکے خیالات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اُن سادہ لوح بچوں کے عالم یہ ہوتا ہے کہ ذرا تنہائی میں اُنسے بات کی جائے تو اُنکو ایسی ایسی معلومات ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ ہم Dr. Lama Tolaymat (دنیا کی بہترین گائناکالوجسٹ) سے بات کررہے ہوں۔

ہمارا حال یہ ہے کہ “ہم اپنی اور اپنے گھر کی بےغیرتی کو وسعت فکری کا نام دے لیتے ہیں، اور دوسروں کی وسعت فکری کو بھی غلط طریقے سے تعبیر کرتے ہیں!” کسی کے بھی کردار پر بات کرنے سے قبل ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے گریبان میں جھانک لیا جائے تو شاید بات کرتے ہوئے زبان چلنے سے پہلے گردن جھک جائے!

One thought on “Apnaa Giraybaan

  • June 17, 2016 at 2:44 pm
    Permalink

    An Eye opener blog..
    Keep it up bro ?

    @rawfeel

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.