Think tank ki Adam Mojoodgi

ماہ مقدس شروع ہو چکا ہے. ہر گزرتے دن کے ساتھ عید الفطر کے قریب جا رہے ہیں. ایک دن یوں اعلان کر دیا جائے گا کہ پاکستان میں کل عید الفطر ہے. سوچا جائے تو زندگی یونہی تمام ہو رہی ہے لیکن عموماً ہم حساب نہیں رکھتے اس لیے احساس نہیں رہتا. رمضان المبارک سے قبل یہ ارادہ کیا تھا کہ ماہ مقدس میں تحریر کا سلسلہ ترک کر دوں گا. خیال یہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لفظوں میں جھوٹ کی آمیزش شامل ہو جائے اور روزے کے اجر میں کمی واقع ہو جائے گی. لیکن پھر یہ سوچ کر دوبارہ سلسلہ شروع کر دیا ہے کہ میں جتنے بھی مضامین لکھ رہا ہوں ان کا خبر سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ میں رونما ہوتے واقعات پر اپنی رائے پیش کرتا ہوں. جو غلط بھی ہو سکتی ہے اور درست بھی لکھے گئے مضامین میں کہیں بھی کوئی تحقیق یا بہت زیادہ کتابوں کا نچوڑ آپ کے سامنے پیش نہیں کر رہا ایک احساس ہے جسے لفظوں میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے. پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر جب کچھ بھی نیا نہ ہو رہا ہو یا پھر کسی عارضی یکسانیت کا سایہ چھا جائے تو عموماً دانشور حضرات سول ملٹری تعلقات پر ماہرانہ رائے دیتے ہیں. بہت کچھ جو خود کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں ذرائع کے ذمہ لگا کر کام آسان کر دیتے ہیں. میرا تعلق چونکہ معاشرے کے ایک ایسے حصے سے ہے جس کے ذرائع تو کیا ٹھیک سے پہچان والے بندے بھی کسی محکمہ میں نہیں ہوتے. لہٰذا جو بھی لکھا جا رہا ہے یہ محض ایک مشاہداتی علم ہے. بیگاری کے ان دنوں میں میں نے آج جس موضوع کو چنا ہے وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اس کی درگت بننے کے واقعات بارے کہانی گھڑنے کی کوشش ہے.

ہمارے ہاں تھنک ٹینک کا تصور ابھی اتنا پختہ نہیں ہے کہ جہاں لوگ پالیسیوں پر غور کریں اور ان کے فیوض و برکات یا مضمرات کا جائزہ لے سکیں. البتہ پروپیگنڈہ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں. کب کس چیز کو ناگزیر اور کب اسی کو سب سے فضول قرار دینا ہے یہ کوئی ہم سے سیکھے. مثال کے طور پر ہم طالبان کی تخلیق و تنسیخ کے مراحل کا جائزہ لے سکتے ہیں. رائے عامہ پر قابضین اس بے سمت تیر کی مانند ہیں جو کسی کو بھی زخمی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن شکار کی توقع عبث سمجھیں. ٹرولنگ کی حد تک رپورٹ کیے گئے مودی جی ان دنوں ہمارے ہیرو ہیں. کیونکہ انہوں نے ہماری خارجہ پالیسی کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں ہیں. چونکہ ہمارے ہاں سیاسی حریف کی سبکی ملکی مفاد سے زیادہ اہم ہے لہٰذا یہ تعریفیں تعجب خیز نہیں ہونی چائییں. مودی جی کو کیا کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کا مختصر احوال بیان کر دیتے ہیں. چار میں سے تین ہمسائے اس کے ہمرکاب ہو گئے ہیں. مشرق وسطٰی میں لوگ پاکستان کو جہاں تصور کرتے تھے آج وہاں نہیں ہے. امریکہ جو ہمارا مستقل مائی باپ ہے اس کی نوازشات اب دوسری جانب مڑ گئی ہیں. بھارت کی ان کامیابیوں کو پاکستان کی ناکامی خیال کیا جا رہا ہے. حکومت کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے. پہلی دلیل یہ ہے کہ کوئی کل وقتی وزیر خارجہ موجود نہیں. سوال یہ ہے کہ کیا ہوتا تو پھر نتائج کیا ہوتے. یقیناً کچھ بھی مختلف نہ ہوتے. یہ محض قیاس آرائی نہیں ہے بلکہ ہمارا ایک مستقل رویہ ہے. سول حکومت کے لیے چند معاملات شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتے ہیں. وجہ یہ ہے کہ کولڈ وار کے زمانے میں وردی میں ملبوس فیصلہ سازوں نے تاریخی کامیابی حاصل کی تھی. لہٰذا سردی ہو یا گرمی ہو خارجہ پالیسی کی ایک ہی وردی ہو والا معاملہ ہے.

اولین دنوں سے ہی ہماری خارجہ پالیسی کے چند واضح مراکز قائم کر دیے گئے ہیں. ان میں داخلی اور خارجی مراکز کا ذکر کیا جائے تو. حکومت پاکستان، افواج پاکستان، مشرق وسطٰی اور امریکہ شامل ہیں. اس ٹنل نما پالیسی نے ہمیں ہمیشہ کے لیے کچھ دوست یا حلیف عطاء کیے ہیں. امریکہ و سعودی عرب ان میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں. امریکہ کے بارے میں ہمارا رویہ بڑا دلچسپ ہے ہم ایک ہی سانس میں اسے دشمن اور فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتے ہیں. عوامی سطح پر امریکہ دشمنی بڑا ہی حساس مسئلہ ہے. جسے بعض اوقات دم توڑتی جماعتیں یا معاملات پر کمزور پڑتی گرفت کے تناظر میں ادارے یا جماعتیں عوامی عدالت میں پیش کرتے ہیں اور حسبِ ضرورت توانائی حاصل کرتے ہیں. گو امریکہ گو سے نہ ہی امریکہ جاتا ہے اور نہ ہی ملکی دفاع کے ناقابل تسخیر ہونے کے بیانات سے ڈرون حملے رک جاتے ہیں لیکن موقع کی مناسبت سے دونوں حربے استعمال کیے جاتے ہیں. بیرونی تعلقات میں چین اپنا یار ہے بھی اہم فیکٹر ہے. چائنا کے ساتھ تعلقات کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تمام ادارے اور سیاسی و مذہبی جماعتیں چین کی دوستی کے گن گاتے ہیں. رمضان المبارک میں روزوں پر پابندی ہو یا پھر شعار اسلام سے متعلق سختیاں چین کے اندرونی معاملات میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جاتی. حالانکہ فرانس کی جانب سے حجاب پر پابندی کے خلاف ہم نے خوب نعرے لگائے ہیں. اسی طرح بھارت افغانستان اور ایران بھی ہماری خارجہ پالیسی کے غیر ممنوع عناصر ہیں. موضوع اس قدر وسیع ہے کہ ایک مضمون میں احاطہ ممکن نہیں. لہٰذا بھارت افغانستان اور ایران کے حوالے سے چند گزارشات پیش کروں گا. اس کے علاوہ حکومت اور فوج کے درمیان پائی جانے والی خلیج کے بارے میں بھی قیاس آرائی کی کوشش کروں گا.

موجودہ زمانے میں پاکستان بھارت افغانستان ایران دنیا کی تجارتی منڈی میں تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں. جغرافیائی اعتبار سے پاکستان اور ایران ایسی جگہ واقع ہیں جو دو کثیر آبادی والے ممالک کو دنیا سے منسلک کرتے ہیں. اگر ان چار ممالک کے تعلقات مثالی ہو جائیں تو بہت جلد مشرقی یورپ اور روس بھی ہماری اس حیثیت سے فائدہ اٹھا کر جنوبی ایشیاء کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں. موجودہ حکومت نے ریجنل کوآپریشن کو مرکزی نقطہ بیان کیا تھا بالخصوص بھارت اور افغانستان کے ساتھ از سر نو تعلقات کو بہتر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا. بھارت کے نئے وزیر اعظم کی تقریب حلف برداری میں شرکت سے یہ امید پیدا ہو گئی تھی کہ بہت جلد پاکستان اور بھارت باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کر دیں گے اور کم از کم تجارت کے فروغ کیلئے اقدامات کر لیے جائیں گے. امن دشمنوں کی کمی نہیں ہے اور ہمارے مقدر ابھی اتنے اچھے نہیں ہوئے کہ ہم پرامن دنیا میں رہ کر وقت گزار سکیں. اشرف غنی صدر منتخب ہوئے تو پاکستان میں شادیانے بجائے گئے کہ کم از کم پاکستان کے حامی شخص کو مسند اقتدار پر جگہ میسر آ گئی ہے. لیکن جلد ہی اعتماد کی فضا کو زنگ لگ گیا اور آج کل تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی حدوں کو چھو رہے ہیں. ایران پر بین الاقوامی پابندیاں ختم ہو رہی ہیں اور ایران خطے میں ایک تجارتی گیٹ وے کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے. ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور دیگر کئی منصوبے ابھی زیر تخلیق ہیں. ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کو ایک نیا موڑ دینے کی خواہش لیے ایرانی صدر نے پاکستان کا دورہ کیا اور ہمیں خدا خدا کر کے کلبھوش یادو میسر آ گیا جس سے مکمل طور پر وہ دورہ ناکامی سے دوچار کر دیا گیا. سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں. موجودہ زمانے میں یہ تصور کر لیا گیا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات نواز شریف کے ذاتی تعلقات ہیں. پہلے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد پر ہنگامہ برپا گیا کہ مقاصد کیا ہیں اور امداد کیوں دی گئی. بعد ازاں ہم نے پارلیمنٹ کی قرارداد میں یہ کہا کہ سعودی عرب کے معاملے میں ہم نیوٹرل رہیں گے. یہ کس کی خواہش پر ہوا وہ بھی لوگ جانتے ہیں. بھارت کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی تو نواز شریف کو ذاتی کاروبار کے طعنے دیے گئے. ملاں منصور کی ہلاکت کو افغان امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا گیا. وہ پاکستان میں کب سے قیام پذیر تھا. بھارت کی دس سال کی محنت کا تریاق یہ دریافت کیا گیا کہ انگور اڈہ چیک پوسٹ افغانستان کے حوالے کر دی جائے تو خیر سگالی کی بہار آ جائے گی. افغانستان نہ ہوا کھانے پر سے روٹھ کر سو جانے والا بچہ ہوا.

آخر میں ایک بات کہ کیا حکومت مکمل طور پر بے خبر ہے کہ یہ کیا ہو رہا اور انہیں کچھ دلچسپی ہی نہیں. میرے خیال میں یہ تاثر غلط ہے. جب پاکستان نے چائنا کے ساتھ اسٹریٹیجک تعلقات کا آغاز کیا تھا تو یہ ساری مشکلات مدنظر رکھی گئیں تھیں، اس کا اشارہ روس اور وسط ایشیا ممالک کے ساتھ تعلقات کی وسعت دیتی ہے. ہماری پالیسیاں اس سے قبل طفیلی ریاست کی سی رہی ہیں. پہلی مرتبہ اپنے جغرافیہ کو کاروبار میں وسعت کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے. مشکلات آئیں گی ہمیں مقابلہ کرنا ہو گا. آخر میں تمام اسٹیک ہولڈز سے گزارش ہے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی اور انا کو قربان کریں اور پاکستان کے مفاد میں کیے گئے مشکل فیصلوں پر سیاسی فائدہ اٹھانے سے اجتناب برتیں  ۔ ۔ مہربانی

5 thoughts on “Think tank ki Adam Mojoodgi

  • June 14, 2016 at 8:47 am
    Permalink

    بہت ہی کمال کی تحریر عمدہ

    Reply
  • June 14, 2016 at 10:07 am
    Permalink

    بہت ہی اچھی تحریر ارشد صاحب اور بلکل صحیح لکھا ہے

    Reply
  • June 14, 2016 at 12:31 pm
    Permalink

    لاجواب تحریر ارشد بھائی ?????

    Reply
  • June 15, 2016 at 4:40 pm
    Permalink

    Excellent analysis really practical approach

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.