Pakistan ki Sifarti Tanhaai

مشہور عام یہی ہے کہ دوستی بے لوث ہوتی ہے ، یہ فقرہ یا بیانیہ ، دو بندوں کے درمیان دوستی بارے تو شائد کچھ حقیقت رکھتا ہو لیکن خاندانوں، قبیلوں ، ملکوں اور قوموں بارے اس کی کوئی حیثیت یا وقعت نہیں ہے، حتی کہ اگر دو لوگ بھی آپس میں کسی قسم کا تعلق واسطہ قائم کرتے ہیں تو اسکے پیچھے کوئی نہ کوئی مفاد یا مشترکہ بات، یا مشترکہ خیالات ضرور ہوتے ہیں. عام زندگی میں بھی جب آپ کسی نہ کسی شخص کے قریب آتے ہیں یا اس سے کسی قسم کے دیرپا تعلقات کا سوچتے ہیں تو تحت الشعور میں لازما باہمی مفادات یا خیالات ہوتے ہیں. ضروری نہیں کہ یہ مفادات مادی ہی ہوں اور مفادات کو محض مادی ہی سمجھنا فاش غلطی ہوا کرتی ہے کہ باہمی مفادات محض کسی کی محفل میں بیٹھنا ، بات کرنا اور علم حاصل کرنا بھی ہوسکتا ہے اس ساری تمہید کا اصل مقصد باہمی تعلقات میں کسی نہ کسی مفاد، باہمی دلچسپی یا مشترکہ خیالات کی ضروری موجودگی کی اہمیت کا احساس دلانا ہے.

ملکوں اور قوموں کے تعلقات کی جب بھی بات ہوتی ہے تو انیسویں صدی میں برطانیہ کے وزیراعظم رہے لارڈ پالمرسٹن کے یہ الفاظ ہمیشہ دہرائے جاتے  کہ برطانیہ کا کوئی مستقل دشمن یا مستقل دوست نہیں ہے البتہ مستقل مفادات ہیں جن کو حاصل کرنا ہمارا فرض منصبی ہے.

جدید سفارت کاری اور ملکوں اور قوموں کے خارجہ تعلقات کی بنیاد اسی فلسفہ یا فکر پر قائم ہے اور ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کیلئے اپنے مفادات کو ہی مد نظر رکھتے ہیں، لیکن یہ فکری بنیاد کوئی جدید سفارتی و خارجہ حکمت عملی کا مظہر نہیں ہے بلکہ زمانہ قدیم سے ملکوں کے باہمی تعلقات یا دشمنیاں اسی بنیاد پر استوار ہوتی رہی ہیں.

یہاں تک تو بات عام فہم ہے اور سب کی سمجھ میں آتی ہے اور اس میں ایسی کوئی بات نہیں کہ کسی ملک یا قوم کو خارجہ حکمت عملی بناتے وقت دقت ہو لیکن پھر کیا بات ہے کہ آئے دن ہم یہ سنتے ہیں کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو رہا ہے یا ہمارا “دشمن” ملک بھارت تو ہمارے باقی ہمسائیوں سمیت دنیا کے تمام ممالک سے اچھے تعلقات قائم کر رہا ہے ، طرح طرح کے تجارتی ، دفاعی ، سائنسی ، تعلیمی اور ثقافتی معاہدے دھڑا دھڑ کیے جارہا ہے اور وہ ممالک جن کو ہم عرصہ دراز سے اپنا بہترین دوست اور ہر دکھ سکھ کا ساتھی سمجھتے رہے ہیں اور انکی خاطر تن من دھن بھی لٹاتے رہے ہیں ہمارے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں یا ہمیں وہ اہمیت دینے کو تیار نہیں جسکے ہم،  خیال و خواب سجائے بیٹھے رہتے ہیں.

جیسا کہ شروع میں ہی عرض کیا تھا کہ کسی بھی دوستی اور تعلقات کی بنیاد ہمیشہ کوئی مشترکہ مفاد یا باہمی دلچسپی کا معامله ہوا کرتا ہے تو پاکستان بھی اس اصول و بنیاد سے مبراء نہیں ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسا مشترکہ مفاد یا باہمی خیال و فکر و دلچسپی کا معاملہ ہے جس میں دوسرے ممالک یا اقوام کو دلچسپی ہو یا انکو اپنا فائدہ نظر آتا ہو. اس بات کو جاننے کیلئے ہمیں سوچ بچار کیلئے چند قدم پیچھے آنا ہوگا اور مختلف ملکوں و قوموں میں موجود شاندار و دیرپا تعلقات کی نوعیت و کیفیت کو جاننا ہوگا اس کو بغور جانچنا ہوگا. عالمی جنگوں کے بعد سے قائم شدہ جدید قومی ریاستیں ہوں یا زمانہ قدیم کی روم، یونان، مصر یا فارس کی ریاستیں یا انکے درمیانی عرصہ میں قائم اسلامی خلافت اور دوسری ریاستیں ہوں، ان سب ریاستوں میں ملکی یا قومی مفاد کا حصول، اصل میں وسائل و ذرائع پیداوار پر قبضہ کرنا اور ان وسائل و ذرائع پیداوار کو چند لوگوں کے اختیار میں دینا یا تمام لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے استمعال کرنا ہوا کرتا تھا اور ہے.

جدید قومی ریاستوں میں قومی و ملکی مفاد کی توضیح و تشریح اصل میں سرمایہ دارانہ نظام کرتا ہے اور چنانچہ اس سرمایہ دارانہ نظام پر قابض اور اسکو چلانے والے سرمایہ دار طبقات. اب سرمایہ دار طبقوں کا مفاد و بقاء اسی میں ہوتی ہے کہ کیسے انکے سرمائے کا تحفظ ہو ، کیسے وہ وسائل و ذرائع پیداوار پر قابض رہیں اور کیسے مزید وسائل و ذرائع پیداوار پر قابض ہو سکیں. سرمایہ دار طبقہ ہی کسی ملک میں معاشی ترقی و صنعتی بڑھوتری کا ذمہ دار ہوتا ہے وہی ملک میں بینکوں کا جال بچھا کر سرمائے کی گردش کو کنٹرول کرتا ہے ، وہی نت نئی صنعتوں و ایجادات کے پیچھے اصل محرک ہوتا ہے، وہی کسی ملک میں اعلیٰ فنی مہارت و تعلیم کو یقینی بناتا ہے وہی نت نئی مالی خدمات و مصنوعات کی تخلیق اور انکے ذریعہ اپنے قبضے کو مستحکم کرنے کی سعی میں مصروف رہتا ہے.

جدید قومی ریاستوں میں کسی بھی ملک کی حکومت ، اسکا نظام اور حتی کہ فوج بھی ان تمام سرمایہ دارانہ مفادات کے حصول کیلئے محض ایک ٹول یعنی آلہ ہوتی ہے اور اسکا کام سرمایہ دارانہ مفادات کے حصول کو یقینی بنانا ہوتا ہے. سرمایہ دارانہ طبقات کسی ایک ملک یا جغرافیائی علاقے تک محدود نہیں رہنا چاہتے کہ اس سے انکے سرمائے اور کاروبار کو فروغ نہیں ملتا اور یوں انکی وسائل پر قبضے کی پہنچ محدود رہ جاتی ہے، سرمایہ دارانہ طبقات کی  اپنے سرمائے، کاروبار اور وسائل پیداوار پر تسلط کے استحکام و بڑھوتری کا معاشی نظریہ و فکر ہی وہ بنیاد ہے جو کسی بھی ملک کی خارجہ حکمت عملی اور ملکوں کے باہمی تعلقات کیلئے محرک ہوا کرتی ہے، موجودہ زمانے میں یہی معاشی نظریہ یا فکر ہے جو ملکوں کے درمیان باہمی دوستی/ دشمنی، شراکت/مسابقت  والے تعلقات اور حلقہ اثر کا فیصلہ کرتی ہے.

نظریاتی فکر و فلسفہ وہ بنیاد ہے (موجودہ بحث میں سرمایہ دارانہ فکر ) جو کسی ملک میں فوج رکھنے، کتنی تعداد میں رکھنے اور کس قسم کی فوجی ٹیکنالوجی کے حصول و غلبے کا فیصلہ کرتا ہے، یہی وہ فکر و فلسفہ ہے جو ملک کے عوام میں کسی خاص ملک کے بارے میں دوستی یا دشمنی کے جذبات  پیدا کرنے اور انہیں ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پھیلانے کا ذمہ دار ہوتا ہے، یہ نظریاتی فکر و فلسفہ ہی ہے جو تعلیمی اداروں کے ذریعہ دی جانے والی تعلیم کے سبب اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جو نظام نافذ ہے وہ قائم و دائم رہے اور کوئی بھی اسکے خلاف آٹھ کھڑا نہ ہو. اگر حالات و واقعات کا گہرائی میں جا کر جائزہ لیا جائے تو کسی بھی ملک میں نافذ نظام کے پیچھے اصل قوت متحرکہ کوئی نظریاتی فکر و فلسفہ ہی ہوتا ہے اور موجودہ بحث میں اسکو سرمایہ دارانہ فکر یعنی کپیٹلزم سمجھ لیجئے.

یہ جو ہم حکومت اور حکومتی اداروں کا تام جھام دیکھتے ہیں، یہ جو ہم فوج اور خفیہ اداروں کا پورے ملک میں بچھا جال دیکھتے ہیں، یہ جو ہم عوامی نمائندگان کی نام نہاد شان و شوکت دیکھتے ہیں، یہ سب ایک ملمع، ایک جلو سے زیادہ کچھ نہیں ہے، ان سب کا اصل کام ان مفادات کا حصول ، تحفظ اور بڑھوتری ہے جس کے لئے ان کا اہتمام کیا گیا ہے، یعنی کسی بھی ملک کی خارجہ حکمت عملی و سفارتی تعلقات کی بنیاد ، نوعیت و کیفیت کا فیصلہ، حکومت، فوج یا اسکے عوامی نمائندگان نہیں کرتے بلکہ اسکے تجارتی و سرمایہ کے اصلی مالک ، سرمایہ دار طبقات کرتے ہیں.

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے عموما اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سے خصوصا، اگر آپ تمام مغربی ممالک کے دوسرے ممالک سے تعلقات کی نوعیت کا جائزہ لیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ان تعلقات کو قائم کرنے کے پیچھے مغربی سرمایہ دارانہ کارپوریٹ سیکٹر کا دباؤ ہی تھا.

اب اگر اس صورتحال کو ہم بھارت اور پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ وزیراعظم مودی کے مختلف ممالک کے دھواں دھار دوروں اور انکے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدات کے پیچھے کن طبقات کی تحریک و دباؤ شامل ہے، وزیراعظم مودی کا شائد ہی کوئی غیرملکی دورہ ہو جس میں اسکے وفد میں اکثریت بھارتی صنعتکاروں و سیٹھوں کی نہ ہو. بھارت کی موجودہ تیز سفارت کاری و سریع خارجہ حکمت عملی کے پیچھے اصل میں بھارت کا سرمایہ دار کارپوریٹ طبقہ ہے جو اپنی مصنوعات بیچنے اور وسائل پیداوار پر قبضے کیلئے بے چین بیٹھا ہے. مغرب کے سرمایہ دار کارپوریٹ طبقہ سے سبق سیکھتے ہوئے، بھارتی کارپوریٹ سرمایہ دار طبقہ اپنے ملک کی خارجہ حکمت عملی کی تشکیل میں اہم ، موثر اور بنیادی کردار ادا کر رہا ہے اور بھارت کی حکومت اور فوج،  سرمایہ دار کارپوریٹ طبقہ کے اس اہم اور بنیادی کردار کو تسلیم کرکے ان کیلئے سرمایہ دارانہ مفادات کے حصول کیلئے آلہ و ذریعہ بننے کو تسلیم کر چکی ہے.

اب اگر ہم پاکستان کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمیں کسی بھی قسم کا کوئی سرمایہ دار طبقہ نظر نہیں آتا اگر کوئی ہے تو وہ محض ایک تاجر طبقہ ہے جو دوسروں کا مال بیچ کر اس پر اپنا حصہ کما کر خوش و خرم ہے، پاکستان میں کوئی ایسا سرمایہ دار طبقہ نہیں ہے جو اپنے سرمائے اور تجارت کو علاقے کی منڈی میں پھیلانے اور اس منڈی پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتا ہو.پاکستان میں کوئی امبانی ، کوئی متل کوئی ٹاٹا ، کوئی برلا ، کوئی پریم جی ، کوئی مہندرا، کوئی بجاج ، کوئی گوڈریج ، کوئی روی رویا ، کوئی بنسل اور کوئی جندل نہیں، پاکستان میں سرمایہ دارانہ کارپوریٹ طبقہ کا ابھی تصور بھی نہیں ہے، اب اگر کوئی ایسا طبقہ ہی نہیں ہے جو اپنے سرمائے اور تجارتی مفاد  کو ملکی و قومی مفاد کے ساتھ ملا کر یا اسکا خوشنما نام دیکر اسکے حصول، تحفظ اور بڑھوتری کیلئے حکمت عملی وضع کرسکے اور حکومت و فوج کو بطور ایک آلہ استعمال کرسکے تو کہاں کی سفارت اور کہاں کی خارجہ حکمت عملی.

پاکستان کا جتنا بھی سرمایہ دار طبقہ ہے اسکی فکری گہرائی و گیرائی اتنی ہے کہ وہ اندرون و بیرون ملک چند جائیدادوں کا مالک بن جائے، بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم پھر لے اور سرکاری پروٹوکول کا فائدہ اٹھا لے. ہمارے ہاں اگر بہت بڑی فکری چھلانگ ماری بھی گئی ہے تو وہ ایک راہداری کے چوکیدار کی حیثیت میں ماری گئی ہے.جس پر غیر ملکی سامان و کاروبار کے ٹرک اور مال گاڑیاں چلیں گی ، جس میں آپ صرف چنگی وصول کرنے والے ایک معمولی اہلکار سے بڑھ کر کچھ نہ ہوں گے.

دنیا بھر کا کارپوریٹ سرمایہ دار، اپنے سرمائے و کاروبار کے تحفظ کا متمنی ہے اور وسائل پیداوار پر قبضے کی خواہش رکھنے والا. انکو اپنے سرمائے کے پھیلاؤ و تحفظ اور پاکستانی وسائل پر قبضہ کیلئے، پاکستانی سرمایہ داروں سے کسی قسم کی کوئی جنگ نہیں کرنی پڑی یا شراکت کیلئے مجبور نہیں ہونا پڑا. انکو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک بنی بنائی ایسی فوج اور حکومت بھی میسر آ گئی ہے جو بجائے اپنے ملکی سرمایہ داروں کیلئے کام کرتی ، انکے لئے ایک معمولی اجرت پر کام کرنے کیلئے تیار بیٹھی ہے.

ایسی صورتحال میں پاکستان کی خارجہ حکمت عملی غیر ملکی کارپوریٹ سرمایہ دار ہی مرتب کریں گے اور وہی فیصلہ کریں گے کہ پاکستان کو کونسے ممالک سے تعلقات رکھنے ہیں، کتنی سطح کے رکھنے ہیں، پاکستان کو کتنی سفارتی گرمجوشی فراہم کرنی ہے یا کتنی سفارتی تنہائی، وہی فیصلہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کو ایک متحرک خارجہ حکمت عملی چاہئے یا ایک سست الوجود اور ڈھیلی ڈھالی خارجہ حکمت عملی.

مضمون کا اختتام اس پر کروں گا کہ پاکستان کے بالادست و سرمایہ دار طبقات کو تاجرانہ ذہنیت سے فوری باہر آنے کی ضرورت ہے، انہیں فوری طور پر صنعتی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے جسکی ایک فکری و نظریاتی بنیاد ہو ، مزید براں انکو حکومت اور فوج کے ساتھ ملکر جلد از جلد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس ملک کی خارجہ حکمت عملی خود بنانی ہے یا غیر ملکی کارپوریٹ سرمایہ دار طبقات کی خارجہ حکمت عملی کو اپنانا ہے اور خود محض کرائے کے ٹٹو بننا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.