Mujhay Alishaa naa Kijiio

صنفی امتیاز ہمارے معاشرے کا ایک المیہ اور ایک خاصہ رہا ہے مرد اور عورت کی تفریق نے کئی درد بھری داستانوں کو جنم دیا لیکن اس امتیاز کا ایک خوفناک ترین بھیانک ترین رخ جو علیشہ کی موت نے ہمارے سامنے لا کھڑا کیا اس نے ہر صاحب احساس ہر صاحب دل کے لئے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے اگر آپ مرد ہیں تو کیا اپنی مرضی سے ہیں؟ عورت ہیں تو کس کی مرضی سے؟ اور خدانخواستہ تیسری صنف سے ہیں تو کون ذمہ دار؟ سوچنے ذرا جیک کیلس ہمارے ملک میں ہوتا تو بےچارہ میک اپ سے لتھڑا چہرہ لئے کسی شادی میں تالیاں بجا رہا ہوتا یا کسی مارکیٹ میں بھیک مانگ رہا ہوتا اور ہر آنے جانے والے کے تمسخر کا نشانہ بن رہا ہوتا کچھ بھی ہو تا پر ایک مشہور و معروف کرکٹر نہ ہو تا کبھی سوچا آپ نے یہ ماں باپ کے دھتکارے، معاشرے کے راندہ درگاہ بے ٹھکانہ بےسہارا لوگ ایک ایف آئی آر ہیں جو اللہ کے ہاں کٹ رہی ہے میرے اور آپ کے خلاف۔

کیا ہر مکروہ فعل ہم نام نہاد مسلمانوں پر ہی واجب ہے ایک روح فرسا انکشاف یہ بھی کہ یہ معصوم صنف ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بھی۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے کسی ڈاکٹر کسی مریض نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ یہ دریدہ بدن جو قطرہ قطرہ مر رہا ہے ان میں سے ایک ہو سکتا ہے کیا ایمرجنسی وارڈ میں بھی تفریق ہے زنانہ اور مردانہ کی؟ پہلے اس کے زخموں پر مرہم تو رکھتے پھر وارڈ کا فیصلہ کر لیتے اب بھی وقت ہے جاگ جائیں اپنے بچوں کو اپنے اردگرد کے لوگوں کو بچائیں ان زہریلی سوچوں سے ان نام نہاد مذہبی رہنماؤں سے جو بزعم خود خدا بنے ہیں صحیح غلط کا فیصلہ کر رہے ہیں لوگوں سے جینے کا حق چھین رہے ہیں خدارا جئیں اور جینے دیں زندگی کو آسان بنائیں اپنے لئے آوروں کے لیے یہ وقت ہے آگے آنے کا ان لوگوں کے لیے جو میانہ رو ہیں تحمل اور برداشت کےکے علمبردار ہیں۔ ۔ آئیں، مائیں اپنی آغوش کو، استاد اپنی درس گاہوں کو، ہر ذی شعور اپنے حلقہ احباب کو تربیت گاہوں میں بدل ڈالیں یہ وقت گریہ نہیں وقت عمل ہے آنسو پونچھئے کچھ کر کے دکھائیے۔

One thought on “Mujhay Alishaa naa Kijiio

  • June 10, 2016 at 8:18 am
    Permalink

    یوں لگتا ہے جیسے کلیجہ موم بن کر قطرہ قطرہ بن کر پگھل کر بہہ گیا ہے, بہت خوب لکھا آپا, لکھتی رہئیے پلیز

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *