Ulamma aur Jadeed Tabqay

پچھلے دنوں پانچ چھ بلاگ پڑھنے کا موقع ملا جو کہ سیاست یا پھر پاکستان کی موجودہ صورتحال پر تھے ان میں کہیں نہ کہیں موجود اس جملے نے مجھے حیران کردیا کہ “رہی سہی کسر مولوی نے نکال دی ہے” وغیرہ
میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ لکھنے والوں میں سے اکثر نے مدرسے کی فضا میں قدم بھی نہ رکھا ہوگا خیر واللہ اعلم۔
مگر یہ وہی بات ہو گئی کہ “تسیں مولویاں نے ہی ملک دا بیڑا غرق کیتا اے”

واقعہ یہ کہ مولانا عبد المجید انور صاحب ایک دفعہ کہیں سفر کے لیے ویگنوں کے اڈے پر گئے مختلف ویگنوں اور بسوں والے ان کے پیچھے ہو گئے جیسا کہ عموماً ہوتا ہے کہ کہاں جانا ہے، فلاں جگہ جانے کے لیے فلاں سواری بالکل تیار کھڑی ہے، ہر کوئی اپنی گاڑی کی طرف بلا رہا تھا مولانا سب کی آوازوں کو نظر انداز کرتے تشریف لے جا رہے تھے کہ اتنے میں ایک کنڈیکٹر ان کے ہاتھ سے بیگ کھینچتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف لے جانے کی کوشش کرنے لگا مولانا نے بیگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس سے کہا مجھے معلوم ہے کہ مجھے کہاں جانا ہے اور کون سی گاڑی میں بیٹھنا ہے. وہ کنڈیکٹر مایوس ہو کر یہ کہہ کر پیچھے ہٹ گیا کہ “تسیں مولویاں نے ہی ملک دا بیڑا غرق کیتا اے” تم مولویوں نے ہی ملک کا بیڑا غرق کیا ہے. مولانا فرماتے ہیں چونکہ میں اس کی گاڑی میں نہیں بیٹھا تو اس لئے صرف میں ہی نہیں میرے جیسے سارے مولوی ملک کا بیڑا غرق کرنے کے ذمہ دار ہو گئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنی ویگنیں اور بسیں بنائی ہوئی ہیں اور جو ہماری بس میں نہ بیٹھے وہ ملک کا غدار ہے وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کی بات سنی جائے۔
تو اب آتے ہیں “ملک کا بیڑا غرق کرنے والے مولوی” اور “دہشت گردی سکھانے والے مدارس” کی طرف۔

آپ کے ذہن میں مولوی کا تصور کیا ہے؟ وہی جو مسجد کے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے چیختا چنگھاڑتا آپ تک پہنچتا ہے؟ یا پھر سیاسی مولوی؟ یا دہشت گرد؟
محلے کی مسجد کے امام کے علاوہ آپ کتنے مولویوں سے شرفِ ملاقات حاصل کر چکے ہیں؟ اپنی زندگی کا کتنا حصہ مولوی کے پاس بیٹھ کر گزارا ؟

‏یہاں میں ایک کالم نگار کا تجزیہ شئیر کروں گی جو مولویوں میں اٹھتے بیٹھتے رہے ہیں وہ کہتے ہیں “مولویوں کے مثبت اور منفی پہلو میرے ذہن میں ہیں، جو صحیح معنوں میں مولوی ہیں ان کا وژن بہت وسیع ہے مسٹر حضرات ان کی جہتوں سے واقف ہی نہیں ہیں ان کا طرزِ استدلال بڑے بڑے لوگوں کے منہ بند کرنے والا ہوتا ہے”
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک طبقہ سیکولر ذہن رکھتا ہے ان کے پاس مدارس کا ناطقہ بند کرنے کے لیے بے شمار اعتراضات ہیں مثلاً، دینی مدارس “بنیاد پرستی” اور “دہشت گردی” کی تعلیم دیتے ہیں، مدارس میں عصری تعلیم کا انتظام نہیں ہے، وہاں میڈیکل انجینئرنگ وغیرہ کے کورس نہیں کروائے جاتے، دینی مدارس کا نصاب بدل دینا چاہیے، مدارس فرقہ واریت پھیلانے کے مراکز ہیں، دنیا چاند پر پہنچ گئی اور مولوی صدیاں پیچھے وغیرہ وغیرہ۔
دینی مدارس اور ان کا کردار، نصاب و نظام ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ زیرِ بحث آنے والے موضوعات میں سے ہے۔
اسلام نے علوم کو دینی و دنیاوی حوالے سے تقسیم نہیں کیا نفع و ضرر کو علوم کی تقسیم کا باعث سمجھا یہ نفع و نقصان صرف دنیا ہی نہیں آخرت کے حوالے سے بھی ہے اسلام کی نظر میں مطلوب علم وہ ہے جو انسان کے لیے فرد اور معاشرے کے دائروں میں اس کی دنیا کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ پر امن اور بہتر بنائے اور آخرت کی فلاح و نجات کے لئے مفید ہو. آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے “اے اللہ مجھے وہ علم عطا فرما جو نفع بخش ہو اور اس علم سے محفوظ رکھ جو ضرر کا باعث ہو”.

‏مولانا ابو الحسن ندوی رحمۃ اللہ نے ایک جگہ دینی مدرسے کا تعارف کرواتے ہوئے بڑی خوبصورت بات کہی ہے انہوں نے فرمایا دینی مدرسہ در حقیقت وہ پائپ لائن ہے جو رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کرتی اور زندگی کو اس سے سیراب کرتی ہے اس لیے اس کا کام تب پورا ہوتا ہے جب اس کا ایک سرا دربارِ رسالت سے جڑا ہو اور دوسرا سرا جیتی جاگتی زندگی سے۔ گیلانی نے ایک زمانے میں یہ بات کہی تھی کہ جس طرح اصحابِ کہف حالات کے جبر سے بے بس ہوکر اپنا ایمان بچانے غار میں گھس گئے تھے اور اپنے ایمان کا تحفظ کیا تھا اسی طرح ہمارے اساتذہ نے بھی حالات کے جبر کو بھانپتے ہوئے ہمیں مدارس کی غاروں میں داخل کر دیا ہے. اصحابِ کہف جب صدیوں بعد غار سے نکلے تو سب کچھ بدل چکا تھا، زبان بدل چکی تھی، سکہ بدل چکا تھا اور حالات انقلابات کا شکار ہو چکے تھے اسی طرح جب ہم مدارس کی غاروں سے نکل کر سوسائٹی میں آتے ہیں تو ہمیں سب کچھ بدلا ہوا ملتا ہے سوسائٹی کی عام زبان ہمارے لیے نامانوس ہوتی ہے اور ہمارا سکہ آج کے دور میں مارکیٹ میں قبول نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ہم اپنی سوسائٹی کے لیے اجنبی بن جاتے ہیں۔
ہمارے مدارس کا نظامِ تعلیم و تربیت کچھ ایسا ہے کہ طالب علم اپنے ماحول اور معاشرے سے گھل مل نہیں پاتا۔ کم از کم آٹھ سالہ درسِ نظامی کے دوران اکثر طلبہ کے تعلیمی ایام مدارس میں ہی گزرتے ہیں ماحول ایسا پاکیزہ ہوتا ہے کہ پھر سالانہ تعطیلات میں بھی طالب علم کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ ایام بھی کسی دینی وابستگی میں ہی گزارے جبکہ طالب علم کو چاہیے کہ یہ ایام معاشرے کو سمجھنے میں گزارے مگر پھر معاشرے کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی نوجوان دینی تعلیم کے حصول کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ اب چونکہ وہ “دنیاداری” کے گندے تالاب سے نکل کر “دین داری” کی مقدس دنیا کی طرف جا رہا ہے تو اب اس کا پچھلی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں ہے اب اگر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنا بھی ہے تو بس دنیا دار اور گنہگار لوگوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے۔
بہنو اور بھائیو! اسے معاشرے کو سمجھنے تو دو اس میں گھلنے ملنے، سماج کی فکر اور مسائل کو سمجھنا تو دو کیونکہ آج دنیا کے عالمی ماحول سے بے خبر یا لا تعلق رہ کر کوئی دینی یا علمی یا فکری تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی۔

‏آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل دینی مدارس کا یہ نظام وجود میں آیا تھا اس وقت ہمارے بزرگوں کا یہ ہدف تھا کہ جنوبی ایشیاء کے مسلم معاشرے میں مسجد و مدرسہ کا ارادہ موجود رہے
ایک بزرگ کے بقول
جس مذہب کی تعلیم باقی ہے وہ مذہب بھی باقی ہے. مدارسِ دینیہ بقائے مذہب کی سعی کر رہے ہیں۔
اور یہ مدارسِ دینیہ اس معاشرے کو امام، حافظ، قاری، مدرس، خطیب، مولوی اور مفتی دیتے رہیں تاکہ مسلمانوں کی عبادات اور دینی تعلیم کے ماحول کے تسلسل کو قائم رکھا جائے جس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور الحمدللہ ہمارے دینی مدارس اس مقصد میں کامیاب رہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی دینی رہنمائی کا تقاضا بڑھتا جا رہا ہے جو کہ صرف وقت کا تقاضا ہی نہیں ہماری ذمہ داری بھی ہے جس طرح کچھ یورپی ممالک میں مسلمانوں کے لیے شرعی عدالتیں کام کر رہی ہیں تو اسلامی فقہ اور شریعہ پر مکمل عبور رکھنے والے جج اور قاضیوں کا خلاء بھی انہی دینی اداروں نے پُر کرنا ہے۔
اسی طرح معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے کرپشن، نا اہلی، بد دیانتی، جھوٹ، فراڈ، دھوکہ دہی وغیرہ کی جو صورتحال ہے اس سے بچنے کے لیے جس معاشرتی انقلاب کی ضرورت ہے وہ دینی تعلیم کی طرف رجوع کرنے سے ہی ممکن ہے۔
اب آتے ہیں ان الزامات کی طرف جو ہمارے جدید طبقوں کی طرف سے لگائے جاتے ہیں۔ دینی مدارس کے بارے میں یہ تاثر پھیلتا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تیار کر رہے ہیں اس وقت جو بھی دہشت گردی ہے وہ انہی کی وجہ سے ہے یہ بات سب سے پہلے امریکہ کی طرف سے کہی گئی جسے لاشعوری طور پر ہمارے یہاں بھی قبول کر لیا گیا، سوال یہ ہے کہ ان مدارس کی تاریخ تو بہت پرانی ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ تو اس صدی کی بات ہے نائن الیون کے بعد سے، تو یہ دہشت گرد پہلے کیوں پیدا نہیں ہو رہے تھے؟ اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے والوں میں سے کون سا حملہ آور کسی مدرسے کا تعلیم یافتہ تھا؟ نائن الیون سے پہلے تو مغرب میں کوئی جانتا بھی نہیں تھا کہ مدرسہ کس چڑیا کا نام ہے، نائم الیون کے بعد سے اچانک مدرسہ نظروں میں آ گیا اور مزے کی بات یہ کہ حملے میں شامل انیس لوگوں میں سے کوئی بھی مدرسے کا پڑھا ہوا نہ تھا۔ عطاء محمد جس نے پہلا حملہ کیا وہ کسی اسلامی جامعہ کا پڑھا ہوا نہیں بلکہ جرمنی کی انجینئرنگ یونیورسٹی کا پڑھا ہوا تھا تو کیا آپ نے اس یونیورسٹی کو بند کردیا؟
کیا امریکہ کے کسی اخبار کے پاس مدارس کے بارے میں جاننے کا کوئی ذریعہ ہے؟ یا وہ صرف وہی لکھتے ہیں جو پاکستان کے صحافی اپنے کالمز میں لکھتے ہیں جنہوں نے مدرسے کی چار دیواری میں قدم بھی نہیں رکھا لیکن بات اتنے یقین کے ساتھ کرتے ہیں کہ جیسے انہوں نے ساری زندگی مدارس کو اسٹڈی کرتے ہوئے گزاری ہو۔
پھر دوسرا اعتراض مدارس میں عصری تعلیم کیوں نہیں دی جاتی؟
‏ہمارے یہاں بہت سے اسکول اور کالجز میں جس قسم کی تعلیم دی جا رہی ہے اس سے آنے والی نسلیں ہمارے لیے بہت بڑی مصیبت بن سکتی ہیں، رشتوں کا احترام ختم، حیا کا وجود ہی نہیں، معاشرتی اقدار سے بالکل اجنبی۔
اگر یہ ضروری ہے کہ دینی اداروں میں عصری تعلیم لازمی ہو تو یہ بھی ضروری ہے کہ عصری اداروں میں دینی تعلیم لازمی کر لیں۔
کسی بھی مدرسے میں داخلہ کے لئے میٹرک تک کی تعلیم لازمی قرار دی جا چکی ہے اس سے اگلے مرحلے کی تعلیم شامل کرنا ضروری بھی نہیں ہے، کیا میڈیکل کالج میں انجینئرنگ کی تعلیم دی جاتی ہے؟ کیا لاء کالج میں میڈیکل کی تعلیم ضروری ہے؟ اگر انجینئرنگ کالج میں جس طرح میڈیکل کی تعلیم دینا حماقت کی بات ہوگی تو اسی طرح دینی تعلیم میں عصری تعلیم ملانا فطرت کے خلاف ہوگا۔
آپ کا یہ کہنا کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم پیچھے رہ گئے اس کا الزام مدارس اور علماء کو دینا زیادتی نہیں؟

1857 کے بعد جب انگریزوں نے ہمارا پورا نظام الٹ پلٹ کر دیا تھا تو ہر طبقے نے الگ الگ اپنے حصے کا کام سنبھال کر اسے واپس سہارا دینے کی ذمہ داری قبول کی تھی ہمارے علماء نے قرآن و سنت کی تعلیم کو باقی رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لی تھی اور ایک اور طبقے نے قوم کو جدید سائنسی و ٹیکنالوجی علوم سے بہرہ ور کرنے کی ذمہ داری لی تھی۔ علماء نے ہر سرکاری تعاون سے بے نیاز ہو کر بہت سی مشکلات کے باوجود قرآن و سنت کی تعلیم کی حفاظت کی اور دوسرے طبقے نے مکمل سرکاری پشت پناہی سے خزانے کے اربوں روپے خرچ کر ڈالے (آج تک بھی یہی صورتحال ہے) لیکن وہ قوم کو سائنس و ٹیکنالوجی میں دوسری قوموں کے برابر نہ لا سکے تو اپنی ناکامی “مولوی” کے سر تھوپ کر اپنی نا اہلی پر پردہ ڈال رہے ہیں۔
انصاف سے بتائیں کیا آپ کو فتوی لینے کے لئے مفتی نہیں مل رہے؟ کیا آپ کو مسجد میں امام میسر نہیں؟ خطباء کی کمی تو نہیں؟ رمضان المبارک میں قرآن سنانے کو حافظ تو مل جاتے ہیں نا؟ قرآن کی تعلیم کے لئے قاری مل رہے ہیں؟ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم و احکامِ شریعت سیکھنے کے لیے علماء تو دستیاب ہیں نا آپ کے شہر میں؟
اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو اعتراض کس بات کا؟
آپ کے اعتراض کی جگہ یہ مدارس نہیں بلکہ وہ یونیورسٹیاں ہیں جہاں سے آپ کو چاند پر پہنچانے والے لوگ نہیں مل رہے یہ سوال ان سے جا کر پوچھیں کہ ہم کیوں باقی قوموں سے پیچھے ہیں؟
الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا۔

‏فرقہ واریت کی بات کی جائے تو فرقہ واریت کی تعریف بھی دہشت گردی کی تعریف کی طرح مبہم ہے۔ جو برداشت نہ ہو فرقہ واریت… عالمی سطح پر برداشت نہ ہو تو دہشت گردی۔
بہر کیف اس کے لیے مطالعے کے دوران ماہنامہ “الشریعہ” میں پڑھا ہوا پیراگراف کا نقل کروں گی۔

“فرقہ وارانہ تعلیم کا ایک پہلو یہ ہے کہ ملک میں مختلف مذہبی فرقے آباد ہیں اور ان کے دینی مدارس کام کر رہے ہیں اس لیے ان فرقوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے، قومی وحدت کو مجروح کرنے، اور امن عامہ کے مسائل کھڑے کرنے والی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور ایسی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ان کی روک تھام کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو علمی و تحقیقی مباحث سے تعلق رکھتا ہے جس میں اپنے مسلک کی علمی وضاحت اور دلائل کی بنیاد پر اس کی ترجیح کی طرز اختیار کی جائے. نہ صرف پاکستان کے دینی مدرسوں میں ایسا ہوتا ہے بلکہ دنیا بھر میں تمام مذاہب کی مذہبی درس گاہوں میں اس کا صدیوں سے اہتمام چلا آ رہا ہے اور ان دونوں پہلوؤں کے درمیان فرق کی وضاحت ضروری ہے ورنہ یہ مسئلہ بھی وہی صورت اختیار کر سکتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورت میں اس وقت دنیا کو درپیش ہے کہ دہشت گردی کی کسی سطح پر کوئی تعریف طے نہیں ہے اور اسے مکمل طور پر ابہام میں رکھا گیا ہے جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے والے اس ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے جس مخالف کو چاہتے ہیں دہشت گرد قرار دے کر اس کے خلاف جنگ کا محاذ کھول دیتے ہیں. تو اسی طرح فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ سرگرمیوں کی حدود اگر واضح طور پر طے نہ کی گئیں تو نہ صرف یہ کہ علم و تحقیق کے راستے مسدود ہو جائیں گے بلکہ یہ بات مکمل طور پر حکومت اور متعلقہ افسران کی صوابدید پر ہوگی کہ وہ جس مدرسے کو چاہیں فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دے کر اسے بند کرنے کا حکم جاری کردیں”
اس کے لیے وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور دیگر دینی مدارس کے وفاقوں کو حکومت کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا اور فوری طور پر حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

‏اب آپ کا سوال کہ مدارس حکومت کے کنٹرول یا سرکاری انتظامات کے تحت کیوں نہیں آتے اس کا تجربہ ماضی میں ہو چکا ہے ایک بہاولپور کا سب سے بڑا دینی مدرسہ جامعہ عباسیہ جو محکمہ تعلیم کو سونپنے کے بعد ایسی اسلامی یونیورسٹی بن چکا ہے جہاں کوئی دینی مضمون نہیں پڑھایا جاتا اور دوسرا اوکاڑہ کا جامعہ عثمانیہ کا محکمہ اوقاف کے ہاتھوں۔ دونوں کی الگ داستان ہے۔
پہلے ان مدرسوں کا حساب دیں قوم کو بتائیں کہ کیا حشر کیا گیا اور کیوں؟ پھر باقی مدارس کے حوالے سے بات کریں۔

مدارس کو ماضی میں بھی بند کیا جاتا رہا ہے علماء کرام کو بڑی تعداد میں شہید کیا جا چکا ہے، جیلوں میں ڈالا گیا، مدارس کی جائیدادیں قبض ہوئیں مگر یہ مدارس یہ علماء کل بھی موجود تھے آج بھی موجود ہیں اور ان شاء اللہ تاقیامت موجود رہیں گے کیونکہ ان میں دہشت گردی کی نہیں قرآن و سنت کی تعلیم ہوتی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ پاک نے اٹھائی ہے
تو قرآن و سنت کا یہ نظام ہمیشہ جاری رہنے والا ہے۔
ایک گزارش کہ بغیر مکمل تحقیق کے علماء اور مدارس پر انگلی اٹھانے سے پرہیز کریں
سورہ مومنون آیت 110 میں ہے
ترجمہ :
“اور تم نے ان کو تمسخر کا نشانہ بنایا حتی کہ تم نے میری یاد بھی بھلادی اور تم ان کا مضحکہ اڑایا کرتے تھے

9 thoughts on “Ulamma aur Jadeed Tabqay

  • June 8, 2016 at 8:12 pm
    Permalink

    Bohat hi achay likha hai ???

    Reply
  • June 8, 2016 at 8:18 pm
    Permalink

    ماشاءاللہ بہت زبردست اور جامعہ تحریر مدارس کے حوالے سے ایک زبردست کاوش اللہ پاک زور قلم دے

    Reply
  • June 8, 2016 at 8:38 pm
    Permalink

    Jb ya bat ki jati h k “molviyo ne bera gharak kr diya”
    To eska mtlb sary Molvi nhi blk mejority hota h…
    R ap bhar hal feelings free ho k article nhi likh ski apk Mazhab sy mutaliq jazbat saaf saaf nazar aa rhy hain kbi Mazhab k jazbat sy free ho k anylise kiya jae to pta chlta h k Molvi barbadi me kis qadar mulaviss h

    Reply
  • June 8, 2016 at 8:39 pm
    Permalink

    Ya Mazhab ki gulami hi h jo apko feelings free nhi hony deti..

    Reply
  • June 8, 2016 at 10:31 pm
    Permalink

    بہت ہی اچھی اور عمدہ تحریر ہے الفاظ کا چناوٌ بہت زبردست ھے اور پورے مضمون میں گرفت کمزور نہیں پڑھی۔ اللہ آپکو مزید ایسا لکھنے کی توفیق دے ۔ آمین

    Reply
  • June 9, 2016 at 12:16 pm
    Permalink

    بہترین تحریر ہے اور لگتی نہیں کہ پہلی مرتبہ لکھی ہے

    Reply
  • June 9, 2016 at 8:00 pm
    Permalink

    Masha Allah bht acha andaz me pesh kia h.
    Jazak Allah.

    Reply
  • June 10, 2016 at 8:13 am
    Permalink

    قلم پر خوب گرفت اور دلائل بھی عمدہ, لکھتی رہیئے

    Reply
  • June 18, 2016 at 12:48 pm
    Permalink

    اچھی کاوش ھے.کچھ دفاعی انداز بوجھل ہوگیا.اعداد و شمار شامل ہوجاتے تو مزید ٹھوس دلائل ہوتے.. مگر انداز بیاں اچھا ہے…الھمّ زد فزد آمین

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.