Tindd Shareef

ہمارے ہاں آج کل شریفوں کا راج ہے، کسی دور میں شرافت کو جانچ پرکھ کر کسی شے، علاقے یا جاندار کو شریف کہا جاتا تھا مثلا یہ کہ جس جگہ چند نیک لوگ یا اللہ والے بستے ہوں، اس بستی کیساتھ شریف کا لاحقہ لگا دیا جاتا لیکن خاکی و دیگر رنگ و روپ کے شرفاء کے آپس میں ٹکراؤ اور شکریے شکریے کے شور اور ہاہاکار سے کافی پہلے ہی شریف کی اصطلاح محض شریفوں کیلئے نہیں رہی۔ اسکا معنیٰ و مفہوم وسیع ہو چکا ہے۔ اتہاس گواہ ہے کہ اپنے اپنے شریفوں کے شکریے پر تو کاپی رائٹس کے دعوے کئے گئے لیکن شریف کی اصطلاح پر آج تک کسی نے کاپی رائٹ کا دعویٰ نہیں کیا۔ اسی وجہ سے یہ اصطلاح مخصوص نہیں رہی اور جہاں جی چاہے استعمال کی جا سکتی ہے اور کی جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے تو حد ادب پار کر کے محاورہ اختراع کیا کہ شریف تو خر (محاورے والا معروف نام کافی غیر پارلیمانی ہے) بھی ہوتا ہے۔ غالب گمان ہے کہ فخر سے شریف کی اصطلاح کو اس حد تک بگاڑنے والے وہی ہوں گے جو خر کے گوشت کو مرغوب سمجھ کر نوش کرتے ہوں گے۔ تمہید میں شریف کی مکمل وضاحت عنوان میں ٹنڈ کیساتھ شریف لگانے کے مسئلہ کے ضمن میں کی گئی تاکہ سند رہے اور تمام اعتراضات رفع ہو جائیں۔ اتنی وضاحت کے بعد بھی کسی کا اعتراض باقی رہے تو وہ خواجہ آصف صاحب کو یاد کرے اور ہمیں ”ٹنڈ شریف“ استعمال کرنے سے روک کر دکھائے۔ اگر آپ بھی ایک عدد ٹنڈ کے حامل ہیں، تو ذرا اسے تھام کر رکھیے، اب ہم شریف سے آگے ٹنڈ کیطرف بڑھتے ہیں۔

ویسے تو ہمارے ہاں چغلی و نیم چغلی میٹنگز میں سارا سال ایسی سائنسی بحثیں اور تجربات جاری رہتے ہیں جو دنیا کے کسی سائنسی جرنل میں شائع نہیں ہوتے یا کسی تحقیق سے ثابت نہیں ہوتے بلکہ نسل در نسل محفوظ کر کے منتقل کیے جاتے ہیں۔ کوئی بیمار ہو جائے تو اسکے سرہانے بالکل مفت نادر مشورے یا بیماری کی نوعیت، علامات و وجوہات پر پیچدہ بحثیں وغیرہ اور ٹوٹکوں کی صورت میں تجربات، یہ سب تقریبا روز مرہ کی معاشرتی زندگی کا حصہ ہیں۔

گرمیاں پڑتے ہی یہ سائنسی بحث زوروں پر ہوتی ہے کہ سر منڈوانا گرمیوں میں مفید ہوتا ہے یا سردیوں میں اور یہ کھوپڑی کیلئے مضر کس موسم میں ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ سر منڈوانے کے مخالفین کا دعویٰ ہوتا ہے کہ بال گرمیوں میں سر کو لو سے اور سردیوں میں ٹھنڈی ہوا سے محفوظ رکھتے ہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ گرمیوں میں اس سے سر کو ہوا لگتی ہے اور فرحت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک اور رائے میں گرمیوں میں مضر جبکہ سردیوں میں مفید ہے۔ نازک مزاج اور سر منڈوانے سے متعلق معاشرتی رویوں اور القابات سے خائف لوگ البتہ کسی بھی موسم میں اس کا لطف اٹھانے سے کوسوں دور رہتے ہیں۔

سر منڈوانے سے متعلق کٹر خیالات رکھنے والے والدین البتہ اس بحث میں پڑتے ہی نہیں ہیں۔ گرمیوں کی چھٹیاں ہوتے ہی بچوں پر سر کو بالوں سے صاف کروانے کے لئے دباؤ پڑنا شروع ہو جاتا ہے اور دباؤ شدید ہونے پر بچوں کو نائی کے پاس سر کتروانے کیلئے جانا ہی پڑتا ہے۔ بعض والدین تو مشین منگوا کر گھر میں ہی آلو کیطرح کترتے ہوئے رسم کا بندوبست کر لیتے ہیں۔ صبح جو بچہ صحیح سلامت دکان سے لیز لینے آیا ہوتا ہے، وہ شام کو گھر سے جوس لینے اس حالت میں آتا ہے کہ اس کے بال گدھے کے سر سے سینگوں کیطرح غائب ہوتے ہیں۔

اس سلسے میں صنفی تضاد البتہ بہت گہرا پایا جاتا ہے۔ ٹنڈ کروانے کیلئے دباؤ اور جبر کا نشانہ لڑکوں کو ہی بننا پڑتا ہے۔ بعض خاندانوں میں اس تضاد کو مٹانے کیلئے چھوٹی بچیوں کے سر بھی کتر دیے جاتے ہیں جسکی وجہ سے فرق کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے اور اگر لباس کا بھی فرق نہ رہے تو ناممکن ہو جاتی ہے۔ واللہ اس معاملے میرے کسی بھی صنفی برابری جیسے ارادے نہیں اور نہ ہی فیمنسٹوں کے غضب کا نشانہ بننا چاہتا ہوں یا میننسٹوں کے حوصلے بڑھانا چاہتا ہوں کہ وہ بیچ اس مسئلہ کے صنفی برابری کیلئے کوئی تحریک پیدا کریں۔ بعض باشعور خواتین کو البتہ اس صنفی امتیاز اور محرومی کا رونا روتے دیکھا گیا جو سمجھتی ہیں کہ ٹنڈ ایک ایسی مفید نعمت ہے کہ انہیں بھی بال دوبارہ جلدی اگ آنے کیساتھ یہ سہولت حاصل ہونی چاہیے۔ بعض لوگ کسی موسم کو دیکھے بغیر سدا بہار بالوں کا بوجھ سر سے اتار پھینکنے کو فوقیت دیتے ہیں۔ ان میں بالوں کے سٹائل سے اکتائے ہوئے ڈھلتی عمر کے افراد یا بڑے بزرک ہوتے ہیں یا پھر وہ جو ہمیشہ ہی سر پر بالوں سے خائف رہتے ہیں۔ شیمپو کا خرچ بچانے والے یا پھر جوؤں کی بستیوں کی بستیاں اجاڑنے اور اکھاڑ پھینکنے کے خواہش مند بھی بے دردی سے بالوں کو کھیت کرنے میں اطمینان محسوس کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کو ٹنڈ کا ایسا نشہ ہوتا ہے کہ ہر دو تین مہینے بعد سر کتروائے بغیر انہیں زندگی سے بیزاریت محسوس ہونے لگتی ہے۔ جو لوگ بال سنوارنے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں، انکی ترجیح بھی ٹنڈ ہی ہوتی ہے۔

ٹنڈ کروانے سے نائی کی فیس، معاوضہ یا ہدیہ بھی ہفتوں کیلئے بچ جاتا ہے۔ اس سے جو سر پر پلاٹ خالی ہوتا ہے، اسکے بیشمار فوائد گنوائے جاتے ہیں جنہیں محض ٹنڈ کروانے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چمکتی ٹنڈ روشنی کو منعکس کرنے یا کسی دوسرے زاویے پر منعطف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر زیادہ شفاف ہو تو شیشہ نہ ہونے کی صورت میں اسے دوسرے لوگ بال سنوارنے کیلئے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ سائنسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو شفاف ٹنڈ پر ابن الہیثم اور دیگر سائنسدانوں کے روشنی کے انعکاس و انعطاف کے وہ تمام قوانین لاگو ہوتے ہیں جو مشنور (prism) یا شفاف اجسام کیلئے پیش کئے گئے تھے۔ اسکے علاوہ جہاں بالوں یا زلفوں کا ایک حسن ہوتا ہے، وہیں ٹنڈ بھی اپنا الگ حسن رکھتی ہے۔

کشور سلطانہ صاحبہ نے تحقیق کے بعد ٹنڈ پر چند فوائد لکھے۔ انکے مطابق دھوپ میں اگر ٹنڈ گرم ہو جائے تو اس پر روٹیاں بھی پک سکتی ہیں اور ہوا زیادہ تیز چلے تو بالوں کا سٹائل خراب بالکل نہیں ہو سکتا۔ بلیک بورڈ نہ ہونے کی صورت میں بچوں کو حساب کے سوال ٹنڈ پر ہی کرائے جا سکتے ہیں۔ فیس واش پورے سر پر استعمال ہو سکتا ہے۔ بقول کشور صاحبہ کے ٹنڈ کو لشکا کر اس سے دھوپ میں آگ بھی جلائی جا سکتی ہے اور اگر ٹنڈیں زیادہ ہوں تو چھوٹے چھوٹے جگنوؤں کے چمکنے کا منظر پیش کریں گی۔ اسکے علاوہ آرٹسٹ لوگ ٹنڈ پر ہی رنگ لگا کر رنگ مکس کر سکتے ہیں کہ یہ تھالی کا کام بھی دے سکتی ہے۔ ٹنڈ پر مزید علمی و فکری تحقیق سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کیلئے ٹویٹر پر #ٹنڈکےفوائد سرچ کریں۔

متاثرینِ ٹنڈ کیلئے جو اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، وہ ٹکلا، روڈا، روڈی (مؤنث)، ٹکلا، گنجا وغیرہ ہیں اور ٹنڈ کو روڈ، گراؤنڈ، گنج، رن وے، تربوز وغیرہ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک ٹنڈ کا لفظ سب سے منفرد ہے بلکہ جو بھی اصطلاح استعمال کی جائے، ذہن میں ٹنڈ کا لفظ ہی ابھرتا ہے۔ گنجے کا لفظ البتہ ان کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے جنکے کسی بیماری یا کمزوری کے باعث بال جھڑ جاتے ہیں، لیکن ٹنڈ کرانے والا ہنسی خوشی اور برضا و رغبت یا اگر آزاد مرضی کا مالک یا حق نہ رکھتا ہو تو کسی کے دباؤ میں بالوں کی قربانی دیتا ہے۔

اردو اور پنجابی میں ٹنڈ پر محاورے میں پائی جاتے ہیں مثلا ٹنڈ پر اولے پڑنے کے خطرے سے متعلق مشہور محاورہ ہے کہ سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔ اسکے علاوہ ٹنڈ کا مزا بیان کرتے ہوئے کہا جاتا ہے ”جو مزہ ٹنڈ وچ اے، نہ شہر وچ اے نہ پنڈ وچ اے“۔ ایک اور محاورہ جو بچے لہک لہک کر گاتے بھی ہیں ”روڈی ٹنڈ قصائیاں دی، ساری مستی نائیاں دی“۔ اس محاورے کو معنیٰ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خاصا نسل پرستانہ ہے لیکن یہ اپنے اصل معنیٰ میں استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ جس نے ٹنڈ کرائی ہو، اسکے لئے بطور مزاح گایا یا بولا جاتا ہے کیونکہ نائی کی شرکت کے بغیر ٹنڈ کے ”جرم“ کا ارتکاب ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔ ایک قدیم رواج مجرموں کے سر مونڈ دینے کا بھی تھا، اسلئے کسی کی بے عزتی ہو جانے پر بھی یہ بولا جاتا ہے ”فلاں کی ٹنڈ ہو گئی“۔

کائنات میں بیشمار لطافتیں ہیں لیکن کسی ٹکلے کے سر پر ہاتھ پھیرنے کے لطف کا شاید ہی کوئی نعم البدل ہو۔ کچھ لوگ ٹنڈ کروانے کے بعد اسے اپنی غیرت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور کوئی ہاتھ بھی لگا دے تو انکے غیرت کے جذبات مجروح ہو جاتے ہیں اور وہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ اس معاملے میں جو ٹچی نہیں ہوتے، وہ جہاں اس لطف کی سہولت دوسروں کو دیتے ہیں، وہیں پر خود بھی اپنی تازہ ٹنڈ کا ”سواد“ حاصل کرتے ہیں۔ ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے کی کچھ حدود اور آداب البتہ ضرور ہوتے ہیں مثلا ہاتھ پھیرتے پھیرتے کھینچ کر چپیڑ مارنا تو کسی بھی مہذب انسان کے نزدیک بدتمیزی کے زمرے میں ہی آئے گا۔

زندگی میں ٹنڈ کروانے کی ایک بار ضرور کوشش کیجیے اور اگر نہیں کروا سکتے تو کسی ٹکلے کے سر پر ایک دو بار ہاتھ پھیرنے سے محروم نہ رہیے۔ مختصر سی زندگی میں ٹنڈ کروائے یا کسی کی ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے سے لطف اندوز ہوئے بغیر اس دنیا سے گزر جانے والوں کو اس نعمت سے لطف اندوز ہونے کیلئے زندگی دوبارہ نہیں ملتی اور نہ آج تک کسی کو ملی ہے۔ کسی کی مرضی کے بغیر ٹنڈ پر ہاتھ پھیرنے سے پرہیز، حدود اور ادب آداب کا خیال البتہ ضرور رکھیے ورنہ معاملہ غیرت کے نام پر قتل تک بھی پہنچ سکتا ہے۔

4 thoughts on “Tindd Shareef

  • June 8, 2016 at 6:46 pm
    Permalink

    بقول ایک دوست کے گنجے کو گنجا کہنا دنیا کی چند بڑی راحتوں میں سے ہے اور غالباً اسی وجہ سے ہمارے نو انصافی بزرگ گنجے دوست بھی میاں نواز شریف کو ان سے زیادہ بالوں کا حامل ہوتے ہوئے بھی گنجا کہہ کر لذت کشید کرتے ہیں بہر حال ٹنڈ کے بہت سے راز آپ پر ٹنڈ کروائے کے بعد
    منکشف ہوتے ہیں
    عمدہ تحریر ہے اور ماضی کے مزاحیہ ادب کا انداز لیے ہوئے
    لکھتے رہیں

    Reply
  • June 9, 2016 at 9:16 am
    Permalink

    گنجے ہی جانیں گنجے پن کی راحت و ذحمت

    Reply
  • June 10, 2016 at 12:28 am
    Permalink

    طاہر بھائی۔۔۔ جانے کیوں مجھے آپ میں ایک جاندار، متنوع اور گہری بصیرت رکھنے والا مزاح نگار نظر آتا ہے، اور اس رائے کو قطعا میری نظر کی کمزوری سے متعلق نہ کیا جائے :p 🙂

    Reply
  • June 10, 2016 at 8:15 am
    Permalink

    آپکے اندر ایک بہت بڑا مزاح نگار چھپا بیٹھا ہے, کمال لکھتے ہیں. بہت خوب, مزید لکھئے جناب

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.