Kia sub Dehshat Gard Muslim Hotay Hain?

دہشت گردی کی اصطلاح 2001 کے بعد نئے پیرائے میں متعارف کروائی گئی گوگل اور مختلف سرچ انجنز میں اس کی مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں مگر اک خاکہ جو ازہان میں دہشتگرد کا تخلیق کیا گیا ہے وہ شلوار قمیض پہنے سر پہ ٹوپی رکھے، چہرے پر دھاڑی سجائے شخص کا ہے جو امام کے علاوہ کسی بھی وقت کہیں بھی “اللہ اکبر” کہہ سکتا ہے اس کے بعد کا منظر بس سرخ ہوتا ہے جس میں انسانی عضا بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ دہشتگرد کا تعین اس کی چال ڈھال، حلیہ سے ہو گا یا ان محرکات سے جو دہشت پھیلانے کا باعث بنتے ہیں اگر محرکات کا جائزہ لیا جائے تو داڑھی والا شخص اللہ اکبر کی صدا کے بعد کا نعرہ لگانے والا ہی دہشتگرد نہیں ہوتا کوئی بھی شخص جو بےجا مداخلت کر کے آپ کے گھر پر قبضہ کر بیٹھےاور آپ کو آزادی اظہار کا مظاہرہ کرنے سے روکے وہ دہشتگرد ہے وہ بشارالاسد بھی ہو سکتا ہے، اسرائیل بھی اور بھارت بھی عراق میں القاعدہ اور غائبانہ ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں مہم جوئی کرتا امریکہ بھی ہو سکتا ہے
اور اگر دہشتگردی کا تعین صرف حلیے اور مذہب کی بنیاد پر ہونا ہے تو ہم پھر بحث و مباحثے کا انعقاد کریں گے جس کا عنوان ہوگا
Every Muslim is not a terrorist
But Every terrorist is Muslim
جب کوئی یہودی یا عیسائی کوئی انسانیت سے گرا ہوا کام کرے تو اس کی شخصی سطح پر مذمت کی جاتی ہے پر جب کوئی شخص جس کا نام مسلمانوں والا ہو کچھ غلط کرے اسے اسلام سے نتھی کر دیا جاتا ہے پھر کسی پوپ کی طرح امام کعبہ بھی یہ بیان نہیں دیتے کہ یہ کاروائی کرنے والا مسلمان نہیں بس اک کمزور سا معذرتی بیان جاری کیا جاتا ہے کہ جی اس انتہا پسندی پر ہم شرمندہ ہیں اور مذمت کرتے ہیں یہ بتانا بھول جاتے ہیں کہ حلیہ، چال ڈھال اور نام منافقین کے بھی مسلمانوں والے ہوتے تھے پر مسلمان وہ ہوتا تھا اور ہوتا ہے جو محمد عربی صلیٰ علیہ والہٰ وسلم کے لائے ہر لفظ ہر عمل پر ایمان لائے
اب ہمارے نظریات کے محافظ لوگوں کو یعنی بااختیار طبقے کو سامنے آکر واضح پیغام دینا ہو گا کہ جو شخص رحمت اللعالمین صلیٰ علیہ والہٖ وسلم کے لائے اسلام پر ایمان نہیں لاتا چاہے وہ آسمان کی بلندیوں کو چھو آئے وہ مسلمان نہیں ہوتا کجا کہ دہشتگردی پر شرمندہ ہوتے پھریں کہ یہ مسلمانوں کا فعل ہے
ورنہ اہل دانش یہ بحث کرتے رہیں گے کہ
every terrorist is Muslim

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *