Khush Qismat Larki

وہ ایک چھوٹی سی بھولی بھالی لڑکی تھی۔ حالات کے بے رحم تھپیڑے اور معاشرے کی سنگدل روش نے اسے اس چھوٹی عمر میں ہی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا تھا۔ خدا ، جس نے سب انسانوں کو برابر پیدا کیا ہے،نے ہر دوسرے بچے کی طرح اس کے دل میں بھی زندگی سے لطف اندوز ہونے کی امنگ اور کھیل کود کا رجحان ودیعت کر رکھا تھا۔ اس کا جسم ضرور غلام تھا، لیکن اس کی روح تو ابھی تک آزاد تھی۔ جب وہ دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر کھیل کود میں مصروف ہوتی تو اپنے معصوم جہان کی اکیلی رانی ہوتی۔ تب کچھ لمحات ہی کو سہی، وہ ہر احساس غلامی و تکلیف سے بالا ہو جاتی۔ پھر اچانک کوئی آواز اسے زندگی کی تلخ حقیقتوں کی طرف واپس کھینچ لاتی۔ اس کی معصوم سوچ ابھی اس بلندی تک نہ پہنچی تھی جہاں وہ انسانی برابری، غلامی و آزادی کے پیچیدہ سوالات میں الجھ جاتی۔
اس کے مالک بہت سے دوسرے مالکان کے برعکس بہت مہربان واقع ہوئے تھے۔ لیکن پھر بھی ڈانٹ ڈپٹ اور کبھی کبھی مار تک بھی نوبت جا پہنچتی تھی ۔ اس کے مالک کچھ عرصہ قبل ایک نئے دین کو اپنا چکے تھے۔لڑکی ابھی دین اور عقائد کو سمجھنے سے قاصر تھی لیکن اسے یہ ضرور معلوم ہو گیا تھا کہ اس کے مالکان اور دوسرے لوگوں کے طرز عمل میں ایک بین فرق پیدا ہو چکا تھا۔ وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ اس دین کا بانی کون ؐﷺ ہے اور اس کی بنیادی تعلیم کیا ہے۔
آج کے بہت ہی مبارک دن سورج اسی طرح مشرق سے طلوع ہوا تھا جیسا کہ ہر روز ہوتا تھا۔ اہل یثرب ، جسے اب مدینہ النبی ؐ کہا جاتا تھا ، اسی طرح اپنے کاموں میں مصروف تھے جیسا کہ ہر روز ہوتے تھے۔ لڑکی بھی صبح سویرے سے اپنے مفوضہ کاموں میں مصروف تھی۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ آج اس کے ساتھ کیا عظیم الشان واقعہ پیش آنے والا ہے۔ایک ایسا واقعہ جو اس کی زندگی تو بدلنے والا تھا ہی لیکن آپ ﷺ کی حسین زندگی کے ایک پہلو کی ادنی جھلک دنیا کو دکھا کر ہمیشہ ہمیش کے لئے تاریخ میں محفوظ ہونے والا تھا۔خدا نے، جس کا علم کامل اور جس کی نگاہ بے خطا اور دل کی پاتال تک ہے، اس کی کسی ادا کو قبول کرتےہوئے محمد ﷺ کے نور کی ایک کرن کے ظہور کے لئے اس معصوم لڑکی کو ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ لڑکی کتنی خوش نصیب تھی۔
لیکن خدا کی بنائی اس رنگا رنگا دنیا میں ایک یہ بھی تو ریت ہے کہ ہر آسانی سے پہلے کچھ مشکل بھی ہو ۔ ہر برکت سے پہلے کچھ ابتلاء بھی تو رکھا ہے۔ شائد اس لئے کہ تکلیف اور مشکل ہی کے وہ مبارک اوقات ہوتے ہیں جن میں انسان گھبرا کر اور تکلیف و بے بسی کے احساس سے معمور ہو کر شکستہ دل کے ساتھ حقیقی عجز و انکسار کو اختیار کرتا ہے ۔ تب وہ رحیم و کریم خدا جو انکساری کو پسند فرماتا ہے اس کے لئے خوشی و سعادت کے نئے سامان پیدا کر دیتا ہے۔ تب اسے اس تنگی کے بعد فراخی اور تکلیف کے بعد خوشی دکھا کر شکر گزاری کا ایک نیا موقع فراہم کیا جاتا ہے تا وہ اور بھی ترقی کرے۔ لڑکی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہونا مقدر تھا۔
دن چڑھے اس کی مالکن نے اسے اپنے پاس بلایا اور چار درہم دیتے ہوئے حکم دیا کہ بازار سے ضرورت کی کچھ اشیاء خرید لائے۔ لڑکی پیسے لئے گھر سے خراماں خراماں نکلی ۔ اس کا رخ بازار کی طرف جبکہ خیال راستہ میں کھیلتے بچوں اور اپنے مختلف کاموں میں مشغول لوگوں کی طرف تھا۔ کبھی وہ ٹُک بھر کو رک کر کھیلتی اور کبھی مالکن کا حکم یاد کر کے بازار کی جانب رواں دواں ہو جاتی۔ آخر خدا خدا کر کے وہ بازار پہنچی اور مالکن کے حکم کے مطابق مصروف بازار میں ضروری اشیاء خریدنے لگی۔ دکاندار کو دینے کے لئے جب اس نے پیسے نکالنے چاہے تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ خدایا مالکن کے دئیے درہم کہاں گئے ؟
وہ کبھی اپنے ہاتھوں کو دیکھتی تو کبھی لباس کے دامن کو پھر زمین پر اپنے راستہ کو۔ مالکن نے پیسے تو ہاتھ میں دئے تھے۔ اور ہاتھ خالی تھے|”۔ کبھی کبھی وہ دامن میں بھی پیسے باندھ لیا کرتی تھی لیکن آج دامن میں بھی پیسے نہ تھے۔اب کیا ہو گا؟ پہلے تو اس نے زمین پر پیسے تلاش کئے لیکن مصروف بازار میں گرے پیسے کہاںسے ملتے ؟ خدا جانے کہاں گرے اور کہاں کھو گئے؟ اچانک اسے احساس ہوا کہ پیسوں کے بغیر تو سودا ہرگز نہ ملے گا۔ اور سودے کے بغیر جب وہ گھر جائے گی تو مالکن سودے کا پوچھے گی، پھر وہ کیا جواب دے گی؟ مالکن پیسے گم کرنے پر ناراض ہو کر ڈانٹ ڈپٹ کے علاوہ پٹائی بھی کرے گی۔
معلوم ہوتا ہے کہ اس معصوم سی بچی کا اس شہر میں کوئی بھی نہ تھا۔ ورنہ ضرور وہ اس کی جانب رجوع کا سوچتی۔ اگر اس کی ماں، باپ یا کوئی رشتہ دار وہاں ہوتا تو ان سے مدد کی درخواست کرتی۔ لیکن اس نے ایسا کچھ بھی تو نہ کیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے معصوم سے ذہن میں یہ خیال ہی نہ آیا ہو۔ آخر مالکن کے ڈر اور پیسے گم ہونے کے افسوس اور اپنی بے بسی کے خیال سے اس کی پیاری پیاری آنکھوں میں موتی ایسے آنسو بھر آئے۔ تب وہ ایک طرف کھڑی ہو کر زار قطار رونے لگی۔
اُدھر تو یہ واقع رونما ہوا اور ادھر ایک اور ہی دنیا میں ایک جوہر آبدار کی ضو فشانی کا ایک نیا اور حسین منظر منصہ شہود پر ابھرنے لگا۔ ایک غلام نے اپنے آقا ﷺ کے حضور دس درھم کا نذرانہ پیش کیا۔ دس درھم بظاہر ایک معمولی رقم تھی لیکن خدا جانے دینے والے نے کس پیار اور کس انکسار کے ساتھ کس شکر گزاری اور وفاء کی کن اداوں کے ساتھ یہ رقم پیش خدمت کی کہ خدا نے اسے ایسے قبول فرمایا کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اس کا ذکر امر ہو گیا۔ آپ ﷺ نے بازار کا قصد فرمایا تاکہ وہاں سے اپنے لئے ایک قمیص خرید فرمائیں۔ بازار پہنچ کر چار درھم میں ایک قمیص خرید فرما کر چلے تو ایک انصاری بلا تکلف درخواست گزار ہوئے: اے اللہ کے رسول ؐ مجھے قمیص پہنائیں خدا آپ کو جنت میں قمیص پہنائے۔ معلوم ہوتا ہے اس انصاری کے پاس پہننے کو قمیص نہ تھی وگرنہ سر بازار ایسا نہ کہتا۔ آپ ﷺ کی جود و سخا کے متعلق اس کے اندازے ، جو کہ روز مرہ کے مشاہدے پر مبنی تھے، کے عین مطابق آپ ﷺ نے فورا قمیص اسے عنایت فرما دی۔ پھر دوبارہ دکاندار سے چار درھم کی ایک قمیص خرید فرمائی۔ اب آپ ﷺ کے پاس دو درھم باقی تھے۔ دکان سے تشریف لے چلے تو رستہ میں اس معصوم روتی لڑکی پر توجہ فرمائی۔
کیوں؟ ا ور لوگ بھی تو تھے جو اسی بازار سے گزرتے تھے۔ ان کی نظر تو اس پر نہ پڑی۔ شائد اس لئے کہ آپ ﷺ خدا تعالیٰ کی رضا کی راہوں کو تلاش کرنے والے اور ایک مادر مہربان کی طرح اس کی مخلوق کی تکالیف کو خود ڈھونڈ ڈھونڈ کر دور کرنے والے تھے۔ تب اس رئوف و رحیم نے کمال شفقت سے روتی لڑکی سے پوچھا کہ تم کیوں روتی ہو؟ لڑکی نے سادگی سے جواب دیا اے اللہ کے رسول ؐ گھر والوں نے مجھے دو درھم دئے تھے، کچھ اشیاء خریدنے کو، وہ گم ہو گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے اسے کوئی نصیحت دھیان دینے اور احتیاط کرنے کی نہ فرمائی اور اپنے آخری دو درھم فورا بچی کو دے دئے تاکہ وہ مطلوبہ چیزیں خرید کر گھر کو جائے۔ شائد اس لئے کہ بچی تو پہلے ہی اپنی غلطی کا احساس کر کےشرمندہ و خوف ذدہ تھی۔ اس وقت اس غلام کو ہمدردی کی ضرورت تھی نہ نصیحت کی۔ انسانی فطرت کا یہ راز شناس ان امور سے خوب واقف تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ تشریف لے چلے۔
لیکن۔ ۔۔لیکن کچھ تو اس دل میں ایسا تھا جو اسے سب سے ممتاز کرتا تھا۔ خدانے اسے یوں ہی تو رحمت للعالمین کا خطاب نہیں عطا فرمایا تھا۔ کوئی وجہ تو تھی جو اسے مکارم اخلاق پر فائز بتایا گیا تھا۔ وہ نیکی کو خوبصورت و حسین بنا کر اپنے آسمانی آقا کے حضور پیش کرنے کا عادی تھا۔ احسان کر کے توجہ پھیر لینا اس نے سیکھا ہی نہ تھا۔ احسان پر احسان کا ایک لا متناہی سلسلہ تھا جو ہر دم اس چشمہ فیوض سے جاری تھا۔ پلٹے بھی تو نگاہ بچی پر ہی رہی۔ تھوڑا چل کر رکے اور پھر گویا ہوئے کہ دو درھم تو دے دیئے ہیں اب کیوں رو رہی ہو؟ بچی نے جو اپنی پاک و معصوم فطرت کی بنا پر فورا ہی پہچان گئی تھی کہ یہ ذات ماں سے ذیادہ پیار کرنے والی ہے ،بے دھڑک عرض کرنے لگی کہ اتنی دیر ہو گئی ہے گھر جائوں گی تو مار پڑے گی۔ فرمایا اچھا چلو تمہارے گھر چلتے ہیں۔ ایسا اس لئے نہ تھا کہ آپ ﷺ کے پاس بہت وقت تھا۔ خدا خود یہ گواہی دیتا ہے کہ ’دن کو تجھے بہت کام سے ہوتے ہیں‘ ۔ پس آپ ﷺ کا بچی کے ساتھ جانا اپنی اہم مصروفیات میں سے وقت کی قربانی دینے سے ہی ممکن ہوا۔
لڑکی کے گھر پہنچ کر حسب معمول سلام فرمایا۔ گھر والوں نے اپنے آقا ؐ کی آواز پہچان لی اور نہایت ہلکی آواز میں جواب دیا ۔ اتنی ہلکی کہ آپ تک آواز پہنچ نہ پائے۔ آپ ﷺ نے بار دیگر سلام کہا۔ گھر والوں نے پھر وہی رویہ اختیار کیا۔ آپ ﷺ نے تیسری بار سلام کیا ۔ اب کے گھر والوں کو معلوم تھا کہ آپﷺ واپس تشریف لے جائیں گے باآواز بلند انہوں نے سلام کا جواب عرض کیا۔ معلوم تو آپ ﷺ کو خوب تھا کہ وہ گھر پر ہی ہیں کیونکہ بچی نے ابھی تو بتایا تھا لیکن پھر بھی دریافت فرمایا ، شائد ہمیں سمجھانے کے لئے، کہ پہلا سلام تم نے نہ سنا تھا ؟ عرض کیا کہ سنا تو بہت تھا لیکن ہم نے چاہا کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے بار بار ہم پر سلامتی کی دعا پڑھی جاوے۔ پھر عرض کیا کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کیسے تشریف لائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ لڑکی اس بات سے ڈرتی ہے کہ تم اسے مارو گے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس خوشی میں کہ آپ ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے ہیں اسے خدا کی خاطر آزاد کرتے ہیں۔ تب ان کو برکت بخشنے کے بعد آپ ﷺ کی توجہ اس طرف پھری جہاں ہمیشہ لوٹ لوٹ جاتی تھی۔ فرمایا اللہ نے دس درھم میں کتنی برکت رکھی کہ اس سے اپنے نبی ؐ کو قمیص پہنائی اور انصار میں سے ایک شخص کو اور ایک گردن کو غلامی سے آزادی بخشی۔ خدا ہی کی تعریف ہے جس نے اپنی قدرت سے ہمیں یہ رزق دیا۔الھم صلی علیٰ محمد و علیٰ آل محمد و بارک وسلم۔
اس واقعہ سے بہت سے سبق ملتے ہیں۔ اپنے گرد و پیش پر نظر رکھ کر تکلیف میں مبتلا لوگوں کی مدد کرنا۔ مدد کے بعد بھی ان کے حالات پر نظر رکھنا اور حسب ضرورت مزید مدد دینا۔ اپنے مال اور وقت کو بنی نوع کے لئے خرچ کرنا۔ امداد کرتے وقت مصیبت میں مبتلا شخص کو نصائح کرنے سے احتراز کرنا۔ یہ بات حالات کی مناسبت سے دوسرے وقت پر اٹھا رکھی جا سکتی ہے۔ جو چیز مانگی گئی ہے وہی چیز دینا۔ آپ ؐ نے انصاری کو قمیض ہی عنایت فرمائی خود خریدنے کو درھم نہیں دئے اور خود تکلیف فرما کر دوبارہ قمیض خرید فرمائی۔ کسی خدمت کی توفیق ملنے پر خدا کا شکر ادا کرنا۔ کسی کے گھر جانے پر سلام کرنا۔ سلام بہت بڑی دعا ہے۔ اس دعا کے حصول کی کوشش کرنا۔ بچوں اور ملازموں کے ساتھ نرمی اور پیار کا سلوک کرنا۔ اگر بچے یا ملازم سے غلطی ہو جائے تو حتیٰ المقدور معاف کرنا۔ مار پیٹ سے احتراز کرنا۔
بعض روایات میں دس کی جگہ بارہ درھم کا ذکر ہے نیز یہ کہ حضرت علی ؓ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ایک مفید اضافی بات ان روایات میں یہ بیان کی گئی ہے کہ پہلے حضرت علیؓ سب پیسوں سے ایک قیمتی قمیض لائے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بہت قیمتی ہے۔ تب آپ ﷺ نے خود بازار کا قصد فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ماحول کی ضروریات کے پیش نظر اپنے رھن سہن میں سادگی اختیار کرنا ، سنت نبوی ؐ ہے ۔
مآخذ:
طبرانی ، معجم الکبیر، جلد ۱۲۔صفحہ ۴۴۱ روایت نمبر ۱۳۶۰۷۔ شائع کردہ مکتبہ ابن تیمیہ۔ قاہرہ۔
الھیثمی، مجمع الزوائد، جلد ۸ صفحہ ۴۱۰ روایت نمبر ۱۴۱۸۴۔ شائع کردہ دار الکتب العلمیہ، بیروت۔ ۲۰۰۱۔
شیخ الصدوق، الامالی، صفحہ ۳۰۹۔ روایت نمبر ۳۵۷۔ ۱۴۱۷ ہجری۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *