Hadayat Nama e Twitteriah

ا) فصلِ جعلی

*پہلا ہی ٹوئیٹ اردو رسم الخط میں کرنے والا کوئی نو آموز نہیں ہو سکتا۔
*رننگِ انجنِ موٹر کی مانند ایک سو ٹوئیٹس پورے ہونے سے قبل ہی، دانشورانِ ٹوئیٹر سے جا بِھڑنے والا شہباز نہیں ہوتا بلکہ ان کا کوئی دیرینہ، بلاک شُدہ کرم فرما ہی ہوا کرتا ہے۔
*انٹرنیٹی تصاویر، ٹوئیٹس کی کُل تعداد میں ری ٹوئیٹس کی پچانوے فیصد سے زائد شرح، پیروکاروں اور پیروی کئے جانیوالوں کی قریباً برابر تعداد، بائیو میں ایمان و حب الوطنی کے اسباق، غیر مبہم حروفِ تہجی اور طویل اعداد پہ مبنی ہینڈل جیسے اوامر میں نشانیاں ہیں غور کرنے والوں کے لئے۔

ب) فصلِ پیروی

*سینکڑوں/ہزاروں لوگوں کی پیروی کرنا فقط معاشرے کی نبّاضی کے دعویداروں ہی کوجچتاہے۔
*قبل از پیروی جاسوسی، چھان بِین اور تانک جھانک بعد از پیروی پچھتاوے سے کہیں افضل اور باثمر عمل ہے۔ جمہور علماء نے اس عمل کو مستقبل کے جھگڑوں سے بچاؤ میں اکسیر قرار دیا ہے۔
*مرد کھاتے کا ایک پیروکار، خاتون کھاتے کے دس پیروکاروں کے برابر ہے، بعض اکابر علماء نے اس تعداد کو مربع تک بھی محمول کیا ہے۔

بابِ سہولت

ا) فصلِ ڈی ایم

*پرہیز علاج سے بہتر ہے وگرنہ شوق لاعلاج ہے۔
*ہر وہ ٹوئیپ جسے ڈی ایم میں آنا ہے، اُسے واٹس ایپ پہ جانا ہے۔
*ڈی ایم میں آنے والا ٹوئیٹ لنک کبھی آرٹی چاہتا ہے تو کبھی نظرِ غائر، کبھی دو چار الفاظِ شیریں اور کبھی نظرِ التفاتِ ٹوئیپ۔ علماء نے اس فرق کےسمجھنے کو کامیابی کی کنجی بتلایا ہے۔

ب) فصلِ ریٹوئیٹ

*مردانہ کھاتے کو ملا ایک ریٹوئیٹ، زنانہ کھاتے کے ایک سو ریٹوئیٹس سے بہتر ہے۔
*بعض علماء نے ایک آرٹی فی مہینہ سے زیادہ ریٹوئیٹ کرنے کو باعثِ قبضِ مہلک بتلایا ہے، اکثر متقی ٹوئیپس اس نُکتے کا خیال جان سے بڑھ کر رکھتے ہیں۔

ج) فصلِ پسندیدگی

*انسان کا مزاج اور میلانِ طبع اس کے پسند کردہ ٹوئیٹس سے عیاں ہوتا ہے۔
*جو بلا ضرورت لائک سے نہیں بچتا وہ بالآخر بلا ضرورت آر ٹی کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔
*سخن شناس کا لائک، سخن ناشناس کے آرٹی سے بہتر ہے۔

بابِ گفتگو

ا) فصلِ آغاز

* جو آغاز شاعری پہ تبصرے سے کرتے ہیں وہ انجام محبت کے عواقب پہ کرتے ہیں۔
*دو ٹوئیپس کےمابین جاری گفتگو کاسیاق و سباق سمجھے بِنا بیچ میں کودنا مکروہ عمل ہے۔

ب) فصلِ انجام

*سرِ ٹی ایل ہونے والی گفتگو جب پسِ ڈی ایم چلی جائے تو یہ گفتگو کا انجام نہیں، آغاز ہے اک نئے دَور کا۔
*:)، :ڈ، ہمم و دیگر مستعمل تاثرات، ارادۂ اختتامِ گفتگو کے واضح اشارہ جات کے طور پر استعمال کرنے سے تعلقات میں دراڑ آنے کا اندیشہ کم ہو جاتا ہے۔

بابِ مواد

ا) فصلِ سرقہ

*ٹوئیٹ کر دینے کے بعد یہ امید رکھنا کہ یہ سرقہ نہ ہو گا، عدمِ بلوغت کی نشانی ہے۔ ایسی حالت میں علماء نے مریض کو عرصۂ تنبیہ کے بعد بھی باز نہ آنے پر ٹوئیٹر چھڑانے کا حکم دیا ہے۔
*سرقہ شدہ ٹوئیٹ کو زیادہ ریٹوئیٹ ملنا نفسِ انسان اور انانیت کا امتحان ہے اور نفس پہ قابو پانا مطمعِ نظر رہنا چاہئیے۔
*سرقہ درحقیقت سرقہ کرنے والے کی ٹوئیپ سے محبت کا ایک مختلف طریقۂ اظہار ہے۔اگرچہ علماء نے اس محبت کو بالعموم فلموں میں دکھائے جانے والے نفسیاتی عوارض کا شکار عشاق کی محبت سے تعبیر کیا ہے۔

ب) فصلِ موضوع

*موضوعاتی یکسانیت بالعموم اور ٹوئیٹس میں سیاست کی شرح بیس فیصدسےزائدہونا بالخصوص، ذہنی نموکیلئےمہلک ہے۔
*سیاسی مکالمےمیں مذہبی حوالہ جات پُرکشش ہونےکےباعث مستعمل مگردراصل مکروہ عمل ہے۔
*آغازِ صُبح سے رات گئے تک بالترتیب تبلیغ، سیاست ، دشنام طرازی اور کٹ پیسٹی شاعری کے استعمال سے پیروکاروں میں حقیقی اضافہ یقینی ہے۔ علماء نے روزانہ کی حاصل کردہ تعداد کو ان موضوعات کے سہولت سے استعمال کیساتھ راست متناسب بتلایا ہے۔

نوٹ: اطلاعاً عرض ہے کہ یہ ہدایت نامہ سینہ بہ سینہ چلا آتا ہے اور راقم نے اس کی تالیف محض انہیں صدیوں پُرانی روایات کی بُنیاد پر کی ہے جس کا مقصد عامۃ الناس کی فلاح کے علاوہ محض ایصالِ آر ٹی و مشہوریِ بلاگ ہے۔ کسی کمی و کوتاہی کا ذمہ دار ادارہ نہ ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *