Kesay Hain ye Safeeran e Watan

جو لوگ بیرونی ممالک کے سفر کرچکے ہیں اور انہیں علاقائی ٹرانزٹ ہب دبئی، ابو ظبی، دوہا یا دیگر خلیجی ایئر پورٹوں سے گذرنے کا اتفاق ہوتا ہے، ان کے مشاہدے میں اکثر یہ بات آتی ہے۔اِن ایئر پورٹوں پر سلوٹوں سے بھرپور شلوار قمیض میں ملبوس، پیروں میں چپل پہنے، کندھوں پر صافہ نما رومال ڈالے، مُنہ اوپر کی طرف اٹھائے ہونقوں کی طرح اِدھر اُدھر دیکھتے اور جگہ جگہ سے اپنے بدن کو کھجاتے ہوئے پاکستانی حضرات نظر آتے ہیں۔ انکی شلوار کے پائینچے مشرق و مغرب اور عموداً پرواز کر رہے ہوتے ہیں۔کھنگار کر تھوکنے کے لئے جگہ کی تلاش میں یہ اپنی بے چینی کا اظہار اپنے سامنے تھوک کی ہلکی پھلکی پھواریں برساکے کر رہے ہوتے ہیں۔ ناک کی سوزش بھی بار بار انگشت شہادت کو مصروفیت عطا کر رہی ہوتی ہے۔ اِن کا لباس چیخ چیخ کر ان کی پاکستانی قومیت کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ نئی اور جدید ترقی یافتہ جگہ پر پہنچ کر حیران ہونا بجا ہے مگر اپنی حیرانی کا اظہار ادھ کھلا مُنہ چھت کی طرف اٹھا کے اور جگہ جگہ خارش کئے بغیر بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے پاکستانی بھائی اپنی دیگر زریں عادات کے ساتھ ساتھ اکثر خلیجی ممالک کی سڑکوں کوممنوعہ جگہ سے دوڑ لگا کر پار کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ یہ نہیں کہ صرف پاکستانی ہی اپنی گھٹی میں پڑی ہوئی عادات کو ساتھ ساتھ لئے پھرتے ہیں، یقینا دیگر ممالک بشمول بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال جیسے ممالک کے لوگ بھی ایسا کرتے ہیں مگر اِن ممالک کے لوگ چونکہ اپنے اپنے قومی لباسوں میں ملبوس نہیں ہوتے، لِہٰذا ان کی طرف سے کی گئی کوئی بھی نا مناسب حرکت صرف ایک شخص یا ایک جنوبی ایشیائی شخص کی حرکت قرار پاتی ہے۔ مگر اپنے قومی لباس میں ملبوس کوئی پاکستانی جب نا مناسب حرکت کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ ایک شخص کی نامناسب حرکت سے بڑھ کر ایک پاکستانی کی حرکت بن جاتی ہے۔

بیرون ممالک کام کے متلاشی پاکستانیوں کی رجسٹریشن کے ادارے اور تمام ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کو یہ بات یقینی بنانی چاہئیے کہ بیرون ممالک جانے والے تمام پاکستانی با لخصوص ہنر مند اور غیر ہنر مند کم تعلیم یافتہ افراد کو ادب آداب کی بنیادی تربیت دی جائے۔ ان کو بتایا جائے کہ اگر بیرونی ممالک میں شلوار قمیض پہنیں تو لباس کو صاف ستھرا، استری شدہ ہونا چاہئیے اور ہوسکے تو واسکٹ کے ساتھ پہنا جائے اور پاؤں میں مناسب جوتا پہنا جائے۔ ان کو خاص طور پر اس بات کا احساس دلایا جائے کہ شلوار قمیض پہننے کی صورت میں وہ ہر ایک نظر میں ہوتے ہیں اور انکی ہر نامناسب حرکت بحیثیت مجموعی پاکستان کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔یہ سب لکھنے کا مقصد محنت کشوں کا مذاق اُڑانا نہیں ہے بلکہ ان کا خود کا اور اپنے ملک کا مذاق بننے سے روکنا ہے۔تربیت کی بات بھی صرف بنیادی اخلاقیات کے حوالے سے کی جارہی ہے۔ اس تحریر کا مخاطب عام سیدھے سادھے محنت کش پاکستانی ہیں۔ ہمیں ان جرائم پیشہ لوگوں سے کچھ نہیں کہنا جو بیرون ممالک مختلف طرح کے فراڈ اور دیگر جرائم میں ملوث ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو صرف قانون کے آہنی ہاتھ ہی سمجھا سکتے ہیں اور وہ خلیجی ممالک اور دیگر ترقی یافتہ دنیا میں بخوبی اپنا کام کر رہے ہیں۔

بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال وغیرہ سے آنے والے محنت کش پبلک مقامات اور کام کی جگہوں پر پینٹ شرٹ پہنتے ہیں۔ اس لباس سے نہ صرف سہولت ہوتی ہے بلکہ یہ ان کی شناخت چھپانے کا باعث بھی ہوتا ہے۔ اگر پاکستانی افراد اپنا قومی لباس مناسب اہتمام کے ساتھ نہیں پہن سکتے تو پھر انکو پینٹ شرٹ پہننا چاہئیے۔ راقم پہلے بھی عرض کر چُکا ہے کہ ہماری قوم کو اب بڑے بڑے انقلابی نعروں کے سحر سے نکل کے چھوٹی چھوٹی باتوں پر توجہ دینی چاہئیے۔

One thought on “Kesay Hain ye Safeeran e Watan

  • May 29, 2016 at 12:18 pm
    Permalink
    بہت اہم نقطہ کی جانب توجہ دلائی ہے انشاءاللہ اس پر مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.