Istiqamat

جمہوریت آج کے دور میں اگر قابل عمل طرز حکمرانی قرار دیا جا رہا ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو مجھے اکثر الجھائے رکھتا ہے. اس سوال کے حق اور مخالفت میں لوگوں کے پاس بےشمار دلائل ہوں گے. جو بحث میں الجھے ہوئے ہیں وہ الجھے ہی رہیں گے اور جنہوں نے عمل کیا وہ بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں. کوئی بھی نظام جب تک جزوی طور پر اختیار کیا جائے گا وہ معاشرتی بہتری کا باعث کبھی نہیں بن سکتا. ترقی پذیر ممالک کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں ہر نظریے کو جزوی طور پر اختیار کیا جاتا ہے. شاید اسی لیے ترقی پذیر ہی رہتے ہیں. پاکستان بھی انہیں ممالک کی صف میں شامل ہے جہاں جمہوریت، آمریت اور مذہبیت کے کچھ حصوں کو اختیار کیا جاتا ہے اور پھر امیدیں دودھ شہد کی نہروں کی وابستہ کر لی جاتی ہیں. ہم نے اگر ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ممالک تک کا سفر طے کرنا ہے تو کسی ایک نظام کو کلی طور پر اختیار کرنا ہو گا. اب ایک اور ضمنی سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگ کس بات پر متفق ہیں؟ سادہ جواب ہے کہ کسی بات پر متفق نہیں! لیکن کیا یہ جواب واقعی درست ہے اس پر آراء مختلف ہو سکتی ہیں. میرے خیال میں پاکستان کے تمام طبقات تقریباً دو ایسے معاملات ہیں جن پر واضح اکثریت کے ساتھ متفق ہیں وہ ہے قیام پاکستان اور آئین پاکستان. میں کوشش کروں گا کہ ان ہی دو باتوں کو بنیاد بنا کر اپنی بات آگے بڑھاؤں. البتہ مضمون کے درمیان میں تین معروف نظریات کے جزوی استعمال کی جانب توجہ دینے کی کوشش کروں گا. ایک وضاحت بھی کرتا چلوں کہ یہ ساری باتیں اجتماعی رویے کے تناظر میں ہیں.

مذہب پاکستانی معاشرے کا بنیادی عنصر ہے اور رہے گا چاہے ہم پاکستان کو سیکولر قرار دیں، آمریت ہو یا جمہوریت پاکستانی لوگوں سے مذہب کو دور نہیں کیا جاسکتا. لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں یہاں ایک مذہبی معاشرہ ہے. بلکہ ہم نے مذہب کے چند اجزاء کو اس شدت کے ساتھ اختیار کیا ہوا ہے کہ نہ ہی مکالمہ کی کوئی گنجائش باقی ہے اور نہ اجتہاد کی کوئی صورت. ہمارے ہاں فقہ ایک برانڈ کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ اس کی سب فرنچائیز بھی دستیاب ہیں. اپنے حصے کا مقدمہ ہر شخص کے پاس موجود ہے. قرآن مجید، احادیث مبارکہ، اقوال صحابہ، اقوال اہل بیت اور ائمہ کرام کی تعلیمات عمل کرنے کی غرض سے کم سیکھے جاتے ہیں مخالفین کو زیر کرنے کی محنت زیادہ شدت سے کی جاتی ہے. اپنی پسند سے مطابقت رکھتے اعمال، سزاؤں اور ضابطوں کو ترجیح بنیادوں پر رائج کرنے کی خواہش و آرزو ہر گروہ میں شدت کے ساتھ پائی جاتی ہے لیکن دوسرے نقطہ نظر کو رائج کرنا تو درکنار نام تک گوارہ نہیں کر سکتے. ہم سب کا یہ ایمان اس بات پر پختہ ہے کہ مذہب اسلام ایک الہامی مذہب ہے. اور رسول اللہ صلعم آخری نبی ہیں اور اسلامی فقہ کی بنیاد قرآن و سنت ہے اور یہ کہ قرآن لاریب کتاب ہے اور اس کی حفاظت خود رب العزت فرماتے ہیں. اس کے باوجود مسلمان مسلمان سے شاکی اور اپنے سوا دیگر گرہوں کو یہود و نصارٰی کا ایجنٹ تصور کرتے ہیں. ہمارے ہاں اسلام کا تعلق مخصوص دنوں رسومات اور دوسرے کی ذاتی زندگی تک ہے. معاشرتی اور معاشی پہلوؤں پر اسلام کی تعلیمات کیا ہیں ان پر نہ ہی بحث کرتے ہیں اور نہ ہی نفاذ چاہتے ہیں.

حکومت جی چاہتا تھا عنوان سیاست لکھوں لیکن یہاں حکومت سیاست سے ہی مشروط نہیں ہے اس لیے طالع آزماؤں کی سہولت کے لیے حکومت کا لفظ لکھ رہا ہوں تاکہ ان سے بھی انصاف کیا جا سکے. پاکستانی سیاست میں تین اجزاء کا استعمال سفاکیت کے ساتھ کیا گیا ہے، ملکی مفادات، مذہب اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت. مذہب کے استعمال سے برآمد نتائج اوپر بیان کر دیے گئے ہیں. جمہوریت ہو یا آمریت مقصد حصول اقتدار رہا. ملکی مفادات کی ذیل میں بہت سی وارداتیں ہوئی ہیں. اس پر کتابوں کی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں. میں فقط اکابرین کی جانب سے کی گئی چند مشقتوں کا ذکر کروں گا. کہتے ہیں کہ ملکی مفادات کا آغاز تب سے ہوا ہے جب وسیع تر مفاد میں روس کا دورا منسوخ کر کے امریکہ یاترا کے لیے رختِ سفر باندھا گیا تھا. اس کے بعد یہ بوجھ بڑھتا ہی چلا گیا اور ہم نے آپریشن جبرالٹر، مڈنائٹ جیکال، ایگل کلو اور کارگل جیسے عسکری معرکے سرانجام دیے. وہیں سندھ طاس، نیشنلائزیشن اور مبینہ طور پر ایران کے ساتھ بلوچستان کے معدنی وسائل سے متعلق معاشی معائدات کو پایا تکمیل تک پہنچایا ہے. تین مرتبہ مارشل لاء تین مرتبہ اٹھاون ٹو بی کا استعمال بھی اسی ذیل میں کیا گیا. موجودہ دور میں بھی وسیع تر قومی مفاد میں ہم ایک مرتبہ پھر کسی عزیز ہموطنو کے منتظر ہیں اور حکومتیں بھی جمہوریت کے فروغ کے لئے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے باوجود اختیارات کی منتقلی اور آخری مرحلے کے لئے انتخاب کرانے سے گریزاں ہیں. نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی بڑا دل چھو لینے والا عمل ہے پاکستانیوں کی اکثریت کو روبوٹ تصور کیا گیا. ان کے لیے نظریات کے ذریعے پروگرامنگ کا خیال آیا اور تجربات کیے گئے. نتیجتاً ہم جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے بھی قابل نہ رہے بنگلہ دیش الگ ہو گیا اور باقی ماندہ پاکستان میں مختلف انواع و اقسام کے سول ملیشیا گروپس پیدا ہو گئے.

معیشت انسانی زندگی میں سانس لینے کے عمل کے بعد سب سے ضروری رویہ خیال کیا جاتا ہے اس لیے اس کے ساتھ غیر ضروری تجربات سے ہر معاشرہ اجتناب برتتا ہے لیکن ہم نے اس میں بھی اپنی مثال قائم کی ایوب دور میں ہم نے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی، زراعت، صنعت اور دیگر پیداواری شعبوں میں نمایا بہتری کی جانب قدم بڑھانے شروع کیے لیکن جلد ہی ہمیں سوشل ازم کے دورے لاحق ہونا شروع ہوگئے اور جس کے نتیجے میں ہم نے

نیشنلائزیشن کی مد میں پاکستان سے سرمائے کی منتقلی کا ایک جواز مہیا کیا اور نقصانات آج تک بھگت رہے ہیں. بعد ازاں فری مارکیٹ اکانومی کے ثمرات ہمیں للچانے لگے اور ہم نے پرائیویٹائزیش کا ہنگام جاری کر دیا آج تک خبر ہی نہیں ہو رہی ہے کہ بیچے گئے اداروں سے نفع ہوا یا نقصان. ہم بیک وقت اسلامی معیشت، سوشلزم اور سرمایہ دارانہ نظام سے استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ بھی ویسے ہی جیسے ہم نے جمہوریت کے ساتھ پیار نبھایا ہے.

جیسے میں نے پہلے عرض کیا ہے کہ کم از کم دو واقعات پر ہم اکثریتی بنیادوں پر متفق ہیں ایک قیام پاکستان اور دوسرا آئین پاکستان. لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آئین کے دیے گئے طریقے کے مطابق انتظام حکومت ووٹوں سے منتخب لوگوں تک پہنچا دیں اور عوام کو ان کے احتساب کا مسلسل موقع فراہم کریں. ورنہ وہی ہو گا جو اکہتر میں پاکستان کے ساتھ ہوا یا آئین کے ساتھ ستتر اور ننانوے میں ہوا. سارے ادارے ریاست کے ہی ہیں ہمارے لیے محترم بھی لوگوں کے اتفاق رائے کے سامنے سارے سرنڈر کر لیں نہیں تو تیاری کر لیں کہ ہمیں کسی اور کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑھیں گے

3 thoughts on “Istiqamat

  • May 29, 2016 at 4:20 pm
    Permalink
    پائین وقت کے ساتھ ساتھ آئین میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے ابھی تک انگریزوں کے بنانے ہوئے قانون چل رہے ہیں
    Reply
  • May 30, 2016 at 10:44 am
    Permalink
    آپ نے درست بات کی اور یہ ہقیقت ہے کہ ہمارے ہاں مہزبی ٹھیکداروں نے دوکانداریاں بنا رکھیں ہیں آپ کوئی بھی کسی بھی قسم کا فتوا چاہے دوکان ڈونڈیں اور فتوا آپ کو سستے داموں مل جاۓ گا
    جمہوریت کیسی بھی چل رہی ہے چلنے دیں بوٹ والوں سے بچا کر۔ انشاءاللہ وقت ضرور آے گا کہ ہم سر اٹھا چل سکیں گے
    مگر ایک کام بہت ضروری ہے ہمارے ملک میں ایک نضام تعلیم
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.