Khawaja Saraa

خواجہ سرا

یہ علیشا تھیں. جو آج بروز بدھ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملیں اور موت ہی آخری رستہ تھا جو انہیں دنیا کے بھیڑیوں سے خلاصی دے سکتا تھا. اس سے پہلے علیشا پہ آٹھ حملے ہوئے، آٹھ مرتبہ پشاور کے شیردل جوانوں نے اس خواجہ سرا کو گولیوں کا نشانہ بنایا لیکن پچیس سالہ علیشا کو ابھی دنیا میں آنے کی مزید سزا بھگتنی تھی اسلیے بار بار زندگی ملتی رہی
اس بار جب گولیوں کا نشانہ بنی تو خواجہ سرا برادری کے لوگ لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے کر آئے. لیکن زنانہ و مردانہ وارڈ کے مریضوں اور انکے لواحقین کا ایمان خطرے میں پڑ گیا. کوئی اسے وارڈ میں رکھنے کو تیار نہ تھا بےحسی کی انتہاء کہ علیشا زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھی اور لوگ تماشا دیکھ رہے تھے. انسانیت دم توڑ رہی تھی. علیشاء کا بیڈ باتھ روم کے پاس رکھا گیا علاج معالجہ شروع ہوا. اس دوران لوگ وہاں ہنستے رہے اور جملے کستے رہے جب علیشا زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تھی اور پاسی کھڑی اسکی خواجہ سرا برادری سسکیاں بھر رہی تھی
اسکے بعد پرائیویٹ وارڈ میں منتقل کیا گیا. آج علیشا مر گئی.
میں کہتا ہوں علیشا نہیں مری انسانیت مر گئی ہے.

alisha

پشاور و مضافات میں ہونے والا یہ پہلا واقعہ نہیں صرف اس سال مئی تک پینتالیس خواجہ سرا نشانہ بن چکے.
اکثریت واقعات جبری جنسی تعلق اور بھتہ خوری کی وجہ سے رونماء ہو رہے ہیں. صوبے کی پولیس ابھی تک مجرموں کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہوئی .اگرچہ ایسے واقعات پورے ملک میں رونماء ہوتے ہیں لیکن پشاور میں خطرناک حد تک زیادہ ہیں.
میں یہاں اعداد و شمار کی بحث میں نہیں پڑتا آپ ذرائع ابلاغ میں ملاحظہ فرماتے رہتے ہیں میرا سوال صرف انسانی ہے.
ہمارے ملک میں اس مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے جس کا نام اسلام ہے , جس کے معنی سلامتی کے ہیں اور جسکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کیلیے رحمت بنا کر بھیجا گیا اسکے ماننے والوں کے درمیان انسانیت تڑپتی رہی اور امتی محو تماشہ رہے.
پشاور میں پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں.
مارچ 2015 روزنامہ ڈان کی ایک رپورٹ نے رونگٹھے کھڑے کر دیے کہ نشے کی حالت میں کیسے کیسے خواجہ سراؤں کو زبردستی جنسی تعلق پہ مجبور کیا جاتا ہے.
ایک دلخراش واقعہ کی روداد سنتے ہوئے تو کلیجہ منہ کو آ گیا. ایک کم عمر خواجہ سرا کو بھڑیوں نے ہوس کا نشانہ بنایا اور نشے میں چور درندوں نے شیشے کی بوتل پشت پہ توڑ دی جسکے بعد کئی پیچیدہ سرجریاں کروانا پڑیں
ایسے سینکڑوں دلخراش واقعات ہیں
دوستو آپ جانتے ہیں کہ انسان کے اختیار میں تو نہیں کہ وہ لڑکا پیدا ہو یا لڑکی پیدا ہو. کالا پیدا ہو یا گورا. سب خالق کی مرضی جیسی تخلیق کرے. خواجہ سرا کی تخلیق میں بھی خالق کی کوئی حکمت ہوگی پھر ہم کیوں اسکی تخلیق پہ ناراض ہو جاتے ہیں. کیوں اللہ کی تخلیق کا مذاق اڑاتے ہیں. جس گھر میں ایسا انسان پیدا ہو جائے اسے بدنامی کے ڈر سے گھر سے نکال دیا جاتا ہے.ماؤں کی شان میں اتنے قصیدے لکھے جاتے ہیں وہ ماں کیوں اپنے جسم کے ٹکڑے کو سماج کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیتی ہے ؟ وہ باپ جسکی شفقت پدری کی داستانیں مشہور ہیں کیسے لاتعلق ہو جاتا ہے اپنی اولاد سے؟
جب خواجہ سرا کے سر سے اسکے اہل خانہ ہی آسمان چھین لیں تو سماج کہاں چھت فراہم کرے گا؟
اگر خواجہ سے نفرت کی وجہ اسکا جنسی تعلق استوار کرنا ہے تو اسکی وجہ بھی معاشرہ ہے. تعلیم اسکو نہیں دی جاتی اگر کوئی پڑھ لکھ جائے تو نوکری اسے نہیں ملتی. زندہ رہنے کیلیے پھر اور کیا کرے ؟ اور ہمارا معاشرہ جہاں بھیڑیے معصوم بچوں سمیت جانوروں کو نہیں بخشا جاتا وہاں لاوارث مجبور خواجہ سرا کہاں جائے؟
خدا را کم از کم انسانیت کے ناطے خواجہ سراؤں کے حقوق کیلیے آواز بلند کریں. اور اگر اللہ نے آپکو توفیق دی ہے تو اپنے حصے کا حق بھی ادا کریں

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.