Bhonktay Kutay

یوں تو کتوں سے ہمارا تعلق وفادار دوست اور قدیم زمانے میں مخلص چوکیدار اور سونگھنے کی حس سے شکار میں ہماری مدد کرنے والے کی حیثیت سے قائم ہے، لیکن یہ تو اعلیٰ صفات ہیں۔ جس وجہ سے کتے بدنام ہیں، وہ ان میں سے بعض کی بلاوجہ بھونکنے کی عادت ہے۔ اب یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ عادت کتوں نے انسانوں کیساتھ رہتے ہوئے اپنائی یا بہت سے انسانوں میں بھی جو ایسی عادات پائی جاتی ہیں، وہ کتوں سے انہوں نے سیکھیں، مگر منسوب یہ کتوں سے ہی کی جاتی ہیں۔”بد سے بدنام برا “کے مصداق ان عادات کیوجہ سے لعن طعن بھی کتوں کے حصے میں ہی آتا ہے۔ سب کتے بھونکنے والے کتوں کی عادات کے مالک نہیں ہوتے، واللہ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو اسے کتوں سے معافی طلب کرنی چاہیے، مبادا وہ مائنڈ کر کے انسانوں میں پائی جانے والی ایسی خصلتوں کا کچا چٹھا کھول دیں۔ یہ انکی مہربانی ہے کہ بہت سے انسانوں کی ایسی فطرت کے باوجود انہوں نے بدنامی کا بوجھ اپنے سر ہی لیا ہوا ہے اور کبھی انسانوں کو بدنام نہیں کیا یا اپنے حلقوں میں ”بھونکتے انسان“ جیسی کوئی گالی استعمال نہیں کی۔ اسی وجہ سے ہمیں آزادی حاصل ہے کہ ہم ”بھونکتے کتوں“ کی تشبیہہ کا استعمال کر سکیں اور اس آزادی کے بدلے سب کتوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے انتہائی ضرورت کے وقت بھونکنے والے کتوں کو بلا ضرورت بھونکنے والوں سے علیحدہ تو سمجھا جانا چاہیے۔
بھونکنے والے کتے زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوتے ہیں، یعنی وہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ، بعض تو اونگھتے ہوئے لیٹے لیٹے ہی ایک لمبی سر میں بھونکنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان میں باہمی تعاون انتہائی مثالی ہوتا ہے۔ ایک ساتھی کو بھونکتا دیکھ کر سب کورس میں بلا سوچے سمجھے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ بھونکنے کیلئے ویسے بھی کسی طور پر سوچنے سمجھنے کی ضرورت تو ہوتی نہیں۔ بھونکتے کتے کا مقابلہ بھی ایک دلچسپ شے ہے جو صرف اسی کی طرح بھونک کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ بھونکتے کتوں کی تاریخ میں ابھی تک اسکے علاوہ کوئی طریقہ دریافت نہیں ہو سکا اور مستقبل قریب میں بھی کوئی امکان نہیں۔ انسانوں کی تاریخ کیلئے انسانی تاریخ استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اسکے وزن پر کتوں کی تاریخ کیلئے میں کتی تاریخ کی اصطلاح استعمال کرنا چاہوں گا۔ بتانا یہ مقصود تھا کہ کتی تاریخ میں آج تک بھونکتے کتے کو کسی نے دلیل، مکالمہ یا منطق استعمال کرتے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی کبھی سنتے دیکھا گیا ہے۔
ایک بات جو سب بھونکتے کتوں میں مشترک ہوتی ہے، وہ توجہ کا طالب ہونا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ بزعم خود سمجھتے ہیں کہ انہیں توجہ محض اسی صورت میں ہی مل سکتی ہےجب وہ گلا پھاڑ کر بھونکنے لگیں۔ اسکو وہ اپنا ہنر اور فخر سمجھنے لگتے ہیں۔جب بھی انہیں توجہ مقصود ہو، وہ اپنی اس ”صلاحیت“ کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بھونکنا انکی ایسی فطرت اور نشہ بن جاتا ہے کہ انہیں بھونکے بغیر چین اور سکون نصیب نہیں ہوتا اور وہ اپنی اس عادت کیلئے بھونکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بہت سے کتے تو توجہ حاصل کرنے کیلئے اس قدر بھونکتے ہیں کہ انکی حالت پر رحم آنے لگتا ہے۔
بھونکتے کتوں کو اگر صرف یہ کہنے کیلئے بھی توجہ دی جائے کہ ”آپکے بھونکنے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا“ تو وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید انکا بھونکنا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ ایسے کسی کتے کو یہ احساس نہیں دلایا جا سکتا کہ وہ بھونک کر ایک فضول کام کر رہا ہے۔ ایک ہی صورت ہو سکتی ہے کہ اگر کتے کو مسلسل توجہ نہ ملنے کے بعد خود بخود یہ احساس ہونا شروع ہو جائے کہ اسکے بھونکنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ بھینس پر بین کے اثر کا گمان کیا جا سکتا ہے کہ شاید ہمارے سائنسی آلات اتنے طاقتور نہیں کہ بین بجانے پر بھینس کے جھومنے کا مشاہدہ و مطالعہ کر سکیں لیکن یہ مصدقہ اور کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ بھونکتے کتے پر کسی دلیل کا اثر نہیں ہوتا، چاہے وہ دلیل کتنی ہی عالمانہ اور منطق و فلسفہ میں گوندھ کر تیار کی گئی ہو۔
کتوں کا آپس میں مقابلہ ہو یا بھونکتے کتے سے مقابلہ ہو، لوگ ہمیشہ تماشہ سمجھ کر ہی دیکھتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس سے کسی کتے یا بھونکتے کتے سے مقابلہ کرنے والے کا رتبہ، عزت اور شان بلند نہیں ہوتی۔ چونکہ بھونکتے کتے کا لیول بھونکنا ہی ہوتا ہے اور وہ اس سے آگے جا ہی نہیں سکتا، نہ ہی کچھ کر سکتا ہے، سو مقابلے کیلئے اس کے لیول پر ہی آنا پڑتا ہے۔ بقول سید عاطف علی اگرکوئی کتا راستے پہ بھونکنا شروع کر دے تو گاڑی کے شیشے چڑھا لیتے ہیں مقابلہ نہیں کرتے۔ کیونکے بھونکنے میں جیت ہمیشہ کتے کی ہی ہو گی۔
بعض لوگ کتے کو خاموش کرانے کیلئے پتھروں کا سہارا لینے کی بھی مشقت کرتے ہیں، لیکن اس ضمن میں بھی کتا یہی سمجھتا ہے کہ اس پر توجہ دی جا رہی ہے اور چونکہ وہ ہوتا ہی توجہ کا طالب ہے، لہٰذا مزید بھونکنا شروع کر دیتا ہے اور بھونکتے بھونکتے خود کو ہلکان کر کے اپنی جان ختم کر لے گا لیکن بھونکنا بند نہیں کرے گا۔ پتھر اچھالنے کی مشقت میں آپ ہلکان ہو سکتے ہیں، لیکن اس سے کتے کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ پڑ سکتا ہے۔انہیں انکی حالت پر چھوڑ دینا ہی انکے لئے بہتر ہوتا ہے۔ پنجابی زبان میں اسکے لئے ایک محاورہ ہے ”پونکدا رہو“۔ ایک اور محاورہ بھی اسی ضمن میں استعمال ہوتا ہے ”کتے پونکدے رہندے نیں، تے راہی لنگ جاندے نیں“۔ بعض بھونکتے کتے پیدائشی پاگل بھی ہوتے ہیں اور پاگل پن ہی انکے مسلسل بھونکنے کا محرک ہوتا ہے۔ ایسے کتوں پر عاطف علی رحم کرنے کا کہتے ہیں۔ انکے مطابق پاگل کتے پر کیا جانے والا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اسے اپنی طرٖف متوجہ کرلیں ورنہ وہ اپنے آپ کو ہی کاٹ کاٹ کر مر جائے گا۔ ایسے کتوں پر اگر فالتو وقت اور دل میں رحم کا جذبہ دونوں موجود ہوں تو ترس کھا کر لازمی توجہ دینی چاہیے۔

5 thoughts on “Bhonktay Kutay

  • May 25, 2016 at 11:35 am
    Permalink

    بہت زبردست نثر پارہ۔
    آپ کو باقاعدگی سے لکھنا چاہیے۔

    Reply
    • May 25, 2016 at 5:34 pm
      Permalink

      بہت شکریہ جناب

      Reply
  • May 26, 2016 at 8:32 am
    Permalink

    لکھنا جاری رکھیئے, آپ میں لکھنے کی خدا داد صلاحیت نظر آتی ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *