Tabdeeli ka Bayaania

ہمارے تمام ہی لیڈران کرام کا بلندوبانگ نعروں،عظیم دعوؤں، انقلاب اور تبدیلی کی نویدوں اور جناب ’نظام صاحب‘ کو بدلنے کی دھاڑیں مارنے کا طویل تجربہ ہے اور ہمارے صابر و شاکر عوام بھی مسیحا کے انتظار کا طویل تجربہ رکھتے ہیں، یعنی دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی۔لیڈروں کے نعرے اور عوام کا انتظار بجا لیکن یہ نا چیز کافی عرصے سے یہ معمولی سا معمہ سمجھنے کی کوشش کر رہاہے کہ آ خر ہمارے وطن میں بسنے والے لاکھوں ڈرائیوروں، کنڈکٹروں ،مزدوروں، مزارعوں،بیروں،میکینکوں،الیکٹریشنوں،پلمبروں،دیہاڑی دار ورکروں،خوانچہ فروشوں،کیبن والوں، سبزی اور پھل فروشوں کو کس نے ہر صبح دانت صاف کرنے،نہانے، کام کے لئے جاتے ہوئے صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنے اور خوشبو لگانے سے منع کیا ہے۔ وطن عزیز کے طول و عرض میں پھیلے ان لاکھوں لوگوں نے یہ فرض کیا ہوا ہے کہ کام کے اوقات میں صاف ستھرے کپڑے اور پالش شدہ جوتے پہننا صرف دفتروں میں کام کرنے والوں اور اعلیٰ ملازمتوں پر فائز پڑھے لکھے افراد پر ہی فرض ہے۔ ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں ہر روز بے شمار لوگوں کے میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس نظر آنے کی وجوہات آخر کیا ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ مریخ کو چھوتی مہنگائی کے باوجود آج بھی صابن اور مسواک یا ٹوتھ پیسٹ ہر شخص کی پہنچ میں ہیں۔
تمام مہذب معاشروں میں سبزیوں اور پھلوں کی منڈیاں صفائی کا اعلیٰ ٍنمونہ ہوتی ہیں جبکہ ہمارے اسلامی جمہوریہ میں آپ ایسی کسی منڈی سے کئی سو فٹ دور سے بھی ناک پر رومال رکھے بغیر نہیں گزر سکتے۔ مٹھائیاں تیار کرنے اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء تیار کرنے والے کمرشل باورچی خانوں کی حالت اچھے بھلے صحت مند انسان کو بیمار بنانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ حال ہی میں پنجاب فوڈ اتھارٹی بڑے بڑے ناموں والے ریستورانوں میں صفائی کی ناگفتہ بہ صورتحال کی پول کھول چکی ہے۔آخراتنے مہنگے کچنز تک میں غلیظ ماحول بنانے کو آپ کس قسم کی ذہنیت قرار دیں گے۔
ٹھیلوں پر کھانے پینے کی اشیاء اور رنگ برنگے مشروبات اور جوس فروخت کرنے والے اور سڑکوں کے کنارے چھوٹی چھوٹی دوکانوں میں قائم ریستوران (ڈھابے)، جھوٹے برتن دھونے کے نام پر جو مذاق کر رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہیپا ٹائٹس بی اور سی کے اسقدر پھیلنے کی وجہ سمجھ میں نہ آنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
کراچی تا پشاور اور کوئٹہ سے پنڈی، ٹرین یا بس سے سفر کرتے ہوئے پاک سر زمین کے خوبصورت مناظر آنکھوں کو خیرہ کئے رکھتے ہیں۔ لہلہاتی فصلیں، بہتی نہریں اور دریا،چمکتے ریگذار اور سرسبز پہاڑ وطن سے محبت کو تازہ کرتے ہیں۔ مگر ان خوبصورت مناظر کے ساتھ اچانک کچرے اور غلاظت کے مکروہ ڈھیر نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں، یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ ٹرین یا بس اس پاک وطن کے غیور باسیوں کی کسی بستی میں پہنچ چکی ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں چہل قدمی کرتے کُتوں، کیٹ واک کرتی بلیوں اور ٹام اینڈ جیری کھیلتے چوہوں کو دیس نکالا دینے کے لئے ینگ ڈاکٹروں نے کبھی ہڑتال نہیں کی۔ انفیکشن کنٹرول اور مریض کی پوسٹ آپریٹیو دیکھ بھال اسکے اصل علاج جتنی ہی اہم ہوتی ہیں، مگر ہمارے ہسپتالوں کی صورتحال دہلادینے والی ہے۔
عام عوامی مقامات تو رہے ایک طرف ایئر پورٹوں تک کے پبلک ٹوائیلیٹس کی صفائی ستھرائی کی صورتحال ناقابل بیان ہوتی ہے۔
میری ناقص رائے میں معاشرے میں پھیلی زیادہ تر نفسیاتی،ذہنی اور جسمانی بیماریوں کی وجہ صفائی کا فقدان ہے۔ قوم کو کشتوں کے پشتے لگانے، الٹا لٹکانے، جڑ سے اکھاڑنے والے کسی انقلابی پلان کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر پاسبانی کے فرائض انجام دینے، لال قلعے پر جھنڈا لہرانے، امریکہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے یا یورپ کو اس کے اپنے ہی خنجر سے خود کشی پر آمادہ کرنے کے سارے پلانوں کو بھی فی الحال التوا پر ڈالنا ہوگا۔ان بڑے بڑے تبدیلی والے انقلابی پروگراموں کے بجائے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ قوم میں صاف رہنے کا شعور اجاگر کیا جائے۔ صفائی نصف ایمان ہے، پر یقین رکھنے والی اس قوم کو اچھی تربیت کی ضرورت ہے۔ ذاتی صفائی،گھروں کی صفائی، دفتروں اور کام والی جگہوں کی صفائی اور گلی محلوں کو صاف رکھنے کے لئے قو م کی ذہنی تربیت کی جائے۔ یہی ہے تبدیلی کا بیانیہ جو ہر ایک کو ذہن نشین کرنا چاہئیے۔ جب یہ قوم اپنے ظاہر کی صفائی کرنا سیکھ لے گی تو باطن کی خباثتوں سے بھی جان چھڑالے گی اور پھر تبدیلی بھی خود بخود آجا ئے گی۔

2 thoughts on “Tabdeeli ka Bayaania

  • May 19, 2016 at 8:06 am
    Permalink
    بہت اہم مسئلے پر توجی دی
    بہت ٹھیک حل بتایا نفسیاتی مسائل کا
    Reply
  • May 19, 2016 at 8:20 am
    Permalink
    بلکل صحیح لکھا ہے جناب بہت ہی اچھی تحریر
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *