Taleem Mera Haq Magar Kesay?

آج پھر تکرار تھی کہ دونوں ماں بیٹی میں طوالت پکڑتی جارہی تھی شیمو کی ضد کہ وہ سکول نہیں جائے گی وہ بھی ماں کے ساتھ لوگوں کے گھروں میں کام کر لے گی جتنا پڑھنا تھا پڑھ لیا وہ ہی کافی ہیں اور نذیراں کافی تکرار اور کوسنے سننے کے بعد جب کچھ نہ بن پڑھا تو شیمو کو پیٹنا شروع کر دیا۔
میں رہ نہ سکی اور زور سے آواز دی ماسی چھوڑ دے مت مار اس کو آج نہیں تو کل چلی جائے شیمو سسکیاں بھرتی جارہی تھی اور نذیراں روتے ہوئے کہتی جارہی تھی اس کو اس کے ددھیال نے تعویز ڈال دیے ہیں یہ بات سن کے اک دم سے میری ہنسی نکل آئی مگر پھر میں بھی سوچ میں پڑھ گئی وہ تو اتنی اچھی بچی ریگولر سکول جاتی تھی ناجانے اسے کیاہوگیاتھا جبکہ نزیراں کی اک ہی بیٹی تھی اور اسے شیمو کو پڑھانے کا کافی شوق تھا پھر یاد آیا مجھے تو ابھی کافی کام کرنے ہیں اور ذہن سے بات نکل گئی شام کو شیمو کا باپ ہمارے گھر آیا وہ بھی بیٹی کا مسئلہ لیکر بیٹھ گیا میں نے کہا چاچا اسے ہمارے گھر بھیجنا مجھے اس سے اک کام ہے اور میں اس سے بھی بات کروں گی وہ کس لیےسکول نہیں جارہی اس نے کہا اچھا بیٹی ابھی جاتا ہوں گھر تو بھیج دیتا ہوں۔
چاچا کے جانے کے کچھ دیر بعد شیمو میرے کمرے میں آ دھمکی موٹی موٹی آنکھوں اور گندمی رنگت بارہویں سن کو چھوتی شیمو بہت پرکشش لگ رہی تھی میں نے اسے پاس بیٹھنے کو کہا وہ کرسی پہ بیٹھ گی میں نے اس سے پوچھا تم سکول کس لیے نہیں جا رہی کہنے لگی بس باجی سوچا اماں کے ساتھ کام کروایا کرو اماں تھک جاتی ہیں لیکن مجھے لگا جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہو میں نے پھر اس سے کہا مجھے تو لگتا ہے بات کچھ اور ہی ہے اک دم سے اسکی آنکھیں بھر آئی مجھے کہنے لگی باجی مجھے سکول جاتے اب ڈر لگتا ہیں میں نے کہا کیا وجہ ہیں تم کھل کے بتا ؤ باجی جب گاؤں میں سکول تھا مجھے ڈ ر نہیں لگتاتھا مگر جب سے سکول بدل گیا ہیں باہر دور سنسان راستے سے گزر کے گاؤں سے باہر سکول جاتی ہوں تو راستے میں ملکوں کے لڑکے اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور اک دو بار انہوں نے مجھے غلط باتیں کہی اور جب آس پاس کوئی بھی نہ ہو بہت بدتمیزی کرتے ہیں اور باجی مجھے خوف آتا ہے انکی نظروں اور باتوں سے، ہم غریب لوگ ہے باجی اور میرا ابا بوڑھا وہ کسی سے لڑ نہیں سکتا نہ نہ ہی میرا کوئی بھائی ہیں جو انکو منع کرے اسلیے میں اب سکول نہیں جاؤنگی صرف مجھ سے ہی نہیں اور بھی کئی لڑکیاں ہیں جنکو چھیڑتے ہیں میں اس کی بات سن کے حیران پرشان سمجھ نہیں آ رہی تھی اسے کیا کہوں یا گھر میں کسی کو کچھ بتاؤ سچ تو یہ ہے اس کے یہ الفاظ میرا کوئی بھائی نہیں اور باپ بوڑھا ہے لڑ نہیں سکتا عجیب سے دکھ میں دھکیل گے دو آنسو لڑکھڑا کے میری آنکھوں سے گرے اور شیمو کو کافی سمجھایا بجھایا مگر وہ نہیں مانی اور میں شیمو کے جانے کہ بعد سوچنے لگی کیا ہماری حکومت کا یہ فیصلہ درست ہے بچیوں کے سکولوں گاؤں سے باہر منتقل کر دیا اور بچوں کو گاؤں میں اور جن کے سر پہ ماں یا باپ یا بھائی نہیں و ہ شیمو کی طرح ڈرے گی سنسان راستوں کی وجہ اور لچے لفنگوں کے ڈر سے انکو تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑے گی؟ فیصلہ اور رائے اب آپ لوگوں کی بچیوں کے سکولوں کو دوبارہ سے گاؤں میں منتقل ہونا چاہیے یا گاؤں سے باہر تعلیم تو ہر کسی کا حق ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *