Marzi ka Such Tthonsnay ki Rawash

میرا تقریباً دسویں جماعت سے یہ معمول ہے کہ پاکستانی اخبارات میں شائع ہونے والے کالمز باقاعدہ پڑھتا ہوں. ارشاد حسین حقانی صاحب یا ایاز امیر صاحب کے تجزیے پر حیرت زدہ رہتا تھا کہ یہ پہلو ان پر کیسے آشکار ہوتے تھے بہت سے معاملات پر ان کی توجہات میرے لیے سوچنے کے نئے باب کھولتی ہیں. میں اب بھی جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کی تحاریر اسی ذوق کے ساتھ پڑھتا ہوں. البتہ جناب نذیر ناجی اور اور ہارون رشید صاحب کو جی ایچ کیو اور اس کے ذیلی اداروں کی آب و ہوا جاننے کے لیے ضرور پڑھتا ہوں. آج کا یہ مضمون ایک سطحی نوعیت کا ہے اس میں کوئی تجزیہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی نئی بات. جناب نذیر ناجی کے گزشتہ کالم میں لکھی ایک بات نے مجبور کیا ہے کہ اپنے تجربات جو معروف بیانیے کی آگ میں متاثر ہو کر وقوع پذیر ہوئے اپنے قارئین تک پہنچاؤں. ناجی صاحب مسئلہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نوے کی دہائی کے آخر میں ایک ایسا معائدہ کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ معاملات حل ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے کہ اچانک کارگل رونما ہو گیا اور یہ عمل نہ صرف رک گیا بلکہ آئندہ کئی سالوں تک دوبارہ اس سطح تک پہنچنے کے آثار بھی معدوم ہو گئے ہیں. بحیثیت کشمیری مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ آپریشن جبرالٹر پہلا اور کارگل آخری کیل ثابت ہوئے ہیں. بین السطور شملہ معائدہ اور چناب فارمولا بھی کوئی خیر کی خبر نہیں ہیں.

جس روز جناب اٹل بہاری واجپائی لاہور تشریف لائے تھے اس روز لاہور کی جیل روڈ پر جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جا رہا تھا. میں بھی کم عمری کے باوجود جماعت اسلامی کی جانب سے مہیا کی گئی بس سروس کے ذریعے اس مقدس احتجاج میں شامل تھا. جماعت اسلامی اس وقت آج کی جماعت اسلامی نہیں تھی. اس کے پاس لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی صلاحیت آج سے کئی گنا زیادہ تھی. وہ محض احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک قومی فریضہ تھا اگر جان بھی چلی جاتی تو شاید شہید کہلاتا اس لیے جذبات کی فراوانی تھی. سوال کرنے کی پرانی عادت ہے اس لیے مقامی امیر جماعت اسلامی سے پوچھا کہ ہم یہ احتجاج کیوں کر رہے ہیں تو انہوں نے وجہ یوں بیان کی کہ وزیر اعظم کو سرکاری دورے پر اگر آنا ہی تھا تو اسلام آباد تشریف لاتے. ان کی لاہور یاترا بنیادی طور پر قومی یکجہتی پر ایک ضرب ہے. خوشگفتاری جماعت اسلامی کے رہنماؤں پر اختتام پذیر ہو جاتی ہے لہٰذا اتفاق سے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا. احتجاج میں شامل ہوا دل مطمئن رہا کہ جب قوم سوئی ہوئی تھی تو کم از کم میں بیدار تھا. جلد ہی کارگل رونما ہو گیا اور تربیت کے عین مطابق اسے فتح و نصرت کا مظہر خیال کیا. اور جب میاں نواز شریف صاحب امریکی حکومت کی مدد یا دباؤ کے تحت جنگ بندی کا اعلان کر رہے تھے تو یقین راسخ ہو گیا کہ ملت کا سودا کر دیا گیا ہے. دل میں میاں نواز شریف کے متعلق ایک نفرت نے جنم لیا اور جب مشرف صاحب نے حکومت برخاست کی تو مٹھائیاں تقسیم کرنے والوں میں پیش پیش تھا. لیکن جب وقت گزر گیا تو احساس ہوا کہ شاید نواز شریف نے نہیں ہم نے کشمیریوں کا سودا کیا ہے. ایسا کیوں ہوا کیا قصوروار میں ہوں یا کوئی دوسرا ابھی تک تعین نہیں کر سکا. دوسروں پر اختیار نہیں ہے لہٰذا خود کو ذمہ دار خیال کرتا ہوں اور شرمندہ ہوں.

پاکستان میں ایک چیز ہمیشہ سے قائم و دائم ہے کہ ہم ریاست کے بیانیے کو پہچان ہی نہیں پاتے اور ایک معروف بیانیے کی ترویج میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں. یہ بیانیہ کون تشکیل دیتا ہے اور اس کے ریاست کو کیا فوائد ملے ہیں مجھے ابھی تک اس کی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں. کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ شاید اس سب کے پیچھے عسکری طاقتوں کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن جب مشرف صاحب کے مارشل لاء کے دنوں کا مطالعہ کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہیں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا رہا ہے. وہ عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں مصروف تھے اور عمومی رحجان یہ تھا کہ عسکریت پسند ہمارے ہیرو ہیں. اخبارات میں باقاعدہ ایسے مضامین چھپتے تھے جس میں یہ باور کرایا جاتا تھا کہ اسامہ بن لادن ہمارے ہیرو یا دہشت گرد فیصلہ آپ نے کرنا ہے. سادہ لوحی کہیں یا حکومتوں سے نفرت میرا ووٹ بھی ہیرو والی جانب ہی رہا ہے. مشرف ڈکٹیٹر تھا حکومت پر اس قبضہ ناجائز تھا. لیکن مخالفین کو یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ اپنے مقاصد کے لئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی حمایت کرتے. شدت پسند خواہ کتنے ہی مقدس کیوں نہ ہوں یہ ریاست کی مضبوطی کا کبھی باعث نہیں بن سکتے. ہمیں ہر سطح پر انہیں مسترد کرنا ہو گا خواہ وہ میرے مخالف کے حامی ہوں یا مخالف. ڈکٹیٹر شپ کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آرمی بطور ادارہ متنازعہ ہو جاتا ہے اور ہم جیسے ہزاروں نوجوان غیر سرکاری بیانیے کی رو میں بہہ کر ریاست کے ایک ادارے سے نفرت کرنا شروع کر دیتے ہیں.

ساری دنیا میں لوگ حکومت سے توقعات رکھتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ توقعات اپوزیشن سے رکھی جاتی ہیں. سیاسی اپوزیشن مضبوط ہو تو لوگ ان کی جانب دیکھتے ہیں اور اگر وہ وجود نہ رکھتی ہو تو لوگ فوج سے توقعات وابستہ کر لیتے ہیں عمومی تاثر یہی ہے کہ حکومت اور فوج باہم متصادم ادارے ہیں. اس تاثر کو تب تک غلط ثابت نہیں کیا جاسکتا جب تک عسکری قیادت اور سیاست دان عوامی سطح پر رد نہیں کر دیتے. موجودہ زمانے میں سوشل میڈیا پر دو انتہاؤں کے مسافروں کا قبضہ ہے ایک وہ ہیں جو محب وطن ہونے کے دعویدار ہیں اور ہر وقت حکومت کے ساتھ حالت جنگ میں رہتے ہیں گویا یہ پاکستان کی نہیں کسی غاصب ملک کی حکومت ہے. اور دوسرے انسانی حقوق کے وہ علمبردار ہیں جو ریاست کی خدمت یوں کرنا چاہتے ہیں کہ
فوج جو کہ ریاست ہی کا ادارہ کو متنازعہ بنا دیں. بلاشبہ ہمارے اداروں سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کی سزا ریاست کو نہیں ملنی چاہیے.

پیپلزپارٹی کی حکومت آئی جو عددی اعتبار سے کمزور تھی اس کے ساتھ کیا کیا تماشہ لگایا ہے یہ بھی تاریخ میں درج رہے گا. پہلے پہل تو محترمہ بے نظیر بھٹو کی وصیت کو جعلی ثابت کرنے پر زور رہا. پھر کرپشن اور ملکی سالمیت کا چورن میدان میں آ گیا. میمو گیٹ سکینڈل ہو یا سوس حکام کو خط لکھنے کی بات حکومت کو عملاً کاروبار مملکت سے علیحدہ کر کے ہی رکھ دیا گیا تھا. اس کے باوجود حکومت نے پانچ سال مکمل کیے ہیں اور بروقت انتخابات کے بعد حکومت دوسری جماعت کو منتقل کی گئی. اس سارے ہیجان میں نقصان ریاست کا ہوا اور بہت سے کام محض بقا کی جنگ لڑتے ہوئے یا تو شروع نہیں کیے جا سکے ہیں یا پھر زیر تکمیل رہ گئے. آج بہت سے لوگ جو جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بیکار جرنیلوں کی فہرست میں شامل کر رہے ہیں وہی گزشتہ حکومت کے زمانے میں انہیں ناگزیر بتا رہے تھے اور بالآخر ان کی ایکسٹنشن پر جا کر یہ ہنگام رکا تھا. وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو پارلیمنٹ جیسے مقدس فورم پر اپنی بے بسی کا اظہار کرنا پڑا کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کر دی گئی ہے ہے.

موجودہ حکومت کو عددی برتری حاصل تھی اس لیے یہ اس دباؤ سے نسبتاً محفوظ رہی. لیکن غیر سرکاری بیانیہ پہلے دن سے ہی ترتیب دینے کی کوشش کی گئی. شروع میں زور یہ تھا کہ عددی برتری کو متنازعہ کر دیا جائے تاکہ اخلاقی طور پر حکومت کو بے وقعت ثابت کیا جائے. یہ مجبوری دراصل حکومت کو ہٹانے کے تمام قانونی راستوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اختیار کیا گیا. تین سال ہر سطح پر کوشش کی گئی کہ حکومت وقت کے خلاف قیامت برپا کر دی جائے. پہلے وار ناکام ثابت ہوئے تو کوشش کی گئی کہ وہی آزمودہ نسخہ جانے کی باتیں جانے کے نام سے چیف آف آرمی سٹاف کو ناگزیر بیان کیا جانے لگا. یہ سلسلہ شاید مزید طوالت اختیار کرتا لیکن جنرل راحیل شریف صاحب کی جانب سے خود اعلان کرنے پر کے وہ عہدے کی میعاد بڑھانے پر راضی نہیں موخر کر دیا گیا. پاکستان میں حکومت ہٹانے کے چار پانچ آسان فارمولے ہیں. سیکورٹی رسک قرار دیا جائے، مملکت کی سودے بازی کر دی گئی، حکومت اپنی رٹ کھو چکی ہے اور آخری وار کرپشن رہا ہے. اس کے بعد مشکل مرحلے پر مارشل لاء نافذ کر کے بہت سے لوگوں کی خواہشات کو حقیقت کا رنگ دے دیا جاتا ہے. لیکن بے چین روحیں جلد ہی ڈکٹیٹر شپ سے بدگمان ہو جاتی ہیں اور پھر جاجوج ماجوج کے انداز میں پھر سے دیوار گرانے میں مشغول ہو جاتے ہیں

خدا را پاکستان سے پیار کیجیے اچھے یا برے کا فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کو دیں. دو چار انتخابات بروقت ہو جانے پر گندے سیاست دان انگلیوں پر گننے کے قابل ہو جائیں گے. حکومت کو اپنا پروگرام مکمل کرنے دیں ناکام ثابت ہونے پر اگلے انتخابات میں اسے باہر کا راستہ دکھا دیں. خواہشات پر حکومتیں گرتی نہیں ہیں ہاں البتہ کمزور ہو جاتی ہیں. کمزور حکومتیں قوم کی خدمت کرنے میں ناکام ثابت ہوتی ہی۔خدارا مرضی کا سچ ٹھونسنے کی روش سے گریز کریں۔

5 thoughts on “Marzi ka Such Tthonsnay ki Rawash

  • May 16, 2016 at 8:52 am
    Permalink

    بہت خوب ارشد۔ ویسے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایسے بیانیے ترتیب دینے والوں کا ریموٹ کنٹرول ہمیشہ سے ایک کونے میں پڑا ملتا ہے۔ جہاں تک جنرل مشرف اور انتہاپسندی کا تعلق ہے تو اب تو شاید اس بات بات میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ وہ موصوف خود سے ڈبل گیم کرنے کے عادی تھے۔ انتہاپسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اس بات کا خیال بھی رکھا جاتا تھا کہ کاروائی بھی پڑجائے، کولیشن سپورٹ فنڈ کا بل بھی کلئری ہوجائے اور اثاثوں کا نقصان بھی نا پہنچے۔ ویسے مزے کی بات ہے کہ جنرل مشرف کا بوریا بستر لپینٹنے کی گیم لگانے والے بھی کیانی ہی تھے جو کہ خود بھی ان اثاثوں کی رکھوالی کرتے رہے چھ برس تک۔ ویسے ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ کبھی بھی بڑے صاحب کی شان میں کمی نا آنے دی جائے۔ جیسا کہ اب یہ تو کہا جارہا ہے کہ راحیل شریف نے خود توسیع نا لینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن کوئی بھی اس کے محرکات کی بات نہیں کرتا ۔۔۔ حالانکہ شکریہ راحیل شریف کرنے والوں کی اکثریت نا تو ان کی نامزدگی پر خوش تھی اور نا ہی اب تو ان کے حکومت گرانے میں ناکامی پر خوش ہے

    Reply
  • May 16, 2016 at 10:57 am
    Permalink

    خدا را پاکستان سے پیار کیجیے اچھے یا برے کا فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کو دیں. دو چار انتخابات بروقت ہو جانے پر گندے سیاست دان انگلیوں پر گننے کے قابل ہو جائیں گے. حکومت کو اپنا پروگرام مکمل کرنے دیں ناکام ثابت ہونے پر اگلے انتخابات میں اسے باہر کا راستہ دکھا دیں. خواہشات پر حکومتیں گرتی نہیں ہیں ہاں البتہ کمزور ہو جاتی ہیں. کمزور حکومتیں قوم کی خدمت کرنے میں ناکام ثابت ہوتی ہی۔خدارا مرضی کا سچ ٹھونسنے کی روش سے گریز 👍کریں۔

    Reply
  • May 18, 2016 at 3:21 am
    Permalink

    بہت اعلی ارشد بھائ .

    Reply
  • May 18, 2016 at 10:11 am
    Permalink

    خدا را پاکستان سے پیار کیجیے اچھے یا برے کا فیصلہ کرنے کا اختیار عوام کو دیں. دو چار انتخابات بروقت ہو جانے پر گندے سیاست دان انگلیوں پر گننے کے قابل ہو جائیں گے. حکومت کو اپنا پروگرام مکمل کرنے دیں ناکام ثابت ہونے پر اگلے انتخابات میں اسے باہر کا راستہ دکھا دیں. خواہشات پر حکومتیں گرتی نہیں ہیں ہاں البتہ کمزور ہو جاتی ہیں. کمزور حکومتیں قوم کی خدمت کرنے میں ناکام ثابت ہوتی ہی۔خدارا مرضی کا سچ ٹھونسنے کی روش سے گریز کریں
    nice lines

    Reply
  • May 21, 2016 at 5:56 pm
    Permalink

    بہت خوب لکھاہے
    پاکستان کا اصل مسئلہ یہی ہے جو آپ نے بیان کیا ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *