Riyasat Media aur Awam

پاکستان کی بدقسمتی کہہ لیں یا خوش قسمتی کہ مشرف دور میں الیکٹرانک میڈیا کو آزادی ملی،ایک ایسی مادر پدر آزادی جس نے ملک کی درو دیوار کو ایک بار جنجھوڑ کے رکھ دیا۔ گاؤں کی کہاوت ہے کہ جب کمی کے پاس طاقت آتی ہے تو وہ ظلم کی انتہا کر کے اپنی محرومیاں ختم کرنے کی کوشش کرتاہے۔ کم و بیش کچھ ایسا احوال الیکٹرانک میڈیا کا ہےجن کا سفر ایک مہم سے شروع ہوا کہ اسلام آباد کے مدرسہ میں دہشت گرد ہیں اور مشرف حکومت کچھ نہیں کر رہی اور جب مشرف نے ایکشن لیا تو مشرف کی حکومت کو ظالم اور دہشت گردوں کو مظلوم پیش کرنا شروع کر دیا۔جب سے وہ آپریشن ہوا ہے پاکستان میں دہشت گردی کی واردتیں ختم ہونے کا نام نہیں لیں رہیں۔ مختصراً وقت کے ساتھ ساتھ صحافت کا لیول اتنا گرا کہ کوچوانوں کو بھی پتلون کوٹ پہنا کر اور عینک لگوا کر پروگرام کروائے جا رہے ہیں۔ فیلڈ رپورٹنگ کی حالت یہ کہ جس لڑکی یا لڑکےسے زیادتی ہوئی ہو اس سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ آپ کیسا محسوس کر رہی/رہے ہو،یہی سوال اسکے والدین سے پوچھ کر ان کی اور تضحیک کی جاتی ہے۔فیلڈ رپورٹر حضرات کو اچھے الفاظ کے چناو کی توفیق ہی نہیں ہوتی جیسے میت کو لاش بولتے رہیں گے وغیرہ وغیرہ۔

شام چھ سے لیکر رات گیارہ بجے تک ٹی وی چینلز ماتم کرتے پائے جاتے ہیں۔اینکرز بول بول کر منہ سے جھاگ اڑا رہے ہوتے ہیں۔ان کا بس نہیں چل رہا ہوتا کہ وہ حکومتی مہمانوں کو زبح کرکے اپنی کوچوانی چھاتی پہ میڈل لگالیں لیکن ہائے رے کم بخت قسمت۔ایسا تو تب ممکن ہو جب خود کا اندر شفاف ہو۔میرا نہیں خیال ملک ریاض والا پروگرام کوئی بھولا ہوگا۔لیکن پھر بھی ان اینکرز کی ہمت یا غیرت کو داد دینی چاہیے کہ مہمانوں کو اچھے کردار کا درس دیتے ہیں انکو اخلاقیات کا سبق دیتے ہیں۔ منافقت کے مارے کم و بیش سارے میڈیا مالکان اسوقت پانچ وقت نماز پڑھ کر یہی دعا کرتے ہیں کہ الیکشن کل ہوں اور ان کے گھر گندم آئے۔انکے غریب بچوں کے پیٹ میں بھی دو وقت کا کھانا جائے،انکی آف شور بیویوں اور بچوں کے تن کے لیے کچھ کپڑے لیے جا سکے۔اس کام کوسر انجام دینے کے لیے انھوں نے رام جانے قسم کے اینکرز بھرتی کر رکھے ہیں جو مالکان،حکومت اور ان سے،تینوں سائیڈ سے لفافے لیتے اور حکومت پہ تنقید کی انتہا کر دیتے اور چہروں پہ تنقید کرتے یا سنتے ہوئے بے شرمی والی مسکان بکھیرتے۔لیکن اپنا حال یہ ہے کہ سبھی کوچوانوں نے ٹویٹر پر اپنے ناقد بلاک کر کے اپنی نومولود غیرت کو تسلی دے رکھی ہے کہ ہم نیک و کار پارسا ہیں۔نوجوان نسل کو جھوٹ سچ سُنا کر خود کو دیوتا سمجھنے والے ان رام جانے قسم کے اینکرز کو جب کوئی ائینہ دکھاتا تو بلاک کر دیا جاتاہے۔

میری ذاتی رائے میں ایسے میڈیا ہاوسز میں اے آر وائے سر فہرست ہے،خدانخواستہ اگر آپ تیس منٹ مسلسل دیکھ لیں تو اپ کو یقیناً بلڈ پریشر اور ہائپر ٹینشن کی گولیاں کھانی پڑ جایئں گی۔ آج رات ایک چائے خانہ پہ بیٹھنے کا اتفاق ہوا۔قریباً پندرہ سولہ افراد کے ہجوم میں ارادتاً موضوع کا رخ میڈیا کی جانب موڑ دیا۔اے آر وائی کے بارے میں ایسی عوامی رائے سننے کو ملی جو ناقابل بیان تھی بس ایک جملہ قابل بیان لگا۔ ایک صاحب نے اینکرز کی کوالٹی پہ ارشاد فرمایا کہ اے آر وائے کہ زیادہ تر اینکر تو ہائے اللہ جی والی طبیعت کے مالک ہیں۔ تقریباً دو گھنٹے بیٹھک میں یہی نتیجہ اخذ کر سکا کہ عوام کی سبھی اینکرز بارے ایک ہی رائے تھی کہ سب ایم اے بکواسیات اور خرافات ہیں۔

ہم اگر زیادہ کشٹ نا بھی کریں اور صرف میڈیا کی اس حکومت بارے تین سال کی رپورٹنگ دیکھ لیں اور حقیقت جان لیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے اپنے کسی چینل پر اس پیارے وطن کے بارے کوئی اچھی خبر سُنی یا پڑھی ہو؟اگر پاکستان اتنا ہی مشکل ملک ہے تو چھوڑ کے چلے جاؤ کیوں اسی کے خلاف پراپگنڈا بھی کرتے ہو اور اربوں روپے بھی کماتے ہو۔اینکرز سرعام دھندوں میں ملوث پکڑے جاتے ہیں لیکن کچھ عرصہ بعد وہی اینکر اس عوام کے ہیرو بنے پھر بے وقوف بنانے کی کوشش میں مصروف ہوتے ہیں۔ پیسے کی ہوس اب تو اتنی ہو چکی کہ نوجوان تو دور کی بات وہ بوڑھے صحافی جن کی ٹانگیں قبر میں ہیں ، ہاتھ میں تسبیح ہوتی اور مالک کے نام کے راگ الاپ رہے ہوتے، اب نذیر ناجی، ہارون رشید یا حسن نثار یہ حکومت یا عوام کو کردار یا اخلاق کا درس دیں تو دل خون کے انسو روتاہے۔ اسد کھرل،روف کلاسرا،ڈاکٹر شاھد مسعود،سمیع ابراہیم،صابر شاکر،ڈاکٹر دانش، مبشر لقمان، کاشف عباسی،ارشد شریف وغیرہ یہ جید صحافیوں کا گروہ روز حکومت گرا کر اور پاکستان میں قیامت لا کر سوتا ہے اور صبح حکومت کو سلامت دیکھ کر شرمندگی میں دھول کا ناشتہ نوش کر کے دوبارہ اسی کام میں لگ جاتے،ایسے ہی محنت کرتے انہیں آج تین سال ہو گئے لیکن حاصل رسوائی شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں۔

ڈاکٹر عامر لیاقت جیسا انسان اگر آپکو دین و دنیا کے درس دے تو سمجھیں کہ آپ سے گناہ کبیرہ سر زد ہو چکا- کامران خان اگر آپکو صحافت کے تیس سال سُنائے تو جانوروں والا چینل لگا لیں۔اخر میں میڈیا کا ایک بھیانک چہرے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس میں میڈیا مالکان نے اپنے اکاونٹس میں رقمیں تو ضرور بڑھا لی ہیں مگر لوگوں کے گھر اجاڑ دیئے۔ پاکستانی معاشرہ تباہ برباد کر دیا۔ایک خاص کمپین کے تحت پہلے ون فیملی سسٹم ختم کیا گیا، پھر فریڈم اف سپیچ کی آڑ میں بے حیائی کو اتنا پرموٹ کیا گیا کہ اولاد والدین کی دسترس سے نکلتی جا رہی ہے۔ مارننگ شوز، رمضان ٹرانمشن اور اس طرح کے کئی پروگرامز معاشرہ اور انسانیت کی تضحیک کے لیے کافی ہیں میں شائد قصور وار عوام کو ہی سمجھتا ہوں کیونکہ کوئی میری مرضی کےخلاف میری پرائیوسی میں داخل نہیں ہو سکتا۔تو پھر ہم عوام نے کیسے اپنی نسلوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا اور ان خونخوار درندوں کے حوالے کر دیا۔ہمارے اباو اجداد نے ہمیں ایسے نہیں چھوڑا تھا۔ اللہ کریم ہم سب کا اور ہماری پاک سرزمین کا نگہبان ہو۔

2 thoughts on “Riyasat Media aur Awam

  • May 13, 2016 at 3:20 pm
    Permalink

    زبردست تحریر اور بہتر انداز میں انکو بےنقاب کیا ہے ماشاءاللہ اللہ پاک اور زور قلم عطا فرمائے آمین ثم آمین

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.