Perr

پیر یوں تو انسان کو چلنے کا ہنر دیتے ہیں۔لیکن اس کے پیروں میں کچھ اور ہی بات تھی۔ نہ غرور کا اظہار اور نہ مورنی کی سی چال۔مگر میں پھر بھی اسکے پیروں کا دیوانہ ہوتا چلا گیا۔میں اکثر اس کے پیروں کو دیکھا کرتا۔وہ تمام احساسات اپنے پیروں میں لیے پھرتی تھی۔شاید اسکا دل بھی اس سے ناخوش ہوگا ۔میں نہیں جانتا کے یہ پیر کیوں اس درجہ اہمیت کے حامل ہیں مگر وہ پیر تھے خاص پیر۔۔۔میں اکثر اس کے پیروں کو دیکھتا ، سوچتا اور پھر سب کچھ جھٹک دیتا۔یہ بہت پرانی بات ہے۔لڑکپن کی دہلیز کو پار کرکے جوانی کے سمندر میں اپنی ناؤ ڈالتے ہوئے کہ جب جذبات سے مغلوب ہو کر لوگ آنکھوں سے دل کے رشتے قائم کرلیتے ہیں میں بھی اس کے پیروں کے سحر میں گرفتار ہو گیا۔میں پاگل یا مجنوں نہیں تھا مگر اس کے پیر۔۔۔

میں اکثر لوگوں کے پیر دیکھتا۔پیروں سے باتیں کرتا اور ان میں وہ جاذبیت دیکھتا سیاہ پیر سفید پیر شرارتی پیر اور مہذب پیر سب دیکھے مگر کسی میں وہ کشش نہ تھی جو اسکے پیروں میں تھی۔پیروں کی جنبش سے گھنگرؤں کی چھنکار اور مورنی کی چال کو مات دیتے ہوئے پیر۔کچھ بھی تو نہیں تھے اسکے پیروں کے آگے۔۔۔خدایا یہ طلسم اس کے ہی پیروں میں کیوں رکھا!!!وہ پیر جب کسی اور کے لیے اٹھتے تو میں جل سا جاتا۔یہ حسد تھا بغض تھا انا یا محبت کی انتہا۔نامعلوم ۔۔وہ پیر صرف میرے ہیں میرے جذبات فیصلہ دیتے۔عقل جذبات کو جھنجھوڑتی ۔دیکھو وہ پیر محض تمہارے نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔میں خود پہ قابو پاتا۔آج اس سے کہتا ہوں کہ دیکھو تم ان پیروں کو کسی اور کے لیے ۔۔۔ٹھہرو ۔۔اندر سے آواز آئی۔کہو کیا کہنا ہے۔یہ پیر تمہارے ہی لیے نہی۔مجھے ضمیر پہ غصہ آیا مگر ۔۔ہاں یہ تقدیر کا فیصلہ ہے۔

میرا دماغ گھوم گیا۔یہ پیر میرے ہی نہی۔میں اپنے دل کے مزار پر خواہشوں کی شمع کو جلا کر جن پیروں کے نیچے بچھنے کے لیے تیار رہا وہ پیر صرف میرے ہی نہیں۔دیکھو میاں تمہں پیروں سے عشق ہے کہ نہی بس اپنا فیصلہ کرلو۔باقی رہے پیر۔۔تو وہ سب جانب اٹھیں گے۔

بات درست تھی مجھے تو بس اپنے عشق کا فیصلہ کرنا تھا۔پیروں کا محتاج میں تھا وہ نہی۔میرا فیصلہ تھا”ہاں”۔آنکھییں نم سی ہو گئیں۔ پیروں کے لیے۔

پیر روندتے ہیں لپکتے ہیں بھاگتے ہیں اور محبت سے اٹھتے ہیں۔ یہ سب احساسات اس کے پیروں میں تھے۔روندنے کی صفت کے سوا۔میں نے جب بھی جو بھی چاہا۔اسکے پیر وہ سب لے حاضر ہوئے۔شاید اسکی اپنی خواہشات اور اپنی زندگی کہیں انہی پیروں کے نیچے آگئی تھی۔اسکے پیروں میں تو روندنے کی صفت نہی تھی۔مگر اوروں کے لیے۔

دسمبر کی اک خنک شام کہ جب میں درد سے کراہتا ہوا آنگن میں پہنچا تو وہی پیر اک محبت کے پیکر کو خود پہ لادے ہوئے میری جانب لپکے۔ فورا مجھے اپنی باہنوں میں لیا۔اس کے ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھے۔میں تو جیسے سب کچھ بھول سا گیا۔میرے ہاتھ اسکے پیروں کا لمس محسوس کررہے تھے۔۔۔مجھے اس کے پیروں کے نقش میں کوئی دلچسپی نہیں تھی مجھے تو بس پیروں سے عشق تھا۔سُنیں۔۔!! میں گویا ہوا اور وہ متوجہ۔پیر زیادہ حساس ہوتے ہیں یا دل۔اس نے حیرت سے مجھے دیکھا جیسے میں نے کوئی عجیب بات پوچھ لی۔تم پاگل ہو وہ بولی اور چل دی۔۔انہی پیروں پر۔ہاں سچ کہا میں پاگل ہوں مگر۔۔۔۔پیروں کا۔

وقت گزرتا گیا۔زندگی کی شامیں اس کے پیروں کے سائے میں ڈھلتی گئیں۔اب وہ کافی عمر کی ہو چکی تھی اور اس کے پیر بھی۔اس کے پیروں کی رفتار تو اب پہلے کی سی نہ تھی مگر پیروں میں جھریاں اور محبت و چاہت کے احساسات مزید شدید ہوگئے تھے۔اس کے پیروں کی جھریاں درحقیقت میری محبت کی لہریں تھیں۔اس کے پیر پرانے اور میری محبت نئی ہوتی جارہی تھی۔

اب وقت آن پڑا تھا کہ میں اس کے پیروں کا حق ادا کرتا۔۔۔۔مگر اس کے پیروں کو یہ گوارہ نہ تھا کہ وہ مجھے اپنے لیے کوئی سختی جھیلتے ہوئے دیکھیں۔۔پیر دیکھتے بھی ہیں۔۔یہ پہلو تو آج مجھے معلوم ہوا۔نہ جانے اور کتنے پہلو تھے اسکے پیروں کے۔۔۔۔سچ یہ ہے کے مجھے تو کچھ پتہ ہی نہ تھا۔۔۔خیر وہی ہوا جو اسکے پیر چاہتے تھے۔مجھے ان کے لیے کوئی سختی نہیں اٹھانا پڑی۔۔۔۔خاموشی سے وہ پیر آج خاموش ہوگئے۔میری پیروں کی محبت اس کے پیروں کی قربانی سے مات کھا گئی۔۔”ماں کے پیروں تلے جنت ہے” مولوی صاحب نے اپنا آخری جملہ کہا اور تکبیر کے لیے ہاتھ اٹھا دیئے۔۔ مٹی پورے سلیقے سے ڈل چکی تھی .وہ اپنے پیروں کے نیچے جنت کے زار کو لیے جنت کی جانب چل پڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہی پیروں پر۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.