Meray bhee hain kuchh kaam

حالات کا رونا روتے رہنا ہمار ا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ ہم عوام نے حالات میں بہتری لانے کا تمام کام حکومت پر چھوڑ رکھا ہے۔ اکثر کاموں کے نہ ہونے کی وجہ وسائل کی عدم دستیابی بتایا جاتا ہے۔حالانکہ ہم عوام اگر تہیہ کر لیں تو بغیر یا معمولی حکومتی مدد سے بہت سے معاملات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
کیا اپنے بچوں، بڑوں، بزرگوں کو یہ بتانے کیلئے یا ان کو خود سے یہ سمجھنے کے لئے کہ سڑک پر کاغذ، پلاسٹک کی تھیلیاں،پھلوں کے چھلکے،پانی کی بوتلیں،پان کی پیکیں، نسوار وغیرہ نہیں پھینکنی چاہئیں، کو ئی رقم درکار ہے؟ یہ مانا کہ خدا نے انسان کو تھوکنے کی صلاحیت بھی عنایت کی ہے، مگر ہمیں سوچنا چاہئے کہ آخرہم پاکستانی اس صلاحیت کا سرعام بیجا استعمال کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
گاڑی یا موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہی ہارن پر ہاتھ رکھ دینے سے ہم کون سا میڈل جیتنا چاہتے ہیں۔ اگر صرف بسوں، ٹرکوں اور شہروں میں چلنے والی سوزوکی اور پک اپ گاڑیوں سے پریشر ہارن ہی نکلوا دئے جائیں تو شور میں کافی حد تک کمی ہو سکتی ہے۔ اگر گلیوں محلوں میں پھرتے خوانچہ فروشوں کے لاؤڈ اسپیکروں کی آواز کچھ کم کروا دی جائے تو اس سے شور کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ ہر وقت چندہ مانگتے اور لوگوں کو آخرت میں بدترین عذاب سے ڈراتے لاؤڈ اسپیکروں کے شور میں کچھ کمی آئی ہے مگر بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ بس میں سوار ہوتے وقت یا محلے کی دوکان سے افطار کے لئے سموسے خریدتے وقت قطار بنانے پر خرچ تو کچھ نہیں ہوگا مگر ہم اپنا مقصد بغیر چیخے چلائے اور دھکم پیل میں الجھے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔گاڑی چلاتے ہوئے سڑک پر اپنی لین میں رہنے اور ٹریفک سگنل پر عمل کرنے سے نا صرف ذہنی دباؤ سے بچا سکتا ہے بلکہ وقت اور ایندھن کی بھی بچت کی جاسکتی ہے۔ اس عمل سے ایمبولینس، فائر بریگیڈ، ریسکیو اور پولیس کی گاڑیاں بھی بغیر وقت ضائع کئے مطلوبہ جگہ پر پہنچ سکتی ہیں۔یقین جانئے کہ ہر طرف بکھرے گند اور کچرے سے نجات پانے، شور کو کنٹرول کرنے، قطار بنانے کی عادت اپنانے اور ٹریفک قوانین کی پابندی سے ہم نا صرف اپنا معیار زندگی بہتر کرسکتے ہیں بلکہ بہت سی ماحولیاتی آلو دگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔شرط صرف یہ ہے کہ دوسروں پر تنقید اور حکومت کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ ہم سب اپنے حصے کا کام بھی کریں۔ یقینا ہم سب میں والدین، بزرگ، بڑے بہن بھائی، محلے دار، اساتذہ اور مسجد کے مولوی صاحبان شامل ہیں۔
ہمارا معاشرہ ہیجان کا شکار ہے اور اس معاشرے کو اعتدال پر لانے اور پر سکون بنانے میں ہم سب کا ایک کردار ہے۔ محلے کی مسجد کے مولوی صاحب کو بڑے بڑے مسائل پر وعظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اپنے روز مرہ معاملات میں بھی بہتری لانے کی ہدایت کرنی چاہئیے۔ دیگر معاملات تو ایک طرف رہے آج تک مولوی حضرات تو لوگوں کو مسجد کے آداب بھی نہیں سکھا سکے۔ اکثر لوگ عجیب و غریب حلیہ و حالت بنائے مسجد میں پہنچ جاتے ہیں۔وضو کے بعد گیلے ہاتھوں پیروں کے ساتھ ادھر ادھر چھینٹے اڑاتے مسجد میں جا کھڑے ہوتے ہیں۔ نماز کے دوران بے دھڑک با آواز بلند ڈکار پر ڈکار مارے چلے جارہے ہوتے ہیں۔چند منٹ کی تاخیر برداشت نہیں ہوتی، فرض نمازختم ہوتے ہی صفوں کو چیرتے، لوگوں کو پھلانگتے پیچھے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔مسجد سے باہر نکلتے ہوئے فوراً اپنی چپل یا جوتے پہن لیتے ہیں اور دوسروں کے جوتوں کو کچلتے، آلودہ کرتے جاتے ہیں۔مگر ان تمام باتوں سے نہ تو مولوی صاحب کو کوئی غرض ہے اور نہ ہی نمازی حضرات کو۔
بچوں کی تربیت اور ان کو سمجھانے میں تو والدین اور اساتذہ کا اہم کردار ہے مگر بڑوں کو اپنی اصلاح کا کام خود ہی کرنا چاہئیے۔ معاشرے اور ماحول میں بہتری لانے کے لئے بڑے بڑے انقلابی کاموں کے لئے سوچوں میں غرق رہنے اور دوسروں کی اصلاح کے منصوبے بنانے کے بجائے ہمیں سب سے پہلے خود اپنی اصلاح کرنی ہوگی اور اس کا آغاز چھوٹے چھوٹے کاموں سے بغیر کوئی پیسہ خرچ کئے ہوسکتا ہے۔ اگر مسکراہٹ نہیں تو کم از کم چہرے پر نرمی لانے، ہر ایک کو سلام کرنے، ہر معمولی کام پر بھی دوسروں کا شکریہ ادا کرنے، نیچی آواز میں بات کرنے، لہجے میں نرمی لانے، چند لمحوں کے لئے گاڑی روک کر پیدل چلنے والوں کو سڑک پار کرنے کا موقع دینے، بزرگوں کو سڑک پار کرنے میں مدد دینے،قطار میں کھڑا ہونے، اپنی باری کا انتظار کرنے، دھکم پیل سے گریز کرنے اور اسطرح کے بے شمار کاموں کے لئے کوئی رقم خرچ نہیں ہوتی۔ اسی طرح بعض اوقات آپکی خرچ کی ہوئی معمولی سی رقم بھی نہ صرف آپ کے لئے باعث اطمینان و سکون ہوتی ہے بلکہ دوسروں میں بھی مثبت جذبات پید اکرتی ہے۔ ذرا سوچیں گاڑی میں تین، چار ہزار روپے کا پیٹرول ڈلواتے ہوئے اگر پچاس یا سو روپے پیٹرول ڈالنے والے ورکر کو بطور ٹپ دے دیئے جائیں تو اس سے ہم تو غریب نہیں ہونگے مگر اس ورکر اور اسکے لواحقین کی زندگی میں بہتری آسکتی ہے۔موٹر سائیکلوں میں دو، تین سو روپے کا پیٹرول ڈلوانے والے اگر صرف کبھی کبھار پانچ، دس روپے بھی ٹپ دے دیں تو یہ ایک نیکی ہوگی۔ یہی مثال ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں کے ویٹروں اور دیگر مہارتی اور غیر مہارتی کام کرنے والے ورکروں پر بھی لاگو کی جائے تو نیکی کا دائرہ کتنا وسیع ہوجائے۔ ہمارے مذہب نے بھی مالی اور غیر مالی ہر دو طرح کے صدقے پر بہت زور دیا ہے۔ صدقات کے فروغ سے معاشرہ بہت سی برائیوں سے نکل جائے گا اور معاشرے میں ہیجان کی جگہ سکون اور استحکام آئے گا۔

2 thoughts on “Meray bhee hain kuchh kaam

  • May 12, 2016 at 7:46 am
    Permalink

    ایک ایسی تحریر جسکا عرصے سے انتظار تھا ۔

    Reply
  • May 12, 2016 at 9:37 am
    Permalink

    زبردست جناب آغاز اگر اپنے گھر سے کیا جائے تو بہت اچھا ہے ماشاءاللہ اللہ پاک اور روز قلم عطا فرمائے لکھتے رہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *