Shehr-r-Quaid Main Inqlab ka Khel

ہم 2015 سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ سال کے آخر میں کراچی کو ایم کیو ایم سے لے کر تحریک انصاف کے حوالے کر دیا جائے گا. شاید وجہ یہ تھی کہ 2015 کے آخر میں کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہونے جارہے تھے اور پاکستانی میڈیا کے مطابق ایم کیو ایم کا جیتنا نا ممکن تھا. لیکن انتخابات کے نتائج اس کے برعکس آئے. بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے جہاں ایک طرف ایم کیو ایم کو ایک نئی زندگی دی وہاں منصوبہ بندی کرنے والوں کو اتنا مایوس کردیا کہ انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے تین مہینے کے اندر اندر کراچی میں نیا چہرہ متعارف کروا دیا اور یہ نیا چہرہ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے کراچی کے سابقہ میئر مصطفٰی کمال کا تھا. مصطفٰی کمال کی کراچی واپسی مارچ کے مہینے میں ہوئی . آتے ہی مصطفی کمال نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ الطاف حسین کس طرح سے را کی مدد سے کراچی کے حالات خراب کر رہے ہیں۔ مصطفٰی کمال صاحب ہر دوسرے تیسرے روز ٹی وی چینلز پر ایم کیو ایم کی کسی نئی وکٹ کو گرانے کی اطلاع دیتے رہتے. ان کی خوداعتمادی کا یہ عالم تھا کہ جلد ہی ایک جلسے کا اعلان کردیا اور دعوی کیا گیا کہ یہ ایک بڑا جلسہ ہوگا۔24 اپریل بروز اتوار مصطفٰی کمال اور ان کی پارٹی نے باغ قائد میں جلسے کا انعقاد کیا. ٹی وی چینلز کا بھرپور تعاون اور ائیر ٹائم ملنے کے باوجود جلسہ کافی مایوس کن رہا. سوال یہ ہے کہ 2011 میں اسی باغ جناح میں عمران خان کا جلسہ کامیاب اور مصطفٰی کمال جو کراچی شہر کے مشہور میئر رہ چکے ہیں کا جلسہ مایوس کن کیوں رہا؟ جواب کے لیے ہمیں 2011 ميں جانا ہوگا.

یہ وہ وقت تھا جب کراچی کے حالات بدترین تھے. آئے دن ایک کال پر شہر بند کروا دیا جاتا تھا. روزانہ درجنوں افراد کو موت کی نیند سلا دیا جاتا تھا. جب ہر چھوٹے بڑے تاجر کو پابندی سے بھتے کی پرچی ملتی تھی. کراچی شہر خوف و ہراس کا شکار تھا . لوگ اس وقت ایک حقیقی تبدیلی کے خواہشمند تھے اور وہ تبدیلی انہیں عمران خان میں نظر آئی اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکلے. عمران خان کو نا صرف میڈیا اور اسٹبلشمنٹ کا تعاون حاصل تھا بلکہ ایم کیو ایم نے بھی پی-ٹی -آئی کو بھر پور تعاون فراہم کیا. تحریک انصاف کے لاہور جلسے کی رونق اور موسیقی کی داستان زبان زد عام تھی اس لیے نوجوانوں کا جلسے میں جانا ایک فطری عمل تھا. یہ سارے فیکٹر ایک جلسے کو کامیاب کرنے کے لیے کافی تھے. مصطفٰی کمال کے جلسے کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ تو یہی ہے کہ جس دن مصطفٰی کمال کا جلسہ تھا اس دن کراچی میں شدید گرمی تھی اور اب وہ 2011 والا خوف نہیں رہا کہ عوام کسی کے خلاف احتجاج کرنے اتنی گرمی میں باہر نکلے. مصطفٰی کمال کراچی کی عوام کی پزیرائی حاصل کرنے میں کیوں ناکام رہے؟ اس کی وجہ میرے خیال میں یہ ہے کہ وہ شروع سے ہی کنفیوژن کا شکار نظر آئے کہ ان کے ٹارگیٹیڈ ووٹرز ہیں کونسے پرو ایم کیو ایم ووٹرز یا اینٹی ایم کیو ایم ووٹرز؟

اگر ان کا ٹارگٹ پرو ایم کیو ایم ووٹرز ہیں تو سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ آتے ہی انھوں نے ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف باتیں شروع کر دیں. وہ سپورٹرز جو ایک سال سے دیکھ رہے تھے کہ الطاف حسین کو مائنس کرنے کی باتیں ہورہی ہیں یا کراچی کو ایم کیو ایم سے الگ کرکے کسی اور پارٹی کے حوالے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے انہیں مصطفٰی کمال کی شکل میں بھی وہ ہی سازش نظر آئی . مصطفٰی کمال نے ایک کے بعد ایک ایم کیو ایم کے ممبران کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے اس تاثر کی تصدیق کی کہ ان کا مقصد الطاف حُسین کو مائنس کرنا ہے. اور اسی وجہ سے وہ ایم کیو ایم سپورٹرز جو کل تک مصطفٰی کمال صاحب کی خوبیاں گنواتے نہیں تھکتے تھے آج ان سے بدظن ہیں. ایم کیو ایم کے مخالف ووٹرز کو بھی نظر آرہا ہے کہ اصل ٹارگٹ الطاف حُسین کو مائنس کرنا ہے. اور یہ تاثر خود مصطفٰی کمال نے دیا ہے جب وہ ایک طرف الطاف حسین کو راء کا ایجینٹ قرار دے رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہ ایم کیو ایم کے کارکن کے حق میں دلیلیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ وہ معصوم ہیں اور ان سے تمام غلط کام کروانے والا شخص الطاف حُسین تھا۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے جو لوگ الطاف حسین کے حکم پہ دہشت گردی کر رہے تھے، آج تک الطاف حُسین کو اور ان دہشت گردوں کا دفاع کرتے رہے وہ کیسے معصوم ہیں ؟ مصطفٰی کمال جیسا مذاق پہلے ہی کراچی کے عوام عمران خان کی صورت میں دیکھ چکے ہیں. جب عمران خان ایم کیوایم کو برا بھلا تو کہتے تھے لیکن اسی ایم کیوایم سے کبھی دھرنے میں مدد مانگتے تھے تو کبھی ان ہی کی طرز سیاست کو اپناتے ہوئے تشدد کی باتیں کرکے پورے شہر اور کبھی پورے ملک کو بند کروانے کی باتیں کرتے تھے. چاہے مصطفٰی کمال ہوں یا عمران خان دونوں کو یہی یقین دہانی کروائی گئی کہ کراچی شہر کے اگلے شہنشاہ وہ ہوں گے اور دونوں نے ہی اس یقین دہانی پر اس طرح بند آنکھوں سے بھروسہ کیا کہ وہ زمینی حقائق بھول گئے. عمران خان انگلی والی سرکار کے لکھے ہوئے دھرنے ڈرامے میں ایسا الجھے کہ وہ کراچی کو نظر انداز کرتے رہے اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کراچی نے انہیں اتنی بری طرح نظر انداز کیا کہ اسی انگلی والی سرکار کو ان کی جگہ کراچی کے لیے نیا گھوڑا لانا پڑا اور وہ نیا گھوڑا بھی اسی طرح انگلی کے اشارے پہ چل کر اپنی بنائی ہوئی ساخت کو کھو رہا ہے جو اس نے کراچی کے میئر کے طور پر بنائی تھی. سوال یہاں پر یہ ہے کہ ہم ایم کیو ایم اور را کی باتیں تو ہم نوے کی دہائی سے سنتے آرہے ہیں اور ان کی تشدد کی سیاست سے بھی سب ہی واقف ہیں. و پھر کیوں ایک ایکس آرمی چیف پرویز مشرف نے اس پارٹی کے ارکان کو اپنی کابینہ میں شامل کیا؟ کیوں اس آرمی چیف نے اپنے دور حکومت میں ایم کیو ایم کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی نہیں کی؟ اور کیوں ایم کیو ایم کے مجرموں کو این آر او کے زریعے معاف کیا؟ مشرف دور کے بعد بھی ایم کیو ایم آرمی کے حق میں کئی بار ریلیاں نکال چکی ہے اور انہیں مارشل لاء لگانے کی دعوت بھی دے چکی ہے. لیکن کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی نہ اس وقت الطاف حُسین پر کوئی بین لگایا گیا.

کیا اس وقت پاکستان کے سیکیورٹی ادارے یہ بات نہیں جانتے تھے کہ ایم کیو ایم کے را سے رابطے ہیں یا وہ کراچی شہر میں دہشت گردی کر رہی ہے؟ اگر جانتے تھے تو کیوں کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اگر نہیں جانتے تھے تو کیا یہ اداروں پر بڑا سوالیہ نشان نہیں ؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ آج ان تمام انکشافات کا اصل مقصد کیا ہے؟ اگر الطاف حسین کو ایم کیو ایم سے الگ کرنا ہے تو اب تک کی کوشش بلکل ناکام نظر آرہی ہے. اور اگر دہشت گردوں کا احتساب کرنا ہے تو شروعات مصطفٰی کمال جیسے لوگوں سے کیجیے جو ٹی وی پہ بیٹھ کر اپنے سابقہ جرائم قبول کر رہے ہیں.
آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ پپٹ ماسٹرز اپنی انگلیوں کے ذریعے اپنی کٹھ پتلیوں کو نچا تو سکتے ہیں لیکن عوام سے اپنی مرضی کا فیصلہ نہیں کروا سکتے. ہو گا وہی جو عوام چاہے گی اور اب تک ان کے ہر منصوبے کو عوام نے اپنے ووٹ اور عمل کے ذریعے ناکام بنایا ہے. فیصلہ صرف عوام کے انگوٹھے کا….!!

10 thoughts on “Shehr-r-Quaid Main Inqlab ka Khel

  • May 11, 2016 at 11:30 am
    Permalink

    Very Informative as usual and Great Insight into Karachi Politics from up close
    Thumbs Up Ismail 👍

    Reply
  • May 11, 2016 at 11:31 am
    Permalink

    ماشاءاللہ زبردست عمدہ تحریر اور آسان الفاظ میں ہمارے مقدس لوگوں کو بےنقاب کیا ہے

    Reply
    • May 11, 2016 at 11:56 am
      Permalink

      شکریہ بھائی

      Reply
    • May 11, 2016 at 11:57 am
      Permalink

      شکریہ بھائی

      Reply
  • May 11, 2016 at 12:58 pm
    Permalink

    بہت اچھی تحریر ہے. پڑھ کر اچھا لگا.

    Reply
    • May 11, 2016 at 1:57 pm
      Permalink

      شکریہ بھائی

      Reply
  • May 11, 2016 at 2:02 pm
    Permalink

    ماشااللہ بہت اچھے تحریر

    Reply
  • May 11, 2016 at 2:14 pm
    Permalink

    بہت زبردست. اور آخری حصہ سب سے بہترین عوام اور عوام کے ووٹ کی طاقت ہی اصل طاقت

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *