Hamaray Division ka Aham Mas’ala

تحریک پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی بغیر ہتھیاروں کے وہ جنگ تھی جو دہائیوں پہ محیط تھی اس جنگ میں لاکھوں مسلمان اپنی جان سے گئے بلکہ یہ کہنا معتبر ٹھہرے گا لاکھوں مسلمانوں نے پاکستان کی بنیادوں کو اپنے خون سے سینچا۔۔۔
اور یقینا اس وقت پاکستان میں رہنے والے ہر پاکستان کے آباء نے کسی نہ کسی طرح اس جنگ میں شرکت کی۔
ہمارا تعلق بھی ایک ایسے ہی خاندان سے ہے جن کا تعلق پنجاب سے تھا لیکن اس تحریک کے ہزاروں خاموش مجاہدین میں سے ایک تھے اور مسلم لیگ سے تعلق ہمارا آج کا نہیں یہ جماعت ہماری گھٹی میں شامل ہے۔
ہماری یہ تحریر حکومت وقت پہ تنقید نہین بلکہ ان کی توجہ ایک بہت اہم مسلئے کی طرف مبذول کروانا ہے
پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اور آبادی کی تقسیم مختلف علاقوں میں مختلف ہے
شمالی پنجاب کا راولپنڈی ڈویژن، شمالی پنجاب کا سب سے بڑا ڈویژن ہے اور آبادی تقریبا تین کروڑ ہے آبادی کی گنجانی تقریبا 180 افراد فی مربع کلو میٹر ہے
پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کا ایک بڑا مسلئہ کم تعلیم یا غیر معیاری تعلیم ہے۔ گورنمنٹ سکولوں کی ابتر حالت اور پرائیویٹ سکولوں کے اخراجات بنیادی تعلیم میں کمی کے دو بڑے وجوہات ہیں۔ اگر ہم اپنا موازنہ چین جیسے ترقی یافتہ ملک سے کریں تو آزادی ہم سے بعد حاصل کرنے کے باوجود وہ ہم سے کہیں آگے ہے۔ زیادہ آبادی یا گنجان آبادی والا ملک تو چین بھی ہے لیکن چین کے صدر ماوزے تنگ نے بیس سالہ تعلیمی منصوبہ بندی کی جس کی وجہ سے چین آج سپر پاور بن گیا۔
وزیر اعلی پنجاب میاں شہبار شریف 2008 سے پنجاب کے وزیراعلی ہیں اس عرصے میں پنجاب کے خصوصا راولپنڈی ڈویژن میں آپ نے اعلی تعلیم کے لئے کوئی خاص منصوبہ نہیں بنایا۔ راولپنڈی ڈویژن میں اس وقت دو یونیورسٹیاں (پیر مہر علی شاہ ایرڈ یونیورسٹی راولپنڈی قیام 1970  ، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی1998) ایک میڈیکل یونیورسٹی ( راولپنڈی میڈیکل کالج 1974) اور ایک انجنئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا قیام 1975 ہیں۔
ان میں سے کوئی بھی اعلی تعلیم کا ادارہ پچھلے دس سال میں نہیں بنا۔
جناب شہباز شریف وزیراعلی پنجاب آپ 2008 سے وزیر تعلیم پنجاب بھی ہیں 2013 کے بعد آپ نے یہ عہدہ کسی وزیر کو دیا لیکن عملی طور پہ یہ عہدہ ابھی بھی آپ کے پاس ہے۔
آپ تو نوجوان نسل کی بہتری کے بہت دعوی کرتے ہیں لیکن جناب آپ نے اس ڈویژن میں نوجوان نسل کے لئے کونسا عملی قدم اعلی تعلیمی ادارے کی صورت میں اٹھایا؟
جناب وزیراعلی صاحب 2013 کے الیکشن میں اس ڈویژن ٹوٹل ووٹ کاسٹ 6۔2 ملین تھے جن میں 6۔1 ملین ووٹ ن لیگ کو ڈالے گے یہی نہیں جناب اس ڈویژن کی عوام نے ہمیشہ آپ کا ساتھ دیا تاریخ گواہ ہے لیکن آپ نے کیا کیا نوجوان نسل کے لئے؟
جناب بہت پیچھے نہیں جاتے آپ کی پنجاب گورنمنٹ نے سال 2015-2016 کے لئے تعلیمی بجٹ 310 ملین رکھا جبکہ وفاقی حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے لئے صرف 20,500 ملین بجٹ رکھا۔
جہلم کی آبادی 1,603,000 ہے اور خواندگی کی شرح %79 ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایک کیمپس کے لئے جگہ مختص کرنے کے علاوہ پنجاب حکومت نے اعلی تعلیم کے لئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔
چکوال کی کل آبادی 1.084 ملین ہے سوائے انجنئرنگ یونیورسٹی کے ایک کیمپس کے کوئی تعلیمی ادارہ نہیں ہے۔
اٹک کی آبادی 1.58 ملین ہے اور میڈیکل کالج کی صرف منظوری کے علاوہ کوئی اعلی تعلیمی ادارہ نہیں۔
اگر آپ اپنے تعلیمی بجٹ کا موازنہ بنگلہ دیش کے بجٹ کے ساتھ کریں تو تمام پرائیویٹ اور گورنمنٹ یونیورسٹیوں کا %95 فنڈ حکومت دیتی ہے جبکہ پاکستان میں وفاقی بجٹ کا صرف %1.67 اعلی تعلیم کے لئے مختص کیا جاتا ہے۔
ایشیئن بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان میں اتنی استعداد ہے کہ مناسب پلاننگ کے ساتھ اور وسائل کے بھرپور استعمال سے لوگوں کی استعداد بڑھائی جا سکتی ہے۔
جناب اگر آپ صوبے میں اعلی تعلیمی کارکردگی کا موازنہ دوسرے صوبوں سے کریں تو صورتحال واضع ہو جائے گی۔
رپورٹ کا مقصد تنقید برائے اصلاح ہے چونکہ ہمارا تعلق اسی خطے سے ہے اور آپ کی اس عدم توجہی کی وجہ سے براہ راست متاثرین میں سے ہیں۔ بے شک اس خطے نے ملک کے لئے بہت کام کیا اب آپ کا فرض بنتا ہے مذید کسی تاخیر کے اس مسلئے کی طرف فوری توجہ دیں تاکہ مذید عدم توجہی سے بچا جا سکے۔
چونکہ میاں صاحب آج آپ کے پاس وہ طاقت ہے جو ہماری دی گئی ہے اور آپ کو اس مقام تک اس لئے پہنچایا کہ آپ ہمارے مسائل کی طرف توجہ دیں یقینا آپ خود کو خادم اعلی کہتے ہیں لیکن اپنا مرکز صرف وسطی پنجاب کو مت رکھیں.
Pak2Rock@
اور
SairaNour@

 کی راولپنڈی ڈویژن میں اعلی تعلیم پہ حکومتی بے حسی پہ ایک رپورٹ۔

خصوصی تعاون کے لئے شکریہ

‏‎@kkabbasi  خرم عباسی
‎@_ErrorGuy  احد عباسی
‎@YawarIdrees  یارو ادریس
‎@kzadi_حنا خانزادی

7 thoughts on “Hamaray Division ka Aham Mas’ala

  • May 8, 2016 at 9:32 am
    Permalink

    بہت ہی اچھے طریقہ سے ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ مبزول کرائ ہے امید ہے ارباب اختیار اسکی طرف فوری توجہ دیں گے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہ جوڑیں یے سب کا اجتماعی مسئلہ ہے

    Reply
  • May 8, 2016 at 10:47 am
    Permalink

    بہترین تحریر اور نمبرز کے ساتھ
    اصل میں تعلیم کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی ہے
    استاد آج کے معاشرے میں اپنی عزت بچانے کی کوشش میں مصروف ہے
    تمام ڈویژنز میں تعلیم کا حال ایسا ہی ہے جیسا آپ نے بتایا، اللہ رحم کرے ہمارے حال پہ

    Reply
  • May 8, 2016 at 11:02 am
    Permalink

    بہت اچھے طریقے سے اعداد و شمار کے ساتھ اس خطے کی مجموعی صورتِ حال واضع کی ہے.ایک نہایت سنجیدہ موضوع. اللہ کرے کرتا دھرتا لوگوں تک پہنچے یہ بات.ویل ڈن

    Reply
  • May 8, 2016 at 5:27 pm
    Permalink

    اسے کهتے هیں بامقصد بامعنی اور تعمیری تنقید جس میں حکومت سے گله بھی هو اور مشوره بھی..مکمل ریسرچ کے بعد لکھا گیا اچھا بلاگ
    ????????

    Reply
  • May 9, 2016 at 2:22 am
    Permalink

    بہت اعلٰی تحریر
    اگر اس طرح لکھتے رہے تو انشااللہ ایک دن سنوائی بھی ہو گی???

    Reply
  • May 9, 2016 at 10:28 am
    Permalink

    بہت اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرائی رضا اور سائرہ نے – تھوڑا سے اضافہ یہ کرنا چاہوں گا کہ ٹیکنیکل تعلیم اور ڈپلومہ وغیرہ کے لیے ادارے بنائے جایئں – انجنیئر تو بھانت بھانت کی یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہو کر فارغ ہی پھر رہے ہیں – المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی پلاننگ کی ہی نہیں جاتی کہ اگلے دس سالوں میں کتنے انجنیئر چاہیئں ، کتنے ڈاکٹر چاہیئں اور کتنی تعداد میں دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد – بس بھیڑ چال ہے کہ ڈاکٹر انجنیئر ہی بننا ہے – کیریئر کونسلنگ ہی نہیں ہے – تعلیم دیں مگر زیادہ تر ایسی تعلیم دیں کہ بندہ اپنے پیروں پر خود کھڑا ہو سکے ، بس نوکری ہی نہ ڈھونڈتا پڑے

    Reply
  • May 9, 2016 at 2:15 pm
    Permalink

    بہت خوب. آپ دونوں نے حکومت کی توجہ ایک ایسے بنیادی ایشو کی جانب مبذول کروائی ھے جس پر توجہ دیئے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی. موٹر ویز، میٹروز کی اھمیت و ضرورت اپنی جگہ، لیکن جب تک ہم بنیادی مسائل کے حل کی کوشش نہیں کریں گے باقی سہولیات کی فراہمی ثانوی رھے گی. میاں صاحب ہم آپ کا نام انڈر پاس یا میٹرو کی افتتاحی تختیوں پر نہیں بلکہ تعلیم، صحت جیسے بنیادی مسائل کے حل کی بدولت لوگوں کے .دلوں میں دیکھنا چاہتے ہیں
    ویلڈن رضا اینڈ سارہ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *