Jo Ranj Khoodi ko

جو رَنجِ خُودی کو صلہ چاہیے اب
تو نیزے پہ سَر کو دَھرا چاہیے اب

کہ زادِ سفر جو ہو جاتے ہوئے کا
وہ لہجے میں تیرے گِلہ چاہیے اب

رہِ عشق پہ گر جو شاداں چلا ہے
تو راہی کو کوہِ نِدا چاہیے اب

جو ہَستی ہی منزل کی دُھندلا گئی ہے
تو شوقِ سفر بھی سِوا چاہیے اب

اگر مَے بھی دَستِ خرد تھامتی ہے
تو جام و سبو پھر جدا چاہیے اب

یہ زنگِ سلاسل نہیں یوں گُھلے گا
لہو شَیخ کا باصَفا چاہیے اب

جو مجھ میں مجھی کو تلاشا کرے بس
وہ ایسی ہی اُجلی صَدا چاہیے اب

دعاؤں میں مانگی بس اِک آگہی تھی
پہ تعویذِ رَدِ بَلا چاہیے اب

مزے خامشی کے بہت لے چکا ہوں
عطائے بیاں کی سزا چاہیے اب

One thought on “Jo Ranj Khoodi ko

  • May 6, 2016 at 9:59 pm
    Permalink
    مزے خامشی کے بہت لے چکا ہوں
    عطائے بیاں کی سزا چاہیے اب

    بہت خوب امتنان بھائی۔ کمال کر دیا

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *