CPEC Silk Road Phase 1

ہندوستان کے سینے سے پیدا ہونے والے پاکستان کو اگرچہ 100 سال سے کم کا وقت ہوا ہے پر چین کی مدد سے پاکستان کی سرزمین پر بننے والے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ “سی پیک” کچھ سالوں میں تخلیق نہیں کیا گیا بلکہ اس کا تصور آج سے تقریبا 2200 سال پرانا ہے”چین کو جنوبی اور وسطی ایشیاء سے ایک زمینی روڈ کے ذریعہ ایک دوسرے سے جوڑنے کا، جسے دنیا شاہراہ ریشم کے نام سے جانتی ہے۔” لیکن افسوس یہ تصور زیادہ دیر تک حقیقت کی شکل اختیار نہ کرسکا اس تصور کو حقیقت بنانے کیلئے بہت سی کوششیں مختلف ادوار میں کی گئیں،  لیکن سب کوششیں رائیگاں گئیں۔ شاہراہ ریشم کا تصور چینی ہان خاندان کی بادشاہت نے رکھا تھا۔ ہان ہادشاہت چین کی تاریخ میں ایک اہم اہمیت رکھتی ہے جس نے چین کو اپنے دور میں ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا تھا۔  ہان بادشاہت کے خاتمے کے کچھ سالوں بعد ہی یہ تجارتی راستہ بھی ویران ہوتا چلا گیا۔ بارہویں صدی میں چین کی سرزمین سے پیدا   ہونے والی نئی منگول سلطنت کے پہلے بادشاہ نےپھر سے اس تجارتی راستے کو آباد کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش میں چنگیز خان نے اس وقت کی خوارزم شاہی سلطنت (ازبکستان،  افغانستان، ایران) کی طرف 500 تاجروں کے قافلے کو تجارت اور تجارتی مراسم کی غرض سے روانہ کیا جسے خوارزم شاہی سلطنت کے صوبہ اوت کے گورنر نے لوٹ لیا اور ان کو وہاں سے ہی واپس روانہ کردیا۔ اس واقعہ کی تلافی اور تجارتی مراسم قائم کرنے کیلئے چنگیزخان نے پھر سے اپنے تین سفیر خوارزم شاہی سلطنت کے شاہ کی طرف روانہ کئے جن میں سے ایک کا سر شاہ نے باقی دو سفیروں کے ہمراہ واپس بھجوا دیا اور اس واقعے کے ساتھ ہی اس تجارتی راستے سے فائدہ حاصل کرنے کی دوسری کوشش بھی دم توڑ گئی۔ اور اس واقعے نے خوارزم شاہی سلطنت کے خلاف منگولوں کی جارحیت کو جنم دیا جس کے نتیجہ میں منگول ایشیاء کے ایک بہت بڑے حصہ پر قابض  ہوگئے۔ منگولوں کی اس خونی جارحیت کے بعد علاقے میں سیاسی استحکام کے نیتجہ پر شاہراہ ریشم کی تجارتی سرگرمیاں پھر سے آباد ہونا شروع ہوگئی پر افسوس اس تجارتی شاہراہ کے رونقیں زیادہ دیر آباد نہیں رہ سکی، یہ رونقیں ایک بار پھر سے اندورنی سیاسی انتشار اور سلطنتوں کے آپسی جھگڑوں کی نذر ہوگئی۔
اسی شاہراہ ریشم کے تصور کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے چین نے اکیسوی صدی میں ایک بار پھر سے One Road – One Belt کے نام سے سال 2013 میں اس پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ جس کا مقصد قدیم شاہراہ ریشم کو ایک نئے انداز میں پھر سے فعال اور فائدے مند بنانا ہے۔ شاہراہ ریشم کے تجارتی روٹ کی بحالی میں چین نے اپنے سب سے قریبی دوست پاکستان کو (جو کہ قدیمی شاہراہ ریشم کے ایک اہم حصہ پر واقع ہے) مرکزی اہمیت دیتے ہوئے “پاکستان چین اقتصادی رہدارای” کے نام سے سال 2015 کے شروع میں 46 بلین ڈالر کی خطیر رقم سے اس پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ جوکہ چین کے صوبے کاشغر سے ہوتی ہوئی پاکستان کے سرحدی علاقہ خنجراب سے پاکستان میں داخل ہوکر پاکستان کے مشرقی اور مغربی شہروں کو آپس میں ملاتے ہوئے پاکستان کے ساحلی علاقے گوادر پر ختم ہوگا۔ جس سے چین نہ صرف اپنی مصنوعات گلف، یورپ اور افریقہ تک بروقت پہنچاسکے گا بلکہ مستقبل قریب میں وسطی ایشیائی ریاستیں بھی اسی راستے کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک باآسانی اور کم وقت میں پہنچا سکے گا اور پاکستان بھی اسی تجارتی راستے کو استعمال کرتے ہوئے اپنی مصنوعات وسطی ایشیائی منڈیوں تک باآسانی پہنچا سکےگا۔ قطع نظر اس منصوبے کی تکمیل سے حاصل ہونے والے بیش قیمت فوائد اور مستقبل قریب میں ایشیاء کا دوسرا بڑا تجارتی مرکز بننے سے، پاکستان میں کچھ نہ سمجھ لوگ اس منصوبے کو سیاسی انتشار اور علاقائی لڑائی جھگڑوں کی نذر کرکے ایک بار پھر سے تاریخ دوہرانا چاہتے ہیں۔ سیاسی انتشار پھیلانے والے کرداروں کو سپورٹ کرنے والے افراد سے گزارش ہے ترقی کے اس سفر میں ان سیاسی انتشار پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوتے دنیا کی تاریخ کو تبدیل کرنے کے اس عمل میں شامل ہو کر ایک ترقی کرتا ہوا قائداعظم کا پاکستان حاصل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

5 thoughts on “CPEC Silk Road Phase 1

  • May 6, 2016 at 3:47 pm
    Permalink

    Very few People Knows the History of CPEC it is a very Informative Article
    & a Brilliant Analysis Keep it up

    Reply
  • May 6, 2016 at 4:56 pm
    Permalink

    بہت زبردست اور معلوماتی . ایک طلسمی خواب جیسا راستے جو اس خطے کی اقتصادی حالات ضرور بہتر کرے گا.انشاء اللہ. پاکستان کے عوام ضرور ان لوگوں کو پہچانیں گے جو اپنے مفادات کے لئے اسکی راہ میں روڑے اٹکا,رہے ہیں.بہت اچھے.

    Reply
  • May 6, 2016 at 6:35 pm
    Permalink

    CPEC is really no doubt an inspirational Project leading Prosperity & Socio Economic Development Very few People Knows History of Shahra e Resham It is an Informative Article Brilliant Analysis keep Writing !!

    Reply
  • May 6, 2016 at 9:57 pm
    Permalink

    اچھا لکھا ہے۔ لکھتے رہیئے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *