Yeh Public Sub Jaanti Hay

استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچی۔ پھر اپنا رخ طلباء کی طرف کرتے ہوئے پوچھا ‘تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے؟’ ‘یہ ناممکن ہے ‘۔ کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخرکار اس خاموشی کو توڑتے ہوئے جواب دیا۔ لکیر کو چھوٹا کرنے کے لئے اسے مٹانا پڑے گا اور آپ اس لکیر کوچھونے سے منع کر رہے ہیں۔ باقی طلباء نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظر سے طلباء کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلباء نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر ان سے حسد کیے بغیر ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر، چند منٹ میں سیکھ لیا۔

اب کلاس روم میں سیکھے ہوئے سبق کا عملی زندگی میں استعمال؛ سیاستدان کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ جب ان کے بادشاہ سلامت یا پارٹی کارکردگی پر کوئی لکیر کھینچتا ہے تو ان الزامات کو تردید یا صفائی سے مٹاتے نہیں بلکہ مخالف پارٹی کے بادشاہ سلامت کے کارناموں کی لکیر بمعہ ثبوت اس سے بھی لمبی اور متوازی کھینچ دیتے ہیں اور ستم ظریفی یہ کہ دونوں اطراف کے الزامات جھوٹے بھی نہیں ہوتے،نام نہاد اشرافیہ نے اس سبق کا استعمال ایسے کیا کہ اگر کوئی کرپشن کر رہا ہے تواس سے حسد کیے بغیر، معینہ مدت تک اس کو بدنام کیے بغیر اس سے بھی زیادہ کرپشن کر کے اس سے بھی آگے نکل جانا ہے۔آج کل کچھ گفتار کے غازی جو خود بھی صحافت میں ایسے وارد ہوئے کہ تحقیق، غیر جانبداری، حقائق اور دلیل کی لکیر کے متوازی سنسنی، زبان کے ول فریب، اور جزباتیت کی لمبی لکیر سے ریٹنگ کماتے ہیں، روز ہی ثبوتوں کے پلندے پکڑے بھرپور شو کھڑکاتے ہیں۔ اتنی کوشش کے باوجود جب حکومت نہیں گررہی تو یوکرائن، مالٹا تیونس، مصر اور برطانیہ کی مثالیں دے کر عوام کو کوستے ہیں کہ وہ ستو پی کے سوئی ہوئی ہے باہر نہیں آتی، عوام کی بے حسی پہ ٹیکس اورجوتے مارنے والا قصہ بھی سناتے ہیں ، تو جناب عوام سوئی ہوئی نہیں وہ آپ کی ایک چینل سے دوسرے چینل تک کی پٹوسیاں بھی دیکھتی ہے اور آپ کے ثبوتوں کے پلندوں والے پروگراموں کے بعد آپ پہ ہونے والے مقدمات،جرمانے اور آپ کی معافیوں کی بھی خبر رکھتی ہے۔آپ کے پلانٹڈ پراگراموں کی لیکس بھی دیکھتی ہے۔ آپ کو ملنے والے تحائف بھی پوشیدہ نہیں اس سے۔ آپ حیران ہیں کہ عوام باہر کیوں نہیں آتی کیونکہ ‘ قرض اتارو ملک سنوارو” کے نعرے پہ بنکوں کی قطاروں میں لگنا ابھی اس کے حافظے میں ہے، 2005 میں زلزلے کے بعد امدادلے کر جانا بھی اسے یاد ہے۔ وہ عدلیہ بحالی کے لیے باہر آنا بھی نہیں بھولی،( وہی عدلیہ جو منی لانڈر ملزم کی ضمانت میں تو جلدی کرتی ہے لیکن دھنیا چرانےجسے سنگین فعل بد کے ملزم کی ضمانت ایک سال بعد کرتی ہے)،اسے سردی میں کنٹینری انقلاب کے لیےکھلے آسمان تلےرہنا بھی یاد ہےاور ‘نیا پاکستان’ بنانے کی جدوجہد تو ابھی کل ہی کی بات ہے۔پبلک نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے ہمارا سیاستدان بدعنوان ہے اور اس کی ذاتی زندگی اخلاقی لحاظ سے پست ہے، وہ اس کی سیاسی ساکھ کو ان چیزوں سے علیحدہ رکھ کے دیکھتی ہے۔ مشرف،چوہدری برادران اور زرداری کی سیاسی شکست کی وجہ ان کی کرپشن نہیں بلکہ لوڈشیڈنگ، بےقابو مہنگائی، اور نقص امن تھا۔ورنہ پبلک کو علم ہے کہ ان پہ سمگلنگ کا جرم ثابت ہو، ملک توڑنے والے نقشے ملیں، سنگین غداری کامقدمہ چلے، خرد برد یا قومی دولت لوٹنے کا الزام انجام بس مفاہمت۔

اور یہ گمان کہ میاں صاحب اب کی بار برے پھنسے تو یہ خام خیالی ہے۔میاں صاحب کو معلوم ہے کہ

اک وہ ہی نہیں تنہا اس پانامہ میں رسوا

ان لیکس میں ان جیسے سیانے ہزاروں ہیں

وہ مطمئن ہیں یقین نہ آئے تو دھرنے کے دنوں کی میاں صاحب کی تمام ویڈیوز نکال لیجیے ان کی باڈی لینگویج کا موازنہ حالیہ لندن آمد و روانگی پہ میڈیا ٹاک سے کر لیں، کیا اس قدر بزلہ سنجی، بلا کا اعتماد اور چہرے پہ اطمینان تھا ان دنوں میں؟ دھرنا ختم ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ کے علاوہ 126 دنوں میں سے کسی بھی دن کوئی چٹکلہ چھوڑا تھا وزیراعظم نے؟ اب تو پانامہ پیپرز میں مزید کچھ ناموں کا انکشاف ہونے والا ہے جو ان پر لگے الزامات کی لکیر کو بغیر چھوئے اور چھوٹا کردیں گے۔

اور جن کوحکومت گرتی نظر آ رہی ہے وہ مت بھولیں کہ تمام تر تنقید کے باوجود لال میٹرو، اورنج لائن اور موٹروے کو عوامی پذرائی حاصل ہے۔ان کے علاوہ گوادر،پاک چائنا راہداری اور بجلی پیداوار کے سست منصوبے ان کی جیب میں ہیں جو اگلے الیکشن میں” سمپتھی ووٹ” کے لیے کافی ہوں گے۔

2 thoughts on “Yeh Public Sub Jaanti Hay

  • May 4, 2016 at 8:22 am
    Permalink

    ایک ایک حرف سےمتفق
    بہت درست سیاسی تجزیہ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *