Yeh Kia Baat hooee?

موضوع پر زیادہ توجہ مت دیجیے گا، یہ میرا ایک کثرت سے بولا جانیوالا جملہ ہے، لیکن ناجانے آج کل جو بھی ہوتا دیکھیں یہی کہنے کو جی چاہتا ہے “یہ کیا بات ہوئی؟”
ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ اخلاقیات ختم نہیں بس اخلاقی قدریں بدل گئی ہیں۔ سُنا ہے کوئی وقت ہوا کرتا تھا جب کسی دوسرے کا نام لیتے بھی حیا محسوس کی جاتی تھی اور ایک آج کل کا “سو کالڈ ایڈوانس ماحول” کہ جہاں بات کا آغاز ہی “Yar” سے ہوتا ہے۔ کچھ بہت با تہذیب لوگ بھی ان الفاظ کا استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر یقین مانیں اُن لوگوں میں ان الفاظ کے معانی اور مطالب بہت واضح ہو چُکے اور وہ اتنا عرصہ ایک خاص فاصلے پر رہ کر گُزار چُکے ہیں کہ کسی گھٹیاپن کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے؟؟؟ لیکن ہمارے ہاں ایک مسئلہ پایا جاتا ہے کہ “ووہٹی دا منہ لال اے تے اپنا چپیڑاں مار کے کر لو” ۔۔۔ جو دیکھا بس اُس کو اپنانا شروع کر دیا، بغیر معاملے کے سیاق و سباق کو جانے! کیا یہ عقل مندی ہے؟
یہ عادات ہمارے مڈل کلاس گھرانوں میں زیادہ ہی پائی جاتی ہیں، جو نہ اِدھر کے ہیں نہ اُدھر کے۔ معاملہ ایک لفظ کا نہیں وہ تو تمثیلاً عرض کر دیا، بات یہ ہے کہ الفاظ اور رویوں کے چناؤ میں احتیاط بہت لازم ہو گئی ہے۔ ایک بار ہم نے “کمیونیکیشن سکلز” کے مضمون میں ایک اصطلاح پڑھی تھی جس کو “You Attitude” کہا جاتا ہےکہ بات کرتے ہوئے وصول کنندہ (Receiver) کی ذہنی سطح کو مدِ نظر رکھیں، کیا معلوم کہ آپکی کسی ایک بات پر وہ ایسی کہانی گھڑ لے کہ پھر جان چھڑانا مشکل ہو جائے۔
اسکی سادہ سی مثال کچھ یوں سامنے آئی کہ کچھ دن قبل ایک خبر سُننے کو ملی کہ ایک لڑکی نے جہانِ فانی سے جبراً کوچ کرنے کی کوشش کی پھر پتہ چلا کہ اُس کو کچھ طبیبوں کی مدد سے جبراً روک لیا گیا، میرا کچھ Interest بڑھا تو میں کچھ تحقیق کی ٹھانی تو معلوم ہوا اُس خاتون کا کسی جوان کے ساتھ “ڈیجیٹل رشتہ” چل رہا تھا، اور جوان نے یہ کہہ کر جان چُھڑانا چاہی کہ “میں تو تُم کو صرف ایک دوست سمجھتا تھا”، لڑکی کی بڑی بہن نے اُس سے اِس انتہا تک جانے کی وجہ پوچھی تو وہ صاحبہ کچھ یوں گویا ہوئیں: “باجی تانو پائین ‘یار’ کہندے نیں ، اے وی مینو یار کہندا سی میں کیا اے مینو پیار کردا اے” اِس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے: “کیونکہ تمہارا شوہر تم کو یار کہتا تھا، یہ بھی مجھے یار کہتا تھا تو مجھے لگا یہ مجھ سے پیار کرتا ہے” اور بس ۔ یہی اُس خاتون کی اُن صاحب بہادر کے خلاف پہلی اور آخری دلیل تھی۔

جہاں تک میری ناقص رائے ہے، ہمارے تعلیمی اداروں میں موجود اساتذہ کو زیادہ فکر اپنی آمدن بڑھانے کی ہے نہ کہ اُن “مقدروں کی ماری” پچیوں کی تربیت کرنے کی کہ جو حالات کے تھپیڑے کھا کر کسی سرکاری ادارے میں آن پڑی ہیں۔ کچھ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ان معاملات پر بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ بچوں سے ایسی باتیں کیسے کی جائیں، لیکن یقین مانیں اگر سکولوں اور کالجوں میں بچیوں کی یہ تربیت کی جائے کہ “شادی ایک دوسرے کا نمبر ملنے سے نہیں، دو خاندانوں کے دماغ ملنے سے ہوتی ہے” تو کافی افاقہ کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ لیکن ہم تو جن جن Co-Education اداروں میں شرفِ تعلیم حاصل کر چُکے ہیں، وہاں استانی صاحبہ کو کچھ پڑھانا آئے نہ آئے، بچیوں سے اپنی تعریف سُن کر پھیلنا ضرور جانتی ہونگی۔
زمہ داری تو والدین کی بھی ہے جو بہت سخت ہونے کا دعوی تو کرتے ہیں مگر اُنکی بیٹی کس طرح اپنی زندگی تباہ کر رہی ہوتی ہے ، خبر ہی نہیں! بچوں کی زندگی میں آسانی مال ہی سے نہیں آتی، اُنکو وقت دینے سے بھی اُنکے مسائل حل ہوتے ہیں اور زیادہ مسائل کو پیسے کی نہیں وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت سے لوگوں کی اولاد اس وجہ سے بگڑ جاتی ہے کہ
“او! مال نوں تے ٹائم دیندے نے،،،بال نوں ٹائم نہیں دیندے”
بچیوں کی تربیت میں ماں کا کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے، جن گھروں میں پورے محلے کے مردوں کو بھائی بنانے کا رواج ہوتا ہے، ایسے معاملات اُن گھروں میں زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ خیر ان معاملات سے کون ناآشنا ہے؟؟؟
ہمارے معاشرے میں ایک اور مسئلہ جو اسی کے قریب قریب ہے وہ یہ کہ ذیادہ تر معاملات میں خواتین کا قصور پچاس فیصد اور کچھ میں سو فیصد تک ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں کا ماحول کچھ اس انگریزی محاورے کا مصداق ہے
1. Females are always right…
2. If they’re not right???
Reread the first statement!!!
ہر معاملے میں مرد کو قصور وار ٹھہرا دینا بھی کہاں کی عقل مندی ہے؟؟؟ حد سے بڑھی ہوئی کچھ خواتین اپنے “خاتون” ہونے اور اسی Perception کی وجہ سے جو لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ گیا ہے، سے فائدہ اُٹھاتی اور بلیک میل تک کرتی ہیں۔ کبھی اگلی بار کچھ لکھا تو ضرور اس موضوع پر قلم اُٹھاؤنگا۔

One thought on “Yeh Kia Baat hooee?

  • May 5, 2016 at 6:58 pm
    Permalink

    Good work bro
    Keep writing..

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *