Nawa-e-Dill

میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا سب سے”دلچسپ و عجیب” رشتہ ہوتا ہے تهوڑا تهوڑا غریب بهی چونکہ فی زمانہ بیویاں “ڈاھڈی” بھی ہیں اور حقوق نسواں بل بھی پاس ہو گیا ہے اس لئے معاشرے میں بیویاں زیادہ طاقت ور “گروہ” بن گیا ہے اپنے معاشرے کا تجزیہ کرنے کے بعد زیادہ ہمدردی کا حقدار “میاں یا شوہر” ہے لیکن تمام میاں ایک جیسی خصوصیات کے حامل نہیں ہوتے……
جی ہاں پڑھ کر حیران مت ہوں میاوں یا شوہروں کی بهی اقسام ہوتی ہیں مثلاً…..
مسکین میاں
بے جان میاں
بهیگی بلی میاں
پرہیزگار میاں
اور جنتی میاں وغیرہ وغیرہ …….

ان میں سے مسکین میاں پہلی قسم ہے جس کا تناسب معاشرے میں زیادہ ہے اس میاں کی پہچان یہ ہو گی کہ شکل دیکھ کر ہی ہمدردی ہونے لگتی ہے چونکہ اس میاں کا کھانا پینا بیوی کی موجودگی میں حلق سے نیچے نہیں اترتا اس لئے بیوی کے سامنے لاغر دکهائی دیتا ہے مسکین میاں کو عام طور پر “رن مرید” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے یہ کبھی بیوی سے آگے نہیں چلتے دو قدم پیچھے ہی رہتے ہیں شاپنگ کے دوران شاپر اٹھانے کی ذمہ داری بھی مسکین میاں کے ہی سپرد ہوتی ہے دوستوں کی محفل میں بھی اگر کوئی ان کی بیوی کو ہٹلر کہہ دے تو فورا کانوں کو ہاتھ لگا کہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور بے اختیار بولتے ہیں اے اللہ گواہ رہنا میں نے کوئی بات نہیں کی۔
ایک اور قسم بے جان میاں کی ہے ان کی پہچان یہ ہے کہ ماں باپ، بہن بھائی اور باقی خاندان کے لوگوں کے حقوق کا انہیں نہیں پتہ ہوتا گهر میں ایسے ہوتے ہیں جیسے صوفے پر پڑی ہوئی بے جان چیز “بے جان میاں” بولتے نہیں اگر کبهی شازو نادر آواز نکل آئے تو ایسا لگتا ہے بہت دور سے کوئی منمنا رہا ہے انہیں یہ کہہ کر چپ کروا دیا جاتا ہے کہ ” تم چپ کرو جی تمہیں کیا پتا ” ان میاں کی پہچان یہ کہ ان کے پاس موبائل سیٹ نہیں ہوتا جب آواز ہی نہیں نکلنی تو موبائل کی کیا ضرورت؟
ایک اور قسم ” ڈرپوک میاں ” کی ہے اگر آپ انہیں گهر سے باہر کسی محفل میں دیکهیں تو ان سے بڑا “پهنے خان” کوئی نہیں لیکن گهر کے اندر ان کی “چوں چاں” کی آواز تک نہیں نکلتی ان کی پہچان یہ ہے کہ یہ آپ کو کبهی اپنے گهر نہیں بلائیں گے اگر کبهی ضروری کام کے سلسلے میں آپ ان کے گهر چلیں جائیں تو یہ آپ کو گهر سے “بہت دوررررر” لے جائیں گے ان کی جیب میں چائے کے بھی پیسے نہیں ملتے۔
اگلی قسم ” بھیگی بلی میاں ” کی ہے زیادہ بہتر ہو گا انہیں ” بھیگا بلا ” کہا جائے تو جناب دیکھنے میں یہ مسکین نہیں لگتے عادات میں بھی “رن مرید” نہیں ہوتے خصوصیت ان کی یہ ہے کہ ہر وقت شرمندہ شرمندہ رہتے ہیں ٹیڑھی آنکھ سے بیوی کو دیکھتے ہیں لیکن جب بیوی کی نظر پڑے تو فورا نیچے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں چونکہ یہ اونچا بول نہیں سکتے اس لئے منہ ہی منہ میں بڑبڑانا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
ارے جناب آپ کیوں فکر کرتے ہیں آپ ہی کا ذکر ہونے والا ہے دیکھیں میرے یہ بھائی شکل سے ہی بیچارے لگتے ہیں بیچارے جہاں لڑکی پر لائن مارنے لگتے ہیں بیوی آن پہنچتی ہے بیچارے کے اندر “ٹھرک کوٹ کوٹ” کے بھری ہے لیکن مجال ہے ان کی بیوی انہیں انکی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے دے بیچارے دکھوں کے مارے ان کی قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں پانچ عدد سالے بھی ہیں ان جیسے بہت سے بیچارے شوہر ہیں جن کے سالوں کی تعداد کم زیادہ ہو سکتی ہے۔
انہی کے لئے اقبال صاحب نے فرمایا تھا
“پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ”
پرہیزگار اور جنتی میاں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا بس زندہ رہے تو پرہیزگار مر گے تو جنتی اللہ اللہ خیر صلہ…شادی کے ایک سال بعد ہی ان کی تمام حسیات سلب کر لی جاتی ہیں چونکہ ان کے پاس راہ فرار نہیں ہوتی سوائے پرہیزگاری کے تو سر پر ٹوپی پہنے رکھتے ہیں وجہ پرہیزگاری نہیں بیوی کی جوتیوں سے بچنے کے لئے۔

ایک خاص قسم کے شوہر بھی ہوتے ہیں جنہیں ” ناعاقبت اندیش میاں ” کہا جاتا ہے ان کی زندگی اچھی خاصی بیچارگی سے گزر رہی ہوتی ہے کہ اچانک انہیں بدعا لگ جاتی ہے اور یہ اپنی کسی ٹھرک کے ہاتھوں مجبور ہو کر دوسری شادی کر لیتے ہیں گھر ہمیشہ جنگ عظیم دوم کی یاد تازہ کرتا رہتا ہے آپ کے کسی دوست کے اگر کپڑے میلے ہیں اور ان کے بال بگڑے ہوئے ہیں اور آنکھوں میں سرخ ڈورے نظر آ رہے تو رکیئے آزما لیں انہیں سونے کے لئے ایک بیڈ دیا جائے اگر یہ ندیدوں کی طرح بیڈ پہ چھلانگ لگا کہ پانچ سیکنڈ میں سو جائیں تو سمجھ جائیں ۔آپ کا یہ دوست “دوسری بار” شادی شدہ ہے
یہ جو صاحب آپ کے ساتھ بیٹھے آپ پر ہنسے جا رہے ہیں ان کی سنیئے…… بیوی کے اوپر رعب رکھتے تھے کہ اچانک انہوں نے اپنی اصل تنخواہ بھی بیوی کو بتا دی اور ٹویٹر اکاونٹ کا پاس ورڈ بھی آج کل گھر میں کپڑے دھوتے اور برتن مانجتے دیکھے گئے ہیں کم عقل شوہر ۔ ۔ !
اب وہ تمام حضرات جو غیر شادی شدہ ہیں شوہروں کی دردناک زندگی کا احوال سن کے دو گروپوں میں بٹ گئے ہیں
ایک وہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ” ہنہہ! یہ مرد ہے ہی کمزور دنیا دیکھے گی کہ ہم بیوی کو کیسے رکھتے ہیں تو جناب آپ کے لئے سادہ سا اک دل جلے شوہر کا جواب
تیری تحویل میں آنے سے زرا پہلے تک
ہم بھی اس شہر میں عزت سے رہا کرتے تھے
ہم بگڑتے تو کئی کام بنا کرتے تھے
اور اب تیری سخاوت کے گھنے سائے میں
ہم خلقت شہر کو زندہ تماشہ ٹھہرے…….
۔ دوسری قسم ان کنواروں کی جو اب شادی کے نام سے ڈر گئے ہیں تو جناب….. بس !!!! اتنی ہمت تھی؟

6 thoughts on “Nawa-e-Dill

  • May 2, 2016 at 8:28 am
    Permalink

    ماشاءاللہ زبردست عمدہ تحریر الفاظ نہیں مل رہے تعریف کے لیے

    Reply
  • May 2, 2016 at 9:23 am
    Permalink

    بہت اچھی تحریر بہت ہی گہرہ مشاہدہ ???

    Reply
  • May 2, 2016 at 11:08 am
    Permalink

    بہت اعلی۔۔۔۔۔ شادی شدہ اور کنواروں ۔۔دونوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا

    ہاہاہاہا

    Reply
  • May 2, 2016 at 12:15 pm
    Permalink

    دن کا آغاز نہایت ریفریش تحریر سے ہوا ،نہایت ہی عمدہ اور چلبلی تحریر۔۔۔۔۔۔لکھتے رہیئے

    Reply
  • May 2, 2016 at 2:38 pm
    Permalink

    ماشااللہ بہت اچھی تحریر ??

    Reply
  • May 2, 2016 at 8:33 pm
    Permalink

    بہت خوب
    پرہیزگاری سب سے بہتر قسم ہے
    اللہ اللہ تہ خیر صلہ

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.