Laal Pardah

طورخم بارڈر سے جلال آباد تک کا درمیانی فاصلہ تقریباً بہتر کلومیٹرز ہے۔ دونوں جگہوں کو باہم ملانے والی شاہراہ ایشیا ہائی وے ون ہے جو کہ مقامی زبان میں طورخم الارہ کہلاتی ہے جو شائد لفظ شاہراہ کا ہی مترادف ہوگا۔ طورخم الارہ علاقے کی باقی سڑکوں کی نسبت بدرجہا بہتر مگر مسلسل پہاڑی علاقہ اور تعمیر و مرمت نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ سے کٹ پھٹ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہتر کلومیٹر کا فاصلہ بھی دو گھنٹے میں طے ہو پاتا ہے۔ جلال آباد سے مشرق کی طرف یعنی پاکستان کے طورخم بارڈر کی جانب تقریباً پینتیس کلومیٹر سفر کریں تو اسی طورخم الارہ کے اوپر خشک پہاڑوں میں گھرا ایک بارو نام کا قصبہ ہے جو کہ قریباً بارہ ہزار نفوس پر مشتمل ہوگا قصبے میں ٹرک ڈرائیورز کیلئیے چائے کے چند ایک ہوٹل، ایک چھوٹا بازار، اناج و سبزی منڈی، مویشی منڈی، طب یونانی کے حکیم اور چار افراد کی عملے پر مشتمل ایک پولیس تھانہ کی سہولت بھی موجود ہے۔
قصبے بارو کی زیادہ تر معیشت کا دارومدار طورخم اور جلال آباد کے درمیان ہونے والی قانونی اور غیر قانونی تجارتی سامان کی آمدو رفت اور قصبے میں کام کرنے والے اسلحہ مرمت کے کاریگر ہیں۔ اسکے علاوہ نواحی دیہات سے آنے والے مویشی، سبزیاں اور مٹی کی بنی حقے کی چلمیں وغیرہ ہیں۔ بارو کے جنوبی نواح میں تقریباً آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑی ٹیلوں کے درمیان اور ایک خشک دریائی گزرگاہ کے ساتھ الغ کلی نامی گاؤں ہے جہاں الغزئی نامی قبیلہ آباد ہے۔ یہ کہانی اسی الغ کلی گاؤں کی ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب امریکی اور اتحادی فوجیں طالبان کی حکومت گرا کر کابل پر قابض ہوئیں اور طالبان نے چھاپا مار کاروائیوں کا آغاز کیا۔ اتحادی فوجوں کو جہاں بھی ذرہ برابر شک گزرتا دھاوا بول دیتے۔ کسی قسم کی تحقیقات کا تکلف نہ کیا جاتا اور بسا اوقات بربریت کی مثالیں قائم کر دی جاتیں۔
گاؤں کے پاس صدیوں پرانی دریائی گزرگاہ نے پہاڑی زمین کو اس قابل بنا دیا تھا کہ وہاں کسی حد تک کاشتکاری ہو سکے۔ اسی مٹی کو گوندھ کر الغ کلی گاؤں کے چند گھرانے برتن اور چلمیں وغیرہ بناتے اور بارو کی اناج منڈی میں فروخت کرتے جہاں سے یہ جلال آباد اور اور کچھ طورخم بارڈر کی جانب بھیج دی جاتیں۔
شمشیر جان کا گھرانہ بھی اسی گاؤں کا حصہ تھا۔ جہاں وہ اپنی بوڑھی ماں، بیوی زرمینہ اور چار بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔ ستر اسی گھروں پر مشتمل گاؤں کے زیادہ تر مکان کچی مٹی کے بڑے بڑے تودوں اور سرکنڈے کی چھتوں سے بنے تھے تقریباً تمام گھروں کے دروازے لکڑی کے تختوں سے بنے اور ایک جیسے ہی دکھائی دیتے تھے۔ اکثر گھر صحن کی چار دیواری سے عاری تھے۔ گاؤں کی آبادی کوئی تین چار سو نفوس پر مشتمل ہو گی۔
الغزئی قبیلہ کے لوگ اپنے قبائلی رسوم و رواج پر عبادت کی حد تک یقین رکھنے والے لوگ تھے اور گاؤں کے مرد ۔ ۔ دن کے وقت اپنی بیویوں سے براہِ راست گفتگو سے پرہیز کرتے کہ اسکو انتہا درجے کی بُزدلی، بے عزتی اور زن مُرید ہونے کی نشانی تصور کیا جاتا۔ بوقت ضرورت گفتگو گھر میں موجود بوڑھوں کے توسط سے یا بلند آواز میں دوسری جانب رُخ کر کے بات کرکے کی جاتی۔ ایسے ہی خواتین بھی بوڑھوں سے بالواسطہ بات کر کے شوہر کو اپنے خیالات کا ابلاغ کرتیں اور یا پھر بچے کام آتے۔ رات کا وقت بہر حال میاں بیوی کا ہی ہوتا۔
شمشیر جان عمر میں چالیس سال کے لگ بھگ ہوگا دو سال پہلے ایک ٹانگ سے اس وقت معذور ہو گیا تھا جب بارو کی اناج منڈی سے مزدوری کر کے واپس آتے ہوئے روسیوں کی بچھائی ایک بارودی سُرنگ پر پاؤں آنے سے اسکی ٹانگ اُڑ گئی اور وہ شدید زخمی ہو گیا تھا وہ تو بھلا ہو پاس سے گذرنے والے دیہاتیوں کا کہ وہ اس کی خون آلود باقی ماندہ ٹانگ کو کس کر باندھ کر گدھے پر ڈال کر واپس بارو لے گئے جہاں ایک حکیم نے گرم تیل سے جلا کر بہتا ہوا خون روکا۔ شمشیر جان کئی ماہ بستر سے اٹھنے کے قابل نہ ہو سکا تھا۔ تب سے گھر کی ذمہ داری مسلسل زرمینہ کے کاندھوں پر آ پڑی تھی۔ زرمینہ بتیس سال کی ایک خوب رو عورت تھی۔ سرُخ سفید رنگت، سُرمئی آنکھیں اور کالے بال جنہیں وہ باندھ کر رکھتی، نہایت جفاکش ، وفا شعار اور خاموش طبع، خاوند سے محبت کرنے والی عورت تھی۔ سارا دن جلال خان طالبانی کے کھیتوں میں دوسری عورتوں کے ہمراہ کام کرتی، شام کو جو مزدوری ملتی اس سے دال آٹا اور کچھ ضرورت کی دیگر چیزیں لے آتی۔ جلال خان طالبانی الغ کلی میں استحصالی قوتوں کا مظہر تھا جس نے خود کو گاؤں میں طالبان کا نمائیندہ مشہور کر رکھا تھا۔ سارا دن گاؤں والوں سے کھیتوں میں پوست کی کاشت کرواتا اور مزدوری برائے نام دیتا۔ طالبان کے نمائیندے جب بھی پوست کی فصل تباہ کرنے آتے یہ انکی خاص دعوت کرتا دنبے بھونے جاتے اور جاپانی ٹیپ ریکارڈر جو کہ اس نے شمشیر جان کے سالے اور زرمینہ کے بھائی ٹرک ڈرائیور زمرد جان سے پشاور سے منگوائی تھی پر گانے لگاتا، اُس دن گاؤں کے تمام خوبرو لڑکوں کو جلال طالبانی کی حویلی میں حاضر ہونے کا حکم ہوتا۔ اگلی صبح طالبان نمائیندے واپس چلے جاتے اور پوست کے کھیت تلف کرنے کا کسی کو خیال تک نہ رہتا۔ خیال تھا کہ طالبان کی اعلٰی قیادت دور دراز علاقوں میں وقوع پذیر ہونے والی اس قسم کی صورتحال سے بے خبر تھی۔
زرمینہ دن بھر کھیت میں کام کرتی مگر ذہن شمشیر کی طرف ہی لگا رہتا، زرمینہ شمشیر سے بے انتہا محبت کرتی تھی یہی وجہ تھی کہ اکثر شمشیرجان اسے تھپڑ بھی مار دیتا تو وہ خاموشی سے برداشت کر جاتی۔ کام کی دوران بھی شمشیر جان کے بارے میں ہی سوچتی رہتی کہ رات آئے گی تو شمشیر سے فلاں بات کہے گی یا پھر شمشیر سے فلاں فرمائش کرےگی۔ زرمینہ اگر شمشیرجان کے علاوہ کوئی دوسری بات سوچتی تو اپنے کمرے کی کھڑکی کے بارے میں سوچتی رہتی جس پر ایک عدد پردہ اسکی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بن چُکی تھی۔
رات کو جب میاں بیوی اکٹھے ہوتے تو لاشعوری طور پر زرمینہ کا دھیان اس کھڑکی کی طرف لگا رہتا اُسے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے کھڑکی میں سے کوئی جھانک کر اُن کی تنہائی میں مُخل ہوا چاہتا ہے۔ نہ جانے اسکے زہن نے کہاں سے اس کھڑکی کیلئیے لال رنگ کے شنیل کے پردےکا تصور کر لیا تھا۔ کھیتوں میں کام کرتے ہوئے بھی اپنے محبوب اور شوہر شمشیر جان سے دھیان ہٹتا تو لال رنگ کے پردے کا تصور اسکو بہت خوشی دیتا۔ زرمینہ اکثر پہروں اسی کیفیت میں پردے کے بارے میں سوچتے گزار دیتی۔ اکثر خود کلامی کرکے مسکرا دیتی تو اُس کی سہیلی شاہ پری اسکو کہُنی کا ٹہوکا دے کر پُوچھتی کہ کیا بات ہے؟ زرمینہ شاہ پری کو ٹال دیا کرتی۔ شاہ پری بھی زرمینہ ہی کی طرح سُرخ و سپید رنگت کی مالک مگر عمر میں دس سال چھوٹی ہوگی۔ دونوں کے گھر بھی آمنے سامنے تھے جس کی وجہ سے دونوں میں خوب نبھتی۔ چند ماہ قبل شاہ پری کا باپ امیرجان رات کے وقت پہاڑی علاقے سے ٹارچ کو روشن کر کے گزر رہا تھا کہ اتحادی فوجوں کے ہیلی کاپٹرز نے طالبان شدت پسند سمجھ کر بمباری کر دی امیر جان اپنے گدھوں سمیت اسی وقت ہزاروں ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ گاؤں پر طویل عرصے تک خوف کی ایک فضا طاری رہی۔ خاص طور پر بچے ہیلی کاپٹر کی آواز سُنتے تو دُغ دُغ کا شور مچاتے۔
الغزئیوں کی زندگیوں میں ان کی خود پیدا کردہ حدود نے ایک دوسرے کے ساتھ ایک مخصوص فاصلہ پیدا کر دیا تھا جس سے قدرتی طور پر تشنگی میں اضافہ ہوتا اور یہ تشنگی انکی ایک دوسرےکی مخالف جنس کی جانب بے پناہ کشش کا باعث بنتی۔ الغزئی لفظ طلاق سے تقریباً نا آشنا تھے۔
دو کمروں کے کچے مکان میں رات کو سونے کیلئیے اپنی اپنی چارپائی پر دراز ہوئے تو زرمینہ نے سرگوشی میں شمشیر جان سے پوچھا کیا سوچ رہے ہو؟ شمشیر جان نے بتایا کہ جب میں بارو میں اناج منڈی میں کام کیلئیے علی الصبح جایا کرتا تھا تو جاڑے کے موسم میں سخت ترین سردی میں کام کرتے ہوئے آڑھتی کو کمرے میں بیٹھے دیکھتا تو سوچا کرتا کاش خدا اس سردی میں مجھے بھی اندر رہ کر کام کرنے کا موقع دے دے۔ اس وقت میری سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی کہ میں جیسے تیسے محنت کرکے آڑھتی بنوں گا اور شدید سردی میں اندر بیٹھ کر پیسے گننے کا کام کروں گا۔ مگر خدا کو کچھ اور منظور تھا میں تو باہر کام کرنے سے بھی گیا۔ زرمینہ نے اسے تسلی دی کہ میں جو ہوں تمھیں میرے ہوتے ہوئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔زرمینہ درحقیقت اپنے کنبے کیلئیے کسی حد تک بھی گزرنے کیلئیے تیار تھی۔ شمشیرجان اسکا مان تھا اسے شمشیر جان کی بیکاری بھی ناگوار نہ گزرتی۔ اُسے سب قبول تھا کیونکہ شمیرجان جو اُسکا تھا، صرف اور صرف اُسکا۔ چند لمحوں بعد زرمینہ نے اسے بتایا کہ وہ فیصلہ کر چکی ہے کھیتوں سے واپسی پر دو گدھوں پر مٹی بھر کے لایا کرے گی تا کہ وہ مٹی کوزہ گروں کو بیچ کر کچھ پیسے جمع کر سکے اور لال پردہ خرید سکے۔ زرمینہ نے بات مکمل کر کے شمشیر جان کی طرف دیکھا تو اسے شمشیر جان کا خراٹا سنائی دیا۔
اگلی صبح جلال خان طالبانی اپنے ساتھیوں کی ہمراہ گلی سے گزرہ تو شمشیر جان کو دیکھ کر رُک گیا اور پوچھا تمھارا بڑا لڑکا کتنا بڑا ہوگیا ہے؟ شمشیر جان نے بتایا کہ وہ تیرہ برس کا ہو گیا ہے تو جلال خان نے حکمُ دیا کہ اب اسے کام کاج کیلئیےحویلی بھیجا کرو ۔ ۔ تمھیں اسکے پیسے ملیں گے۔ یہ کہہ کر جلال خان نے چند نوٹ اس کی جانب بڑھائے جسے شمشیر جان نےدبوچ لیا اور لجاجت سے ہاتھ اٹھا کر سلام کیا۔ اب بڑا لڑکا سارا دن حویلی میں گزارتا شام کو واپس آتا تو خاموشی سے ایک کونے میں پڑا رہتا نہ کسی سے آنکھ ملاتا نہ بات کرتا۔ شمشیر جان البتہ خوشحال ہو رہا تھا۔ زرمینہ جب کام پر چلی جاتی تو وہ بیساکھی اینٹتا چوپال میں چلا جاتا اور جا کر جوئے کی محفل میں شریک ہو جاتا اب اسکے پاس اتنے روپے ہونے لگے تھے کہ وہ جوئے میں پیسہ لگا سکے۔ آہستہ آہستہ اسے جوئے کی لت لگ گئی کبھی ہار جاتا اور کبھی جیت جایا کرتا۔
ایک روز صبح جب زرمینہ کام کاج کیلئیے کھیت جا چکی تھی اور وہ چوپال جانے کیلئیے تیار ہو رہا تھا اس کی نظر کھڑکی سے سامنے والے گھر پر پڑی جہاں شاہ پری کھڑکی میں کھڑی بال بنا رہی تھی۔ شمشیر جان اور شاہ پری نے ایک دوسرے کو دیکھا نظر سے نظر ٹکرائی اور مہبوت ہو کر رہ گئے۔ شاہ پری کے گال گلنار ہو گئے جبکہ شمشیر جان کا دل بھی ایک لمحے کیلئیےحلق میں آ گیا۔ شمشیر نے سر جھٹکا اور چوپال کی جانب چل دیا۔
زرمینہ اپنا گھرانہ پالنے کیلئیے بہت محنت کرتی۔ اب وہ سارا دن کھیت میں کام کرتی پیسے وصول کر کے دو گدھوں پر مٹی لادتی اور کوزہ گروں کے ہاں بیچ کر آتی اور واپس آ کر کھانا پکا کر تمام کنبے کو کھلاتی۔ سخت محنت کے باوجود اسکی زبان پر شکایت نہ آتی۔ جبکہ شمشیر جان دن چڑھتے ہی جوئے کی محفل میں جا بیٹھتا۔
آخر خدا خدا کر کے زرمینہ اتنے روپے جمع کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ اپنے بھائی زمرد جان کو دے کر پشاور سے دو گز لال رنگ کی شنیل کا کپڑا منگوا سکتی۔ زرمینہ خیال ہی خیال میں سوچ کر نہال ہو جاتی جب کھڑکی پر پردہ ہوتا اور وہ اپنے محبوب شوہر کی باہوں میں ہوتی۔ زرمینہ کو محسوس ہوتا کہ شائد اسکی اصل ازدواجی زندگی کا آغاز ہی اب ہونے والا ہے۔ انسان کی خواہشات کا تعلق اسکے ماحول سے ہی ہوا کرتاہے اور بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی خواہشیں انسان کی کتنی بڑی خوشی کا موجب بن سکتی ہیں؟ اس کا اندازہ اسی وقت ہو سکتا ہےجب آپ خود ایسی کیفیت میں مبتلا ہوں. اور یہ کوئی ایسی انہونی بات نہیں ہے۔
اُس دن زرمینہ بہت خوش تھی بھائی زمرد جان آج پشاور کا چکر لگا کر واپس آنے والا تھا۔ شام ڈھلی تو گاؤں سے باہر ہی زمرد جان کا ٹرک دکھائی دیا۔ کام چھوڑ کر اجرت پکڑے بغیر زمرد جان کے ٹرک کے راستے میں جا کھڑی ہوئی۔ زمرد جان زرمینہ کو دیکھ بہت خوش ہوا فوراً اپنے ساتھ اگلی سیٹ پر ٹرک میں بٹھایا اور گھر کی طرف ٹرک بڑھا دیا زرمینہ نے بیٹھتے ہی لال پردے کا پوچھا زمرد جان نے ہنستے ہوئے تسلی دی اور کپڑے کا لفافہ زرمینہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ زرمینہ کی رنگت سرُخ ہو گئی اور دل زور زور سے دھڑکنیں لگا۔ اتنی سرشاری اسے ساری زندگی محسوس نہ ہوئی تھی۔ اتنی دیر میں ٹرک گھر کے قریب پہنچ گیا۔ شام کے ملگجے اندھیرے میں اسے کوئی اپنے کمرے سے نکل کر بغیر دیواروں کے صحن سے تیز تیز چلتے دیکھا۔ تھوڑا غور کیا تو اندازہ ہوا یہ تو شاہ پری تھی۔ جو دو دن سے بیماری کا بہانہ کر کے کام پر نہیں آ رہی تھی. زرمینہ کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔ اُس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ ہاتھ اور پاؤں میں جیسے جان ہی نہ رہی ہو۔ بددلی سے ٹرک سے اُتری تو پاؤں کانپ رہے تھے۔ جیسے کوئی ہارے ہوئے لشکر کا سپہ سالار ہو۔ شمشیر جان کمرے سے یوں نکلا جیسے اسکے خیال میں کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ چارپائی بچھائی اور خود اس پر بیٹھ گیا جبکہ زمرد جان کو ایک ٹوٹا ہوا مُوڑھا دے دیا۔ یہ انکے قبیلے کی روایت، غیرت اور خود اُس کی عزت کے خلاف تھا کہ سالے کو برابر بٹھایا جائے قبیلے کے اصول کےمطابق بیوی کے بھائی کو دوسرے درجے کے سلوک کا مستحق سمجھا جاتا تھا۔ زمردجان ٹوٹے موڑھے پر بیٹھ گیا۔ زرمینہ نے چارپائی پر بیٹھی شمشیر جان کی بوڑھی ماں کو مخاطب ہو کر کہا ‘اماں میں ذرا شاہ پری کو کپڑا دیکھا کر آتی ہوں’ یہ کہہ کر اس نے ٹرک کا دروازہ کھولا اور چند لمحے لگا کر کپڑے والا تھیلا نکال لیا۔ سورج غروب ہو چکا تھا۔
شمشیر جان اور زمرد جان باتیں کرتے رہے جب دو گھنٹے تک زرمینہ نہیں آئی تو انہیں تشویش ہوئی۔ اسی اثنا میں فضا میں ہیلی کاپٹرز کی آواز آئی اور بچوں نے دُغ دُغ کا شور مچا دیا۔ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور دور پہاڑی ٹیلہ بکھرنے کا شور سنائی دیا۔
اگلی صبح لوگ ٹیلے کے پاس جمع ہوئے تو انہیں چند انسانی اعضاکے علاوہ لال رنگ کے کپڑے کی کترنیں بھی ملیں۔ زمرد جان شمشیر کو ٹرک میں پڑی ٹارچ کا بھی پوچھتا پایا گیا۔ زرمینہ کبھی واپس نہیں آئی۔
۔
۔

ہزاروں کلومیٹرز دور نیویارک میں سی این این پر بیٹھا ایک تجزیہ نگار بتا رہا تھا کہ ایک کامیاب ائیر سٹرائیک کے نتیجے میں دہشتگردوں کا ماسٹرمائینڈ ہلاک ہوگیا ہے اور یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بڑی کامیابی ہے۔
۔
۔

چار ہفتوں بعد الغزئی قبیلے کے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ مرحوم امیرجان کی دختر نیک اختر مسمات شاہ پری کا عقد شمشیر جان ولد گلریز جان سے بعوض حق مہر شرعی سکہ رائج الوقت کر دیا جائے۔شادی کی رضامندی کیلیئے شمشیرجان کو صرف تین مرغیاں چیدہ چیدہ بزرگوں کو تحفے میں دینا پڑیں۔

9 thoughts on “Laal Pardah

  • May 2, 2016 at 8:49 am
    Permalink

    واہ واہ عمران صاحب بہت اچھے بہت ہی اچھی تحریر شروع سے اختتام تک بلکل جیسے باندھ کے رکھ دیا زبردست

    Reply
  • May 2, 2016 at 8:51 am
    Permalink

    شروع سے آخر تک پلک تک نہیں جھپکنے دی ماشاءاللہ بہت عمدہ بہت عرصے بعد اتنا اچھا پڑھنے کو ملا

    Reply
  • May 2, 2016 at 9:50 am
    Permalink

    اعلیٰ تحریر، بہترین افسانوی کنٹرول۔ ماشاءاللہ

    Reply
  • May 2, 2016 at 10:11 am
    Permalink

    درویش صاحب آپ تو چھا گئے ہیں
    صرف افغانستان ہی نہیں ہمارے ہاں بھی بہت سے اہم کمانڈر جن کی ہلاکت کی خبریں ٹی وی پر ہم سنتے ہیں وہ بھی کہیں نہ کہیں کوئی بے گناہ سولین ہی ہوتا ہے ورنہ علاقہ اب تک نوے فیصد سے زیادہ کلئیر ہو سکتا تھا

    Reply
  • May 2, 2016 at 11:26 am
    Permalink

    بہت خوب مُرشد ۔۔۔ اس افسانے کا مرکزی خیال بہت جاندار ہے۔ تمام کردار، حالات و واقعات محسوس ہوئے۔

    Reply
  • May 2, 2016 at 12:29 pm
    Permalink

    ایک سچائی ایک حقیقت،بہت نفاست سے تمام کرداروں کو اس طرح پرویا کہ دلچسپی کا عنصر کم نہ ہوا۔ اللہ اور زور قلم دے ۔۔۔۔۔

    Reply
  • May 2, 2016 at 4:56 pm
    Permalink

    بہت ہی اعلیٰ تحریر

    Reply
  • May 2, 2016 at 5:25 pm
    Permalink

    درویش بھائی ، منظر نگاری اور کردار نگاری دونوں ہی شاندار – بہت عمدہ

    Reply
  • May 2, 2016 at 7:04 pm
    Permalink

    کمال ہے بھیا,جی چاہ رہا تھا کہانی کبھی ختم نہ ہو بس پڑھتا جاؤں, کیا کمال افسانوی تحریر چھا گئے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *