Josh-e-Khitabat

ہمارا ایک بڑا پیارا دوست ہوتا تھا عادل،  تھا سے مراد خدانخواستہ کچھ اور نہیں بلکہ یہ کہ پچھلی ایک دہائی سے تاج برطانیہ کو پیارا ہوگیا اور حسب روایت آہستہ آہستہ رابطے منقطع ہوتے چلے گئے

یہ دوست اندرون فیصل آباد کے ایک آسودہ حال علاقے گلبرگ میں مقیم پڑھی لکھی فیملی سے تعلق رکھتا تھا – دھان پان سا گورا چٹا اور شستہ حلیہ،  نظر کی عینک لگی ہوئی –  والد صاحب کے انتقال کی وجہ سے اسے دوران تعلیم ہی کچھ عرصہ خاندانی کاروبار میں والد صاحب کی جگہ سنبھالنا پڑی – یہ ہول سیل کا کاروبار فیصل آباد کے مشہور و معروف گھنٹہ گھر کے آٹھ بازاروں کے ایک ذیلی بازار یعنی گول کریانہ میں واقع تھا وہاں پر آڑھتیوں،  پانڈیوں اور پلّے داروں کے ساتھ مسلسل رابطوں کی وجہ سے گفتار پر بھی کافی واضح اثرات مرتب ہوئے اور مروجہ قسم کی غیر شائستہ گالیاں بھی گفتار میں سابقے اور لاحقے کا لازمی جزو بن گئیں –

ایک دفعہ دوستوں میں بیٹھے پوچھا کہ یار عادل تم تو گالی دئیے بغیر نہیں رہ سکتے تو گھر میں کیسے گذارا ہوتا ہے جس پر اسکا جواب تھا کہ میں گھر پر غیر ضروری بات کرتا ہی نہیں بس ہوں ہاں سے کام چلاتا ہوں

خیر یہ سب تو محض زیب داستان کیلئے تھا اب اپنی اصل کہانی کی طرف آتے ہیں،  یہ عادل صاحب کی گریجویشن کا زمانہ تھا ایک کالج کی لڑکی کی وجہ سے ایک اور لڑکے کے ساتھ تنازعہ پیدا ہو گیا،  اتفاقاً یہ لڑکا بھی گلبرگ میں ہی تھوڑا دور مقیم تھا،  تھوڑی سی بات بڑھ گئی اب آگے کی بات عادل صاحب کی زبانی ہی سنتے ہیں

ہونا کیا تھا درجن ایک دوست اکٹھے کئے کہ آج اس لڑکے کی طرف جا کر مزہ چکھا کر آتے ہیں،  سب دوست پرجوش کہ آج نہیں چھوڑنا،  آج قصہ ختم کرکے ہی آنا ہے،  خیر جی وہاں سے پیدل ہی چل پڑے میں سب سے آگے سینہ تانے ہوئے کہ جی آج نہیں چھوڑنا،  گیٹ پر پہنچ کر بدتمیزی سے گیٹ کھٹکھٹایا،  اتفاقاً وہی لڑکا گیٹ پر آیا،  میں نے اسے تڑی لگاتے ہوئے کہا

تیری – – – اج نئیں چھڈنا

وہ بھی جواب میں غصے سے بولا

اوئے کون آں توں؟

میں نے بڑے سٹائل سے کندھے کے پیچھے ہاتھ کرتے ہوئے پیچھے والوں سے کہا

اوئے دسو اوئے ایس – – – نوں میں کون آں

کچھ دیر کوئی جواب نہ آنے پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا سب دوست کھسک چکے تھے

اسکے بعد اس لڑکے، اسکے بھائیوں اور ملازمین نے مل کر وہ مارا کہ آج تک یاد ہے

نوٹ : یہ واقعہ مجھے عمران خان کے لاہور جلسے کی حاضری اور  رائیونڈ کے گھیراؤ کی دھمکیوں کی وجہ سے نہیں یاد آیا بالکل ویسے ہی ذہن میں آگیا

10 thoughts on “Josh-e-Khitabat

  • May 2, 2016 at 1:51 am
    Permalink

    سر جی زبردست اسکو کہتے ہیں دریا کو کوزے میں بند کرنا بہت ہی اچھی تحریر ہمیشہ کی طرح منصور بھائ کے قلم سے

    Reply
  • May 2, 2016 at 2:13 am
    Permalink

    ہاہاہاہا پائین کمال واقعی دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے.

    Reply
  • May 2, 2016 at 2:14 am
    Permalink

    میں سوچ رہا ہوں کہ ایسا کیا تبصرہ کروں کہ اس تحریر کا حق ادا ہوجائے۔ بعض اوقات ایسے انوکھے فن پارے پڑھنا نصیب ہوتے ہیں جو سہ جہتی ہوتے ہیں؛ حقیقت پر مبنی، ہماے مخفی محسوسات سے قریب اور سبق آموز۔ میں اپنی کم علمی کا اعتراف کرتا ہوں کہ وہ الفاظ نہیں مل پارہے یا الفاظ کا صحیح استعمال نہیں کر پا رہا جو اس مضمون کے شایان شان ہو۔ اجمالاً اتنا کہوں گا کہ بہت خوب تحریر ہے۔

    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    آمین

    Reply
  • May 2, 2016 at 5:16 am
    Permalink

    تمثیل ہمیشہ وہی پُر اثر ہوتی ہے جو سادہ ہو، قاری کے ساتھ خود سے ’فیوی کول‘ ایسا تعلق جوڑ سکے۔۔۔
    خوب !

    Reply
  • May 2, 2016 at 5:48 am
    Permalink

    کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے, بہت اعلٰی
    ایسی تحریر آپکا ہی خاصا ہے.

    Reply
  • May 2, 2016 at 8:33 am
    Permalink

    مختصر نویسی ایک پیچیدہ فن ہے جسے کمال حاصل ہو جائے اس کے بارے میں یہی کہتے ہیں” سُنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
    `یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

    Reply
  • May 2, 2016 at 8:35 am
    Permalink

    واہ منصور بھائی بہت عمدہ

    Reply
  • May 2, 2016 at 9:39 am
    Permalink

    نہ انگلی ہے نہ گملا ہے
    ATMs کے بیچ ایک کملا ہے

    Reply
  • May 2, 2016 at 10:15 am
    Permalink

    ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا
    بہت ہی اعلیٰ

    Reply
  • May 2, 2016 at 4:15 pm
    Permalink

    ہاہاہا ۔۔ اینوں دسو میں کون آں۔۔
    بج
    بھائی جان کپتان کا بھی یہ حال ہونا ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *