Hakoomat Kamyab ya Nakaam?

کل کی بات ہی لگتی ہے جب پاکستان ہر طرف سے گمبھیر مسائل میں پھنسا ہوا تھا اور ہر طرف سے روزانہ کی بنیاد پر بری خبریں آیا کرتیں تھیں..
ایک طرف کراچی کے بدترین حالات تھے، جہاں روزانہ درجنوں افراد کو بے دردی سے راہ چلتے قتل کر دیا جاتا تھا.
دوسری طرف بلوچستان جو مشرف دور میں ہونے والے آپریشن اور نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد سے جل رہا تھا، جہاں غیر بلوچوں کو چن چن کر مار دیا جاتا تھا.
مذہبی فرقہ واریت، بم دھماکے، پانی کی طرح بہتا پاکستانیوں کا خون، ڈرون حملے، بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور گیس کی قلت اپنے عروج پر تھی.
قومی خزانہ خالی اور ملکی معیشت کا یہ حال تھا کہ پاکستان کے دیوالیہ ہو جانے کی اطلاعات زبان زد عام تھیں.
ان تاریکیوں میں 11مئی 2013 کا سورج طلوع ہوا اور اللہ کے کرم سے سے الیکشن میں مسلم لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی.
جہاں مرکز میں مسلم لیگ کی حکومت بنی، وہاں پاکستان کے چار صوبوں میں چار مختلف جماعتوں نے حکومت بنائی.
بلوچستان میں میاں نواز شریف نے اکثریت ہونے کے باوجود سیاسی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے حکومت بنانے کی دعوت نیشنلسٹ پارٹی کو دی.
اور پختونخواہ میں حکومت بنانے کے پورے مواقع ہونے کے باوجود جوڑ توڑ کی سیاست کرنے کی بجائے کھلے دل سے تحریک انصاف کا مینڈیٹ تسلیم کیا.
اندھیروں سے لڑتے کراچی کو بچانے کے لیے حکومت میں آنے کے تین ماہ کے اندر تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر کراچی میں ایک بڑے آپریشن کا فیصلہ کیا گیا.
دہشتگردی اور طالبان سے نمٹنے کے لیے ان سے پہلے مذاکرات کرنے کی حکمت عملی، اور پرامن حل کی تمام کوششوں میں ناکامی کے بعد دہشتگردوں کے خلاف سب سے بڑے آپریشن “ضربِ عضب” کا آغاز کیا گیا.
لوڈ شیدنگ کے عفریت کو قابو کرنے کے لیے مختلف منصوبوں کا آغاز کیا گیا جن کا مکمل ذکر مدثر اقبال صاحب نے اپنے بلاگ “میاں صاحب کے اگے کے لائحہ عمل” میں کیا
http://sochneykibaatien.blogspot.no/2015/04/blog-post_6.html?m=1

اگلے مہینے حکومت کے تین سال مکمل ہوجائیں گے..
آج حالات یہ ہیں کہ کراچی جہاں روز درجنوں افراد کو قتل کر دیا جاتا تھا، آج وہ دور تقریباً ختم ہوچکا اور یہ میاں صاحب کی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے.
ورنہ یہی فوج اور یہی رینجرز تھے جو ستائیس سال سے کراچی میں تھے، لیکن روزانہ 20-25 لوگ ٹارگٹ کلنگ میں مر رہے تھے.
نا صرف امن بلکہ کراچی کے ٹرانسپورٹ مسئلے کو حل کرنے کے لیے گرین بس پروجیکٹ منصوبہ شروع ہو چکا ہے.
آج کا بلوچستان ایک نیا بلوچستان ہے
جہاں پاکستان کا پرچم لہراتا ہے، روزانہ دھماکے نہیں ہوتے، غیر بلوچوں کا خون نہیں بہتا، ڈرون حملے نہیں ہوتے اور ناراض بلوچ ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہیں.
لوڈ شیڈنگ جو 2013 سے پہلے 16-18 گھنٹے تک ہوا کرتی تھی، آج 6-8 گھنٹے رہ گئی ہے.
پاکستانی معیشت کے ڈوبتے جہاز کو میاں صاحب اور اسحاق ڈار صاحب نے ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن کردیا اور بین الاقوامی ادارے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں.
قومی ذخائر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں. سٹاک ایکسچینج بہترین پرفارمنس دے رہا ہے۔ جس کی تفصیلات سے آپ کو GenialMalik@ اپنے بلاگز کے ذریعے سب کو آگاہ کرتے رہتے ہیں
https://genialmalik.wordpress.com/
پاکستان ریلویز جو تقریباً مردہ ہو چکی تھی، اسے ایک نئی زندگی دی گئی.
گوادر کا منصوبہ جو کہیں دفن ہو گیا تھا اسے حقیقت کا رنگ دیا گیا.
گیس کی قلت سے نمٹنے کے لیے قطر سے تاریخی ایل این جی درآمد کا معاہدہ کیا گیا.
پاک-چین اقتصادی راہداری جسے آج خطے میں گیم چینجر کہا جارہا ہے، وہ بھی وزیراعظم نوازشریف کا ہی کارنامہ ہے.
انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ جو ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے اس پر بھی حکومت نے بہت فوکس رکھا جس میں موٹروے، میٹرو بس اور میٹروٹرین جیسے منصوبے شامل ہیں.

یہ تین سال آسان نہیں تھے.
حکومت کے آتے ہی دھاندلی کا الزام لگا کر دھرنے اور افراتفری کے ذریعے حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی.
جس کی ناکامی کے باوجود حکومت کا راستہ روکنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں.
ہر ترقیاتی منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہے وہ پھر CPEC ہو یا LNG ڈیل، کوئلے سے بجلی بنانے کا منصوبہ یا سولر پلانٹس، سب کو ایک منصوبے کے تحت تنقید کا نشانہ بنایا گیا.
یہ وہ منصوبے ہیں جو پاکستان کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں اور انہیں ناکام کرنے کے لیے میڈیا میں منفی کیمپینز چلائی گئیں.
اس سب کے باوجود میاں صاحب ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے گئے.
پھانسی کے فیصلوں پر عملدرآمد اور خواتین کی حفاظت کا بل، یہ تمام سخت فیصلے لیتے ہوئے انہیں کبھی مذہبی انتہا پسندی کا سامنا کرنا پڑا تو کبھی لبرل کمیونٹی کی تنقید کا.
ان تمام کامیابیوں کے باوجود ہم یہ سنتے ہیں کہ میاں صاحب کی حکومت اسٹبلشمنٹ کے سامنے ہتھیار ڈال رہی ہے، بہتر ہے کہ حکومت گھر چلی جائے اور مارشل لاء لگ جائے.
یا میاں صاحب میں 90 والی بات اور سخت فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رہی.
کیا حکومت واقعی اتنی کمزور ہے؟؟
اگر ایسا ہے تو کیوں خواجہ آصف آج تک وزیر دفاع کا قلمدان سنبھالے بیٹھے ہیں؟
یہ وہی خواجہ آصف ہیں جن کو عہدے سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ کیمپین کی گئی تھی.
خواجہ آصف تو آج بھی اپنے عہدے ہر فائض ہیں اور جس پاک فوج کا ان کو غدار قرار دیا جارہا تھا اسی فوج سے سیلوٹ لے رہے ہیں.
اگر میاں صاحب اتنے ہی کمزور ہیں تو دھرنے کے دوران ہی ان پانچ چھ جرنلز کو گھر کیوں جانا پڑا جن کی ایکسٹنشن کے لیے دھرنا سجایا گیا تھا؟
یہ کمزور حکومت کس طرح مذہبی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے؟؟
کیسے ہر طرح کے پریشر کو برداشت کرکے ہمسایہ ممالک سے اپنے تعلقات ٹھیک کر رہی ہے؟
کیوں پاکستان عرب ممالک کی طرف سے پریشر ہونے کے باوجود ان کی جنگ میں شامل نا ہوا ؟؟
یہ نواز شریف کی ہی حکومت تھی جس نے ایک ڈکٹیٹر کے خلاف آرٹیکل چھ لگا کر کاروائی کرنے کی جسارت کی اور اس کو اس حد تک مجبور کیا کہ وہ بیمار ہونے کا ڈراما کرکے، جس عدالت کو مانتا نہیں تھا، اسی عدالت سے التجائیں کر کے فرار ہوا.
اگر یہ سب ایک کمزور لیڈر اور ناکام حکومت کی نشانیاں ہیں تو پھر آپ کے نظر میں کامیاب حکومت کی کیا نشانیاں ہیں؟؟
مجھے آج یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میاں نواز شریف جیسے لیڈر میں پاکستان کو مشکلات کے بھنور سے نکال کر بہت آگے پہنچانے کی صلاحیت ہے.
دانشمندی سے ‏‏حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کبھی کبھی سمجھوتہ بھی کرنا پڑتا ہے.

‏جمہوریت کی حمایت کرنے والا ہر شخص سویلین سپریمیسی کا خواب دیکھتا ہے
اور یہ خواب ہر صورت پورا ہو گا.
ان شاء اللہ ہر سازش کو جمہوری قوتیں مل کر شکست دیں گی، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ اب جمہوریت نے کامیابی کی طرف اپنا قدم رکھ دیا ہے اور ہر قدم کے ساتھ آمریت کمزور ہو رہی ہے.
ہاں آج سب کچھ ٹھیک نہیں ہے
لیکن ہاں ہم بہتری کی طرف جارہے ہیں..!!
-کام کرنے ابھی بھی بہت ہیں ہمیں
ہم کو معلوم ہے ہم کو احساس ہے
پاکستان زندہ باد ، جمہوریت پائندہ باد

12 thoughts on “Hakoomat Kamyab ya Nakaam?

  • April 30, 2016 at 11:00 am
    Permalink

    One of your Best Blogs yet
    Zabardast MashaAllah :))

    Keep up the good work?

    Reply
    • May 1, 2016 at 8:43 am
      Permalink

      Thanks a lot Dia: )

      Reply
  • April 30, 2016 at 3:37 pm
    Permalink

    بہت خوب اگر کوئی بھی عقل و شعور رکھنے والا شخص بنا کسی سیاسی وابستگی کے پڑھے تو یقین اس کو روشن پاکستان کی بنیاد نظر آجاے گٰئی ????

    Reply
    • May 1, 2016 at 8:43 am
      Permalink

      جزاک اللہ

      Reply
  • May 1, 2016 at 2:33 am
    Permalink

    زبردست کیا خوب لکھا ھے

    Reply
  • May 1, 2016 at 8:53 am
    Permalink

    Bبہت اچھے جناب اچھی تحریر

    Reply
    • May 1, 2016 at 9:01 am
      Permalink

      شکریہ بھائی

      Reply
  • May 1, 2016 at 3:45 pm
    Permalink

    اچھی تحریر ہے. اوپر دئیے گئے ایک کمنٹ کے روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ن لیگ کا ووٹر نہیں، لیکن یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس وقت حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں. کریڈٹ(کافی حد تک) ن لیگ کو جاتا ہے.

    Reply
    • May 1, 2016 at 3:48 pm
      Permalink

      شکریہ بھائی

      Reply
  • May 2, 2016 at 5:58 am
    Permalink

    بہت خوب اسماعیل، تحریر میں دن بہ دن پختگی آ رہی ہے. اچھا تجزیہ کیا ہے. لکھتے رہو

    Reply
  • May 2, 2016 at 2:41 pm
    Permalink

    بہت خوب
    ٹھنڈا پانی پی لیں ?

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.