Asool-o-Zawabit

عمومی تاثر یہ ہے کہ سیاسی امور پر لکھنے والے اور بولنے والے دانشور ہوتے ہیں.حالانکہ اس کا دانشوری سے کوئی تعلق نہیں. ایک عام آدمی ان تمام لوگوں سے اچھا سوچتا ہو گا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں اپنی سوچ کو لفظوں میں ڈھالنے کا فن نہیں آتا.اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ انہیں لکھنا نہیں چاہیے یا انہیں ٹی وی کی اسکرینوں پر حکمت تقسیم نہیں کرنی چاہیے. بس درخواست یہ ہے کہ قطعیت ترک کر دیں رائے تجزیے اور خبر میں فرق روا رکھا جائے. ہماری یہ حالت محض میڈیا یا صحافت تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تمام شعبہ ہائے زندگی میں ہمارا چلن ایسا ہی ہے. بنیادی طور پر ہم بدنظمی کا شکار ہیں. ہمارے ہاں تمام تر سہولیات تو اپنے لیے پسند کی جاتی ہیں. لیکن تمام تر سزائیں دوسرے کے لیے تجویز کرتے ہیں. وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ہی قواعد و ضوابط طے کر لیں. سیاست اور سیاست دان ہمارے ہاں سب سے زیادہ ملعون تصور کیے جاتے ہیں. ہر شخص ان پر تبرا بھیجنا اپنا فرض سمجھتا ہے. ریاست کے بنیادی ڈھانچے پر نظر دوڑائی جائے تو پارلیمنٹ، فوج، عدلیہ اس کے بنیادی ستون نظر آتے ہیں. اس کے علاوہ ابلاغ عامہ اور قوم کا مجموعی رویہ ریاست کا چہرہ ہوتے ہیں.

ذیل میں ہم تمام اداروں کا فرداً فرداً جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں. سب سے پہلے فوج کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں پاکستانی فوج نظم و ضبط کے حوالے سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے. نامساعد حالات کے باوجود ملکی دفاع کے لئے ہر وقت مصروف عمل رہتی ہے. بھارت کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے ہی ناگفتہ رہے ہیں. فوج کی موجودگی بھارتی جارحیت کو محدود رکھنے کا باعث ہے. لیکن کیا ہم اس ادارے کی کارکردگی کو مثالی کہہ سکتے ہیں؟ یقیناً اس پر جواب متضاد ہوگا. کچھ لوگ جذباتی وابستگی کی وجہ سے کارکردگی پر بحث کو ہی غداری خیال کرتے ہیں. بعض لوگوں کے نزدیک فوج پاکستان کے تمام مسائل کی جڑ ہے. حقیقت کیا ہے اس پر غیر جانبدار تجزیہ کیا ہو سکتا ہے اس کو بیان کرنے کی کوشش کروں گا. قطعیت کے ساتھ لکھنا میرے بس کی بات نہیں ہے. البتہ نتائج اور اثرات کا جائزہ لے سکتا ہوں. قیام پاکستان کے وقت فوج کو انتہائی محدود وسائل ملے تھے. پاکستان دنیا میں بھارت کی ذیلی ریاست ہی تصور کیا جاتا تھا. انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں فوج کی کارکردگی نے پاکستان کی علیحدہ حیثیت کو تسلیم کرایا ہے. گو کہ اس میں بھی بہت سی مبالغہ آرائیوں سے کام لیا گیا لیکن اوسط درجے پر بھی رکھ کر دیکھیں تو بھارت جیسی مضبوط فوج کو محدود رکھنا بھی کسی طور خراب کارکردگی نہیں کہا جا سکتا. اکہتر کی بد ترین شکست یہ سبق دینے کے لیے کافی ہے کہ فوج میدان جنگ میں ہو تو عوامی حمایت اس کا مقدر ہے لیکن اگر وہ داخلی معاملات میں الجھ جائے تو عوامی حمایت سے محرومی میں تاخیر نہیں لگتی. آدھا ملک گنوانا یہ سبق بھی دیتا ہے کہ کوئی بھی ادارہ تن تنہا سب کچھ نہیں ہے بلکہ دیگر اداروں کے ساتھ تعلقات ریاست کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں. قانونی اور اخلاقی ضابطے جن کی ہم توقع پارلیمنٹ سے رکھتے ہیں وہ دیگر اداروں کے ساتھ بھی رکھنا چاہیے. مارشل لاء کے پے در پے نفاذ نے فوج کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کو متاثر کیا ہے. لیکن کیا ہم فوج ختم کرنے کا تصور بھی کر سکتے ہیں. میرا جواب ہو گا کہ ہر گز نہیں ہم ادارے میں بہتری کے لئے ہر وقت کوشش کر سکتے ہیں لیکن اسے تلف نہیں کر سکتے. داخلی معاملات میں فوج کی مداخلت زہر قاتل ہے اس سے طالبان، ایم کیو ایم اور دیگر پرائیویٹ لشکروں جیسے وبال جنم لیتے ہیں جو بالآخر ریاست کی ناکامی کے حصے میں آتے ہیں. ہم نہ جی ایچ کیو پر حملہ آور ہو سکتے ہیں اور نہ ہی آرمی چیف کو گھر پر محصور کر سکتے ہیں. ہر ادارے کو اپنی تفویض کردہ حدود میں کام کرنے کی روش کے بغیر تہذیب یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا نہیں ہوا جا سکتا.

عدلیہ کسی بھی ریاست میں عدالت سب سے معتبر ادارہ تصور ہوتا ہے. قانون کی حکمرانی میں اس ادارے کی کارکردگی بنیادی حیثیت رکھتی ہے. پاکستان کی عدلیہ کے کردار کا جائزہ لیں تو یہاں بھی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے. نظریہ ضرورت کی ایجاد ہو یا کیسز میں غیر ضروری طوالت کارکردگی کو حوصلہ افزا نہیں کہا جا سکتا. ایک اندازے کے مطابق زیریں عدالتیں کرپشن اور رشوت ستانی کے گڑھ ہیں. عدالتوں میں بیٹھے ججز کی میڈیا ٹالکس یا سماعت کے دوران ریمارکس سے زیادہ ان کے دیے گئے فیصلے زیادہ طاقتور آواز ہوتے ہیں. لیکن کیا ہم ان ناکامیوں پر عدالتوں کو تالے لگا دیں یا متوازی عدالتیں قائم کر لیں. یقیناً یہ بھی کج فہمی ہی کہلائے گا. عدالتی نظام کی مضبوطی کیلئے سب سے پہلی کوشش ادارے اور اس کے منتظمین کو ہی کرنا ہو گی. ستر سال کافی وقت ہوتا ہے اور اس کا درست استعمال ان کی ذمہ داری تھی. عدالتوں کو پارلیمنٹ کی طرح مقفل نہیں کیا گیا. مارشل لاء کے دوران بھی اگر کچھ قدغنیں لگی ہیں تو وہ بھی ان کی جانب سے بخوشی قبول کی گئی ہیں. قوم انہیں آج بھی مزید وقت دینے کو تیار ہے. اور کوئی بھی ذی شعور شخص عدالتوں کی مستقل تالا بندی کا خواہش مند نہیں ہے.

پارلیمنٹ دنیا بھر میں سب سے مقدم ادارہ خیال کیا جاتا ہے. لیکن پاکستان میں یہ سب سے ملعون اور مظلوم ادارے کے طور پر رہا ہے. تنتیس سال سرزمین پاکستان بے آئین رہی ہے. کئی کئی سال پارلیمنٹ مقفل رہی ہے ریاست کا انتظام ایک لمبے عرصے تک پی سی او کے زیر اہتمام چلایا گیا ہے. اگر پارلیمنٹ کی ذمہ داری قانون سازی اور آئین سازی ہے تو پاکستان میں یہ واحد ادارہ ہے جسے جب موقع ملا ہے اس نے بھرپور کردار ادا کیا ہے. پاکستان میں متفقہ آئین اسی ادارے کی دین ہے. دوسرے پہلو سے جائزہ

لیا جائے تو پارلیمنٹ کا انتظامی کردار کافی مایوس کن رہی ہے. قانون کی حکمرانی اور ذیلی اداروں کی تطہیر میں یہ بھی ناکام دکھائی دے رہا ہے. لیکن ان کمزوریوں کو جواز بنا کر کیا ہم اس پر غیر قانونی اور غیر آئینی قبضے کو درست تسلیم کر لیں. کیا پارلیمنٹ کی مستقل تالا بندی کر دی جائے؟ کیا لوگوں کی کرپشن لاقانونیت پر ہم اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں؟ یا پھر انہیں بھی دیگر اداروں کی طرح وقت دیں اور پھر ان کی کارکردگی کا تقابل کیا جائے.؟ ریاست اگر ماں ہے تو پارلیمنٹ کی حیثیت باپ جیسی ہے جس کی رہنمائی کے بغیر ماں کے کمزور ہونے کا خوف ہمہ وقت لاحق رہتا ہے. حکومت ہو یا حزب مخالف سب کو پارلیمنٹ کی بالادستی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے. یوں سمجھا جائے کہ پارلیمنٹ وہ بحری بیڑہ ہے جس پر سارے سیاست دان سفر کر رہے ہیں اس کی بنیادوں میں کیے جانے والے سوراخ سب کو ڈبو دیں گے. ہم کسی صورت متوازی حکومت کے متحمل نہیں ہو سکتے اداروں کو اگر پاکستان کے مستقبل کے ساتھ دلچسپی ہے تو انہیں پارلیمنٹ کی بالادستی تسلیم کرنا ہو گی. پالیسی سازی حکومت اور سول اداروں کا اختیار ہے اگر ادارے سمجھتے ہیں کہ مناسب تبدیلی کی ضرورت ہے تو وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں اپنے تحفظات اور تجاویز سے آگاہ کر سکتے ہیں. اپنے پروردہ لوگوں کو میدان میں اتار کر حکومت کو دباؤ میں رکھنے کی کوششیں ریاست کی کمزوری کا باعث بنیں گی. پارلیمنٹ، فوج اور عدلیہ کے سامنے پہلی ترجیح مضبوط ریاست ہونی چاہیے اس کے لیے سب کو اپنے محاسبے کی ضرورت ہے.

ابلاغ عامہ کا کردار پاکستان میں شاندار رہا ہے. قومی اخبارات سے وابستہ صحافیوں نے کوڑے کھائے قید بند کی سزا کاٹی ہے اپنے مقصد کے ساتھ وابستگی ہر طرح کے شک و شبہ سے پاک رہی. اس کا مطلب یہ نہیں کہ صحافیوں میں کالی بھیڑیں نہیں ہیں یا تھیں، بہت سے قصیدہ گو تھے وقت کی مناسبت کے تمام راگ ان کی زنبیل میں موجود رہتے تھے لیکن وہ کبھی بھی معتبر نہیں تھے. وہ دور سے پہچانے جاتے تھے کہ یہ ضمیر فروش ہیں ذاتی منفعت کے لیے صحافیوں نے انہیں کبھی قبول نہیں کیا. لیکن الیکٹرانک میڈیا کے عروج کے بعد صحافت پر ایک طرح سے زوال آ گیا ہے. بہت سے مشہور اینکرز کا صحافت سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا میرا فقہ اور منطق سے ہے. بہت سے لوگ محض اپنی خوش گفتاری اور خوش لباسی کی بدولت معتبر ہو گئے ہیں. وہ بے نقاب ہوتے رہتے ہیں لیکن چسکا فروشی کی مانگ میں اضافہ کی وجہ سے لوگ جلد انہیں معاف کر دیتے ہیں. لوگ اب تو کئی پروگرامات محض تفریح کی غرض سے دیکھتے ہیں. میڈیا پر بیٹھے یہ لوگ اب خود کو طاقت کے توازن میں تبدیلی لانے کا موجب سمجھ بیٹھے ہیں اس لیے پروگرامات کی تربیت کے لئے ترجیح چسکا فروشی اور ایجنڈا کی تکمیل قرار دے دیا گیا ہے. بہت سے نامور اینکر سوشل میڈیا سے تصاویر اکٹھی کر کے پروگرام کر ڈالتے ہیں.

آخر میں ایک بات جس کا میں نے شروع میں اظہار کیا تھا کہ کوئی قواعد و ضوابط یا اصول خود ہی طے کر لیے جائیں. کیا ہم نے ریاستی اداروں یا ان سے منسلک افراد کے لیے معیار اخلاقیات رکھنا ہے، قانون رکھنا ہے، یا پھر جنگل کا قانون رکھنا ہے. ایک بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ جس اصول کو ہم دوسرے کے لیے وضع کریں اس کی چھلنی میں سے خود گزرنے کا حوصلہ رکھیں. ورنہ سب منافقت ہو گا اور ملت کا اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا

11 thoughts on “Asool-o-Zawabit

  • April 28, 2016 at 10:16 am
    Permalink
    ارشد بهائی ہمیشہ کی طرح اس باربهی بہترین تحریر اورتجزیہ فوج عدلیہ سیاست اور زرائع ابلاغ پر-
    Reply
    • April 28, 2016 at 12:18 pm
      Permalink
      بہت شکریہ جناب کوشش ہے کہ ہم ادارہ جاتی نظام کو سمجھ کر اس کی قدر کر سکیں
      Reply
  • April 28, 2016 at 10:16 am
    Permalink
    ارشد صاحب بہت اچھے ہر ایک ادارے کا بلکل صحیح اور اچھا تجزیہ ???
    Reply
    • April 28, 2016 at 12:18 pm
      Permalink
      بہت شکریہ جناب کوشش ہے کہ ہم ادارہ جاتی نظام کو سمجھ کر اس کی قدر کر سکیں
      Reply
    • April 28, 2016 at 12:20 pm
      Permalink
      اداروں کی مضبوطی کے بغیر مضبوط ریاست کا تصور ممکن نہیں. ادارے مضبوط تبھی ہوتے ہیں جب وہ آئین کے تابع رہ کر اپنی خدمات ادا کرتے ہیں
      Reply
  • April 28, 2016 at 11:17 am
    Permalink
    بہتر تحریر اور تجزیہ ڈاکٹر صاحب
    ویل ڈن
    Reply
  • April 28, 2016 at 11:34 am
    Permalink

    Excellent,
    Simply the best.

    Reply
  • April 28, 2016 at 7:51 pm
    Permalink
    بہت عمدہ
    خود پر طاری کیے ہوئے ہیجان سے چھٹکارہ پانے کو بہترین تحریر,ہمیشہ کی طرح اپنے خیالات کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر خوبصورت مالا بنا دی, جیتے رہیے
    Reply
  • April 28, 2016 at 8:02 pm
    Permalink
    بہت ہی عمدہ تحریر ہے
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
    Reply
  • April 29, 2016 at 3:31 am
    Permalink
    ہر نئی آنیوالی کاوش تحریر میں نیا نکھار لا رہی ہے، بہت عمدہ۔ لکھتے رہئیے
    Reply
  • April 29, 2016 at 11:37 am
    Permalink
    نہایت عمدہ اور دلچسپ تحریر۔۔۔۔ لکھتے رھئیے۔۔۔۔
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *