Zehani Sehat aur Jadeed Tehqeeq

حالیہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسان کی آنکھیں خیرہ کی ہوئی ہیں اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہم اپنی مشکلات پر کافی حد تک قابو پا چکے ہیں۔ تاہم تفصیلی جائزہ سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ ‘ہنوزدلی دوراست’ ۔۔

اس بلاگ پوسٹ میں انتہائی اختصار سے قارئین کو مغرب میں ذہنی امراض اور صحت پر ہونے والی جدید تحقیق سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرہ کی خصوصیات (یا دم توڑتی روایات) پر روشنی ڈالوں گا، تاکہ ہم اپنی معلومات کو بڑھا کر اپنی زندگی بہتر کر سکیں۔ انشاءاللہ۔

جدید ذہنی علوم کا ماخذ گرچہ قدیم یونان ہی ہے، لیکن سائنسی بنیادوں پر اس علم کو استوار کرنے کا سہرا جرمنی کے سر ہے۔ انیسویں صدی میں جرمن فلسفی، مفکر، اور ہمہ جہت شخصیت Wilhelm Wundt (علامہ اقبال کے ہاں بھی ان کے نظریات کی تھوڑی جھلک ملتی ہے) نے اس سائنس کی بنیاد رکھی جو قلیل عرصہ میں امریکہ اور دیگر ممالک میں پھیل گئی۔

اس ابتدائی دور میں نفسیاتی اور ذہنی امراض کا ماخذ انسانی ذہن کو ہی سمجھا جاتا تھا۔ پھر سیگمنڈ فرائیڈ اور دیگر نفسیات دانوں نے کچھ ایسے طریقے ایجاد کئے(psychoanalysis) جن سے ذہن کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ لیکن جوابات خاطر خواہ نہیں تھے۔ اسی ماڈل کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی سرمایہ دار جو اس دوران اپنے ہاتھ پاؤں تقریباً پوری دنیا میں پھیلا رہے تھے، انہوں نے دواساز کمپنیز قائم کیں اور ذہنی صحت پر موجود تحقیق کا سہارا لیتے ہوئے دوا سازی کے ذریعے اس پراسرار دنیا میں قدم رکھا۔

آج دنیا کی دس بڑی دوا ساز کمپنیز میں سے چھ امریکہ میں اور چار یورپ میں ہیں اور پور ی دنیا سے ایک تہائ منافع ان کے پاس جاتا ہے۔ لیکن آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ تقریباً تمام کی تمام ذہنی سکون کی ادویات مفروضات کی بنیاد اور چوہوں پر تجربات کر کے بنائی جاتی ہیں۔ مثلاً، امریکہ میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سکون آور دوا پروزیک (Prozac/Fluoxetine)، انیس سو ساٹھ میں قائم کئے گئے مفروضہ پر بنائی گئی ہے۔

انسانی ذہن کے بارے میں اس محدود علم کی سب سے بڑی وجہ خود ذہن ہے، جو عظیم ہونے کے ساتھ ساتھ پراسرار بھی ہے اور جدید سائنس ابھی اسے بس تھوڑا بہت ہی سمجھ پائی ہے۔ اس مختصر جائزہ کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ذہنی اور نفسیاتی امراض کو کس حد تک سمجھ سکے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے، بہت کم۔

پوری دنیا میں ذہنی امراض کی بائیبل سمجھی جانے والی کتاب” “Diagnostic and Statistical Manualکو ناقد پیسہ بنانے والی مشین کہتے ہیں کیونکہ اس میں جو لا تعداد ذہنی امراض کی لسٹ ہے وہ ساری کی ساری اندازوں اور نفسیات دانوں کے تجربات پر مبنی ہے، یعنی سائنسی شہادت کوئی نہیں۔ اب دواؤں کا یہ حال ہے کہ ان کے سائڈ ایفکٹس بہت پریشان کن ہیں۔ ڈاکٹرز کوشش کرتے ہیں کہ صرف انتہائی مجبوری میں ہی دوا دی جائے۔

انیس سو نوے کی دہائی تک ذہنی امراض کا یہ حال تھا کہ سائنس دان انہیں ذہن کی خرابی (biological) ہی سمجھتے تھے۔مثال کے طور پر، شیزو فرینیا جو انتہائی پیچدہ ذہنی مسئلہ سمجھا جاتا تھا اسے دواؤں سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی رہی لیکن معاملات بگڑتے رہے۔

پھر اس صورتحال میں ایک ڈرامائی موڑ آیا۔

WHO کے تحت کچھ ماہر نفسیات انڈیا میں چنا ئی اور چندی گڑھ میں تحقیق میں مصروف تھے اور انہوں نے دریافت کیا کہ شیزو فرینیا کے مریض انڈیا کے ان پر ہنگم شہروں میں عام انسانوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے (جبکہ مغرب میں انہیں الگ کر دیا جاتا تھا)۔ سب سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ یہ کیا ماجرا ہے۔

مزید تحقیق سے پتہ چلا کی ان لوگوں کا اصل علاج دراصل ان کے سماجی تعلقات کی بنا پر ہو رہا تھا۔ مریض کے ساتھ پورا خاندان بیماری میں شامل ہو جاتا، اور دوا کھانے سے لے کر مریض کا دکھ درد ادر گرد موجود تمام لوگ بانٹنے کی کوشش کرتے۔ اس کی علاوہ حیران کن بات یہ تھی کہ کئی لوگ اس مرض سے چھٹکارا پا چکے تھے (اسے مغرب میں لا علاج سمجھا جاتا تھا)۔ یعنی یہ ایک ذہنی نہیں سماجی مسئلہ زیادہ تھا۔

یہی وہ انتہائی اہم دریافت ہے جس نے آج مغرب میں نفسیاتی امراض اور ذہنی صحت سے متعلق نئے نظریات کو جنم دیا ہے۔ آج ان کا ماڈل سماجی تعلقات کو سب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ بد قسمتی سے individual liberties کی طرف داری میں انکا معاشرہ اتنا آگے نکل گیا ہے کہ managed care, nursing homes وغیرہ میں مقیم بوڑھوں کو کئی کئی ہفتے کسی سے بات کئے بنا گزر جاتے ہیں۔ تنہا رہنے والے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد نفسیاتی امراض کا شکوہ کرتی نظر آتی ہے۔ شیزوفرینیا کے مرض کا علاج اس طرح کیا جا رہا ہے کہ مریض کو مصنوعی سماجی تعلقات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہمارے معاشرے میں مضبوط سماجی نظام میں اگرچہ کافی دراڑیں پڑ چکی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس کو گرنے کے بجائے مضبوط کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہم بہت سارے مسائل کو اپنے معاشرے میں جگہ ہی نہ بنانے دیں۔

آخری بات، ذہنی اور نفسیاتی امراض biological, genetic, social, psychological, nutritional اور دوسرے عوامل سے مل کر بنتے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہی کہ کسی بھی مریض کو الگ نہ کیا جائے نہ اسے ‘نفسیاتی، ‘کریک’ وغیرہ کے القابات سے پکارا جائے۔ آپ کی محبت اور اخلاق کی دوا میں وہ طاقت ہے جسے کوئی سائنس شاید کبھی ایجاد نہ کر پائے۔ والسلام۔

14 thoughts on “Zehani Sehat aur Jadeed Tehqeeq

  • April 26, 2016 at 11:31 am
    Permalink

    very informative, well researched and beautifully written briefly. loved it. thanks for sharing.

    Reply
  • April 26, 2016 at 12:31 pm
    Permalink

    Very nice…

    Reply
  • April 26, 2016 at 1:38 pm
    Permalink
    سائیکو لوجسٹ کا نقطعہ تو پیش کر دیا آپ نے… اب سائیکیٹرسٹ کے رجحانات بھی بیان کیجیے تاکہ معاملہ مکمل طریقے سے عوام الناس کے سامنے عیاں ھوسکے.
    Reply
    • April 27, 2016 at 12:52 am
      Permalink
      شاہد صاحب آپ لکھیں کچھ اس دوسرے رخ پر، تو مجھے بھی سیکھنے کا موقع ملے گا.
      Reply
  • April 26, 2016 at 4:51 pm
    Permalink

    Very Informative and Well written :))
    The only little thing that could have been better, is that you gave too little space in the end to the issue that actually mattered.

    Keep it up ?

    Reply
    • April 26, 2016 at 4:54 pm
      Permalink
      شکریہ، میں بھی یہی سوچ رہا تھا لیکن آرٹیکل لمبا ہو جاتا. پھر میں نے یہ سوچا کہ چائے خانہ کے پڑھنے والے کیونکہ عقلمند ہیں تو ان کے لیے اشارہ ہی کافی ہو گا ☺
      Reply
  • April 26, 2016 at 5:32 pm
    Permalink

    Very informative blog & very well written . Thanks for sharing

    Reply
  • April 27, 2016 at 4:17 am
    Permalink
    بہت اچھا لکھا، اس موضوع پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے۔ بہت عمدہ ۔ ۔لکھتے رہیئے جناب
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.