Hakoomat – Aik Taqabli Jaiza

زندگی کی لگ بھگ ساڑھے تین دہائیاں گزر گئیں میرے وطن کے مسائل کم ہونے کی بجائے اور بڑھ گئے،بجائے یہ کہ کوئی زخموں پہ مرہم لگائے اس کو اور زخمی کرتے رہے جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اس میں ملک کے سبھی کرتا دھرتا شامل ہیں اور ہم عوام خاص کر جو ہمیشہ لاچارگی اور بیچارگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان عناصر کو مسلط ہونے کا موقع دیتے رہے۔ بجائے اسکے کہ ہم اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہم ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے کو اپنا فریضہ بنا چکے،نتیجہ ہم آج بُھگت رہے ہیں۔رات کو سڑکوں پہ نکلو تو سینکڑوں لوگ بے یارو مدد گار فٹ پاتھ اور گرین بیلٹ پہ سو رہے ہوتے ہیں،سینکڑوں رکشہ والے تھکے ہارے اپنے ہی رکشے میں سو رہے ہوتے ہیں۔اگر چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں چلے جائیں تو وہاں غربت کو دیکھ کر انسان خیالی دنیا میں رہنے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔
یہ سب کس کی ذمہ ہے؟حکومت وقت کی۔ ۔
کیا حکومت ابھی تک اس غربت کو کنٹرول کر پا رہی تو جواب فوراً نفی میں آئے گا۔نواز حکومت نے تو بڑے بڑے دعوں کے ساتھ الیکشن جیتا تو پھر ایسا کیوں؟کیا کوئی نواز حکومت کو کام کرنے سے روک رہا ہے ۔ ۔ تو میری دانست کے مطابق جواب ہاں ہے۔
ہم زیادہ پیچھے نہیں جاتے بس دو حکومتوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا؟اب دو دہائیوں کا گند آپ نواز حکمت پہ کیسے ڈال سکتے ہیں؟ یا نواز حکومت کے پاس کون سی جادو کی چھری ہے جس سے وہ دہائیوں کا گند مہینوں میں صاف کردے؟2004 میں ق لیگ کی ٹانگہ پارٹی کی حکومت تھی،سیاہ سفید کے اکیلے مالک،ماسوائے بڑے بڑے سکینڈلز اور سانحات کے مجھے نہی یاد پڑتا کوئی میگا پراجیکٹ اس حکومت میں بنا ہو۔ہاں ان کے دور حکومت میں پاکستانی فروخت ہوئے،لال مسجد جیسا ہولناک واقعہ ہوا جس کا نتیجہ اج تک قوم اپنا خون دے کے بھگت رہی،انکے اپنے والد مرحوم جناب ظہور الہی کے محسن اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا،وکیلوں کو زندہ جلایا گیا،وکلا کو روزانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا،ڈرونز کی اجازت دی،پنجاب بنک سکینڈل،دوسری طرف وارڈنز اور 1122 کی نوکریوں سے مونس الہی نے خوب مال بنایا، لاہور اور پنجاب میں بہت سے کمرشل پلاٹس پہ ہاتھ صاف کیے۔عوام کے لیے کیا کیا،زیرو پراجیکٹ،پھر بھی جناب نے سو بار وردی میں منتحب کرنے کی قسم کھائی اور آج اس ٹانگہ پارٹی پہ صرف دو کوچوان ہی سوار ہیں لیکن سواری کوئی نہی۔اپنے دور حکومت میں جو اکانومی کو ضرب لگائی عوام نے اسکا بدلا 2008 کے الیکشن میں لیا۔
پی پی پی کی حکومت زرداری کی سربراہی میں بنی،کرپشن کا نیا بازار کھل گیا،ملک کا دیوالیہ نکلنے والا ہو گیا،بلیک واٹر کو کھلی چھٹی دی گئی،لوڈ شیڈنگ سے ساری انڈسٹری کا پہیہ جام ہوا،فیصل آباد کی ساری انڈسٹری بنگلہ دیش منتقل ہوئی،روز بم دھماکے،روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگانے والی جماعت نے بجائے غریب کو یہ دینے کے تینوں چیزیں چھین لیں،پنجاب میں ن لیگ کی جمہوری حکومت ہونے کے باوجود گورنر راج لگایا،اسی دوران سری لنکا ٹیم پہ حملہ ہوا اور کرکٹ ہمیشہ کے لیے پاکستان سےرخصت ہو گئی،امریکی فوج کا بغیر اجازت ایبٹ آباد گھس آنا،دوسری طرف پاکستان کی معاشی شہ رگ کہلانے والے شہرکراچی میں ایم کیو ایم نے زرداری کی آشیر باد سے خوب لوٹا اور قتل وغارت کی۔پاکستان زخمی حالت میں دیوالیہ ہونے کے قریب تھا کہ 2013 الیکشن کا اعلان ہوا جس میں پی ٹی آئی نے نوجوان کی قیادت کا ذمہ اٹھایا،لاہور جلسہ کے بعد ق لیگ اور زرداری پارٹی کے ٹانگوں کی سواریاں اس پارٹی پہ قابض ہوئیں،الیکشن میں بھرپور پیسہ اور میڈیا سپورٹ کے باوجود یہ ٹانگہ پارٹی بمشکل چونتیس سیٹیں لے سکی،الیکشن میں زرداری پارٹی کو بد ترین شکست ہوئی،ایک بار پھر عوام نے نواز شریف کو موقع دیا۔تین سال ہونے کو ہیں ملک میں چہل پہل نظر آ رہی ہے الحمد اللہ۔
لیکن در پردہ قوتوں کی جانب سے میڈیا ہاوسز کو چلانا اپنی مرضی کے من گھڑت ایشو بنا کے عوام کے آگے پیش کرنا یہ ملک کی بدقسمتی ہے۔کبھی ہارون رشید جیسے سینئر اینکر سے پروگرام کروانا جس میں وہ وزیر اعظم کو دھمکی دے کہ فوج کی تنخواہیں روک کر اپ نیا محاذ کھول رہے ہو،جو بالکل جھوٹ پہ مبنی تھا۔ کبھی میڈیا پہ دھرنا،طاہرالقادری جیسے بےنام سیاستدان کو کئی گھنٹے مسلط رکھنا،جوڈیشل کمیشن کا چورن،میٹرو بس،نندی پور،ممتاز قادری کا چہلم،اور اب پانامہ لیکس میاں صاحب خوب ثابت قدم رہے اور ان میڈیائی حملوں کو ناصرف برداشت کیا بالکہ خوب دفاع بھی کیا،یاد رہے در پردہ عناصر نے میڈیا حملے تب شروع کیے جب انکی ٹانگہ پارٹی کا ایک سو چھبیس دن کا دھرنا ناکام ہوا،جس میں قوم کے پیسوں سے قوم کا وقت ضائع کیا گیا،کئی قیمتی جانیں گئیں اداروں پہ حملے،حاصل کیا ہوا ناکامی رسوائی،جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد بھی رسوائی ہی کپتان کے حصے میں آئی۔اب عمران خان صاحب پھر شارٹ کٹ کی آس لگائے پانامہ لیکس کو لے کر باہر آنے کے لیے بیتاب ہیں کیونکہ ان کے لیے ابھی یا کبھی نہیں والی پوزیشن ہے پارٹی کے نوجوان ان سے اکتا چکے،ان کی اپنی پارٹی کے تین گروپ بن چکے جو اس بات کا عندیا ہے کہ مستقبل قریب میں اس پارٹی کا حال ق لیگ جیسا ہو گا۔
درپردہ قوتوں کی کوشش ہے کہ نواز حکومت پانچ سال نہ پورے کرے کیونکہ اگر یہ کر گئے تو حکومت اتنی مظبوط ہو گی کہ ان قوتوں پہ ہاتھ ڈالنے قابل ہو جائےگی،لہذا ایک بار پھر حکومت گرانے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ ۲۰۱۸ میں مخلوط کمزور حکومت بنے،اگر ایسا نا ہو سکا تو نواز لیگ ایک بڑے مارجن سے اگلا الیکش پھر جیتے گی۔
نواز حکومت جب بھی رفتار پکڑتی کوئی ایسا واقعہ یا دھرنا کروایا جاتا جس سے حکومت پھر بیک فُٹ پہ چلی جاتی،
ایک سو چھبیس دن کا دھرنا پھر جوڈیشل کمیشن،چھ ماہ حکومت اور قوم کے اسی لالی پاپ میں ضائع کیے،میڈیا اور اس ٹانگہ پارٹی کو ایسا مسلط کیا گیا ہے کہ ہر دو تین ماہ بعد حکومت دباو کا شکار ہو جاتی۔
ان سب حالات کے باوجود تین سال کی نواز حکومت کارکردگی کا پچھلے دس سال سے موازنہ کریں تو ملک کی سمت درست معلوم ہوتی۔لوڈشیڈنگ کا دورانیہ چھ گھنٹے پہ آ گیا،انڈسٹری کو زیرو لوڈشیڈنگ،جس سے اکانومی کا پہیہ بھی چلے گا اور روزگار کے مواقع بھی ۔عالمی رہنماوں کا نواز حکومت پہ اعتماد اسکی محب وطنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ورنہ زرداری دور میں کوئی عالمی رہنما پاکستان انے کو تیار نہ ہوتاتھا لیکن زرداری اپنی سیاست کا ایک تحفہ نواز حکومت کو دے گئے تاکہ نواز حکومت کے سعودی حکومت سے تعلقات متاثر رہیں وہ تحفہ ایران گیس پائیپ لائن ہے
دوسری طرف الحمد اللہ سی پیک پہ دن رات کام ہو رہا جو پاکستان میں ترقی کا ایک نیا باب کھولے گا انشاء اللہ لیکن کچھ عناصر اسے بھی کالا باغ ڈیم جیسا متنازعہ بنانا چاہتے ہیں
میرا میڈیا اور عوام سے یہ سوال ہے کہ اگر پچھلی دونوں کرپٹ حکومتوں کو فری ہینڈ حکومت کرنے کی اجازت دی گئی ہے تو نواز حکومت کو کیوں نہی کام کرنے دیا جا رہا،کیا سب ٹانگہ پارٹیز کو یقین ہو چلا کہ پانچ سال بعد انکے پاس عوام کے آگے بیچنے کو کچھ نہ ہو گااور انکی پارٹیاں علاقائی پارٹیوں میں بدل جائیں گی۔کیا عمران خان صاحب کو صرف اقتدار کا ہوس ہے پاکستان یا عوام کا خیال نہیں؟ کیا میڈیا مالکان پیسہ بنانے کے لیے میڈیا ہاوس کھول کے بیٹھے ہیں تاکہ ہر دو سال بعد الیکشن ہوں اور ان کا پیسہ بنے؟ خدارا پاکستان کا سوچو عوام کا سوچو ۔ ۔ بچوں کے مستقبل کا سوچیں
اگر نواز حکومت پرفارم نہیں کرے گی تو اسکا حال بھی زرداری جیسا ہو گا۔پھر ڈر کس بات کا؟

16 thoughts on “Hakoomat – Aik Taqabli Jaiza

  • April 26, 2016 at 9:05 am
    Permalink

    بہت زبردست تقابلی جائزہ بالکل حالات ایسے ہی ہیں اور انکو ڈر ہے کہ پانچ سال بعد ان کے پاس کچھ نہیں بچے گا

    Reply
    • April 26, 2016 at 8:14 pm
      Permalink

      Thanks Raza 🙂

      Reply
  • April 26, 2016 at 10:17 am
    Permalink

    ضرورت اس امر کی ھے کہ عوام ثابت قدم رھیں اور حکومت کو وقت پورا کرنے کا موقع دیں.
    یہ اگر ھمارے اعتماد پر پورا نہ اترت تو ھمارے پاس الیکشن میں ان سے وہی بدلہ لینے کا موقع ھو گا جو بدلہ اس قوم نے ق لیگ اور پی پی پی سے لیا.

    Reply
    • April 26, 2016 at 8:16 pm
      Permalink

      Bilkul jaisay jaisay election apnay waqt per hoin gy jamhoriyat k sath sath political party system strong ho ga aur corrupt politicians filter hotay rahay gy.

      Reply
  • April 26, 2016 at 11:42 am
    Permalink

    دل کو چھو گئ باتیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ حکومت کی راہ میں رویڑھے اٹکانے ک باوجود اپنی منزل کی طرف گامزن۔۔ ہمیں چاہیے کہ جیسے ہمارے نام نہاد تبدیلی لیڈر نے باقی دو کو اپنا وقت پورا کرنے دیا اسی طرح نواز حکومت کو بھی کام کرنے دیں اگر وہ بھی پچھلی حکومتوں والا باب دوہراۓ جو کے اب تک ذاتی طور پر نظر نہیں آ رہا کہ وہ غلطیاں دوہرائی گئ ہیں تو ۲۰۱۸ فیصلہ عوام کا

    Reply
    • April 26, 2016 at 8:17 pm
      Permalink

      Thanks Ahad 🙂

      Reply
  • April 26, 2016 at 3:17 pm
    Permalink

    Uncounted salutes to you and your Hub-al-watni. Indeed you have honoured your national duty. May Almighty Allah keep you under his special care, grant more wisdom and shower his bounties on you and your parents plus teachers.

    Reply
  • April 26, 2016 at 3:35 pm
    Permalink

    بہترین تقابلی جائزہ اور مبنی برحقیقت سیاسی تجزیہ ہے، حرف بہ حرف درست لکھا ہے، جو نقشہ آپ نے پیش کیا ہے بالکل ایسا ہی ہورہا ہے مگر انشاء اللہ ناکام ہی ہونگے کیونکہ اب حالات مختلف ہیں

    Reply
    • April 26, 2016 at 8:18 pm
      Permalink

      Thanks Reshad Bhai 🙂

      Reply
  • April 27, 2016 at 2:45 am
    Permalink

    اچھی تحریر نومی. موجودہ حکومت اگر اپنا وقت پورا کرے گی تو انشااللہ بہت بہتری آئے گی.

    Reply
  • April 27, 2016 at 4:24 am
    Permalink

    مبنی بر حقیقت تحریر، قلم پر گرفت بھی ہے۔ لکھتے رہیئے جناب

    Reply
  • April 27, 2016 at 4:47 am
    Permalink

    نعمان بھائی حقیقت پر مبنی تحریر ہے
    اللہ اس ملک کے حق میں بہتر کرے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.