Madari

میں ایک سرویئر تھا اوکاڑہ کے نواحی علاقے سے سولہ کلومیٹر دور ہم روڑ بنا رہے تھے سات کلومیٹر بعد روڑ کے درمیان مسجد آتی تھی صورتحال کچھ یوں تھی کہ اگر مسجد کی زمین مل جاتی تو روڑ بالکل سیدھا بنتی نہیں تو ٹرن بنتا۔ جو کافی خطرناک ثابت ہو سکتاتھا خاص طور پر بڑی گاڑیوں کے لیے لیکن مسجد کے مولوی صاحب نے اس مسجد کو کسی مشہور حضرت سے ملا دیا جہنوں نے اس مسجد کی بنیاد رکھی تھی پہلے علاقے کے لوگ ہمارے پاس کام کر رہے تھے لیکن جیسے مسجد کا مسئلہ کھڑا ہوا سارے مسجد کے سامنے جا کر بیٹھ گئے ایک تو کام رک گیا دوسرا مشینری کے اخراجات، ٹھیکیدار نے کمپنی کے مالک کو فون کیا کہ یہ مسئلہ ہے اس نے کہا کہ کام روک دو میرے آنے تک میں دو چار دن تک آ جاؤں گا۔ تقریباً ایک ہفتے بعد وہ شام کے وقت پہنچ گیا رات کو ہم مولوی صاحب سے ملنے گے کمپنی اونر نے مولوی صاحب کو کہیں بیٹھ کر بات کرنے کو کہا پہلے تو نہیں مانا لیکن لوگوں کے اصرار پر مولانا ہم سے ملاقات پر راضی ہو گیا
‏ہم مولوی کے ساتھ مسجد کے اندر چلے گئے باہر لوگ ڈنڈے لے کر ہمارے استقبال کے کھڑے ہو گئے
‏اونر نے مولانا کو سیدھی سی آفر اور دھمکی دی
‏مسجد تمہاری ذاتی نہیں ہے تم صرف ادھر امام مسجد ہو کل اہل علاقہ تمہیں نکال سکتے ہیں میں تمہیں ایک بہترین آفر دیتا ہوں روڑ کے ساتھ ہی دو کنال زمین لے کر ایک کنال پر مسجد اور مدرسہ اور ایک کنال پر تمہارا گھر تم کو کمپنی بنا کر دے گی اور مدرسہ تمہارے نام پر رجسٹر تک کروا دوں گا
‏اب تمہاری مرضی چار مرلے کی مسجد میں امامت کرو یا ایک جامع مسجد اور مدرسے کے خطیب بنو مجھے کوئی مسئلہ نہیں اس روڈ سے میں نے نہیں گزرنا روڈ مسجد کے قریب سے ایک موڑ بنا کر گزرا جا سکتا ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ علاقے کا فائدہ ہو اب جو فیصلہ کرنا ہے صبح تک سوچ کر بتا دینا
‏ہم اٹھنے لگے تو مولانا نے کہا کہ صبح فجر کی نماز ادھر مسجد میں پڑھیں آپ کو فجر کی نماز کے بعد بتا دوں گا
‏ہم واپس آ گئے اگلی صبح گے تو نماز کے بعد مولانا کی سرخ آنکھیں دیکھنے والی تھیں نماز کے بعد مولانا کے الفاظ کچھ یوں تھے
‏رات حضرت صاحب میرے خواب میں تشریف لائے بہت غصے میں تھے کہتے ہیں کہ تم نے عوامی کام روک کر اچھا نہیں کیا مسجد شہید کر کے روڈ کے قریب بھی بنائی جا سکتی ہے فوراً مسجد شہید کرو یہ مخلوق خدا کی بھلائی کا کام ہے اس میں رکاوٹ مت بنو ساری رات حضرت صاحب کی ناراضگی کی وجہ سے مجھے نیند نہیں آئی مصلحے پر پوری رات اللہ پاک سے معافی مانگتے گزاری ہے
‏وہاں کے لوگوں نے نعرے بازی شروع کر دی سجان اللہ اور اللہ اکبر کے نعرے پوری زور شور سے جاری ہو گئے
‏مولانا صاحب نے مسجد کو اپنے ہاتھوں سے شہید کروانے کا آغاز کیا اور وہی دن وہاں میری نوکری کا آخری دن تھا شام کو استعفا دے کر واپس گھر آ گیا
‏گھر والوں کی ناراضگی کی پروا کیے بغیر بھیرہ کے مدرسے میں داخل ہو گیا وہاں تین چار سال میں پڑھائی مکمل کی اور پھر مصر پڑھنے چلا گیا
‏اب اپنے علاقے کے میں ایک مدرسہ اور اس کے ساتھ مسجد بنائی ہوئی ہے میرے بھائی اور بیٹے انگلینڈ میں رہتے ہیں اور میں ساری دنیا گھوم پھر رہا ہوں جتنا تم لوگ ایک سال میں کماتے ہو میں ایک ماہ میں کما لیتا ہوں
‏مولوی ہی اصل مداری ہوتا ہے جو ڈگڈگی بجاتا ہے اور عوام کو اپنی مرضی سے نچاتا ہے

11 thoughts on “Madari

  • April 24, 2016 at 9:59 am
    Permalink

    سر ایک تلخ حقیقت بیان کر ڈالی اصل میں اگر ہم قرآن کو سمجه کر پڑهنا شروع کردیں تو ایسی نوبت نا ہی آئے اور ویسے بهی ہمارے کچه مطلبی مولوی حضرات نہی چاہیں گے کہ ہم اگر ہم سمجه گئے تو انکا حلوہ آنا بند ہوجائے گا-

    Reply
  • April 24, 2016 at 10:12 am
    Permalink

    بہت ہی اچھی تحریر رضا صاب بلکل صحیح لکھا یے حلوہ برگیڈ کی منافقت کی ہمارے معاشرے میں اج بھی پوری طرح زندہ ہے

    Reply
  • April 24, 2016 at 10:20 am
    Permalink

    محض مولوی ہی نہیں کچھ اداروں اور گروہوں کے قبضے لوگوں کی سوچ میں سرائیت کر گئے ہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے کبھی مذہب اور کبھی حب الوطنی کو استعمال کرتے ہیں

    Reply
  • April 24, 2016 at 11:06 am
    Permalink

    بہت اعلی تحریر ہے
    جب تک ہم دین پر اندھے، گونگے اور بہرے بن کر گرتے رہیں گے ہماری باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہی رہے گی

    Reply
  • April 24, 2016 at 12:28 pm
    Permalink

    بہت اچھے رضا. مختصر الفاظ اور واضع انداز میں ایک تلخ حقیقت بیاں کی گڈ

    Reply
  • April 24, 2016 at 12:54 pm
    Permalink

    سب سے نفع بخش کاروبار اس وقت مولویوں کا ہے۔ کڑوا سچ

    Reply
  • April 24, 2016 at 1:57 pm
    Permalink

    یہ ہمارا المیہ ہے ہم علم سے اتنے دور ہیں کہ اس طرح کے مفاد پرست دین کے سوداگر ہمیں بھی بیچ دیتے ہیں
    آپکی تحریر بہت عمدہ اور قابلِ غور ھے

    Reply
  • April 24, 2016 at 3:19 pm
    Permalink

    معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کوخوبصورتی سے بیان کیا ہے. ?

    Reply
  • April 24, 2016 at 9:28 pm
    Permalink

    یہ سب بائ پراڈکٹس ہیں ۔ نان مولوی طبقے میں بھی دھوکہ اور کرپشن اتنی ہی ہے شاید زیادہ ہی ہو ۔
    مسئلہ معاشی اور سماجی ناانصافی
    کا ہے ، اور ہم میں سے اکثریت قصوروار ہے ۔

    Reply
  • April 25, 2016 at 12:52 pm
    Permalink

    کیا بات کی ہے۔ سٹرک بنانے سے پہلے سروے ہوتا ہے۔ سارا کام ہوکے ہونے کے بعد کام شروع کیا جاتا ہے۔ یہاں تو حساب ہی الٹا ہے۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *