Lahoo Lahoo Jigar

اپنے ٹوٹے پھوٹے، زخموں سے چور جسم کےساتھ کمرے میں داخل ہوتے ہی میرا سامنا کمرے میں بسی عجیب سی وحشت اور پراسرار ماحول سے ہوا۔ ہر طرف کٹے پھٹے لہولہان اجسام بکھرے پڑے تھے۔ کوئی چیخ و پکار کررہا تھا،. کوئی دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا تو کوئی کسی گہری سوچ میں ڈوبا حسرت و یاس اور غم و الم کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ میرے اپنے زخموں کی تکلیف ناقابل برداشت ہوتی جارہی تھی۔
اچانک مجھے اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا،. پلٹ کر دیکھا تو میری ہی طرح کا ایک کٹا پھٹا جسم تھا۔ وہ اجنبی مجھ سے گویا ہوا “ہمیں افسوس ہے کہ تمھیں یہاں آنا پڑا۔ ہماری ہرگز خواہش نہ تھی کہ تم اس کمرے میں ہمارے ساتھی بنتے۔ ہم سب تمھارے ساتھ افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ اچھا یہ بتاؤ تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو اور تمھارا نام کیا ہے؟
میں نے اپنا تعارف کرانا شروع کیا میرا نام گلشن اقبال پارک ہے اور میں لاہور میں واقع ہوں۔اپنی بات ختم کرتے ہی میں نے اجنبی سے سوال کیا کہ تم کون ہو؟ اجنبی نے اپنا تعارف چارسدہ یونیورسٹی کہہ کر کرایا اور مزید کہا کہ “میں تم سے کچھ عرصہ پہلے ہی یہاں پہنچا ہوں۔دیکھو ابھی تک میرا خون بہہ رہا ہے۔وہ دیکھو تمھاری دوسری طرف داتا دربار کی زمین بھی لہولہان پڑی ہے۔”
اب مجھے(اقبال پارک) کو سمجھ آرہا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ چہرے پہچانے جارہے تھے۔اچانک میری نظر قصہ خوانی بازار پر پڑی جو خلا میں ٹکٹکی باندھے بیٹھا تھا، اسکے زخموں کے کھرنڈ واضح نظر آرہے تھے۔ ایک طرف واہگہ بارڈر بیٹھی رو رہی تھی تو دوسری طرف لکی مروت کا والی بال گراؤنڈ آہ بکا میں مصروف تھا۔ ایک کونے میں کارساز کا مقام بیٹھا چیخ رہا تھا اور اس کے برابر میں لیاقت باغ کا جثہ چادر اوڑھے لیٹا تھا۔بےشمار مساجد اور امام بارگاہیں اپنے اجڑے جسموں کے ساتھ جابجا بکھرے پڑے تھے۔
اچانک میری نظر اس عجیب و غریب جسم پر پڑی۔اسکی آنکھوں کے نیچے بہتے ہوئے آنسوؤں نے ایک نہر بنائی ہوئی تھی۔وہ بےآواز مسلسل آنسو بہائے چلے جارہا تھا۔ اسکے بے پناہ معصوم چہرے پر بےانتہا کرب و تکلیف دیکھ کر مجھے اپنا درد بھول چکا تھا۔ میں نے چارسدہ یونیورسٹی سے اسکے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے جسکا بےآواز رونا دل دہلائے جارہا ہے؟ اس نے بتا کہ یہAPS سکول پشاور ہے۔جب سے یہاں آیا ہے بس روئے جارہا ہے۔ نہ کسی سے کوئی بات کرتا ہے نہ کوئی آواز نکالتا ہے بس ہروقت آنسو بہائے جارہا ہے۔
ابھی ہم یہ باتیں کرہی رہے تھے کہ ایک فلک شگاف قہقہ فضا میں گونجا۔ اسکی دہشت سے میں خوفزدہ ہوگیا۔ابھی میں اس قہقہ کی سمت کا اندازہ لگانے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ کانوں میں گرم سیسہ انڈیلتی بھیانک ہنسی سنائی دی۔ یہ دونوں آوازیں کمرے کے ایک تاریک گوشے سے آرہی تھیں۔
میں نے غور سے دیکھا تو لال مسجد اور جامعہ حفصہ اپنی پیروں پر مظبوطی سے کھڑے ہم سب پر ہنس رہے تھے۔

5 thoughts on “Lahoo Lahoo Jigar

  • April 22, 2016 at 9:31 am
    Permalink

    یارا کیا لکھ ڈالا ہے! کلیجہ چھلنی ہو گیا۔ ۔ بہت خوب بہت اعلٰی تحریر۔ لکھتے رہو

    Reply
  • April 22, 2016 at 1:12 pm
    Permalink

    کیا,کہوں کیا لکھوں
    آنسو بولتے ہیں کیا.

    Reply
  • April 22, 2016 at 10:08 pm
    Permalink

    جامعہ حفصہ کی بچیوں کی شہادت کو نا تو ریاست تسلیم کرتی ہے نا آپ نے ان کو اس کمرے کی کسی پهٹی ہوئی درز میںڈالا. کچھ چرچ اور صفورا کی بس سے بہتا لہو بهی اس کمرے کو رنگین نہ کرسکا. ارے وہ ڈمہ ڈولا کا مدرسہ جہاں ننهے بچوں کو کفن بهی میسر نہیں تها وہ…؟

    Reply
  • April 22, 2016 at 10:20 pm
    Permalink

    احساس کے قلم نے لہو کی سیاہی سے جو کہانی رقم کی ہے وہ بے شک درد انگیز ہے مگر کہانی ابھی ادھوری ہے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.