Hamaray Dohray Mayaar

اوکاڑہ شہر سے رشتہ بہت پرانا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جب میرے ننھیال نے نور محل ضلع جالندھر کے شہر سے ہجرت کی تو کچھ مہینے لاھور پناہ گزین کے کیمپوں میں گزارنے کے بعد اوکاڑہ شہر نے پناہ دی جہاں سے انہوں نے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا۔ کچھ سالوں کے بعد زمینوں کی الاٹمنٹ ہونے پر اس شہر کو چھوڑنا پڑگیا۔ شادی کے بعد اوکاڑہ ہمارا مسکن ٹھہرا۔ اوکاڑہ شہر کی تعمیر پرانے انداز میں ہے۔ آج بھی ہندوؤں اور سکھوں کے زمانے کے تعمیر شدہ گھر اور چوبارے آباد ہیں۔

اوکاڑہ میں آج بھی سیورج سسٹم وہی پرانا ہے۔ پرانے علاقوں میں آج بھی نالی سسٹم چلتا ہے۔ان نالیوں کو صاف کرنے کے لئے علاقے کی اکثریت نے اقلیت کو رکھا ہوا ہے۔ گھر کی سیورج لائن بند تھی تو جمعدار کو بلایا گیا۔ میری سسرال اور اسکا ساتھ اس کے باپ کے زمانے سے تھا ۔باتھ روم میں کام کرتے ہوئے میرے دیور کے ساتھ اس جمعدار نے انگریزی میں گفتگو کی تو میں نے حیرت سے پوچھ لیا اسکو انگلش بھی آتی ہے ؟ دیور نے جواب دیا آپ کو نہیں پتہ ہم نے پڑھا لکھا جمعدار رکھا ھوا ہے۔ بات کو میں نے مذاق ہی سمجھا اور سر کو جھٹک کر جب جانے لگی تو دیور صاحب فرماتے کہ اس نے گریجوئیشن کر رکھی ہے۔ میں نے کہا اتنا پڑھا لکھا ھے تو یہ کام کیوں کر رھا ہے ؟ اب کی دفعہ جواب جمعدار نے دیا۔

باجی میں نے پڑھنے کے بعد ایک سرکاری سکول میں پڑھانا شروع کیا،ابتدائی کچھ دنوں میں اپنے ساتھی استادوں کے حسن سلوک سے اندازہ ہونے لگا میں شائد انسان نہیں ہوں باقی عیسائی ضرور ہوں۔ بچوں کا رویہ اچھا ہوتا تھا کیونکہ ان کے لیے میں استاد تھا لیکن سٹاف روم میں بیٹھنے،باتھ روم جانے اور چائے پینے تک کا ناروا سلوک تو میرے انسان ہونے کی توہین تھی۔ کچھ عرصے بعد ہی میں نے جاب چھوڑ دی۔ میرا باپ جمعدار تھا میں نے بھی وہی کام شروع کردیا اپنے آباؤ اجداد کا۔ اب میں عیسائی تو ہوں لیکن کسی کو تھوڑی پتہ میں پڑھا لکھا انسان بھی ہوں۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اس لیے یہاں حق بھی صرف مسلمانوں کا ہے۔

اسکی بات سے میرا دل دکھ اور سر شرم سے جھک گیا۔ آنے والے سالوں میں اسکی بات سو فیصد درست ثابت ہوئی ۔ قصور کے بھٹہ خشت کا واقعہ ہو جس میں ایک عیسائی جوڑے کو زندہ جلادیا گیا تھا،گوجر خان کا واقعہ ہو جہاں کتنے عیسائیوں کے گھروں کو خاکتسرکردیا گیا تھا ،لاہور کا واقعہ ہو جو ایک ذاتی چپقلش سے شروع ہوا اور مسلم عیسائی پر ختم ہوا،فیصل آباد کے ایک اسکول میں عیسائی طالبہ کا واقعہ ہو جس کو باتھ روم استعمال کرنے تک کی ممانعت تھی یا پھر شیخ زید میڈیکل کالج کا واقعہ ہو جہاں عیسائی طالب علم کو کالج سے دربدر کردیا گیا ہو،ہر ہونے والا واقعہ اسکی بات کی تصدیق کرتا ھوا نظر آیا۔

پاکستان میں قریباً الیکشن کمیشن کے مطابق 171 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں ہیں۔ رجسٹرڈ شدہ مذہبی جماعتوں کی تعداد لگ بھگ سو سے اوپر ہے ۔اگر غیر رجسٹرڈ جماعتوں کا اندازہ لگایا جائے تو حساب کتاب کہیں زیادہ ہے۔

سب سے حیرت زدہ بات یہ ہے کہ آپکے سیاسی نظرئیے مختلف ہونے کی صورت میں کئی جماعتیں معرض وجود میں آ سکتی ہیں لیکن ایک دین کی صورت میں ہزار ہا مذہبی جماعتوں کی پیدائش چہ معنی است ؟ قرآن اور حدیث ہی مرکز ہو تو سیاست اور مذہب کے لیے مرکز الگ الگ کیوں ؟ پاکستان کئی دہائیوں سے مختف قسم کے سیاسی اور مذھبی اتار چڑھاؤ کا شکار چلا آ رہا ہے۔

پاکستان کی اساس اسلامی جمہوری نظام سے وابستہ ہے۔اس لیے اسی اساس کو اکٹھے چلنے نہیں دیا گیا ان دونوں کو ہی ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ پہلے فرقے کے نام پر قتل وغارت اور کفریت کے فتوے داغے گئے بعدازاں جمہوریت اور خلافت پر خوب ذہن پراگندہ کیا گیا۔ آج کل لبرل ازم،سیکولر ازم اور ملاں ازم آپس میں گھتمُ گھتا ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ اب اکثریت کے حقوق بھی خطرے میں ہیں۔

پاکستان میں پانچ فی صد اقلیتیں بستی ہیں۔ اکثریت کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اقلیت کا خیال اس طرح رکھیں جیسے ماں اپنے بچے کا رکھتی ہے۔ لیکن یہاں حساب بلکل الٹ ہے۔ اکثریت میں بسنے والے متشدد ذہن اقلیت کے کسی بھی حق کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ہمارے ہاں اقلیت کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک کسی طرح بھی اسلامی جمہوری نظام کی اہلیت کے مطابق نہیں۔

اقلیتوں کے حقوق کی بات کریں تو کہتے ہیں مذہب اکثریت کا ہوتا ہے تو اصول و قانون بھی ہمارے ہونے چاہئے یہ بھول جاتے ھیں مکہ میں بھی آپ اقلیت میں تھے وہاں کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں تو ناروا سلوک پر نا انصافی کی گردان کیوں لگاتے ھیں۔ اہل شیعت اور مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے درپے تو ہیں ساتھ انکا معاشی بائیکاٹ کا بھی کہتے ھیں،یہ بھول جاتے ہیں شعب ابی طالب میں جب محصور مسلمانوں کا کفار مکہ نے بائیکاٹ کیا تھا تو تب کیوں بچوں کی رونے کی آوازیں آنے پر آنکھیں بھگو لیتے ہیں۔ واجب القتل کا فتوی دیتے ہیں تو حضرت سمعیہ(رض) سے لے کر بلال حبشی (رض) کے انسانیت سوز ظلم پر کیوں روح کانپ اٹھتی ہے؟ مسلمانوں کو سر عام عبادت کا حق نہیں تھا چھپ کر عبادت کرتے تھے آج یہاں اقلیتیوں کی عبادت گاھیں بھی محفوظ نہیں اسکو بھی ہمارے نام نہاد علماء ختم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔اکثریت کے تہواروں پر خوب چراغاں کا حکم کرتے ہیں لیکن ہندوؤں کی ہولی کے تہوار پر اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے ورنہ جو کچھ اولیاء کے مزاروں پر ہوتا ہے وہ آپ کو شرکی بناتے ہوئے ہندوؤں سے بھی بدتر بنا دیتا ہے جس کی کوئی معافی نہیں،لیکن ہمارےعلماء کو اقلیتوں سے فرصت ملے گی تو اکثریتی دین میں شامل ہوتے کذب پر کچھ بات کریں گئے۔

ریاست کا حکمران ریاست میں بسنے والے پانچ فیصد سے ایک فیصد کا بھی حکمران ہوتا ہے۔ مساوی حقوق کے بنا معاشرہ چلانا بہت مشکل ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم کی مسجد میں دعوت میں شرکت پر سر تو دھنتے ہیں لیکن اپنے وزیراعظم کو ہندوؤں کے تہوار میں شرکت کرنے پر دین کے دائرے سے خارج کردیتے ہیں۔ پاکستان میں اسلامی نظام کی بات کرتے ہیں لیکن انڈیا میں سیکولر انڈیا میں اپنی بقا تلاش لیتے ہیں ۔ یہ کیسا دین ہے جو ملکوں کے حدود اربعہ کے لحاظ سے ہی اپنے افکار بدل لیتا ہے۔

فتح مکہ و فتح یروشلم میں ہر کافر ہر جانی دشمن کو پناہ دی گئی ۔ یروشلم فتح ہوا تواعلان کیا گیا کہ غیر مسلموں کےگھروں اور انکی عبادت گاہوں تک کی حفاظت کا ذمہ مسلمانوں پر ہے۔

ایک واقعہ سے اقلیتوں کی اہمیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں،
حضرت عمر (رض) اناستاسیس میں قبر کے پاس کھڑے تھے کہ نماز کا وقت ہوگیا۔صفرونیئس نے خلیفہ سے کہا کہ یہیں نماز پڑھ لیں انہوں نے شائستگی سے انکار کردیا۔ وہ گرجا سے باہر آئے اور مصروف شاہراہ کارڈو میکسی مس میں نماز ادا کی ۔ بعد میں اپنے اس عمل کی وضاحت کچھ اس طرح کی کہ

“اگر میں نے کسی مسیحی مزار یا گرجا میں نماز پڑھ لی تو مسلمان اس پر قبضہ کر لیں گئے اور اسی بنیاد پر اسے اپنی عبادت گاہ بنالیں گئے کہ ان کے خلیفہ نے یہاں نماز ادا کی تھی “۔

بعد ازاں ایک حکم نامے سے مسلمانوں کو اس بات کا پابند کردیا کہ گرجا حیات نو کی سیڑھیوں پر آئندہ نماز نہیں پڑھی جائے گی اور نہ ہی یہاں کوئی مسجد تعمیر ہوگی۔اس عمارت کو عیسائیوں کے ہاتھوں میں رہنے دیا جائے گا۔

یہ تھے عمر (رض) جن کو آج بھی ملاں آواز دیتے ہیں کہ عمر جیسا حکمران کب آئے گا،حکمران عمر جیسا مانگتے ہیں لیکن اسی کے کیے ہوئے عدل و انصاف پر آنکھیں بند کرلیتے ہیں ۔اسلام کو خطرہ کسی کافر کسی ہندو کسی مرزائی سے نہیں بلکہ سب سے زیادہ خطرہ دین کے انہی ٹھیکداروں سے ہے جنہوں نے اسلام کے نام پر ھرزہ سرائی کر رکھی ہے۔

دین اسلام کی بنیاد میزان پر ہے،دنیا کا خاتمہ بھی اس میزان کی بگاڑ پر ہوگا۔ اعتدال پسندی ہی تو ہماری پہچان ہے۔ جب تک معاشرہ state of equilibrium پر چلتا ہے توازن قائم رہتا ہے جب یہی نہ رہے تو نتیجہ صرف تباہی و بربادی ہے۔

بقول جلال ملیح آبادی۔۔۔۔۔۔

وہ گل ہوں میں جسے صحنِ چمن نصیب نہیں
وہ وطن میں رہ کے بہارِ وطن نصیب نہیں
سنو! کہ آج بھی ہوں وہ غزالِ مشک فروش
ختن میں جس کو فضائے ختن نصیب نہیں
میری زبان کو کھینچا گیا ہے سُولی پر
میری زبان کو حسنِ ختن نصیب نہیں
ہمیں نے رنگ دیا خونِ دل سے گلشن کو
ہمیں کو جلوہء رنگِ سمن نصیب نہیں
ہزار بار ہوئے ہم وطن پہ اپنے نثار
مگر مقامِ محبِ وطن نصیب نہیں
ہمارے قتل پہ آنسو بہت بہائے گئے
مگر حفاظتِ ناموس دیں نصیب نہیں
سنو! یہ قتل یہ خوں ہم کو غسلِ صحت ہے
ہم اپنے خون میں صدیوں یونہی نہائے ہیں
لہو میں ڈوب کے ابھریں گے مردمانِ جری
چھٹیں گے خون کے بادل جو سر پہ چھائے ہیں
کوئی مٹا نہ سکے گا ہمیں زمانے سے
جہاں میں ایسے بہت کم وقت ہم پہ آئے ہیں

16 thoughts on “Hamaray Dohray Mayaar

  • April 22, 2016 at 9:42 am
    Permalink
    کمال کر دیا آپا ۔ ۔ بہت عمدہ تحریر، معاشرے کو آئینہ دکھا دیا۔ لکھتی رہئیے
    Reply
    • April 22, 2016 at 10:16 am
      Permalink
      جزاک اللہ درویش اور اسمعیل۔۔۔۔۔
      Reply
  • April 22, 2016 at 9:58 am
    Permalink
    بہت بہترین آپا
    Reply
  • April 22, 2016 at 10:55 am
    Permalink

    A thought provoking writeup?
    We still have a long way to go as a Nation..!!

    Loved it Api Jaan :))

    Reply
    • April 22, 2016 at 12:53 pm
      Permalink

      Thanks a lot Dia jani …..?

      Reply
  • April 22, 2016 at 12:05 pm
    Permalink
    نشتر کو بہت مہارت اور عمدگی سے استعمال کیا ہےجب تک ہم اپنی اصلاح نہ کریں گے دوسرے کیسے اسلام یا اسکے آفاقی اصولوں کو مانیں گے. اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ.
    Reply
    • April 22, 2016 at 12:52 pm
      Permalink
      جزاک اللہ حمیرا ۔۔۔ آپ نے وقت نکال کر اسکو پڑھا۔۔۔
      Reply
  • April 22, 2016 at 12:26 pm
    Permalink
    بہت عمدہ تحریر. بہت بہترین طریقے سے معاشرے کی منافقت کو لفظوں میں بیان کیا.

    صرف ایک بات کوئی مرزئیوں کو کافر قرار دینے پر نہیں تلا ہوا.
    وہ آئین پاکستان کے مطابق پہلے ہی کافر ہیں.

    Reply
  • April 22, 2016 at 3:20 pm
    Permalink
    تسی تے چھا چھو گئے او
    اعلیٰ ای لکھ چھڈیا جے
    Reply
    • April 23, 2016 at 1:09 am
      Permalink
      متشکرم جناب ۔۔۔۔۔۔
      Reply
  • April 22, 2016 at 9:59 pm
    Permalink
    زبردست بہت خوب ۔ بڑی جرات سے کڑوی حقیقت بیان کی آپ نے۔
    Reply
    • April 23, 2016 at 1:09 am
      Permalink
      جزاک اللہ ۔۔۔۔۔
      Reply
  • April 23, 2016 at 9:58 am
    Permalink
    بہت خوب اچھی تحریر ھے
    Reply
  • April 23, 2016 at 3:53 pm
    Permalink
    بہت زبردست آپی ….? جب تک ہم سب اس فرقے رنگ ونسل کے دائرے میں گھومتے رہیں گے اسی طر ح دوسرے مذاہب کے لوگوں کو خود سے کمتر سمجھتے رہیں گے جبکہ ہمارا مذہب ان دقیانوسی باتوں سے بلکل مختلف ہے
    Reply
  • April 23, 2016 at 3:55 pm
    Permalink
    بہت عمدہ سماجی بنجر پن اور مثالی حکومت کی خواہش، خواہش تو بن سکتی ہے لیکن حقیقت مشکل کام ہے
    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *