Sabat Rastagi ko hay

ثَبت رَستگی کو ہے

چشمِ دُنیا سے چُھپ کر
خود سے ہی کبھی مل کر
اَندرُوں کو دیکھوں تو
خود کو ہی جو پَرکُھوں تو
خواہشوں کی راہیں ہیں
گُونجتی صدائیں ہیں
حَسرتوں کے مَدفن پہ
زُعم کی بَلائیں ہیں
اِک صدا جو واضح ہے
اِک صدا جو جارح ہے
”اے مرے زمیں زادو!
مُجھ پہ زندگی وارو
میری سوچ سوچو تم
میرے لفظ پُوجو تم
میرے زاویے کو ہی
فہم پہ بس اَوڑھو تم
مجھ کو رہنما جانو
مجھ کو باصفا مانو
میری اَور دیکھو تم
میرے طور سیکھو تم
میں کہ رَہنمائے کل
میں کہ فکر کا ساحل
خردِ کل کا ہوں مالک
جہد کی ہوں میں منزل
مذہب و سیاست کے
راستے مُجھ ہی سے ہیں
علم و فن کے بھی لوگو!
واسطے مُجھ ہی سے ہیں“

ایک پل جو رکتا ہوں
کان گر جو دَھرتا ہوں
اِک صدا جو دھیمی ہے
اِک صدا جو گھائل ہے

”وقت کی کتابوں کو
پڑھنے والے کہتے ہیں
زُعم کے مقدر میں
اِک فقط تباہی ہے
کامیاب لوگوں نے
بس وفا نباہی ہے
اور وفا نبھانے میں
خود کو آزمانے میں
ایک پَل کی دُوری ہے
بس رَضا ضروری ہے
زندگی بِتانے کو
داستاں سنانے کو
جُستجو کا کاغذ ہو
ظرف کی سیاہی ہو
نقش کو مٹانے کی
اصل کو دکھانے کی
نیّتیں ضروری ہیں
جرأتیں ضروری ہیں
آرزو تو دھوکہ ہے
رنگ و بُو کا ہَوکا ہے“

ذات کی گُپھاؤں میں
گونجتی صداؤں میں
ثَبت رَستگی کو ہے
سعیِ باطنی کو ہے
وہ صدا جو دھیمی ہے
وہ صدا جو گھائل ہے
اُس کی زَردگی کو ہے
اُس کی عاجزی کو ہے

2 thoughts on “Sabat Rastagi ko hay

  • April 18, 2016 at 8:29 pm
    Permalink

    بہت خوب امتنان بھائی، کیا ہی اچھا لکھتے ہیں۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *