Intiha Pasandi ki Wajah

المیہ یہ ہے کہ دین کو خود پر کبھی نافذ نہیں کرینگے نہ ہی ان تعلیمات پر عمل کرینگے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا انکے ازواج و رفقاء کی ہیں۔
ہر معاملے میں قران و حدیث سے رہنمائی لئے بغیر لہو گرم رکھنے کے بہانے ڈھونڈنا آقا علیہ السلام کے تعلیمات کے منافی ہیں۔
پہلے قران و احادیث کی روشنی میں مسائل کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کریں۔
اسکے بعد فضائے بدر پیدا کرنے سے کوئی آپکو نہیں روکے گا۔
دین کے الف ب کا نہیں پتہ لیکن فتوے جس تعداد سے لگاتے ہیں اتنے تیزی تو SeaHorse بچے نہیں پیدا کرتے۔
جاہلیت کی ایک قسم ہمارے اسلام پسندوں کے اعصاب پر اس قدر بارگراں بن رہی ہے کہ وہ بےصبر ہوکر آو دیکھتے نہ تاو اور بعجلت کسی کو بھی بےایمان کے خطاب سے نواز کر بےلباس ہی نہیں کرتے بلکہ اسکی جان کے ہی پیچھے پڑ جاتے ہیں۔
ایسی حرکتیں تو براہ راست دین اسلام کیلئے وہ زہر ہے جو کبھی یہود نے بھی ماضی بعید و ماضی قریب میں مسلمان کو پلانے کی کوشش تک نہیں کی۔
ہر معاملے میں انتہاپسندانہ فکر خود داعیان دین کو ایک نازک سوال سے دوچار کر رہی ہے۔
اگر یہ دین محمد علیہ السلام کیلئے ہی جدوجہد ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس دین کے تم داعی ہو اسکی تفصیلات کیا ہیں ؟
چھوٹے اور بڑے مسائل میں آپ اپنے خون کو تکبیر کے نعروں سے گرم کرکے ماں بہن کی گالیوں سے ٹھنڈا کرتے ہیں کیا یہی وہ دین ہے جس کے آپ داعی ہیں ؟
اسطرح کی چھیڑخانیوں اور اشقلہ بازیوں سے تو آپ اسلام مخالف افکار کو دین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو رد کرنے کا بہانہ پلیٹ میں رکھ کر پیش کر رہے ہیں۔
ہر مخالف فریق کو غیرمسلم ، غیرمسلم کا ایجنٹ یا پھر منافق کی نظر سے دیکھنے کی بجائے انکے ساتھ معاملات کو اس نیت سے اٹھائیں کہ اگر وہ باطل ہے تو آپ سے کچھ سیکھیں آپ غلط ہیں تو آپ کے علم میں اضافہ ہوجائے۔
ہر چھوٹے بڑے مسئلے میں خون کو گرمی دینے سے ملت اسلامیہ میں سوائے تفریق کے کچھ بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔
اللہ تعالی نے انسان کو عقل اسلئے عطا کی ہے کہ اس کا بہترین استعمال کرے۔
آپکے سامنے کوئی مسئلہ آتا ہے آپ خود اسکو قران و حدیث کی روشنی میں دیکھیں پھر علماء سے اس کے بارے میں علم حاصل کریں۔
ہر وقت جوش و جذبات سے آپ اپنے سینے کو تو ٹھنڈا کرلینگے لیکن جو اسکے خطرناک نتائج معاشرے پر پڑ جاتے ہیں کبھی اس پر بھی غور کریں۔
ایک اور بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ عدلیہ و انصاف سے ہمارا اعتبار اٹھ سا گیا ہے۔
یہ صرف ہماری ہی نہیں خود عدلیہ کی بھی بدقسمتی ہے کہ آج رہاست کے اہم ترین ادارے کو بری ترین نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
قانون صرف کمزور کیلئے حرکت میں آتا ہے اسلئے ایک عام بندہ عدالت کی طرف دیکھنے کی کوشش بھی چھوڑ گیا۔
اگر عدالتیں حقیقی معنوں میں انصاف دلاتی تو عام شہری قانون ہاتھ میں لینے سے پہلے کئی بار سوچتا۔
معاشروں میں ناانصافی جب بڑھ جاتی ہے تو وہاں انسان حیوانی ریوڑ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
انصاف دلانے والے اداروں کے ترازو جب صرف امیر شہر کے سکوں سے نیچے چلے جاتے ہیں تو فقیر شہر خود ہی عدالت خود ہی وکیل خود ہی جج بن جاتے ہیں۔
تعلیمی اداروں ابلاغی ذرایعوں بالخصوص ایلکٹرونک میڈیا پر برداشت کی تعلیم دی جائے۔
نئے نئے بل ، نئے قوانین ، نئی سزاوں اور جزاوں سے آپ انتہاپسندانہ سوچ کو کچھ جگہوں پر تو کنٹرول کرلینگے لیکن یہ پھر بھی معاشرے میں کسی نا کسی شکل میں موجود اپنا کام کر رہی ہوتی ہے۔
علماء کرام کی بھی ذمہ داری ہے کہ شہریوں میں شعور پیدا کریں انکو ریاست اور اسکے اصول و ضوابط سے آشنا کردیں۔ انتہاپسندانہ فکر سے معاشرے میں برپا ہونے والے فساد کی راہ میں علم کو رکاوٹ بنا دیں۔
اختلاف کے دینی طریقہ کار سے آگاہ کریں۔دنیا ہمیں اسلامی معاشرے کے نام سے جانتی ہے بھلے یہاں اسلام سرے سے ہو ہی نہ لیکن دنیا تک کم از کم یہ پیغام تو پہنچائیں کہ ان کرتوتوں سے اسلام کا نہ کوئی تعلق تھا نہ ہے۔

2 thoughts on “Intiha Pasandi ki Wajah

  • April 18, 2016 at 8:26 pm
    Permalink

    زیادہ لگی لپٹی بغیر صاف صاف اور سیدھی باتیں۔ بہت اچھا لکھاہے

    Reply
  • April 18, 2016 at 8:27 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر، لکھتے رہیئے جناب

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *