Saadiyaan

فرض کرتے ہیں کہ انہونی ہوجاتی ہے کیونکہ بات بڑی سادہ سی ہے ۔۔۔

ہالی وڈ کی فلم ” انگلورئیس باسٹرڈز” ایک بڑی عام سی فلم تھی جو کہ باکس آفس پر بھی کوئی خاص اثر چھوڑنے میں ناکام ہی رہی تھی۔ دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں فلمائی گئی اس فلم میں کم از کم مجھے تو صرف دو ہی باتیں دلچسپ لگیں۔ ایک بریڈپٹ کا ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں پایا جانے والا ، طرز تکلم کا اختیار کرناتھا تو دوسرا ایڈولف ہٹلر کا امریکی فوجیوں کے ہاتھوں مارا جانا۔ تھی تو یہ فلم ہی لیکن تاریخ کو بدلنے کی یہ کوشش بحرحال ناکام سی کوشش ہی تھی۔ ویسے بھی ڈراموں اور فلموں کے ذریعے نہ تو تاریخ کا دھارا بدلا جاسکتا ہے اور نہ ہی وقت کے رُخ کو۔

جیسا کہ عرض کیا کہ بات بڑی سادہ سی ہے۔ نوازشریف اپنے سیاسی کیرئیر کے تمام تر مدوجزر سے گزرنے کے بعد ایک دفعہ پھر سے مائنس ون فارمولے کی زد میں ہیں۔ اس ملک کی تاریخ میں نہ جانے کتنے ہی مائنس ون فارمولے آئے اور خاک چاٹنے کے بعد ماضی کا حصہ بن گئے۔ پانامہ لیکس کی گرد کو نوازشریف کے سر انڈیلتے ہوئے مائنس ون کرنے کا سوچنے والوں نے شاید اس کے مضمرات کا پوری طرح جائزہ بھی نہیں لیا۔ کیونکہ بات سادہ سی ہے تو سادہ سادہ سی باتوں کے سہارے ہی آگے بڑھتے ہیں۔ پہلی سادہ سی بات تو یہ ہے کہ فوج واضح انداز میں نہ تو نوازشریف سے استعفیٰ طلب کرے گی اور نہ ہی خود ملک کی باگ دوڑ سنبھالے گی۔ اس کی وجہ بھی بڑی سادہ سی ہے۔ بار بار کے مارشل لاء کے بعد 2007 میں ملک کے اندر فوج کا مقام یہ ہوگیا تھا کہ انھیں عوامی مقامات پر وردی پہن کر جانےسے گریز کرنا پڑا۔ افواج پاکستان کی اکثریت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے اور وہ کبھی بھی دوبارہ ایسی صورتحال سے دوچار ہونا پسند نہیں کرے گی۔ آئی ایس پی آر کے موجودہ کردار کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہئیے۔ اسی طرح ایک اور انتہائی سادہ سی بات یہ ہے کہ تین عشروں سے زائد عرصے پر محیط سیاسی کیرئیر رکھنے والے نوازشریف اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لندن پلان کے نتیجے میں ڈی چوک پر لگنے والے براڈوے شو کے دوران جب ایک پیغام رساں کوئی رستہ نکالنے کا پیغام لے کر آیا تو نوازشریف کا سادہ سا جواب یہی تھا کہ رستہ جنہوں نے نکالنا ہے وہ نکال لیں ۔۔۔ انھیں کس نے روک رکھا ہے۔ تیسری سادہ سی وجہ گذشتہ ایک دہائی کے عرصہ میں سیاستدانوں کے درمیان طے پانے والا وہ گٹھ جوڑ ہے جو ایسے کسی بھی خدشے کو محسوس کرتے ہی انھیں یکجا کردیتا ہے۔ دوسری طرف افواج پاکستان بھی جانتی ہے کہ نوازشریف خود کو مستعفی ہونے کا مشورہ دینے والے کو گھر کا رستہ دکھانے میں ذرا سی بھی دیر نہیں لگائیں گے۔ چنانچہ یہ بات تو طے ہے کہ نہ تو فوج خود آئے گی اور نہ ہی نوازشریف کو مستعفی ہونے کا مشورہ دینے کے لیے کوئی افسر پرائم منسٹر ہاوس میں داخل ہوگا۔ باقی ماندہ کہانی سیاست کے گرد ہی گھومتی ہے۔ اسمبلی کے اندر سے تبدیلی کا امکان نہیں کیونکہ نمبر گیم نوازشریف کے حق میں ہے۔ کوئی فاورڈ بلاک یا روشن ضمیر کام نہیں آسکے گا کیونکہ نوازشریف کے جمہوری اتحادی بھی ان کے جیسے ہی ہیں اور ایسے کسی موقع پر وہ نوازشریف کے نمبر پورے کرنے میں ذرا سی دیر نہیں لگائیں گے۔ چناچہ گھوم پھر کے فیصلے کا اختیار نوازشریف کے پاس ہی چلا جاتا ہے۔

جنرل مشرف کے فوجی انقلاب کے دنوں میں اسحاق ڈار سے ایک بیان حلفی لیا گیا تھا۔ پہلے سے لکھے ہوئے اس بیان حلفی پر جب اسحاق ڈار سے دستخط کروائے گئے تو اس وقت اسحاق ڈار کے ناک ، مُنہ اور کانوں تک سے خون بہہ رہا تھا۔ پانامہ لیکس کے تناظر میں بھی بات گھوم پھر کے اکثر اسی بیان حلفی پر جا ٹھہرتی ہے۔ اسحاق ڈار نے مگر عدالت کے روبرو اس بیان حلفی کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا تھا اور اسی بیان حلفی کے بل بوتے پر بنائے گئے مقدمات بھی عدالتوں سے خارج ہوچکے ہیں۔ اس سے بھی دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بیان حلفی کو “مُمکن” بنانے والےلوگ بھی عدالتوں میں ہی اسحاق ڈار سے معافی کے طلبگار ہوچکے ہیں۔ بحرحال سادہ سی خواہشات کا اظہار کرنے والے بار بار اسی بیان حلفی پر واپس آجاتے ہیں۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ تحقیقات سے کچھ نکلنے کی امید انھیں ہے نہیں کیونکہ نوازشریف کو جلد از جلد گھر بھیجنے کی خواہش ہے جبکہ تحقیقات کا عمل طول پکڑ سکتا ہے اور ان کے پاس دینے کو وقت ہے نہیں۔ چنانچہ معاملہ دباو کے تحت ہی حل کرنا پڑے گا۔ اول تو نوازشریف استعفیٰ نہیں دیں گے لیکن فرض کریں کہ کسی طرح یہ انہونی ہوبھی جاتی ہے تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ نئے انتخابات کی طرف جائیں گے۔ یہاں چند مزید مسائل جنم لے لیتے ہیں۔ نئے انتخابات تو اس وقت بڑوں بڑوں کا دانتوں تلے پسینہ نکلواسکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی حالت تو یہ ہے کہ اندرون سندھ کے علاوہ ان کے امیدوار ہر جگہ ضمانتوں پر ضمانتیں ضبط کرواتےچلے جارہے ہیں جبکہ تحریک انصاف ہر جگہ سے کپتان کی موجودگی کے باوجودبھی مسلسل شکستوں سے دوچار ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ تو سادہ سی بات تھی مگر چند باتیں اتنی سادہ بھی نہیں کیونکہ نئے انتخابات سے جڑے کئی مزید سوالات بھی ہیں جو کہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنائے جارہے ہیں۔اگر مسلم لیگ ن کی پنجاب میں تن تنہا اور بلوچستان موجود اتحادی حکومتوں کو راضی کر بھی لیا جائے تو کیا سندھ میں پیپلزپارٹی جبکہ خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومتیں بھی نئے انتخابات پر راضی ہوجائیں گی؟ عمران خان تو شاید راضی ہوبھی جائیں لیکن کیا پرویز خٹک بھی راضی ہوجائیں گے؟ عمران خان دھرنوں کے دوران پرویز خٹک سے استعفے تو دلوا نہیں سکے تھے ، اب انھیں کس طرح منا لیں گے؟ چلیں اس بات کو بھی چھوڑیں۔ بات صرف قومی اسمبلی کے انتخابات تک ہی محدود کرلیتے ہیں ۔ پنجاب میں شہبازشریف اور بلوچستان میں سردار ثنااللہ زہری کی موجودگی کے بعد آپ موجود منظرنامے میں کس حد تک تبدیلی لا پائیں گے؟ چلیں ان تمام پیچیدگیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے سب سے سادہ حل کی طرف آتے ہیں۔ فرض کریں کہ کسی عدالتی فیصلے یا پھر دباو سے مجبور ہو کر نوازشریف استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ وہ یہیں نہیں رُکتے بلکہ معاملے کو اس سے بھی زیادہ سادہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہ تو پنجاب سے شہبازشریف اور نہ ہی سینیٹ سے اسحاق ڈار کو قومی اسمبلی میں لا کر وزیراعظم بنایا جائے گا بلکہ چوہدری نثار ہی باقی ماندہ مدت کے لیے وزیراعظم ہوں گے۔ چوہدری نثار قومی اسمبلی سے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد حلف لیتے ہیں اور نوازشریف رائیونڈ میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔

آصف علی زرداری کی سربراہی میں چلنے والی گذشتہ حکومت کے بارے میں اکثر عرض کرتا رہتا ہوں کہ وہ پانچ برس تک سُولی پر لٹکی رہی تھی۔ وہ ایک ایسی حکومت تھی جو پانچ برس تک اپنا قبلہ بھی درست نہ کرپائی تھی۔ پانچ برس تک وہ حکومت اپنے وزیرخزانہ ، وزیر پانی و بجلی ، وزیرخارجہ ، وزیراطلاعات اور حتیٰ کہ وزیراعظم بھی بدلنے پر مجبور ہوتی رہی۔ پانچ برسوں تک وہ حکومت عدالتوں ، ٹی وی سکرینوں ، خفیہ ہاتھوں اور حتیٰ کہ اپنےاتحادیوں کے ہاتھوں بے توقیر ہوتی رہی۔ پانچ برسوں تک اس حکومت کے سر پر ہر سہ ماہی ایک نیا مائنس ون فارمولہ آن وارد ہوتارہا۔ اس حکومت کے اختیارات کی حالت یہ تھی کہ ایک طرف وزارت دفاع کا ایک سیکریٹری ان کی بات سننے کا روادار نہ تھا تو دوسری طرف اس کے اپنے وزراء آپس میں دست و گریبان ہوتے رہتے اور بالآخر ان میں سے ایک کو جیل بھی جانا پڑا۔ ان کے اندرونی مسائل تو ایک طرف تھے ہی لیکن بیرونی مسائل کے معاملے میں ہر بار انھیں گرداب سے نکالنے کی ذمہ داری نبھانی پڑتی تھی رائیونڈ میں بیٹھے نوازشریف کو۔ نوازشریف کو یہ ذمہ داری اتنی دفعہ نبھانی پڑی کہ آصف علی زرداری بھی اپنی نجی محفلوں میں کہتے پائے جاتے کہ نوازشریف ہماری بیمہ پالیسی ہیں۔ ایک دفعہ تو عالم یہ ہو گیا کہ جے یو آئی ایف اور ایم کیو ایم جیسے اتحادیوں نے اوپر تلے حکومت سے نکلنے کا “فیصلہ” کرلیا اور نتیجے میں وہ حکومت ایک اقلیتی حکومت بن کے رہ گئی۔ قومی اسمبلی کے اندر خواجہ آصف کو پرچیاں تھمائی جانے لگیں کی نمبر پورے ہوگئے ہیں آپ بسم اللہ کریں۔ لیکن رائیونڈ میں بیٹھے نوازشریف نے اس کشتی پر سوار ہونے کے خفیہ پیغامات پر کان دھرنے کی کوشش بھی گوارا نہ کی۔ ہوا مگر یوں کہ اس حکومت نے اپنی تمام تر نالائقیوں کے باوجود بھی مدت پوری کی اور انتخابات بھی وقت مقررہ پر ہی ہوئے۔ ان پانچ برسوں کے دوران ہر فارمولے کا ہدف آصف علی زرداری ہی ہوا کرتے تھے۔ لیکن نوازشریف نے انھیں بھی مدت پوری کرنے کے بعد انتہائی عزت و احترام کے ساتھ رُخصت کیا۔ سادہ سا سوال ہے کہ کیا ایوان وزیراعظم سے نکلنے کے بعد رائیونڈ میں بیٹھنے والا نوازشریف اپنی جماعت کی حکومت کو فارغ ہونے دے گا؟ کیا وہ اپنی جماعت کی حکومت کو درکار ہر سیاسی حمایت مہیا نہیں کرے گا؟ ان سوالوں کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ بالکل وہ اپنی جماعت کی ہر ممکن مدد کریں گے ۔۔ بلکہ تب تو وہ سیاسی طور پر متحرک ہونے میں بھی آزاد ہونگے جس سے وزارت عظمیٰ انھیں روکے ہوئے ہے۔

ویسے بھی موجودہ حکومت کے لیے صورتحال گذشتہ حکومت سے خاصی مختلف ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ یہ سارا کھیل تماشا اسی لیے لگایا جارہا ہے تانکہ نوازشریف کو ان کاموں کی تکمیل سے روکا جاسکے جن کی تکمیل انھیں مزید پانچ سال کے لیے منتخب کرواسکتی ہے۔ سادہ سا سوال ہے کہ اگر نوازشریف ایوان وزیراعظم سے نکل کر رائیونڈ چلے بھی جاتے ہیں توکیا ان کا حکومت پر موجود اثر و نفوذ ختم ہوجائے گا؟ ایسا سوچنا بھی کسی طفل مکتب کا ہی عمل ہوسکتا ہے۔ مسلم لیگ ن پر ان کا کنٹرول اب بھی پہلے جیسا ہی ہے۔ ان کے قریبی ساتھی اب بھی ان کےوفادار ہیں۔ ان کا ووٹ بنک اب بھی اسی طرح محفوظ اور برقرار ہے۔ اور پھر سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ نوازشریف اپنے منصوبوں کو جس سطح پر لے جاچکے ہیں انھیں اب روکنا شاید کسی کے بس کی بات بھی نہیں رہی۔ بھکی ، بلوکی اور حویلی بہادرشاہ میں زیرتعمیر ایل این جی پاور پلانٹس [ 3600 میگاواٹ ] تب بھی مکمل ہونگے۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ [1320 میگاواٹ] ، پورٹ قاسم کول پاور پلاٹ [1320 میگاواٹ] ، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ [970 میگاواٹ] ، تربیلا فور ہائیڈرو پاورپلانٹ [1420 میگاواٹ] ، سالٹ رینج کول پاور پلانٹ [ 330 میگاواٹ]، قائداعظم سولرپاورپلانٹ [1000 میگاواٹ] ، چشمہ نیوکلئیر پاور پلانٹ [ 700 میگاواٹ] جیسے منصوبے تب بھی 2018 تک مکمل ہونگے۔ بجلی کی ترسیل کے لیے کیے جانے والے اقدامات اس کے علاوہ ہیں۔ گرڈ سٹیشنز کی صلاحیت کو بڑھائے جانے اور نئے تعمیر ہونے والے گرڈسٹیشنز کی ایک طویل فہرست ہے۔ ٹرانسمشن لائنز کی صلاحیت کو بڑھانے کا سب سے بڑا منصوبہ ، مٹیاری تا لاہور اور اور مٹیاری تا فیصل آباد ، کے تمام معاملات طے ہوچکے ہیں اور تعمیر کا آغاز اسی ماہ ہونے جارہا ہے۔ تھر میں کوئلے کی مائننگ پر کام کا آغاز ہوچکا ہے اور تھر کول بلاک ون اینڈ ٹو [ 1320 میگاواٹ] کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا ہی جانے والا ہے۔ پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل کے ذریعے گیس کی درآمد کا آغاز ہوچکا ہے اور وہ گیس پاکستان کے اندر مختلف قسم کے صارفین کو ملنا شروع ہوچکی ہے۔ اس کا ثبوت دیکھنا ہو تو صرف ایپٹما کی تنظیم کے حالیہ خیالات کا جائزہ لے لیجئے۔ پورٹ قاسم پر ہی موجود ایل پی جی درآمد کرنے کا ٹرمینل تیزی سے ایل این جی کی درآمد کے لیے تیار ہورہا ہے اور اگلے برس مارچ تک اس کے ذریعے بھی گیس کی درآمد شروع ہوجائے گی۔ گوادر پورٹ پر ایل این جی ٹرمینل اور گوادر تا نوابشاہ پائپ لائن کا کام بھی چین کے تعاون سے جاری ہے اور اگلے برس کے اختتام تک وہاں سے بھی گیس کی درآمد شروع ہو جائے گی۔ پورٹ قاسم پر ہی تیسرے ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کے لیے بھی بڈنگ کا عمل جاری ہے اور اسے بھی اگلے برس کے وسط تک مکمل ہونا ہے۔ معاملات اب صرف حکومت تک ہی محدود نہیں رہے۔ پرائیویٹ مارکیٹ سے یوریا بنانے والی کمپنیاں جس میں فوجی فاونڈیشن اور پاک عرب ریفائنری جیسی کمپنیاں شامل ہیں ، سونمیانی کے مقام پر اپنا ٹرمینل لگانے جارہی ہیں اور انھیں اس کے لیے سرکاری اجازت نامہ بھی مل چُکا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ملک میں توانائی کا بحران تیزی سے اپنےاختتام کی طرف جارہا ہے اور مسلم لیگ ن کی حکومت سے اس کا کریڈٹ چھینا نہیں جاسکے گا۔ یہ حکومت ، نوازشریف کی براہ راست یا بالواسطہ سربراہی میں ، اپنی مدت مکمل کرتی ہے تو ان منصوبوں کی تکمیل کو روکا نہیں جاسکےگا۔ بات یہیں نہیں رُکتی۔ ملک کے اندرسیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کا 2013 کی صورتحال سے تقابل کریں گے تو حکومت سے اس کا کریڈٹ بھی چھینا نہیں جاسکے گا ۔ پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری کے گُن پوری دُنیا میں گائے جارہے ہیں اور توانائی کے بحران کے حل کے بعد اس میں آنے والی تیزی بھی نوازشریف کے کھاتے میں ہی جائے گی۔ سالانہ محصولات 3000 ارب روپے تک پہنچ رہے ہیں اور اس برس کے آخر تک گوادر پورٹ کے آپریشنل ہونے کے بعد محصولات اس دور حکومت کے آخر تک 4000 ارب روپے تک پہنچنے کے واضح امکانات ہیں۔ میری نظر میں یہ اس حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہوگا ایل این جی کی درآمد کے ساتھ ساتھ۔ کیا ان معاملات کا کریڈٹ نوازشریف سے چھینا جاسکے گا؟۔ تعمیرات کے شعبے میں میٹرو بسیں لاہور سے نکل کر راولپنڈی اور ملتان تک پہنچ چکی ہیں جبکہ موجودہ مدت حکومت کی تکمیل تک فیصل آباد کے شہری بھی اس منصوبے سے مستفید ہونا شروع ہوچکے ہونگے۔ کراچی میں گرین لائن بس سروس اور کے فور جیسے منصوبے اس کے علاوہ ہیں۔ لاہور میں اورنج لائن میٹرو کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ اس حکومت کی مدت مکمل ہونے تک لاہور سے کراچی تک موٹروے کا بڑا حصہ یا تو مکمل ہوچکا ہوگا یا پھر تعمیر کے مراحل میں ہوگا۔ دوسری طرف موٹروے ہزارہ ڈویژن اور سوات تک پہنچ چکا ہوگا ۔ بات طویل ہوتی جارہی ہے اور میرے پاس پاک چین اقتصادی راہداری سمیت لکھنے کو ابھی بہت کچھ ہے لیکن بات کو مختصر کرتے ہوئے یہی عرض کرنا چاہوں کہ موجودہ حکومت کے بیشتر منصوبے جس مقام تک پہنچ چکے ہیں انھیں اب نہ تو روکنا مُمکن رہا ہے اور نہ ہی اس کا کریڈٹ چھیننا۔ یہ منصوبے نا صرف آگے بڑھیں گے بلکہ مسلم لیگ ن کے کھاتے میں ہی گنے جائیں گے ۔۔۔ نوازشریف چاہے اسلام آباد میں بیٹھ کر انھیں مکمل کروائیں یا پھر رائیونڈ میں بیٹھ کر۔

ہم جب نوازشریف کو وزیراعظم ہاوس میں بیٹھا بہادشاہ ظفر قرار دیتے ہیں تو وہ بلاوجہ نہیں ہوتا۔ صرف اتنا سمجھنا ہی کافی ہوگا کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ نوازشریف کے لیے کرنے کو کتنےہی ایسے کام ہیں جو کہ وزیراعظم نوازشریف نہیں کرپاتا۔ گذشتہ اڑھائی برسوں سے ان کی جماعتی تنظیم کا نام و نشان نہیں مل رہا جو کہ بذات خود جماعت کے اندر مسائل کو جنم دینےکا سبب بنتا ہے۔ نوازشریف اپنی وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریوں کی وجہ سے سیاسی معاملات پر نہ تو کھل کر بول سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی جماعت کے کارکنان کے ساتھ مسلسل بنیادوں پر رابطہ استوار رکھ سکتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ آئندہ انتخابات کے لیے اپنی جماعت کی تیاریوں پر اس انداز میں بھرپور توجہ نہ دے سکیں گےجس طرح وہ صرف صدر مسلم لیگ ن ہوتے ہوئے دے سکتے ہیں۔ اب اگر نوازشریف رائیونڈ میں بیٹھے ہوں تو کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے؟ سادہ سا جواب یہی ہے کہ بالکل بھی نہیں۔ کیا وہ اپنی جماعت کے کارکنان کے رابطے کو بہتر بناتے ہوئے جماعتی مسائل حل نہیں کریں گے؟ کیا وہ رائیونڈ میں بیٹھ کر اپنی حکومت کو درکار سیاسی حمایت پہنچانے کے علاوہ آئندہ انتخابات کی حکمت عملی و منشور طے نہیں کریں گے؟ کیا وہ اپنی جماعت کے پلیٹ فارم سے سیاسی جلسے و تقریبات میں شرکت نہیں کریں گے؟ نوازشریف کے مقابلے میں بچے جمورے تو اس وقت پنپنے میں ناکام رہے تھے جب وہ دیکھے بھالےبھی نہیں تھے اب تو ویسے بھی ان جموروں کا سیاسی دیوالیہ نکل چکا ہے۔ مان لیجئے کہ آپ نے خود ترحمی کے زعم میں نوازشریف کی سیاسی صلاحیتوں کا ہمیشہ سے غلط اندازہ لگایا ہے اور یہی وجہ بنی ہے آپ کی مسلسل ناکامیوں کی۔ مان لیجئیے کہ نوازشریف اب جس مقام پر پہنچ چُکا ہے وہاں سے آگے بڑھنے سے اسے روکنا آپ کے بس کی بات نہیں رہی۔ جس شخص کی سیاست دس سالہ جلاوطنی نہ ختم کرسکی اسے وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کیا ختم کرسکے گی۔ جس نوازشریف کے ایک سطری بیان کو نظر انداز کرنا ممکن نہ رہا ہو وہ سیاسی طور پر متحرک ہوگا تو آپ کے لیے فائدہ ہے یا نقصان؟ فیصلہ آپ خود ہی کرلیں کہ آپ کو ایوان وزیراعظم میں بیٹھ کر خاموشی سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہوا نوازشریف چاہئیے یا پھر رائیونڈ میں بیٹھ کر سیاسی میدان کے بیچ بھرپور انداز میں متحرک نوازشریف؟۔ فیصلہ کوئی خاص مشکل بھی نہیں کیونکہ بات ہے ہی بڑی سادہ سی

4 thoughts on “Saadiyaan

  • April 17, 2016 at 7:16 pm
    Permalink

    Thanks for writing this fact full blog. People who comment on every thing without knowing their facts should read it.

    Reply
  • April 17, 2016 at 7:57 pm
    Permalink

    ‏⁦‪‬⁩ ⁦‪بعض دفعہ بات آنکھوں کےسامنے ہوتی ہے مگر زہن گتھیاں سلجھانے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایسے میں مدثر اقبال یاد آتا ہے

    Reply
  • April 17, 2016 at 11:48 pm
    Permalink

    جی جناب بہت سادگی سے سادگیاں بیان کی آپ نے. شکریہ

    Reply
  • May 2, 2016 at 9:37 pm
    Permalink

    اگر معلومات میں اضافہ مقصود ہو تو آپ کا بلاگ ہی کافی ہے۔ بہت اعلی جناب ۔۔۔ اسی طرح لکھتے رھیے ۔۔۔۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *