Asal Masa’ala

یوں تو انسان سہل پسند ہے اور عموماً مشکلات سے بھاگتا ہے. لکھنے والوں کے لیے سب سے مشکل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی کے غیر اخلاقی کاموں کا دفاع کریں . پاناما لیکس پر اتنی شدت کے ساتھ لکھا جا رہا ہے کہ اب اس پر کچھ نیا لکھنا آسان نہیں. لیکن پاناما لیکس میں کیا کرپشن کے حوالے سے لگنے والے الزامات نئے ہیں. جواب یقیناً نہیں میں ہی ہے. پاکستان میں کرپشن کے الزامات دیگر تمام الزامات سے زیادہ ہیں. میں آج کے مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کروں گا. الزامات کے نتائج کیا نکلے ہیں اور پاکستان کو ان الزامات کی روشنی میں کیے گئے اقدامات سے حاصل کیا ہوا ہے. اس حمام میں کون کون ننگے ہیں. موجودہ سیاسی جماعتیں جس روش پر سیاست کر رہی ہیں اس میں کتنے امکانات ہیں کہ کرپشن کم ہو جائے گی. یوں تو سیاسی اشرافیہ کے ساتھ کرپشن کے تعلقات کے کھرے ایوب خان سے جا کر ملتے ہیں جنہوں نے سرمایہ داروں کو یہ راستہ دکھایا کہ وہ اپنی دولت سے طاقت کس طرح حاصل کر سکتے ہیں. بعد ازاں سرمایہ دارانہ نظام کی مکمل اجارہ داری نے سائنسی بنیادوں پر کرپشن کے راستے دکھائے ہیں. سوئٹزرلینڈ کے بنک ہوں یا پاناما کے جزائر سرمایہ دارانہ غلبے کی عملی تصویریں ہیں. ہر ملک کی اپنی کیمسٹری ہوتی ہے یورپ کی جمہوری اور اخلاقی قدریں بہت مضبوط اور قابل تقلید ہیں. لیکن جس ملک کی عوام نے تینتیس سال آمریت قبول کی ہو انہیں جمہوری حکومتوں سے یورپ والی اخلاقی اقدار کی توقع نہیں رکھنی چاہیے یہ محض حکمران طبقے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس معاملے میں ہمارا اجتماعی ڈی این اے بکھرا ہو معلوم ہوتا ہے. میں ہر گز اس کی تائید نہیں کروں گا کہ ایسے معاملات کو کارپٹ کے نیچے دبا لیا جائے. بلکہ شعوری طور پر ایسی کوشش کرنی چاہیے کہ میرے ذاتی مقاصد کی تکمیل نہ ہو بلکہ مملکت کے نظام میں اصل تبدیلی ممکن ہو سکے.
کرپشن کے الزامات میں پاکستان میں تین حکومتیں مدت مکمل کرنے سے پہلے گھر بھیج دی گئیں اس میں میاں نواز شریف کی پہلی حکومت اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی دو حکومتیں شامل تھیں انہوں نے کرپشن کی یا نہیں یہ فیصلہ کرنا عدالتوں یا پھر اداروں کا کام تھا جو یقیناً منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا. مجھے یہ اختیار تو حاصل نہیں کہ میں ادارہ بن کر سزا تجویز کروں لیکن ایک عام شہری ہونے کے ناطے یہ حق ضرور رکھتا ہوں کہ اس سارے معاملے پر اپنی رائے رکھ سکوں اور اس کاروائی سے حاصل ہونے والے نتائج کی جانچ پڑتال کر سکوں. نظریاتی طور بے نظیر بھٹو کے مخالف گروہ سے تعلق رکھتا ہوں لہٰذا ان کے ہٹائے جانے والے مقدس مشن کے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں. ان کی پہلی حکومت بہت سے اختیارات کو محدود کر کے تفویض کی گئی تھی. جب اختیارات محدود تھے تو لامحدود کرپشن کیوں کر ممکن ہوئی یہ الگ سوال ہے. پاکستان میں توانائی کے بحران کا پہلی مرتبہ ادراک محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں ہی کیا گیا. تمام تر مخالفت کے باوجود آئی پیپیز کا منصوبہ مکمل کیا گیا. کیٹی بندر منصوبہ ان کی حکومت کے اختتام کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا. اسی طرح اکنامک کوریڈور کے جس منصوبہ پر ہم بیس سال بعد کام شروع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا تو شاید ہم چین، وسطی ایشیا اور ترکی تک زمینی راستوں سے منسلک ہو چکے ہوتے. ان کی حکومتوں کو ختم کرنا اگر درست فیصلہ تھا تو بھی مشرف صاحب کی آمد کے بعد بیرون ملک دولت کے یہ انبار واپس لانے میں ناکام رہے ہیں.
موجودہ دور کی سیاسی کھیپ پر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو چار نام ایسے ہمارے سامنے آتے ہیں جو ماضی قریب میں سیاست یا حکومت میں ملکی سطح پر اختیار کے حامل تھے. بے نظیر بھٹو، نواز شریف، پرویز مشرف اور آصف علی زرداری ہیں. پاناما لیکس میں سب کے ہی تذکرے موجود ہیں. بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے تو باقاعدہ نام شامل ہیں جبکہ نواز شریف کے خاندان کا نام سامنے آیا ہے. اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ نظام کے تحت اختیار حاصل کرنے والے تمام افراد کلی یا جزوی طور پر رقوم بیرون ملک انویسٹ کیے ہوئے ہیں. اس کی ہو سکتا ہے کسی کے پاس توجہات ہوں کم از کم میرے پاس نہیں ہیں. مشرف دور میں ابتدائی طور پر بے لاگ احتساب کی کوشش کی گئی جس سے رقوم وصول ہوئی یا نہیں لیکن بڑے پیمانے پر سرمایہ بیرون ملک منتقل ہونا شروع ہو گیا تھا اور سرمایہ کاری کے آثار معدوم ہوتے دکھائی دینے لگے تھے. بعد ازاں اپنے رائج کردہ طریقہ کار میں تبدیلی کر کے پلی بارگین کا طریقہ متعارف کرایا گیا. اس ساری مشق کا اختتام بدنام زمانہ این آر او پر جا کر اختتام پذیر ہوا. اس کا حاصل وصول پاکستانی صنعت کا بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں منتقل ہونا قرار دے سکتے ہیں. پاکستانی معشیت کی بنیادیں ہل کر رہ گئی ہیں. پیداواری عمل بری طرح متاثر ہوا ہے. سرمایہ کاری کا سارا زور رئیل اسٹیٹ اور سروسز جیسے ٹیلی کام اور آٹو انڈسٹری کی جانب مڑ گیا ہے. ایک اور نام عمران خان صاحب ہیں جن پر قومی دولت لوٹنے کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا. لیکن پیسے کے ساتھ ان کے رویے کی تشریح بھی باقیوں سے مختلف نہیں ہے. اپنی کتاب میں جوے سے متعلق اعتراف،بنی گالا پیلس کی خریداری پر متضاد موقف اور شوکت خانم ہسپتال کے فنڈز کی بیرون ملک سرمایہ کاری ان کی اخلاقی حیثیت کو متاثر کرتی نظر آتی ہے. ان کا یہ موقف کہ پانچ سال بعد ساری رقوم واپس حاصل کر لی گئی ہیں اس لیے کمزور معلوم ہوتا ہے کہ پانچ سال کا منافع کہاں گیا. اور اگر منافع نہیں کمایا جا سکا تو اس قومی امانت کو پانچ سال ملک سے باہر کیوں رکھا گیا.
آخری حصے میں ہم جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ موجودہ سیاسی جماعتیں جس روش پر سیاست کر رہی ہیں اس سے کرپشن کے خاتمے میں کیا مدد ملے گی. فی الحال مشرف صاحب عملی سیاست سے دور ہیں اس لیے ان کا تذکرہ نہیں کیا جائے گا. سب سے پہلے حکومتی جماعت کا جائزہ لیتے ہیں. دو ہزار تیرہ کے انتخابات سے قبل مسلم لیگ ن نے اپنے ٹکٹ ہولڈرز سے کرپشن کے خاتمے کے لئے باقاعدہ حلف لیا تھا. اس دورانیہ میں کتنی کرپشے ہوئی اس کا اندازہ حکومت جانے کے بعد ہو گا. تاہم آزادانہ احتساب کے ادارے کی جانب پیش رفت نہیں ہوئی. آج بھی مشرف صاحب کا قائم کردہ ادارہ کرپشن کے خاتمے کے لئے سرگرم عمل ہے. وزیراعظم اور وزرائے اعلی کے دفاتر کے اخراجات بدستور پرانی روش کے مطابق ہیں. کرپشن کی اصل وجہ مہنگا انتخابی طریقہ کار ہے. انتخابی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کی نگرانی میں نئے مسودے پر کام جاری ہے لیکن اس کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہیں. پیپلزپارٹی کا جائزہ لیا جائے تو ان کے موجودہ وزراء پر بھی کرپشن اور دیگر بے قاعدگیوں کے الزامات بدستور لگ رہے ہیں. سندھ کی سطح پر ابھی تک کسی احتساب ادارے کے قیام کے آثار نظر نہیں آتے. پاکستان تحریک انصاف نے پختون خواہ میں احتساب کے ادارے کا قیام خوش آئند ہے. تاہم انتخابی اخراجات کے حوالے سے ان کا ریکارڈ سب سے گیا گزرا معلوم ہوتا ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گرانے کی خواہشات پر قابو پایا جائے اور پارلیمنٹ کو با اختیار بنانے میں ساری جماعتیں مل کر کام کریں اور آزاد احتساب کے ادارے کے قیام کے لئے حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے. اگر حکومت یا کسی سیاسی جماعت کو ایسے احتساب کے نظام سے خوف محسوس ہوتا ہے تو انتخابات میں عوام اسے مسترد کر سکتے ہیں. کسی کو گھر میں محصور کرنے یا اپنے ہاتھوں پھانسی لگانے سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے.
پاناما لیکس کے انکشافات نئے نہیں ہیں عوام ان سے مکمل طور پر آگاہ تھے اور ہیں ان کی بدولت گو نواز گو کی خواہش پوری نہیں ہو گی. البتہ ایسی تحریک حکومت گرا بھی دے تو کرپشن کا راستہ نہیں رکے گا. نواز لیگ نہ ہوئی کوئی اور بھی ہوا تو فرشتوں کی ہمسری کا دعوی وہ بھی نہیں کر سکے گا. لہٰذا یہ درخواست ہو گی کہ حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آزاد احتساب کے ادارے کے قیام اور انتخابی اصلاحات پر قانون سازی مکمل کرا لی جائے. اصل مسئلہ افراد نہیں کرپشن کے لیے سازگار ماحول ہے

10 thoughts on “Asal Masa’ala

  • April 13, 2016 at 12:28 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تجزیہ اور تجاویز

    Reply
  • April 13, 2016 at 2:34 pm
    Permalink

    Arshad Sb Aap Jaisey Kuch Logon Ke Liye..
    Kuch Kuch Merey Jaisey Cockroaches Ke Liye..
    Sirf Yehi Araz Hey……
    Iss Shehar Key Andaz Ajab Dekhey Hein Yaro..
    Gungon Sey Kaha Jata Hey Behron Ko Pukaro…
    Sir Gi Ye To Soch Liya Hota Ke Aap Kin Sey Mukhatib Hein…
    Ham Sirf Cockroaches Hein Jo Iss Gandagi Mein Hi Paida Huey Aur Issi Gandagi Mein Jeena Chahtey Hein..
    Apni Zaat Ki Had Tak Main To Pakistan Mein Kisi Bhi Behtari Ki Umeed Kho Chuka Hon..
    But for you please keep it up..
    With hope..
    Shayed Ke Kisi Dil Mein Utar Jaye Teri Baat..

    Reply
  • April 13, 2016 at 6:48 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ارشد صاحب, تجاویز قابلِ عمل ہیں.ایسا ہو جائے تو کیا ہی اچھا ہو

    Reply
    • April 13, 2016 at 7:35 pm
      Permalink

      ہم اگر اچھائی کا تذکرہ ہی کر لیں تو بھی عمل کے قریب لے جائے گا

      Reply
  • April 13, 2016 at 7:15 pm
    Permalink

    بہت عمدہ تجزیہ اور اچھی تجاویز. لیکن عمل کیسے ہوگا !!!!!!!!
    عوام کی تربیت جمہور کے لیے. کون کرے گا !!!!!

    Reply
    • April 13, 2016 at 7:36 pm
      Permalink

      مسلسل ووٹ کا حق ہی تربیت کرے گا ہم صرف اس میں اپنا کردار ادا کر لیں تو بڑی بات ہے

      Reply
  • April 13, 2016 at 9:43 pm
    Permalink

    بہت عمدہ اور نوکدار تجزیہ۔ امید ہے اگلی قسط میں ایڈمنسٹریشن اور عوامی کرپشن پر بھی کچھ روشنی ڈالیں گے

    Reply
    • April 14, 2016 at 5:14 pm
      Permalink

      بہت شکریہ آپ نے توجہ دلائی کوشش کروں گا کہ اس پر بھی لکھ سکوں

      Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *